منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_19_سیکنڈ_لاسٹ کافی …


#تیری_دیوانی_از_سحرعلی
#قسط_19_سیکنڈ_لاسٹ

کافی وقت اسے یوں ہی بیٹھے بیت گیا۔۔ زاویار دوبارہ کمرے میں نہ آیا۔۔ شہناز بیگم احمد صاحب کو آفس بھیج کر زاویار کے پاس آگئیں جو دوسرے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔
زاویار تم ادھر کیا کر رہے ہو؟
کیوں ماما یہ میرا گھر نہیں ہے کیا؟ میں اپنی مرضی سے ادھر نہیں آسکتا؟ اس نے مزاق سے کہا۔
ارے نہیں بیٹا۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔ میں تو اس لیے پوچھ رہی تھی کہیں پھر کوئی بات تو نہیں ہو گئی تم دونوں کے درمیان؟
ہاں جی۔۔ بات تو ہوئی ہے۔۔ وہ کچھ دیر خاموش ہوا اور لگتا ہے اس بار آپ کی بہو کا دماغ ٹھکانے پر آگیا ہے۔۔ زاویار نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہیں۔۔ شہناز بیگم اب بھی فکرمند تھیں۔
مطلب یہ کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔ میری بیٹی ٹوٹ گئی ہے زاویار۔۔ اسے سمیٹ لو۔۔ شہناز بیگم نے نم لہجے میں کہا۔
ماما ایک بات بتائیں۔
ہاں پوچھو؟
آپ کو لگتا ہے آپ کا بیٹا ایسی گری ہوئی حرکت کر سکتا ہے؟ زاویار نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
سچ بتاؤں تو۔۔ مجھے اپنے بیٹے پر یقین ہے۔۔ مجھے لگتا ہے تاشہ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔ انہوں نے کہا تو زاویار نے ان کا ہاتھ تھام کر بوسہ دیا۔
تھینکس ماما۔۔ اگر آپ میرا یقین نہ کرتیں تو میں ختم ہو جاتا۔
ایسے نہیں کہتے بیٹا۔۔ ہر چیز کا مقابلہ ہمت سے کرتے ہیں۔۔ بیٹا ہم انسان ہیں ناں غلطیاں بھی ہم ہی سے ہوتی ہیں۔۔
جانتے ہو ناں زرتاشہ بچپن سے تمہاری دیوانی ہے۔۔ اس کا ایک پل بھی تمہارے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔۔ اس کا بس چلے تو نعذباللہ وہ خدا کے آگے سجدہ کرنے کی بجائے تمہیں پوجنا شروع کر دے۔۔ اور جانتے ہو یہ ہی اس کی سب سے بڑی غلطی ہے۔
اسی لیے تو ہمارا مزہب ہمیں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔۔ نہ تو کسی چیز سے اتنی محبت کرو کہ ہر چیز بھول جاؤ اور نہ اتنی نفرت کہ اس کی آگ میں خود ہی جلنا شروع کر دو۔
ہم جب کسی کو بہت زیادہ چاہتے ہیں اسے ہر وقت سوچ سوچ کر اپنے اوپر سوار کرلیتے ہیں تو پھر ہمیں ہر وقت اسے کھونے کا خوف رہتا ہے۔۔ وہ خوف ہمارے اوپر اس طرح حاوی ہو جاتا ہے کہ ہم اس کے علاوہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔۔
اور پھر جب ہم کسی کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں یا تو ہم نیگیٹو سائیڈ پر چلے جاتے ہیں یا پوزیٹو۔۔ اور اس بات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے وہ تو تم خود دیکھ ہی چکے ہو۔
زاویار نے خوموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
دیکھو بیٹا میں یہ نہیں جانتی کہ وہ کیوں اس حد تک سوچنے پر مجبور ہوئی ہے۔۔ آخر وہ نیگٹو سائیڈ پر ہی کیوں گئی ہے۔۔ کوئی تو چیز دیکھی ہو گی اس نے۔۔ اور تم سے کہنے کی بجائے خود ہی سوچتی رہی۔۔
شاید تم سے کوئی غلطی ہوئی ہو اسے سمجھنے میں یا ہو سکتا ہے وہ تمہیں وہ سب کچھ کہہ نہ پائی ہو جو کچھ اس کے اندر چل رہا ہے۔۔ اس لیے میرے بچے اپنے اس رشتے میں اتنی گنجائش پیدا کرو کہ وہ بلا جھجک ہر بات تم سے کہہ سکے۔۔ وہ ابھی چھوٹی ہے ناسمجھ ہے۔۔ مگر تمہیں سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔۔ انہوں نے اسے سمجھایا۔
