جاؤ! اور دنیا کوبوسہ دے دو تحریر: سوبروٹ باگچی ت…
جاؤ! اور دنیا کوبوسہ دے دو
تحریر: سوبروٹ باگچی
تالیف،انتخاب و اُردو ترجمہ: سلمان خالد (ایٹلانٹا، امریکہ)
میں پانچ بھائیوں کے کنبے میں ایک غیر ثانوی حیثیت کے سرکاری ملازم کا آخری بچہ تھا۔ میرے والد کی ابتدائی یادیں اڑیسہ کے کورپوت ضلع میں ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ آفیسر کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔ یہ ضلع پسماندگی میں ہمیشہ سے ہی اتنا پیچھے تھا، جتنا کہ آپ تصور کرسکتے ہیں۔ بجلی تو بالکل بھی نہیں تھی۔ آس پاس کوئی پرائمری سکول تک نہ تھا جبکہ نَل میں پانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ان حالات کے نتیجے میں ، مَیں آٹھ سال کی عمر تک اسکول نہیں جا سکا، سو ہمارے گھر کے آنگن کو ہی ابتدائی درسگاہ کا درجہ حاصل ہوا۔ میرے والد کا ہر سال تبادلہ ہو جاتا تھا۔ خاندانی سامان اتنا تھا کہ ابا کی سرکاری جیپ کے پچھلے حصے میں با آسانی فٹ ہو جاتا۔ لہذا ہمارا کنبہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بِنا کسی پریشانی کے منتقل ہوتا گیا۔ میری والدہ نے ہجرت کی سچائی کو ایک تسلیم شدہ اصول مان رکھا تھا اور یہی حقیقت ہمیں ہر نئی جگہ جانے میں مددگار ثابت ہوتی تھی۔ ایک بیوہ ماں کے ہاتھوں میں پلی بڑھی میری والدہ جو اس وقت کے مشرقی بنگال سے بطور مہاجر نقل مکانی کر کے آئی تھی، میرے والد سے شادی کے وقت بمشکل میٹرک پاس تھی۔
ہمارے والدین نے اپنی اولاد کی زندگی میں چند بنیادی اقدار کو لاگو کر رکھا تھا، اور آج میری پہچان انہی روایات و تہذیبی اصولوں کی مرہونِ منت ہے۔ سچ پوچھئیے تو آج یہی میرے لئے کامیابی کی تعریف بھی ہے۔
ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ آفیسر کی حیثیت سے میرے والد کو حکومت نے ایک جیپ دے رکھی تھی۔ آفس میں پارکنگ کے لئے چونکہ کوئی گیراج نہیں تھا، لہذاجیپ ہمارے گھر میں ہی کھڑی ہوتی تھی۔ میرے والد نے دفتر جانے کے لئے اس کا استعمال کرنے سے انکار کر رکھا تھا۔ اور بارہا یہ سبق دہرا کر ذہن نشین کروا رکھا تھا کہ یہ ان کی “ذاتی جیپ" نہیں ہے، بلکہ حکومت کے فراہم کردہ وسائل میں سے ایک مہنگا ذریعۂ آمدورفت ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ِاس کا استعمال صرف دور دراز علاقوں کے دوروں کے لئے ہی کریں گے سو عام دنوں میں وہ اپنے دفتر پیدل جایا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی یقینی بنایا کہ ہم کبھی بھی سرکاری جیپ میں نہ بیٹھیں- ہم اس میں چُھپ کر صرف اس وقت ہی بیٹھتے تھے جب یہ ساکت و منجمد حالت میں کھڑی ہو۔
گورننس میں سرکاری یا کارپوریٹ وسائل کےاستعمال کے حوالے سے، ہماری اوئلِ عمری کا یہ پہلا سبق تھا- ایسا سبق جو سِکہ بند کارپوریٹ مینیجر بھی بڑی مشکل سے سیکھتے ہیں ،جبکہ کچھ تو ساری عمر بھی نہیں سیکھ پاتے۔
