#تیرے_عشق_میں
#از_اقراء_خان
#قسط_نمبر_10
#حصہ_اول
وہ گہری نیند میں تھی ۔۔جو اسکے ساتھ ہو چکا تھا وہ اسے بھلانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ خود کو بار بار اسی درد میں مبتلا کر لیتی کیونکہ وہ سچی تھی لیکن کوئی اسکی بات پر یقین نہیں کر رہا تھا وہ مجبور حالات زندگی کی زنجیروں میں جھکڑی ہوئی بے بس لڑکی تھی جس کو اس جوب بچانے کے لیے ان مجازی خداوں کے سامنے جھکنا پڑتا تھا ۔۔گہری نیند کے باوجود اسکی آنکھیں نم تھیں آبھی انسووں کی لہریں ۔۔قطرے قطرے کی صورت میں اسکے رخ سے بہہ رہے تھے وہ آج ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔کہ اچانک اسکے فون کی گھنٹی بجی ۔۔
وشمہ ۔۔۔کی آنکھ کھلی اور اس نے فون اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔
رانیہ؟
رانیہ تو یہاں نہیں تھی ابھی میں نے اسے بتایا تھا ۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔وہ تو آج میرے گھر رکی تھی اسکی کال ۔
وشمہ نے ہربڑی میں فون اٹھایا ۔
ہیلو ۔۔
ارے وشمہ کی بچی کہاں ہے تو کب سے تجھے فون کر رہی ہوں ۔۔یار ۔۔سوری رات کو تمھیں تنگ کیا
لیکن مجھے نوٹس چاہیے ۔کل یونی آتے ہوے لے آنا
ررر رانیہ
ہاں کہو ۔۔
رانیہ تم میرے گھر نہیں تھی ۔۔
پاگل ہو گئ ہو اتنی رات کو میں تمھارے گھر کیسے ہو سکتی ہوں ۔
نہیں یار ابھی تم مجھے بیڈ پہ لیٹا کہ گئ تھی اور تم میرے گھر پہ تھی
وشمہ ولید ۔۔لگتا ہے تم گھوم گئ ہو ۔۔ارے پاگل میں کیسے تمھارے گھر آ سکتی ہوں ۔۔
اچھا
وشمہ نے یہ کہتے ہوے فون بند کیا ۔۔
میں خواب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اف میرے خدایا ۔۔میں کیا کہہ رہی تھی رانیہ کو کہ میں سر اشر کو پسند کرتی ہوں ۔۔
وشمہ کیا ہو گیا ہے تمھیں کیا واقعی میں سر اشر کو پسند کرتی ہوں ۔۔
نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔یہ جو بھی ہے یا اللہ نا ہو ۔۔کیونکہ یہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔۔لیکن میں نے خواب کیوں ایسا کہا ۔
کہ مجھے سر اشر سے محبت ہو چکی ہے وشمہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا جس کی دھڑکنیں تیز تھی وشمہ تمھیں سر نے جوب سے نکال دیا ہے ۔۔وہ تمھیں دیکھنس پسند نہیں کرتے اور تم پیار کرنے کا کہہ رہی ہو ۔
وشمہ نے اپنا ماتھا ۔۔جٹھکا ۔۔اور ۔اپنے بالوں کو کھجلانے لگی اسے نہیں معلوم تھا کہ اسے کیا ہو رہا ہے وہ