جی ماما۔۔ جانتا ہوں۔۔ اس نے مجھے کھونے کا خوف خود پر اتنا سوار کر لیا ہے کہ۔۔ اس نے گہرا سانس خارج کیا مجھے ہی اپنے قریب دیکھ کر ڈر جاتی ہے۔۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اس سے دور ہو جاؤں گا۔۔ میں اس کا یہ خوف ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ ساری زندگی اسی خوف میں گزار دے۔۔ اور ویسی زندگی نہ جی پائے جیسا اس کا حق ہے۔
وہ خاموش ہو گیا۔۔ چہرے پر تھکاوٹ کے آثار واضح تھے۔
زاویار۔۔ جو بھی ہوا اس دن تمہیں اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔
جانتا ہوں ماما میں نے غلطی کی۔۔ مگر میں کیا کرتا۔۔ اس کے منہ سے طلاق کا لفظ سن کر۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔۔
بچے جسے رب سے مانگا ہو اس کی ہر بات برداشت کرنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں۔۔ اس کی بےقدری نہیں کرتے۔۔ آخر میں انہوں نے مسکرا کر کہا تو زاویار نے انہیں چونک کر دیکھ۔
ماما۔۔ برداشت ہی تو کر رہا ہوں۔۔ یہ دن میں نے اس سے بےرخی اختیار کر کہ کس طرح گزارے ہیں یہ میں اور میرا اللہ جانتا ہے۔۔ مگر اس کی یہ تکلیف برداشت نہیں ہوتی کہ وہ خوف میں رہ کر خود کو اذیت دے۔۔ اسے اس چیز سے باہر لانے کے لیے میں نے یہ سب برداشت کیا ہے۔۔ اور مجھے یقین ہے میرا اللہ اس بار بھی مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا۔۔ اس نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہا۔
ان شاءاللہ۔۔۔ اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔ کبھی کسی آزمائش میں نہ ڈالے۔۔ انہوں نے دعا دی۔
آمین۔۔
اور ہاں زاویار ایک بات یاد رکھنا۔۔ دوبارہ کبھی تم نے میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا۔۔ یا تمہاری کوئی الٹی سیدھی حرکت کے بارے میں مجھے علم ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔ انہوں نے سختی سے تنبیہ کی۔
ماما۔۔ میں آپ کا بیٹا ہوں۔۔ کبھی آپ کی تربیت پر حرف نہیں آنے دوں گا۔۔ اور پلیز ماما جا کے اپنی بہو صاحبہ کو دیکھیں کہیں ابھی تک رو نہ رہی ہو۔۔ زاویار نے فکرمندی سے کہا۔
اتنی فکر ہے تو تم خود جا کر یکھ لو ناں۔
میں بھی دیکھ لوں گا۔۔ مگر ابھی نہیں۔۔ ابھی آپ چلی جائیں۔
اچھا ٹھیک ہے میں دیکھتی ہو۔۔ اور زاویار بس کرو اگر اسے احساس ہو گیا ہے تو مزید انتظار مت کرواؤ اسے۔۔ وہ کہتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئیں۔
اس کے کمرے میں آئیں۔۔ سامنے ہی وہ گھٹنوں میں سر دیے زمین پر بیٹھی نظر آئی۔
زرتاشہ۔۔ زرتاشہ۔۔۔ ایسے کیوں بیٹھی ہو۔۔ کیا ہوا ہے۔۔ اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئیں اور اس کا چہرہ اوپر کیا۔
اس کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھیں۔۔
زرتاشہ بیٹا۔۔ تم رو رہی ہو۔۔ اٹھو نیچے سے۔۔ ادھر آؤ میرے پاس۔۔ انہوں نے اسے اٹھانا چاہا مگر وہ نہ اٹھی۔
ماما۔۔ ماما مجھے۔۔ معاف کردیں۔۔ ماما پلیز۔۔۔ میں بہت بری ہوں۔۔ وہ ایک بار پھر سے رونے لگی۔
شہناز بیگم تڑپ کر رہ گئیں۔۔ ایسے کیوں کر رہی ہو۔۔ ایسے مت کہو بیٹا۔