ہمیں جیپ کے ڈرائیور کے ساتھ بہت عزت و تکریم کے ساتھ سلوک کرنا سکھایا گیا تھا، بالکل میرے والد کے سرکاری رینک کے کسی بھی دوسرے اہلکار کی طرح۔ چھوٹے بچے ہونے کے ناطے، ہمیں سکھایا گیا کہ ہم ڈرائیور کو اس کے نام سے ہرگز نہ پکاریں، سو جب بھی ہم سرکاری یا نجی محافل میں اُن کا حوالہ دیتے تو ہمیں 'دادا' کا لاحقہ استعمال کرنا پڑتا تھا۔ جب میں خودایک گاڑی کا مالک بنا اور “راجو” کے نام سے ایک ڈرائیور مقرر کیا تو میں نے اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کو بھی یہی سبق دہرایا تھا۔ اس تربیت کے نتیجے میں، وہ راجو کو ’راجو انکل‘ کہتے کہتے بڑے ہوئے ہیں۔ یوں میرے بچے اپنے دیگر دوستوں سے بہت مختلف ثابت ہوئے، جو اپنے فیملی ڈرائیور کو ’’میرا ڈرائیور‘‘ کہتے ہیں۔ جب میں یہ اصطلاح اسکول جانے والے یا کالج جانے والے کسی بچے سے سنتا ہوں تو، اندر ہی اندر مجھے ایک شدیددباؤ کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
میرے نزدیک یہ سبق بے حد اہم تھا۔ یعنی آپ چھوٹے لوگوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں جو آپ بڑے لوگوں کے ساتھ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اپنے ماتحت عملے کا احترام کرنا اپنے اعلی افسران سے زیادہ اہم ہے۔
ہمارے دن کا آغاز اپنی والدہ کے چولہے کے چاروں اطراف گھومنے پھرنے سے شروع ہوتا تھا۔ یہ کچی مِٹی کا بنا ایک تنور نما چولھا ہوتا تھا جسے والدہ، ابا کی ہر نئی تعیناتی کی جگہ پہ آسانی سے تیارکر لیتی تھیں اور پھر اُسی جگہ کو تمام کُنبے کے دسترخوان کا درجہ حاصل ہوجاتا تھا۔ اُس دور میں نہ تو گیس تھی، نہ ہی بجلی کے چولہے۔ صبح کا معمول چائے سے شروع ہوتا، جب تک ہنڈیا تیار ہوتی، والد صاحب ہمیں گذشتہ روز کے “باسی” اخبار "اسٹیٹسمین” کے ’مفوسیل‘ ایڈیشن کا ادارتی صفحہ اونچی آواز میں پڑھنے کو کہتے تھے۔ ہم جو کچھ پڑھ رہے ہوتے تھے، اس کی ہمیں کچھ زیادہ سمجھ تو نہیں آتی تھی۔ لیکن اس عادت نے ہمیں سکھایا کہ دنیا “کورپوت ضلع “سے بہت بڑی ہے اور “اوریائی میڈیم” (مقامی زبان) اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اگر آج میں انگریزی بولتا ہوں تو وجہ وہی روزانہ کا معمول تھا۔ اونچی آواز میں اخبار پڑھنے کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ اسے بعد میں نفاست سے تہہ کر کے بھی رکھنا ہوتا ہے۔ والد صاحب کا آسانی سا سمجھایا گیا ایک سادہ سا کُلیہ تھا۔
وہ کہا کرتے تھے ، "آپ اپنا اخبار اور اپنا بیت الخلاء بالکل ویسے ہی چھوڑیں، جس طرح سے آپ اسے ڈھونڈنے کی امید کرتے ہیں"۔ یہ سبق دوسروں کو تعظیم دینے کے بارے میں تھا اور میں نے یہ سیکھا کہ ہر کاروبار شروع بھی اسی اصول سے ہوتا ہے اور اُس کا اختتام بھی اسی منشور سے ہوتا ہے۔
چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے ، ہم ہمیشہ “ٹرانزسٹر ریڈیو” کے اخباری اشتہارات دیکھ کر ترسا کرتے تھے۔ ریڈیو جو ہماری رسائی میں نہیں تھا۔ ہم بچے دوسرے لوگوں کے گھروں میں ریڈیو کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور سُنا کرتے اور جب بھی فِلپس ، مرَفی یا بُش ریڈیو کا اشتہار آتا تو ہم َابّا سے پوچھتے، کہ ہمیں یہ کب مل سکتا ہے۔ ہر بار اُن کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ہمیں کسی ریڈیو کی ضرورت نہیں، کیونکہ گھر میں پہلے ہی پانچ ریڈیو موجود ہیں- اُن کی مراد اپنے پانچ بیٹوں سے ہوا کرتی تھی۔ ہمارے پاس اپنا کوئی مکان بھی نہیں تھا اور ہم کبھی کبھار اس بارے بھی ابا سے پوچھا کرتے تھے کہ دوسروں کی طرح ہم اپنے گھر میں کب رہیں گے؟ وہ اسی طرح کا جواب دیتے کہ ”ہمیں اپنے گھر کی کوئی ضرورت نہیں، میرے پاس پہلے ہی پانچ مکانات ہیں۔”
سچ پوچھئیے تو اُن کے ایسے جوابات نے ہمارے دلوں کو کبھی بھی خوش نہیں کیا تھا۔ لیکن بہر حال، ہم نے یہ سیکھا کہ یہ بھی ایک ضروری مشق ہے کہ کامیابی کو کبھی بھی مادی املاک کی ملکیت کے احساس سے نہ ماپیں۔
سرکاری مکانات کے ارد گرد شاذ و نادر ہی بَاڑ ہوا کرتی تھی، سو ماں اور میں نے ڈھیر ساری ٹہنیوں کو جمع کیا اور ایک چھوٹی سی باڑ تعمیر کر ڈالی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد، میری ماں کبھی نہیں سوتی تھی۔ وہ اپنے باورچی خانے کے برتن اور کچھ کھدائی کے اوزار لے آتی اور ہم سب بچے ان کے ساتھ مل کر کچھ سبزیاں اور پھول اگانے کےلئے زمین ہموار کرنا شروع کر دیتے۔ اکثر گوڈی اور کُھدائی کے دوران سفید سی چیونٹیاں اور کیڑے مکوڑے اپنے بِلوں سے نکل کر پورے صحن میں پھیل جاتے تھے۔ خیر جیسے تیسے کر کے ہم نے چند پھولوں کی شجرکاری کی۔ لیکن سفید چیونٹیوں نے انہیں تباہ کر دیا۔ میری والدہ اپنے چولہا سے کھُرچی ہوئی راکھ لے کر آئیں اور اسے زمین میں ملا دیا۔ اور ہم نے تمام پودے دوبارہ لگائے۔ اس مرتبہ ماں کا راکھ والا نسخہ کامیاب ہوا اور رنگ برنگے پھولوں اور ننھی مُنی خوبصورت سی کونپلوں نے کیاری کی مِٹی سے سَر نکالنا شروع کر دیا۔ لیکن اچانک ہی اس دوران میرے والد کے تبادلے کا سرکاری حکمنامہ آ گیا۔ چند پڑوسیوں نے میری والدہ سے پوچھا کہ وہ سرکاری مکان کی خوبصورتی کے لئے اتنا درد کیوں اٹھا رہی ہے؟ کیوں وہ بیج لگارہی ہے جس کا فائدہ صرف اگلے مکین کو ہوگا؟
میری والدہ نے جواب دیا کہ، “مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اِن پھولوں کو پُوری طرح سے کھِلتے ہوئے نہیں دیکھ پائیں گی۔ بلکہ اگر مجھے صحرا بھی مِل گیا تو میں وہاں جا کر بھی پھول اُگاؤں گی۔ جب بھی اوپر والا مجھے کوئی نیا مقام عطا کرتا ہے تو اُسے میراث میں مِلی جگہ سے تو بہرحال خوبصورت بنا کر ہی چھوڑنا چاہئے۔”
