پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

اے دل چو حقیقتِ جہاں ہست مجاز چندیں چہ بری خواری …

اے دل چو حقیقتِ جہاں ہست مجاز
چندیں چہ بری خواری از ایں رنجِ دراز
تن را بقضا سپار و با درد ساز
کیں رفتہ قلم ز بہرِ تو ناید باز
خیام

اے دل جب جہان کی حقیقت صرف فرضی ہے تو پھر تو اپنے آپ کو اس طویل غم میں کیوں مبتلا رکھتا ہے؟؟ قضا سے موافقت کر لے اور درد کا دمساز ہو جا، اس لئے کہ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے، بدلا نہیں جا سکتا۔۔۔
بیدار بخت

سنو بنا تھا آخری انساں کے میں پہلی ماٹی سے
اور جبھی وہ بیچ بھی بویا جس سے فصل پروان چڑھے
اور سنو جو لکھا تھا رچنا کے پہلے سویرے نے
اس کو اب تم مانو نہ مانو، انت کال کی بھور بڑھے
میرا جی

اے دل یہ جہاں فانی ہے، اک دن ہے فنا
کچھ دن کے لئے عبث ہے رنج اور صدما
کر درد سے میل، بیٹھ راضی برضا
تیری رائے سے مٹا ہے جو کچھ ٹانک دیا
آغا شاعر

اے دل جو ہر اک چیز ہے آنی جانی
ہے رنج میں اتنی تجھے کیوں حیرانی
ہنس ہنس کے اٹھا رنج و الم، شاکر رہ
بدلا نہیں جاتا ہے خطِ پریشانی
صبا

•••••
کتاب : خیام رباعیات
تالیف : بیدار بخت
انتخاب و ٹائپنگ احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2971789256384921