نہیں ماما۔۔ میں بہت بری ہوں۔۔ میں نے آپ سب کا دل دکھایا۔۔ م۔۔ میں نے۔۔ الزام لگایا زاویار پر۔۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔۔ میں نے پتہ نہیں کیوں۔۔ ایسا کیا۔۔ وہ مجھ سے بات نہیں کر رہے۔۔ وہ روتی جا رہی تھی۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔۔ زاویار کی بےرخی اس سے برداشت نہ ہو رہی تھی۔
ماما۔۔ آپ ان سے کہیں۔۔ وہ میرے سے بات کریں۔۔ آپ ان سے کہیں ناں مجھے معاف کر دیں۔۔ وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔۔ وہ دیوانہ وار بولتی جا رہی تھی۔
شہناز بیگم کو کچھ سمجھ نہ آیا وہ کیسے اسے تسلی دیں۔۔ وہ بس حیرت سے اسے دیکھتی جا رہی تھیں۔۔ اتنی دیوانگی۔۔ اتنی بےبسی۔۔ وہ کتنی مجبور و بےبس لگ رہی تھی۔
ماما ایک بار بس ایک بار زاویار سے کہیں میرے سے بات کرلیں۔۔۔ میں ان سے۔۔ معافی مانگ لوں گی۔۔ آپ کہیں گی ناں ان سے۔۔ وہ التجائیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
ماما آپ بول کیوں نہیں رہیں۔۔ آپ زار سے کہیں مجھے معاف کر دیں۔۔ مجھ سے دور مت جائیں۔۔ میں انہیں کھونا نہیں چاہتی۔۔ آپ۔۔ آپ کہیں گی ناں؟
ہاں ہاں میں کہوں گی۔۔ تم رونا بند کرو۔۔ بس چپ کر جاؤ۔۔ اب اور خود کو ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ بس اور نہیں رونا۔۔ اٹھو ادھر آؤ میرے پاس۔۔ انہوں نے اسے خاموش کروایا۔
ماما اگر انہوں نے مجھے معاف نہ کیا؟
کیوں سوچتی ہو ایسا۔۔ تاشہ اللہ پہ یقین کرنا سیکھو بیٹا۔۔ زاویار تم سے دور نہیں جائے گا کبھی۔۔ کیوں ایسا سوچ سوچ کر خود کو اذیت دیتی ہو؟
ڈر لگتا ہے مجھے۔۔ میں کیا کروں؟ یہ خوف مجھے مار دے گا۔۔ مجھے جینے نہیں دے گا۔۔ وہ پھر سے رونے لگی۔
بس چپ۔۔ نکال دو اپنے اندر سے یہ خوف۔۔ اور آج کے بعد کبھی میں تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو نہ دیکھوں۔۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کیے۔۔ اٹھو ادھر آؤ میرے پاس۔
ماما ادھر ہی رہنے دیں مجھے۔۔ اس نے ان کی گود میں سر رکھ لیا۔۔ شہناز بیگم نے دکھ سے اسے دیکھا۔
وہ خاموش ہو گئی تھی مگر آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔ شہناز بیگم اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں کافی دیر گزر گئی وہ یوں ہی بیٹھے بیٹھے سو گئی۔ انہوں نے احتیاط سے اس کا سر گود سے ہٹا کر صوفے پر رکھا اور خود کمرے سے چلی گئیں۔۔ نیچے جاتے ہی زاویار کو اپنا منتظر پایا۔
زاویار۔۔ بیٹا اسے تمہاری شدید ضرورت ہے۔۔ اسے تمہارا یقین چاہیے۔۔ وہ اتنی بےیقین ہو گئی ہے۔۔ اسے لگتا ہے تم اس سے دور ہو گئے ہو۔۔ بیٹا اسے اپنے ہونے کا احساس دلواؤ ورنہ۔۔۔ وہ خاموش ہو گئیں۔
جاؤ اس کے پاس۔۔ وہ کہہ کر آگے بڑھ گئیں زاویار انہیں دیکھتا رہ گیا۔۔
کچھ دیر بعد اپنے کمرے میں آیا تو وہ اسی طرح سو رہی تھی۔۔ وہ آہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ وہ اسے بغور دیکھتا رہا۔۔ کتنی معصوم لگ رہی تھی وہ۔۔
آنکھیں سوجی ہوئی تھی۔۔ وہ نیند میں بھی ہچکیاں لے رہی تھی۔۔ زاویار نے غور کیا تو اس کی پلکیں ابھی تک بھیگی ہوئی تھیں۔۔ اور وہ کپکپاتے لبوں سے اسے پکار رہی تھی۔۔ آواز بہت مدھم تھی مگر وہ سمجھ چکا تھا۔۔ اس نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا۔۔ پھر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر اسے پکارا۔۔