یہ میرے لئے ایک اور نیا سبق تھا کہ، “کامیابی اس چیز کے بارے میں نہیں جو آپ اپنی ذات کے لئے تخلیق کرتے ہیں، دراصل یہ تو اپنے پیچھے چھوڑ جانے والی ویرانیوں میں خوبصورتی کے پھول کاشت کرنے کا نام ہے اور یہی درحقیقت کامیابی کی اصل تعریف ہے۔”
جب میری عمر بہت چھوٹی تھی تو میری والدہ کی آنکھوں میں موتیا کی بیماری اُتر آئی۔ اس وقت، میرے سب سے بڑے بھائی نے “بُھوَبانیشور” کی یونیورسٹی میں تدریسی ملازمت حاصل کر لی اور ساتھ ہی خود کو “انڈین سِول سروس” کے امتحان کی تیاری میں جَوت لیا۔ میری والدہ نے بھی خود کو بھائی کے کھانا پکانے اور اُسے پہنچانے کے لئے وقف کرلیا۔والدہ کا بھائی کو پیدل روٹی پہنچانے کی کاوش میں ہمراہی ہونے کے ناطے، مجھے بھی ضلع ”بھوبانیشور” منتقل ہونا پڑا۔ وہاں میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار گھروں میں بجلی اور پانی کو نلکے سے نکلتا دیکھا۔ یہ ۱۹۶۵ء کے آس پاس کا دور تھا جب انڈیا، پاکستان کے ساتھ جنگ میں جارہا تھا۔ میری والدہ کو اخبار پڑھنے میں کافی دشواری پیش آتی تھی اور بنگالی ہونے کی وجہ سے چونکہ وہ “اوریائی رسم الخط” نہیں جانتی تھیں، سو میرے روز مرہ کے کام کاج کے علاوہ ان کو مقامی اخبار پہلے صفحہ سے آخر تک پڑھنا بھی شامل ہو گیا۔ یوں انہوں نے مجھ میں ایک بڑی دنیا کے ساتھ جُڑ جانے کا احساس پیدا کیا۔ میں نے بہت سی مختلف چیزوں میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ جنگ کے بارے میں خبریں پڑھتے ہوئے، مجھے لگا کہ میں خود بھی جنگ لڑ رہا ہوں۔ والدہ اور میں، روزانہ کی خبروں پر تبادلہ خیال کرتے اورخود کو بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ سازی کے رشتہ میں پیہم اُستوار کئے، ایک بڑی حقیقت کا حصہ بن گئے۔ آج تک، میں اپنی کامیابی کو بڑے ربط کے اس احساس کے مطابق پیمائش کرتا ہوں۔ خیر، جنگ میں ہندوستان دو محاذوں پر لڑ رہا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے "جئے جوان ، جئے کِشن" کی اصطلاح تیار کی اور قوم کو حب الوطنی کے جذبے سے ہمکنار کیا۔ والدہ کو اخبار پڑھ کر سُنانے کے علاوہ مجھے اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ میں اس جنگی کارروائی کا حصہ کیسے بن سکتا ہوں۔ لیکن میں ہر روز یونیورسٹی کی پانی والی ٹینکی کے قریب جا چُھپتا، جس سے علاقہ مکین استفادہ کرتے تھے۔ میں اس کے نیچے گھنٹوں گزارتا، یہ اندیشہ تصور کرتے ہوئے کہ، ہو سکتا ہے کہ کہیں کوئی جاسوس بھی چُھپے بیٹھے ہوں، جو پانی میں زہر مِلانے آ سکتے ہیں اور مجھے ان کے دشمنانہ عزائم پہ نظر رکھنا ہو گی۔ میں اکثر ایک جاسوس کو پکڑنے کے بارے میں دن بھر خواب دیکھتا رہتا تھا اور چشمِ تصور میں خود کے کارناموں کو اگلے دن کے اخباروں کی شہہ سُرخیوں کی زینت بنتا ہوا بھی محسوس کرتا تھا۔ بدقسمتی سے جنگ کے جاسوسوں نے دور افتادہ “بھوبانیشور” قصبے کو نظرانداز کیا اور مجھے کبھی بھی ایسا موقع نہیں مِل سکا۔ لیکن پھر بھی اس فعل نے میرے تخیل کو عجب سی سرشاری بخشی۔