اشر گیلانی کو ناچاہتے ہوے بھی اسکا خیال کرتی تھی ان کے بارے میں ۔۔سوچنا اسے ہر وقت پاگل کرتا ۔۔اشر گیلانی نا چاہتے ہوے بھی اسکی زندگی کا حصہ بنتا جا رہا تھا ۔
بس اب شورو ۔۔۔وات ہے عشق کی
اگ لگی ہے دلوں میں اب جلنا باقی ہے
میں تمھیں ابھی اسی وقت ۔۔جوب سے نکالتا ہوں ۔
وہ گہری سوچ میں ڈوبا ۔۔تنہائی ۔۔پزیر ۔۔عموما کمرے کی روشنی بند اور اندھیرے میں ۔۔چیر پر بیٹھا ۔۔خود کو ۔۔کیسی کی یاد میں الجھایا ہوا تھا
اور اس یاد کا موضوع ۔۔صرف وشمہ ولید تھی ۔
اسے ۔۔سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس نے صیح کیا یا غلط کیسی کے کہنے پر اس نے وشمہ کو جوب سے نکال دیا صیح تھا غلط ۔۔
وہ کیوں بار بار وشمہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جب سے گئ تھی ۔۔ ہر پہر اسی کا خیال اسی کا تصور اسکے ذہنوں میں سوار تھا ۔
وشمہ تم کیوں میری زندگی میں آئی ۔۔۔کیوں تم میرے زندگی کا حصہ بن رہی ہو کیوں ؟
عشق وہ کھیل نہیں جیسے بچے کھیل جائیں
جان نکل جاتی ہے صدمات سہتے ۔۔سہتے
*********************
تو اور کیا ۔۔تمھیں یقین نہیں ہو رہا ابھی تک علینہ نام ہے میرا ۔۔۔سن لو تم بھی اٹھا کے پھنک دیا باہر سر اشر نے بڑی اکڑ تھی اس میں کہتی تھی کہ سر اشر مجھے نکال ہی نہیں سکتے لیکن اس کی ساری اکڑ کو ایسا توڑا میں نے اگر اب سر اشر کے پاوں بھی پڑے نا تو پھر بھی نہیں مانیں گے وہ
"ویسے کیا کیا تم نے ایسا کہ تمھارے بوس نے اسے آفس سے ہی نکال دیا” فون میں سے کوئی ہستے ہوے بولا ۔
کیا کیا ۔۔۔بس ۔۔چھوٹا سا کام تھا ۔۔ہوا کچھ یوں کہ ہماری ایک ایپورٹنٹ میٹنگ تھی جس کےلیے سر اشر نے سب کو پہلے ہی خبر دار کر رکھا تھا کہ کوئی کام میں گڑبڑ نہ ہو اسلیے سر نے اپنی چہتی سیکرٹری مس وشمہ کو کنٹریکٹ سائین فاعل لانے کے لیے بھیجا وہ تو بیچاری پوری ایمانداری سےسر کے حکم کے تعمیل کے مطابق فاعل لینے کے لیے گئ ۔۔
لیکن میں نے راستے میں ہی اسے روک لیا ۔۔اور اس سے فاعل چھین کے اسکو کمرے میں بند ۔۔
ہاہاہاہاہاہیایا
پھر کیا ہوا فون میں کیسی نے تجسس بڑے لہجے میں کہا
پھر کیا ہونا تھا ۔۔سارا آفس ۔۔میٹینگ روم میں میم وشمہ کا انتظار تھا کہ کب محترمہ آئیں اور ڈیل ڈن ہوں
لیکن آتی کیسے وہ تو کمرے میں بند باہر آنے کی فریادیں کر رہی تھی اور پھر میں موقع پر چوکا مارا سر اشر کے سامنے اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کیے فاعل لی اور ا گئ ۔۔
لیکن پھر بھی انتہا دیکھو ۔۔سر فاعل لینے کے بعد بھی وشمہ کا پوچھ رہے تھے