تاشہ۔۔ آج بہت دنوں بعد اس کا لمس محسوس کر کے وہ کسمسائی۔۔ زاویار نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پر پھیرا اور پھر سے پکارا۔۔
زرتاشہ۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا وہ بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
زاویار۔۔۔ اس نے ہلکا سا پکارا۔۔ جیسے ہی پوری آنکھیں کھولیں تو اپنے اطراف میں دیکھا۔۔ پھر اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر یقین کرنے لگی۔۔
زار۔۔ آپ۔۔ آپ آگئے۔۔ جیسے ہی اس کے پاس ہونے کا یقین آیا تو آنکھیں پھر سے بھر گئیں۔
آپ کہاں چلے گئے تھے۔۔ میں آپ کو بلا رہی تھی۔۔ آپ نے نہیں سنا۔۔ آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔۔ آپ۔۔ اپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔
مجھے۔۔ معاف کردیں۔۔ اس نے کہتے ہی اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔ آپ مجھے۔۔
زرتاشہ۔۔ زاویار نے فوراً اس کے ہاتھ تھام لیے۔۔
آپ مجھے معاف کردیں۔۔ میرے سے دور مت جائیں۔۔ میں مر جاؤں گی۔۔ آپ کی تاشہ مر جائے گی۔۔ میرا سانس۔۔۔۔
ششش۔۔۔ بس۔۔ بس خاموش۔۔ خبردار اب فضول بولا تو۔۔ اس نے کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔ وہ اس کا مضبوط سہارا پا کر مزید بکھرتی چلی گئی۔۔ اس کے آنسوؤں میں روانی آگئی۔
آپ مجھے کچھ کہیں۔۔ مجھے برا بھلا کہیں۔۔ زاویار میں نے آ۔۔ آپ پر الزام۔۔۔ اس سے آگے وہ بول نہ سکی۔۔ زاویار خاموشی سے اسے اپنی مضبوط گرفت میں بھینچے سب کچھ سنتا رہا۔۔ وہ اس کے اندر سے ہر دکھ تکلیف۔۔ ہر بے یقینی کو نکلنے دینا چاہتا تھا۔۔
آپ بہت اچھے ہیں۔۔ میں۔۔ میں بہت بری ہوں۔۔ مجھے آپ کو کھونے سے ڈر لگتا ہے۔۔
میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔ آپ ناراض ہوتے ہیں تو۔۔ ایسے لگتا ہے کچھ بچا ہی نہیں میرے پاس۔۔ اس کے آنسو بہتے جا رہے تھے۔۔ وہ اب بھی اس کی باہوں میں تھی۔
زاویار میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔
وہ اب بھی خاموشی سے اسے سنتا رہا۔۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں؟؟ اس نے گہرا سانس لیا۔۔ زاویار اس کی باتوں پہ مسکرایا۔۔
آپ۔۔ آپ جواب کیوں نہیں دے رہے۔۔ اس نے زاویار کے سینے سے سر اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔ زاویار نے اپنی مسکراہٹ دبا لی۔
زار۔۔ آپ۔۔ ابھی تک ناراض ہیں؟ اس کی آواز رندھ گئی۔
زاویار نے نفی میں سر ہلایا۔۔
پھر آپ بول کیوں نہیں رہے۔۔ کچھ کہتے کیوں نہیں؟؟ زرتاشہ نے اس کے چہرے پر کچھ کھوجنے کی کوشش کی۔
کیونکہ میں اتنا خوبصورت اظہارِ محبت سن رہا ہوں۔۔ جسے سننے کو میرے کان ترس گئے ہیں۔۔ زاویار نے کہا تو۔۔ زرتاشہ کا رنگ حیا کے مارے لال ہو گیا۔۔ اس نے شرما کر زاویار کے سینے میں سر چھپا لیا۔۔
زاویار نے اسے صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ کر اسے اپنی باہوں کے حسار میں لیا۔
زرتاشہ۔۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے میں ایسا کر سکتا ہوں؟ تم نے مجھے کہا تمہیں کچھ وقت دوں میں نے خوشی سے مان لیا۔۔ اور۔۔ میں آج بھی اسی وعدے پہ قائم ہوں۔۔ اور تب تک قائم رہوں گا جب تک تم خوشی سے اجازت نہیں دیتی۔۔ کیونکہ میرے لیے تمہاری خوشی سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہے۔۔ پھر بھلا میں تمہارے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیسے کر سکتا ہوں۔۔