تخیل ہی سب کچھ ہے۔ اگر ہم کسی مستقبل کا تصور کرسکتے ہیں تو ہم اسے تخلیق بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہم وہ مستقبل خوبصورت منصوبہ بندی سے تعمیر کر سکیں تو، دوسرے اس میں ایک شاندار زندگی بھی گزار سکتے۔ یہی کامیابی کا جوہر ہے۔
اگلے چند سالوں میں، میری والدہ کی بینائی مدھم ہوتی چلی گئی لیکن اس پُر عزم خاتون نے میرے وجود میں ایک بہت بڑا نظریہ پیدا کر دیا تھا۔ ایک ایسا نظریہ جس کے عدسے سے دنیا کو دیکھتا تو میں تھا، لیکن محسوس وہ کرتی تھی۔ اگلے چند سالوں میں والدہ کی بینائی خراب تر ہوتی گئی اور ایک سٹیج پہ آ کران کے موتیا کا آپریشن کیا گیا۔ مجھے یاد ہے، جب وہ اپنے آپریشن کے بعد واپس آئیں اور پہلی بار انہوں نے میرا چہرہ صاف بینائی سے دیکھا تو وہ حیران رہ گئیں۔ کہنے لگیں "اے میرے خدا، میں نہیں جانتا تھی کہ میرا بیٹا اتنا اچھا لگے گا۔ میں آج تک اس نعمت پہ بےحد خوش ہوں۔”
ان کی بینائی لوٹ آنے کے چند ہفتوں کے اندر ہی انہیں قرنیہ کا السر ہو گیا اور راتوں رات وہ دونوں آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گئیں۔ یہ ۱۹۶۹ء کی بات ہے۔ وہ ۲۰۰۲ء میں انتقال کر گئیں تھیں۔ اندھے پن کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ان ۳۲ برسوں میں وہ ایک بار بھی اپنی قسمت کے بارے میں شکوہ کناں نہیں ہوئیں۔ یہ جاننے کے تجسس میں کہ اندھی آنکھوں سے انہوں نے کیا دیکھا، میں نے ایک بار ان سے آخرکار پوچھ ہی لیا کہ “کیا آپ کو اندھیرے نظر آتے ہیں؟”
انہوں نے جواب دیا ، "نہیں ،مجھے صرف آنکھیں موند کر ہر طرف روشنی ہی روشنی نظر آتی ہے۔” یہ بات مجھے دیر سے سمجھ آئی۔ ۸۰ سال کی عمر میں بھی انہوں نے روزانہ صبح کا یوگا کیا، اپنے کمرے میں جھاڑو لگایا اور اپنے کپڑے خود دھوئے۔
میرے نزدیک، کامیابی کسی سہارے سے مستثیٰ ایک آزادی کے احساس کے بارے میں ہے، یہ دنیا کو نہیں بلکہ روشنی کو دیکھنے جیسا ہے۔
آنے والے برسوں کے دوران ، میں بڑا ہوا، تعلیم حاصل کی، صنعتی دھارے میں شامل ہوا اور اپنی زندگی کا سفر طے کرنا شروع کیا۔ میں نے اپنے کرئیر کا آغاز سرکاری دفتر میں بطور کلرک کی حیثیت سے کیا، ڈی سی ایم گروپ کے ساتھ مینجمنٹ ٹرینی بننے گیا اور بالآخر ۱۹۸۱ء میں جب چوتھی نسل کے کمپیوٹر ہندوستان آئے تو آئی ٹی انڈسٹری کے ساتھ میری زندگی کو نویدِسحر ملی۔ زندگی مجھے نئے مقامات پر لے گئی، میں نے کئی شاندار افراد اور چیلینجنگ اسائنمنٹس کے ساتھ کام کیا اور پوری دنیا کا سفر کیا۔
