– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy)
– قسط: 17
– ایمپیڈیکُلیز (Empedocles)
ایمپیڈیکلیز کی پیدائش ہوتی ہے 490BCE اور وفات ہوتی ہے 430BCE میں۔
ایمپیڈیکُلیز اٹلی کا رہنے والا تھا وہ بھی شاعری کے انداز میں لکھتا تھا۔
ایمپیڈکلیز نے بھی اس بات سے شروع کیا کہ اگر ایک ہی قسم کا مادہ ہے، چیز ہے، تو پھر تبدیلی ناممکن ہے مگر اس نے اس کا حل یہ دیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مادہ جو ہے وہ ایک ہی قسم کی چیز نہیں ہے حقیقت میں وہ چار عناصر ہیں۔
• تھیلیس نے پانی کا ذکر کیا تھا،
• اینیگزیمنیز نے ہوا کا ذکر کیا تھا،
• ہیراکلائٹس نے آگ کا ذکر کیا تھا،
اور ایمپیڈیکُلیز نے ایک اور عنصر شامل کرکے یعنی، (Four elemental theory) پیش کی۔
وہ کیا ہے ؟
سب سے پہلے زمین یعنی مٹی ہے جن سے زندگی جنم لیتی ہے اس کے بعد ہوا، اس کے بعد آگ اور اس کے بعد پانی۔
اس طرح یہ چار عناصر ہیں مٹی، پانی، ہوا اور اگ جن سے تمام مادہ بنا ہوا ہے۔
شاید ایمپیڈکُلیز کو یہ خیال اس طرح آیا کہ جب اس نے آگ میں لکڑی کو جلتے ہوئے دیکھا اس نے یہ اندازہ لگایا کہ جو چیز جل کر بچ جاتی ہے وہ ہے زمین یعنی راکھ، جو چیز جل کر اڑ جاتی ہے اس کو ہم کہتے ہیں ہوا اور جو چیز جلنے کی عمل میں ہوتی ہے وہ ہے آگ اور آگ میں کریکنگ کی جو آواز آتی ہے وہ ہے پانی۔
تو ایمپیڈکُلیز نے اس تصور کو پوری کائنات کے تصور کے ساتھ جوڑا اور پوری cosmology بنائی۔
جب یہ عناصر مختلف تناسب سے، مختلف طریقوں سے اکھٹی ہوتی ہیں یا جدا ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مادہ مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ کس طرح اکٹھے ہوتے ہیں کس طرح جدا ہوتے ہیں؟
اس حوالے سے ایمپیڈکُلیز نے کہا کہ دو قوتیں کام کرتی ہیں؛ ایک ہے پیار (love) اور دوسرا ہے (strife) یعنی جنگ، یہ دو قوتیں ان چار چیزوں کو مختلف تناسب سے یا تو اکٹھا کرتی ہے یا جدا کرتی ہے اور اس طرح مادہ مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ایمپیڈکُلیز کا یہ خیال تھا کہ اول تو یہ کائنات ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ تک رہے گی مگر کسی ایک زمانے میں ایسا دور آیا کہ یہ چاروں عناصر ایک دائرے کے اندر موجود تھے اس دائرے کے اندر صرف اور صرف پیار تھا۔ جو ان چاروں عناصر کو جوڑتا تھا، اس دائرے سے باہر سب نفرت (strife) تھی۔
پھر جو نفرت کی قوت تھی وہ اس دائرے کے اندر داخل ہوئی جب داخل ہوئی تو اس کے نتیجے میں یہ چار عناصر بکھر گئے جب بکھر گئے تو ستارے، دنیا، انسان اور کائنات کی شروعات ہوئی اور اب نفرت اور پیار ایک دوسرے کے ساتھ مِکس ہو کے ان چار عناصر کو مکس کرکے اس کے نتیجے میں مادے کی تمام شکلیں بنی اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جو نفرت ہے وہ مرکز میں آجائے گی اور تمام عناصر بھکر جائیں گے۔
پیار کی قوت جو ہے وہ کائنات کے آخری کونوں میں ہوگی اور نفرت مرکز میں اور اس کے بعد یہ سائیکل repeat ہوگا کہ پیار جو ہے وہ دوبارہ مرکز میں آجائے گا اور نفرت باہر جائی گی اس طرح یہ پورا سائیکل (cycle) اس کائنات کا repeat ہوگا۔
ایمپیڈیکُلیز کا یہ خیال تھا کہ دنیا اس قسم کی سائیکل سے گزر چکی ہے اور ہمیشہ یہ کائنات اور دنیا گزرتی رہی گی۔
ایمپیڈیکُلیز کا یہ کہنا تھا کہ جب نفرت اور پیار کے نتیجے میں مختلف عناصر آگے پیچھے ہوتے ہیں، ان کی ترتیب تبدیل ہوتی ہے تو اس سے پہلے زندگی پیدا ہوتی ہے مگر زندگی عجیب و غریب طرح سے پیدا ہوتی ہے۔
یعنی کہ کہی پر بازو پیدا ہو جاتی ہے مگر اس کے ساتھ کوئی بدن نہیں ہوتا، کہی پر سر بدن کے بغیر، کہی پر جسم کا ایک قسم کا حصہ اور کہی پر جسم کا دوسرا قسم کا حصہ اور پھر مزید یہ کہ یہ جسم کے حصے بے ترتیبی سے عجیب و غریب ترتیب میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، کہی پر بازو ٹانگ کے ساتھ جوڑی ہوئی ہے، کہی پر انسان کا چہرہ گھوڑے کے جسم کے ساتھ جوڑا ہوا ہے۔