مطلب ۔۔۔میں اتنی کوشش سے فاعل لے کر ائی اور وہ صاحب ۔۔
مجھے تو لگتا ہے سر اشر وشمہ کو کچھ زیادہ ہی ۔۔۔دے رہے ہیں
لیکن شائد وہ اندھے ہیں کہاں وشمہ اور کہاں سر اشر ۔۔۔۔زمین اور آسمان کا فرق ہے ان دونوں میں
اگر وہ ان سے شادی کر لیں نا تو انکے جو بزنس رائیول ہیں وہ ہی نہیں چھوڑئیں گے ۔۔
اسلیے وہ کبھی وشمہ سے شادی کا نہیں سوچ سکتے ۔۔
علینہ نے خود کو دلاسا دیا اور فون بند کیا
جیسے اس نے فون بند کیا ۔۔
اشر اسکے پاس سے گزرا ۔
اور روکا
علینہ چونک گئ ۔۔اسے ڈر تھا کہ سر نے کہی اسکی باتیں تو نہیں سن لی ۔
مس علینہ آپ میرے روم میں آئیں ۔
*********************
مے ائی کم این سر
علینہ نے دروازے پہ کھڑے ہوتے ۔اجازت کی طلب کی ۔
جی ائیں
اشر نے بنا دیکھے اجازت دی ۔۔
جیسے وہ اندر داخل ہوئی ۔۔
اس نے اشر کی طرف دیکھا جو کیسی لیٹر کو اینولیپ میں ڈال کر بند کر رہا تھا ۔۔
یہ لیجیے مس علینہ ۔۔
اشر نے غصے بڑی نگاہوں سے اینولپ علینہ کی طرف کیا ۔
علینہ چونکی ۔۔
پھر مسکرائی ۔۔
او ۔۔۔سر ۔۔وشمہ کا ریزینگنشن لیٹر ۔۔اوکے سر میں اسے دے دوں گی
اس نے کہا ۔اور وہ وہاں سے جانے لگی تھی کہ پیچھے سے آواز نے اس کے قدم وہی روک دیے ۔
مس علینہ پہلے کھول کے تو دیکھ لیں
میں سر پر کیوں؟
وہ چونکی اور اس نے ۔۔سوالیہ انداز میں اشر کی طرف دیکھا ۔۔
دیکھیں تو سہی ۔
جیسے علینہ نے اینولپ اوپن کیا ۔۔
وہاں نام ۔۔وشمہ کی بجاے ۔
علینہ منیر کا تھا ۔۔
جیسے علینہ نے اپنا نام پڑا ۔۔اس کے منہ سے بے اختیار نکلا
سر میں لیکن کیوں ؟
یہ آپ تو بہتر جانتی ہیں
لیکن سر میں نے ۔۔میں نے تو کچھ نہیں کیا ۔۔
اپ مے تو وشمہ کو نکالا تھا ۔۔
لیکن اب آپ کو نکال دیا ۔۔
سر ۔۔۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ
جیسا آپ نے وشمہ کے ساتھ کیا ۔۔تھا بلکل ویسا میں نے کر دیا ۔۔
کیا ۔۔۔سر میں سمجھی نہیں ۔۔
شٹ اپ مس علینہ ۔۔
جسٹ شٹ اپ
آپ کو کیا لگا ۔۔سچائی کا مجھے علم نہیں ہو سکے گا ۔۔
کچھ دیر پہلے فون میں آپ اپنے عزیز کو جو باتیں سنا رہی تھی
وہ ساری میں سن چکا ہوں ۔۔
لیکن سر
اب کوئی جھوٹ بولنے کا فایدہ نہیں ہے مس علینہ ۔۔
آپ نے جو حرکت کی ہے ۔۔اس کے لیے تو یہ سزا بہت کم ہے ۔۔
آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا وشمہ سٹاف ممبر ہے ۔۔اس افس کی
اور اپ نے اسکے خلاف اتنا بڑا الزام لگا دیا ۔۔
اور ۔۔اس بیچاری کو میں نے صرف آپ کی وجہ سے باتیں کی
اس سے پہلے میں اپنا آپا کھو ۔دوں ۔۔