۱۹۹۲ء میں، میری امریکہ تعیناتی کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ میرے والد جو میرے بڑے بھائی کے ساتھ اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے، تھرڈ ڈگری برن یا شدید جُھلس جانے کا شکار ہوئے اور انہیں دہلی کے “صفدرجنگ اسپتال” میں داخل کروایا گیا۔ میں پہلی فلائیٹ لے کراُڑتا ہوا، اُن کے پاس جا پہنچا- وہ کچھ دن سے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں گردن سے پیر تک “سفید پَٹیوں” میں لِپٹے ہوئے تھے۔ صفدرجنگ اسپتال ایک کاکروچ زدہ، انتہائی گندا اور غیرانسانی مقام ہے۔ بَرن وارڈ میں دبے ہوئے، کام کرنے والی نرسیں بے رحم، بہیمانہ اورروایتی بیگانگی کا رویہ رکھے ہوئے تھیں۔ ایک صبح، میرے والد کے پاس جاتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اُن کی خون کی بوتل خالی ہو چکی ہے اور اس خوف سے کہ پلاسٹک کی نالی کے ذریعہ کہیں خالی ہوا، اُن کی رگوں میں نہ گھُس جائے، میں نے حاضر نرس سے کہا کہ وہ اسے تبدیل کردیں۔ اس نے دو ٹوک انداز میں مجھے یہ کام خود کرنے کو کہا۔ موت کے اس خوفناک تھیٹر میں شاید میرے درد، مایوسی اور غصے کے مِلے جُلے تاثرات پہ اُسے ترس آ گیا اور بالآخر وہ میرے والد کو دیکھنے قریب آ گئی۔ اُس نرس کے آتے ہی میرے والد نے آنکھیں کھولیں اور اس سے اپنے نقاہت زدہ لیکن روایتی شفقت آمیز لہجے میں گویا ہوئے،
" بیٹی! آپ ابھی تک گھر کیوں نہیں گئیں۔۔۔۔؟؟؟”
میرے لئے اپنی موت کے بستر پہ لیٹے ہوئے ایک شخص سے اِیسے جملے کی توقع نہ تھی۔ یہ عجب سَرمست شخص، خود سے زیادہ اپنی ریاستی ادارے کے لئے کام کرنے والی نرس کے بارے میں زیادہ فکر مند تھا۔ میں ان کے اس کرب زدہ حوصلہ پہ دنگ رہ گیا تھا۔
میں نے یہ سیکھا کہ، آپ اپنی تکالیف اور ذاتی مسائل سے بالاتر ہو کر کیسے کسی دوسرے انسان کے لئے شدت سے فکرمند ہو سکتے ہیں اور اس میں شامل ہونے کی حد کیا ہے؟
اگلے دن میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ ایک ایسا آدمی آج دنیا سے چلا گیا، جس کی کامیابی کی تعریف اس کے اصولوں، اس کی سادگی، اس کے آفاقی احساسات، اس کا دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اورشمولیت کے بھرپور احساس سے تعبیر تھی۔ سب سے بڑھ کر، والد نے مجھے سکھایا کہ کامیابی آپ کی تکلیف سے اوپر اُٹھنے کی صلاحیت ہے، آپ کی موجودہ حالت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ چاہیں تو، اپنی ذات کے فنا سے ارد گرد کے شعور کو بلند کرسکتے ہیں۔ کامیابی مادی آسائشوں کی تعمیر کے بارے میں نہیں ہے۔ ٹرانزسٹر جسے وہ کبھی نہیں خرید سکتا یا وہ مکان جس کی چھت کبھی بھی اُس کی ملکیت نہیں بن سکتی۔ درحقیقت کامیابی تو اُس کی میراث کے بارے میں ہے، یہ اُس کے ترکہ کے بارے میں ہے جو اس نے چھوڑ جانا ہے، کامیابی تو اپنے قد سے اوپر اُٹھنے کا نام ہے۔
کامیابی کی اِس عجب تعریف کو ایک گُم نام، کسی اعزاز و پذیرائی سے محروم، معمولی تنخواہ گزار سرکاری ملازم نے اپنے نظریات کےتسلسل سے آج بیان کر ڈالا۔