ایمپیڈیکُلیز یہ کہتا تھا کہ بہت سارے ان میں سے جو شکلیں ہیں وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ survive نہیں کر سکتی اور جو survive کر جاتی ہے وہی آج کے موجود جانور ہیں۔
مزید یہ کہ ایمپیڈیکُلیز نے پہلے وہ تھیری پیش کی کہ انسان دیکھتا کیسے ہے؟
ایمپیڈیکلیز کا یہ خیال تھا کہ کسی بھی چیز کو دیکھنے کے لئے آنکھوں سے شعاعیں نکلتی ہیں اور جب وہ شعاعیں کسی چیز کو چھوتی ہے تو جس چیز کو چھوتی ہے وہ ہمارے انکھ میں پہلے سے موجود ہے۔
مثال کے طور پر اگر میں مٹی کو دیکھ رہا ہوں تو جو زمین کا عنصر ہے وہ میرے انکھوں میں موجود ہے۔
یعنی اگر میں آگ کو دیکھتا ہوں تو اگ کا عنصر میرے انکھوں میں موجود ہے۔
اس طرح پانی اور ہوا کا عنصر بھی، تو جس عنصر کو میں باہر دیکھتا ہوں وہ میرے آنکھوں میں بھی موجود ہے اور وہاں آنکھ سے شعاعیں نکلتی ہیں اور وہ عنصر سے جوڑ جوڑ (connect) جاتی ہے تو اس چیز کو میں دیکھتا ہوں۔
یہ تھیری درست نہیں مگر یہ پہلی تھیری تھی کہ جو کہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ انسان دیکھتا کیسے ہے؟ اور اس پر بہت لوگوں نے یقین بھی رکھا۔
آخر میں یہ کہ ایمپیڈیکُلیز کا یہ خیال تھا، بالکل فیثاغورث (Pythagoras) کی طرح کہ انسان جب مر جاتا ہے تو اس کی روح کسی اور جسم میں منتقل ہو جاتی ہے۔
ایمپیڈیکُلیز کا جو نقطہ نظر تھا اس کا بہت اثر ہوا، خاص طور پر سائنس کی دنیا میں، یہ نقطہ نظر کہ، دنیا کا جو مادہ ہے وہ چار عناصر سے بنا ہوا ہے یہ 2000 سال تک سائنس کی بنیاد بنی یعنی جب تک "Periodic Table” دریافت نہیں ہوا، بنیادی طور پر تمام سائنسدان یہ سمجھتے تھے کہ دنیا کے اندر تمام مادہ چار عناصر سے بنا ہوا ہیں۔ایمپیڈیکُلیز کی وفات اس طرح ہوئی کہ اس نے اپنے آپ کو ایک "volcano” میں پھینک دیا کیوں؟
کیونکہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ خود ایک قسم کے دیوتا ہیں۔
ایمپیڈیکُلیز کے تھیری کے ساتھ ایک اور بڑی دلچسپ تھیری ہے جو کہ میڈیکل سائنس میں اس کا بڑا کردار ہے اور وہ ہے Hippocrates کی تھیری۔ (Hippocratic Oath) ڈاکٹرز جب لیتے ہیں تو وہ اسی فرد پر بنیاد رکھتا ہے۔
– ہیپوکریٹس (Hippocrates)
ہیپوکریٹس کی پیدائش ہوتی ہے، 460BCE میں اور وفات ہو جاتی ہے 370BCE میں۔
ہیپوکریٹس نے یہ تھیری بنائی کہ بالکل جس طرح دنیا میں چار مختلف عناصر ہیں اسی طرح انسان کے اندر چار مختلف "Humours liquids” ہیں یعنی ؛
لسب سے پہلے "Blood” اس کے بعد "black bile” اس کے بعد "yellow bile” اور اس کے بعد "phlegm”۔
جب ان میں جو بھی متوازن "balance” ہوتا ہے تو ہمارے شخصیت "personality” بھی متوازن ہوتی ہے ہم صحت مند بھی ہوتے ہیں جب ان میں کوئی غیر متوازن (imbalance) ہو جائے تو ہماری شخصیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ کے جسم میں خون زیادہ ہوگا تو آپ خوش مزاج ہوں گے، اگر "black bile” زیادہ ہیں تو آپ بہت "depress” ہوں گے، اگر آپ کے اندر "yellow bile” زیادہ ہیں تو اپ غصے والے بن جائیں گے اور اگر اپ "phlegm” زیادہ ہوگا تو اپ ڈھلے بن جائیں گے۔
ہیپوکریٹس کا یہ خیال تھا کہ اگر ہم ان چار چیزوں کو کسی نہ کسی طرح بیلنس (Balance) میں لے ائیں تو پھر ہم بیماریوں کو حل کر سکیں گے۔
– لیکچرر : ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب : میثم عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3733056053591567

Comments
2 responses to “– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 17 – ایمپیڈیکُلیز (Empedocles) …”
Excellent 🌹🌹
Excellent