گیٹ آوٹ
سر ؟
آئی سیڈ گٹ آوٹ
اشر نے اس قدر غصے سے کہا
کہ علینہ کانپ ۔۔گئ ۔۔
اور ۔روتے ہوے وہ آفس سے باہر نکل گئ ۔
(سر خدا کے لیے ایک دفعہ میری بات سن لیں ۔۔
میں آپ کو سارا سچ بتاتی ہوں)
اشر کو بار بار وشمہ کے جملے یاد آرہے تھے ۔۔
یہ کیا ۔۔کر دیا ۔۔تم نے اشر ۔۔کیا کر دیا ۔۔
**************************
اسلام و علیکم ابا
وشمہ نے پہل کرتے ہوے کہا ۔
وعلیکم اسلام ۔۔میرا بیٹا کیسا ہے ۔
میں بلکل ٹھیک ۔۔
آپ سنائیں اب آپ کی طعبیت کیسی ہے ۔
وشمہ نے شائستگی سے پوچھا ۔
بلکل ٹھیک ہوں میں میرا بیٹا ہے نا ۔۔تو مجھے کچھ نہیں ہو سکتا
ولید احمد کی اس بات پر وشمہ کی انھیں بھر آئی ۔
اچھا ۔۔یہ لو اپنی ماں سے بات کرو ۔
اسلام و علیکم امی کیسی ہیں
وشمہ نے ۔۔اپنے آپ کو قابو میں کیا ۔
میں تو بلکل ٹھیک ہوں میری جان بس تیرے اب کی فقر لگی رہتی ہے ۔۔
اتنا دوایوں میں خرچا ۔۔سچ میں بیٹا اگر تو نا ہوتی تو آج ہمارا کیا ہوتا ۔
اللہ کے واسطے امی ایسا مت کہیے ۔۔میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں کیا ہوا اگر بیٹی ہوں ۔
بیٹیاں بھی تو بیٹے یوتے ہیں نا ۔۔
میں صدقے جاوں ۔۔وشمہ ۔میں بڑی خوش نصیب ہوں جو مجھے تم جیسی نیک فرمابردار اولاد ملی ۔۔
اچھا بیٹا ۔۔ جوب اچھی جا رہی ہے نا ۔۔
جیسے ثریا بیگم نے کہا ۔
وشمہ وہی چپ ہو گئ ۔ ۔
کچھ ۔۔دیر خاموشی رہی
پھر اس نے اپنے آنسووں کو قابو میں کرتے ہوے کہا ۔۔
ہاں ۔۔ہاں امی بلکل اچھی جا رہی آپ فقر مت کریں بس ابا خا دھیان رکھیے گا اچھا میں اب فون رکھتی ہوں
جیسے ۔۔وشمک نے فون رکھا ۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔۔
اسکے پاس ۔۔اب رونے کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا ۔۔وہ تنگ آچکی ۔تھی زندگی کے امتحانات سے
لیکن ۔۔وہ ان سے ۔۔بھاگ نہیں سکتی تھی اسے مضبوط بننا تھا ۔
اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ۔۔
وہ اسی بے چینی میں مبتلا تھی کہ اسکے گھر کی گھنٹی بجی ۔۔
لگتا ہے رانیہ ہو گی آج یونی نہں آئی نا ۔۔
اسکا ہی پوچھنے آئی ہو گی
وہ جلدی سے آنسو پوچنتے ہوے ۔۔
بیڈ سے اتری
اور راہداری کے جانب بڑئ ۔
آرہی ہوں ۔۔رانیہ ۔۔تھوڑا انتظار کر لیا کرو ۔
اس نے دروازے کے
قریب جاتے ہوے ۔۔کہا ۔۔
جیسے ۔
اس نے دروازہ ۔۔کھولا ۔۔وہ بلکل ۔ہکا بھکا ۔۔رہ ۔۔گئ
اور اس کے منہ سے بے اختیا ۔
نکلا ۔
آپ؟
اشر سامنے دروازے پہ کھڑا ۔۔
آنکھوں پہ کالے چشموں کا پہرا تھا بلیک پینٹ کورٹ میں ملبوث ہاتھ میں گلاب کا گلدستہ لیے ۔۔
بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا ۔
جی
میں کیا میں اندر آسکتا ہوں
وہ حیران تھی ۔
جی جی کیوں نہیں
وشمہ اشر کو ۔۔نشت گاہ میں لے گئ ۔۔
یہ آپ کے لیے آپ کو گلاب پسند ہیں نا ۔۔
ہاے اللہ جی میرے لیے ۔۔
وشمہ نے چونکتے ہوے کہا ۔
اشر نے مسکراتے ہوے سر ہلایا ۔
تھینک یوں سر ۔۔آپ کو پتا ہے مجھے
جیسے و شمہ نے کہا ۔اشر نے بات کاٹی
جی آپ کو گلاب کے پھول بہت پسند ہیں ۔
اشر کی اس بات پر وہ مسکرا دی ۔
اب آپ کو میری ساری باتیں یاد ہوں گی ہیں
ظاہر ہے آپ مجھے دن میں اتنی بار تو بتاتی تھی ۔۔
اشر نے مسکراتے ہوے کہا ۔
ہاہاہہا سر مجھے لگتا تھا کہ آپ بھول گئے ہیں ۔۔
جیسے وشمہ نے قہقا لگایا اچانک اس کے لہجے میں ۔۔بدلاو ۔۔آیا ۔
سر ۔۔میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ۔۔میرا قصور نہیں تھا
جی مس وشمہ مجھے پتا چل چکا ہے ۔۔آپ کا قصور نہیں تھا ۔۔سار قصور مس علینہ کا تھا ۔۔اس نے جان بھوج کر آپ کو کمرے میں بند کر دیا ۔
یس ۔۔سر یہی تو میں آپ کو بتانا چاہ ۔رہی تھی لیکن آپ تھے ۔۔ایسے ۔۔گھوڑے پہ سوار تھے میری بات ہی نہیں سن رہے تھے ۔
چلیں خیر ۔۔اب کیا ہو سکتا ہے ۔
کیا ہو سکتا ہے میں آپ سے ۔۔۔
جیسے اشر نے کہا ۔وہ رک گیا
کیا سر ۔
وشمہ نے بات بڑھائی ۔
وہ میں آپ سے ۔۔۔۔۔۔
وہ پھر نا کہہ پایا ۔۔
(ہاے اذرائیل بول دے ۔۔۔کیوں ڈر رہا ہے) وشمہ نے دل میں سوچتے ہوے کہا ۔
ہاے ۔۔ہاے سر بول دیجیے ۔۔۔کچھ نہیں کہتی میں ۔
ناں مجھ سے اتنا ڈرے ۔۔
کیا
اشر نے چونکتے ہوے کہا
تو اور کیا سر ۔۔۔۔کہہ دیں ۔۔مس وشمہ میں اکڑو
نہیں میرا مطلب ۔۔اذرائیل ۔۔
نہیں نہیں ۔۔یہ نہیں ۔۔
میں اشر گیلانی بلیک کافی کا شوقین سر ۔۔اپنی بھولی بھالی ۔سیکرٹری ۔۔سے معافی مانگتا ہوں ۔۔
جس سے ۔۔اتنی بڑی کوتاہی ہو گئ ۔۔
چلیے آپ نے کہہ دیا ہے تو اب میرے کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔
یہ لیجیے لیٹر ۔جووائنگ لیٹر ۔۔آپ کل سے آفس آ سکتی ۔۔
پتا تھا کہاں بولے گا
وشمہ نے آیستہ سے کہا
لیکن اشر نے سن لیا تھا ۔
سچ میں سر ۔۔۔پھر رکیے سر ۔۔میں ابھی آپ جیسی کالی چاے بنا کر لاتی ہوں ۔۔
جیسے وشمہ نے کہا
اشر نے فورا کہا
نہئں نہیں ۔۔۔مس وشمہ مجھے ۔۔کالی چاے نہیں پینی
ہاے سر گھبرایے مت اب میں نے سیکھ کی ہے کیسے کالی چائے بناتے ہیں
اشر وشمہ کی اس بات پر مسکرایا
اور کہا
یہ نہیں سدرے گی
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