آئی ایم سور زاویار۔۔ وہ ایک بار پھر شرمندہ ہو گئی۔۔
میں تمہیں سوری کرنے کو نہیں کہا۔۔ اس نے فوراً ٹوکا۔۔ بس یہ کہہ رہا ہوں کبھی بھی ہمارے رشتے میں شک کو گنجائش مت دینا۔۔ جو بات بھی ہو کلیئر کر لو۔۔ میاں بیوی کا تعلق جتنا گہرا ہوتا ہے اتنا ہی نازک بھی ہوتا ہے۔۔ اس میں بہت احتیاط سے چلنا ہوتا ہے۔
زار آپ نے۔۔ مجھے تھپڑ مارا تھا۔۔ وہ معصوم صورت بنا کر کہنے لگی۔
آئی ایم سوری تاشہ۔۔ جانتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔ مگر تمہارا مطالبہ ہی ایسا تھا کہ میں خود کو قابو میں نہ رکھ سکا۔۔ دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔۔ مجھے معاف۔۔
زار پلیز۔۔ معافی مت مانگیں مجھ سے۔۔ مجھے اور شرمندہ مت کریں۔
زرتاشہ۔۔ مجھے سچ سچ بتاؤ تمہارے ذہن میں یہ سب کیوں آیا۔۔ تمہیں میرے پہ یقین نہیں ہے؟
خود سے زیادہ ہے مجھے آپ پہ یقین۔۔ اس نے چہرہ جھکا کر کہا۔
تو پھر ایسا کیوں؟؟ یہ کیسا یقین ہے؟ زاویار کی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
زاویار۔۔ سچ بتاؤں؟
ہاں بالکل سچ۔۔ میری طرف دیکھ کر ہر سچ کہہ دو۔۔ زاویار نے اس کا چہرا اوپر کر کے کہا۔
آپ ڈانٹیں گے تو نہیں؟
نہیں۔۔ بولو۔۔
میں۔۔ بہت دن سے سوچ رہی تھی۔۔ کہ آپ سے کہوں مجھے چھوڑ دیں۔۔ میں آپ کے ساتھ رہی تو آپ پر۔۔۔ اس سے بات مکمل نہ ہو سکی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔۔ اور اس دن بھابھی کی باتوں کا الٹا اثر لے لیا اور یہ بات مل کر۔۔۔ زار ڈیڈ کے بعد میں آپ کو کھونا۔۔ نہیں چاہتی۔۔ زاویار اس کی بات سن کر کچھ پل کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔۔ غصے سے رگیں تن گئیں۔
زار۔۔ پلیز ناراض۔۔۔ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے زاویار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں لیا۔
آج کے بعد مجھ سے دور جانے کا سوچا بھی تو تھپڑ نہیں ماروں گا بلکہ اپنے ان ہاتھوں سے تمہاری جان لوں گا۔۔ سمجھی۔۔ زاویار نے سخت لہجے میں کہا۔۔ پھر اسے خود میں بھینچ لیا۔۔ وہ اس کے سینے سے لگی پھر سے آنسو بہانے لگی۔
اچھا بس۔۔۔ اب رونا دھونا تو بند کرو۔۔ پتہ نہیں اتنا گہرا سمندر اپنے اندر لے کر بیٹھی ہو جو خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔ زاویار نے ماحول کا بہتر کرنے کے لیے مزاق سے کہا۔۔
زرتاشہ اپنے ذہن سے ہر قسم کے وہم کو نکال دو۔۔ میں تمہارا ہوں تمہارا ہی رہوں گا۔۔ تمہارے ساتھ بہت لمبی زندگی گزارنی ہے۔۔ فکر مت کرو ہم ساتھ میں بوڑھے ہوں گے۔۔ اس نے بات کو مزاح کا رنگ دیا تو وہ بھی مسکرا دی۔
کتنی بار سمجھائی تھی یہ بات کہ اللہ انسان کو اس کے گمان کے مطابق عطا کرتا ہے۔۔ مگر تم۔۔ دیکھ لیا اب فضول سوچوں کا نتیجہ۔۔ پرامس کرو۔۔ آج کے بعد لوگوں کی فضول باتوں پہ دھیان نہیں دو گی۔۔ اور کچھ بھی فضول نہیں سوچو گی۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
گڈ۔۔ ہمیشہ ایسے ہی میری باتیں مانتی رہو تو کیا ہی بات ہے۔۔ ہائے یہ حسرت۔۔ زاویار نے کہا تو وہ ہنسنے لگی۔