میرے والد برطانوی راج کے زبردست حامیوں میں سے تھے۔ انہوں نے آزادی ملنے کے بعد والی ہندوستانی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور طرزِ حکمرانی کی قابلیت پہ ہمیشہ شک کیا تھا۔ اُن کے نزدیک، “برطانوی یونین جَیک” پرچم کا سرنگوں ہونا ایک افسوسناک واقعہ تھا۔ میری والدہ اس کے بالکل مخالف نظریہ رکھتی تھیں۔ جب “سبھاش چندر بَوس” نے انڈین نیشنل کانگریس چھوڑی تو میری والدہ اس وقت اسکول کی ایک پُرجوش طالبہ تھیں۔ ڈھاکہ آمد پر انہوں نے خود اُسے پھولوں کا ہار پہنایا تھا۔ وہ “گتگا بازی” (ڈنڈے سے لڑائی)کرنا جانتی تھیں اور اُس وقت کی زیرزمین تحریکوں میں بھی شامل رہیں، جہاں انہوں نے خنجروں اور تلواروں کے استعمال کی تربیت بھی حاصل کر رکھی تھی۔ اِس دو رُخہ پس منظر کے ہوتے ہوئے بھی، ہمارے گھر والوں نے والدین کے سیاسی نکتہ نظر میں قابلِ احترام تنوع دیکھا۔ دنیا سے متعلق بڑے امور پر، بوڑھے آدمی اور بوڑھی خاتون کی رائے ہمیشہ مختلف ہی رہی۔
ان کے ساتھ رہتے ہوئے، ہم نے اختلافِ رائے، بات چیت کی طاقت اور سوچ میں تنّوع اور احترام کے ساتھ رہنے کا جوہر سیکھا۔ کامیابی کسی آخری حد تک حتمی ریاست بنانے کی صلاحیت کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ بات چیت اور تسلسل کے افکار پر مبنی عمل کے بارے میں ہے۔
دو سال قبل، اَسّی (۸۰) برس کی عمر میں، والدہ پہ فالج کا حملہ ہوا اور وہ “بھوبانیشور” ضلع کے ایک سرکاری اسپتال میں داخل ہو گئیں۔ میں ایک بار پھر امریکہ سے اڑان بھر کے انہیں دیکھنے کے لئے جا پہنچا، یہ وہ لمحات تھے جب میں اپنے کام کی تعیناتی کے دوسرے مرحلے میں ابھی بمشکل داخل ہی ہوا تھا۔ میں نے اُن کی فالج زدہ کیفیت میں دو ہفتے اُن کے ساتھ اسپتال میں گزارے۔ وہ نہ تو بہتر ہو رہی تھی اور نہ ہی کسی پیشرفت کی امید واضع ہو رہی تھی۔ آخر کار مجھے کام پہ بلاوے کے باعث واپس لوٹنا پڑا۔ انہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے میں نے ان کے چہرے کو چوم لیا۔ اس مفلوج حالت میں بھی، انہوں نے میرے کان میں روایتی کڑک دار لیکن لرزتی ہوئی آواز میں کہا،
"تم مجھے کیوں چوم رہے ہو، جاؤ اور دنیا کو چُوم لو۔"
اس پیکرِ عزم و ہمت جس کا دریا اپنے آخری پڑاؤ کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ زندگی اور موت کے سنگم پہ بھی یہ عورت، جو ایک مہاجر کی حیثیت سے ہندوستان آئی تھی، جس نے ایک بیوہ ماں کے ذریعہ پرورش پائی، جو ہائی اسکول سے زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھی، جس نے ایک ایسے گمنام سرکاری ملازم سے شادی کی جس کی آخری تنخواہ فقط تین سو روپے تھی، قسمت نے جس کی بینائی چھین لی اور مشکلات کا تاج پہنایا اس وقت مجھ سے کہہ رہی تھی کہ،
جاؤ اور دنیا کو بوسہ دے دو!
