دوستو جلدی خبر لینا کہیں ناسخ نہ ہو قتل آج اسکی گل…
دوستو جلدی خبر لینا کہیں ناسخ نہ ہو
قتل آج اسکی گلی میں کوئی بے چارہ ہوا
——
امام بخش ناسخ کا یوم پیدائش
(پیدائش: 10 اپریل 1772ء– وفات: 16 اگست 1838ء)
——
منتخب کلام
——
پہلے اپنے عہد سے افسوس سودا اٹھ گیا
کس سے مانگیں جا کے ناسخ اس غزل کی داد ہم
——
شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
——
جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے
جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے
——
دریائے حسن اور بھی دو ہاتھ بڑھ گیا
انگڑائی اس نے نشے میں لی جب اٹھا کے ہاتھ
——
معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ
——
وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں
دور وہ ، میں ہوں مرنے کے نزدیک
ہائے کیونکر میں ناتواں جاؤں
——
تند جو ظاہر میں ہوں باطن میں ہوں باغ و بہار
جس طرح کانٹے لگے ہوں باغ کی دیوار پر
——
ڈر تھا اثر کا اس کے سو وہ بھی نکل گیا
نادم ہوا ہوں منہ سے میں نالہ نکال کے
——
آگے کشتِ آرزو کے آبرو میری رہی
برق ہی گرتی جو میں بارانِ رحمت مانگتا
——
گر آنکھ ہےتو باطنِ انساں کی دید کر
کیا طلسم دفن ہیں مشتِ غبار میں
——
بات جن نازک مزاجوں سے نہ اٹھتی تھی کبھی
بوجھ اُن سے سیکڑوں من خاک کا کیونکر اٹھا
——
عاشق ہوا ہوں دوستو میں اپنی شکل کا
میرا ہے عکس آئینۂ روئے یار میں
——
جسم چُھوٹا روح سے ، دل سے نہ چُھوٹا وہ صنم
بُت بغل میں لے چلے ہیں ہم خدا کے سامنے
——
وہ مجھ سے گریزاں تھا کل اس کو میں گھر اپنے
باتوں میں لگا لایا ، تقریر اسے کہتے ہیں
——
سب زخم مرے جلتے ہیں شعلے کی طرح سے
بجلی کی طرح ہے تری تلوار میں گرمی
——
کسی کا کب کوئی روزِ سیہ میں ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے
——
دن سیہ ، رات سیہ ، ماہ سیہ ، سال سیاہ
دل سیہ ، بخت سیہ ، نامۂ اعمال سیاہ
ایک میں اور ہیں یہ چار بلائیں کالی
خط سیہ ، زلف سیہ ، چشم سیہ ، خال سیاہ
——
جس جگہ ہے حسن ، فوراََ قدرداں پیدا ہوا
چاہ میں یوسفؑ گرا تو کارواں پیدا ہوا
شیر سے تا شربتِ مرگ ، ایک تلخی سی ہے یاں
غم لگا کھانے وہیں ، انساں جہاں پیدا ہوا
ہوں وہ دریا جس میں ہے اک عرشِ اعظم ہر حباب
ہل گئی اک لہر جس دم ، اک جہاں پیدا ہوا
رشک سے میرے سخن پر خلق ہوتی ہے ہلاک
حیف دنیا میں نہ کیوں میں بے زباں پیدا ہوا
وادیٔ ہستی میں آتے ہی عدم کی راہ لی
ساتھ اپنے توسنِ عمرِ رواں پیدا ہوا
——
ساتھ اپنے جو مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر مجھ کو دلِ زار نے سونے نہ دیا
خواب میں ہی نظر آتا وہ شبِ ہجر کہیں
سو مجھے حسرتِ دیدار نے سونے نہ دیا
خفتگی بخت کی کیا کہیے کہ جز خوابِ عدم
عمر بھر دیدۂ بیدار نے سونے نہ دیا
یاد اُس زلف کی رہ رہ کر مجھے دلوائی
ہجر میں مجھ کو شبِ تار نے سونے نہ دیا
سمجھے تھے بعدِ فنا پائیں گے راحت ناسخؔ
حشر تک وعدۂ دیدار نے سونے نہ دیا
——
بُھولے نہ بعدِ مرگ بھی ہم رقصِ یار کو
ٹھوکر کی آرزو ہے ہمارے مزار کو
زیبا ہے عشقِ زلف ، دلا مال دار کو