کامیابی میرے نزدیک ایک نظریے پہ چلنے کا نام ہے۔ یہ بےوسیلہ اور کم سامانی کے درد سے اوپر اٹھنے کی صلاحیت ہے۔ یہ تخیل کے گھوڑے کو اَیِڑ لگانے کے بارے میں ہے۔ یہ چھوٹے لوگوں کے لئے حساسیت رکھنے کے بارے میں ہے۔ یہ تعمیری سوچ اور عمل کو شامل کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ اپنے اردگرد موجود چھوٹی دنیا سے نکل کر بڑے جہانوں کی تلاش اور اُس دنیا کے وجود سے مربوط رہنے کے بارے میں ہے۔ یہ استقامت اور ڈسپلن کے بارے میں ہے۔ یہ زندگی میں عطا کردہ نعمتوں کو، زندگی کو واپس لوٹانے کے بارے میں ہے یہ عام زندگیوں کے ساتھ غیر معمولی کامیابی پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔
بہت بہت شکریہ؛ میری خواہش ہے کہ آپ کو خوش بختی نصیب ہو اب جاؤ اور خدائی رفتار کے ساتھ اپنے کام پہ لگ جاؤ۔
جاؤ اور ! دنیا کو بوسہ دو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پسِ تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈین نژاد سوبروٹ باگچی ایک کامیاب آئی ٹی، آنٹر پَرینَور اور کامیاب ترین بزنس لیڈرہیں۔ یہ ۳۱ مئی ۱۹۵۷ کو خلیج بنگال کے مشرقی ساحلوں سے ملحقہ ریاست اُڑیسہ کے ضلع پٹنہ گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام “مکھن گوپال باگچی” اور والدہ کا نام “لابونیہ پرُّوَا باگچی” تھا۔ سوبروٹ باگچی “اُٹکل یونیورسٹی” سے پولیٹیکل سائنس میں ڈگری یافتہ اور انڈیا کے بہترین “این۔سی۔سی” کیڈٹ رہ چُکے ہیں۔سوبروٹ، آئی ٹی انڈسٹری میں گرو کے نام سے مشہور “عظیم پریم چند جی” کی کمپیوٹر کمپنی “وِپرو کارپوریشن” میں “سینئر ایگزیکیٹو پریزیڈنٹ” کے عہدے پہ بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ۱۹۹۹ء میں انہوں نے “مائنڈ ٹری” کے نام سے ملٹی بلین ڈالر مالیت پہ مشتمل گلوبل آئی ٹی سروس کمپنی کی بنیاد رکھی اور اُس کے بعد “ایپکس” نامی گلوبل آئی ٹی سروس کمپنی کے چئیرمین رہنے کے علاوہ اُڑیسہ کے کیبنٹ وزیر بھی رہے اور بعد ازاں ریاست کی “وزارتِ ہُنر مندی” کے چئیرمین کے طور پہ بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ اُن کی یہ تحریر “انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی” میں دی گئی ۲۰۰۶ء کی گریجوایشن تقریب کی تقریر سے منتخب کی گئی ہے۔
سوبروٹ باگچی، سُشمیتا باگچی کے ساتھ رشتہ ازدوج میں منسلک ہیں جو خود بھی ایک مصنفہ کی شہرت رکھتی ہیں۔ اُن کی دو صاحبزادیوں کا نام “نِیہا” اور “نِیتی” ہے۔ سوبروٹ باگچی آج کل اُڑیسہ میں کووِڈ ۱۹ کی آگاہی مہم کے چہرے کے طور پہ مصروفِ عمل ہیں۔
انگریزی آرٹیکل کا لِنک اور متن: https://speakola.com/…/subroto-bagchi-go-kiss-the-world-iim…
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2889449554618892