الفت بہت خزانے سے ہوتی ہے مار کو
دامن سے ارتباط مبارک ہو خار کو
عُریانی ہے پسند مرے جسمِ زار کو
کہیو صبا جو پائے تو اُس شہ سوار کو
روندا کبھی نہ آ کے ہمارے غبار کو
گزرے ہزار سال ، نہیں ہے نشانِ صبح
کیا طول ہو گیا ہے شبِ انتظار کو
——
موت بندے کی جو صاحب آپ کو منظور ہے
آج بھی کوئی نہ آنے کا بہانہ کیجیے
ہم بیاباں مرگ ہیں ، یارو ہماری قبر پر
دامنِ دشتِ جنوں کا شامیانہ کیجیے
آب و گِل میں اُڑ گیا ہے توسنِ عمرِ رواں
توڑ کر تارِ نفس کو ، تازیانہ کیجیے
کوئے جاناں گر نہیں تو کُنجِ زنداں ہی سہی
کوئی اے جوشِ جنوں ، پیدا ٹھکانہ کیجیے
رات دن غربت میں ناسخؔ بس یہی رہتی ہے فکر
کوئی خط لکھیے ، کوئی قاصد روانہ کیجیے
——
دشتِ غربت میں نگاہ اپنی جدھر جاتی ہے
وہی کوچہ ، وہی بازار نظر آتا ہے
مے پرست ایسے ہیں ، سوتے ہیں اگر مسجد میں
خواب میں خانۂ خمار نظر آتا ہے
یہ بھی اس ماہ کے کیا میری طرح عاشق ہیں
جو ستارہ ہے سو بیدار نظر آتا ہے
چلنے سے عمرِ رواں اپنی ٹھہر جاتی ہے
جب ترا جلوۂ رفتار نظر آتا ہے
تیغِ قاتل تو کہاں ، سنگ بھی لڑکوں کے نہیں
سَر سودا زدہ بے کار نظر آتا ہے
چشمِ بیمار کا آزار بھی کیا ساری ہے
دیکھتا ہوں جسے بیمار نظر آتا ہے
ایسی فُرقت میں ہے گردش کہ مرے رہنے سے
دائرہ صورتِ پرکار نظر آتا ہے
جھولیاں لڑکوں کی یاد آتی ہیں اے دستِ جنوں
جب ہمیں دامنِ کہسار نظر آتا ہے
گرچہ ہوں ہند میں ، لیکن مجھے ناسخؔ ہر دم
روضۂ حیدرِ کرار نظر آتا ہے
——
لبریزاسکے ہاتھ میں ساغر شراب کا
بنتاہے عکس رخ سے کٹورا گلاب کا
جوہر ہیں برگ گل ترے چہرے کے عکس سے
بن جائے کیوں نہ آئنہ تختہ گلاب کا
آتا ہے رشک اے دل پر آبلہ مجھے
کیا جلد پھوٹتا ہے پھپھولا گلاب کا
——
سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
ہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیں
کون تھا صید وفادار کہ اب تک صیاد
بال و پر اس کے ترے تیر لیے پھرتے ہیں
تو جو آئے تو شب تار نہیں یاں ہر سو
مشعلیں نالۂ شب گیر لیے پھرتے ہیں
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
معتکف گرچہ بظاہر ہوں تصور میں مگر
کو بہ کو ساتھ یہ بے پیر لیے پھرتے ہیں
رنگ خوبان جہاں دیکھتے ہی زرد کیا
آپ زور آنکھوں میں اکسیر لیے پھرتے ہیں
جو ہے مرتا ہے بھلا کس کو عداوت ہوگی
آپ کیوں ہاتھ میں شمشیر لیے پھرتے ہیں
سرکشی شمع کی لگتی نہیں گر ان کو بری
لوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں
تا گنہ گاری میں ہم کو کوئی مطعوں نہ کرے
ہاتھ میں نامۂ تقدیر لیے پھرتے ہیں
قصر تن کو یوں ہی بنوا یہ بگولے ناسخؔ
خوب ہی نقشۂ تعمیر لیے پھرتے ہیں
——
جان ہم تجھ پہ دیا کرتے ہیں
نام تیرا ہی لیا کرتے ہیں
چاک کرنے کے لیے اے ناصح
ہم گریبان سیا کرتے ہیں
ساغر چشم سے ہم بادہ پرست
مئے دیدار پیا کرتے ہیں
زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
سنگ اسود بھی ہے بھاری پتھر
لوگ جو چوم لیا کرتے ہیں
کل نہ دے گا کوئی مٹی بھی انہیں
آج زر جو کہ دیا کرتے ہیں
دفن محبوب جہاں ہیں ناسخؔ
قبریں ہم چوم لیا کرتے ہیں
…………………..