اے حمید کی وفات April 29, 2011 اے حمید اردو ادب ک…
اے حمید کی وفات
April 29, 2011
اے حمید اردو ادب کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنھیںاردو پڑھنے وا لے کبھی فراموش نہ کر سکیں گے اردو نثر نگاری کو اوڑھنا بچھو نا بنا نے والے اس بڑے ادیب نے ہندوستان کے شہر امرتسرمیں 1928 ء کو جنم لیا۔ میٹرک اپنے آبائی وطن سے کرنے کے بعدنو زائیدہ پاکستان کے شہرلا ہورکا رخ کیا وہاں پرائیویٹ ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ 1949ء میں اپنا پہلاافسا نہ ’’منزل منزل‘‘ تحریرکیا اور ادبی دنیا میں راتوں رات مقبو ل ہوئے ریڈیو پاکستان میںا سسٹنٹ ایڈیٹرمقر رہو ئے کچھ عر صے براڈ کاسٹر کی ملا زمت کے بعد نوکری کو خیر باد کہا اور وا ئس آف امریکہ سے منسلک ہو گئے۔ اے حمید کی شخصیت کے با رے میں احمدندیم قاسمی کہتے ہیں ’’اے حمید سے جوملتا اس سے پیارکرنے لگتا اس کی شخصیت میں پیارکی اتنی گنجا ئش ہے کہ اگر کہیںکو ئی ایک آدھ خامی ہے بھی تو پیا ر کے پھولوں سے ڈھکی رہتی ہے۔‘‘ان کا شما ر تر قی پسند ادیبوں میں ہو تا ہے ان کی ناول نو یسی، خا کہ نگا ری،مختصرکہا نیاں، اورڈرا مہ نگا ری قا ری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ انھوں نے 200 نا ول لکھے ان کی کہانیوں میں تا ریخ ،ما ضی کی کہانیوںمیں کھو جا نا اور اس منظر نا مے میں قا ری کو بھی شا مل کر لینا بہت نمایاںہے۔ قاری پر ان کا چیزوںکو دیکھنے کا مشاہدہ ، رو مانی نقطہ نظر، مہم جوئی،اور یاد نگاری کا مضبوط بیا نیہ تحریر ایسی خو بیاں ہیں، جنھیںکبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا قاری محسوس کر تا ہے کہ وہ بھی مصنف کے سا تھ ساتھ محوسفر ہے جس طرح ’’داستان گو ‘‘کی یہ تحریر پڑ ھئے: ’’جب اشفاق مجھے اپنی بنا ئی ہو ئی پینٹنگ دکھا رہا تھا تو مجھے یا دہے کمرے میں بڑا حبس اورگرمی تھی وہ گرمی اورحبس آج تک یاد ہے ما ضی کے دھندلکوں میں ایک رو شنی سی چمکتی ہے میں اوراشفاق چوہٹہ مفتی باقرکے ایک تنگ با زار میں جا رہے ہیں۔ اشفاق چہرے پر لگانے و الی کر یم کی شیشیاںخریدنے یہاں آئے ہیں میں ان کے ساتھ ہوں ہم دکان دکان پھرکر شیشیاں دیکھ رہے ہیں۔اشفاق احمد اندرون لاہور کے کلچر پر تبصرہ بھی کر رہا ہے یہاں سے ہم شاہ عالمی کی لا ل مسجد کے پاس نکل آئے ہیں ۔سا راشاہ عالمی ٹو ٹا ہوا اور جلا ہوا ہے صرف لا ل مسجد سلامت ہے جگہ جگہ مکا نوںکے ملبے کے اونچے اونچے ڈھیر لگے ہو ئے ہیں۔ بانسوں وا لے بازار سے لے کررنگ محل تک ملبہ ہی ملبہ ہے لو گوں کے چلنے سے ان ٹیلوں پر پگڈنڈیا ں بن گئی ہیں۔ ہم دو نوں ملبے کی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے واپس جا رہے ہیں رنگ محل اور لوہا ری منڈی کی طرف مکان سلامت ہے باقی سا را کا سارا میدان ہی۔‘‘ ان کی ایک طلسما تی تحریر ’’مرزا غالب لا ہور میں‘‘ اور اردو نثر کی تخلیقات بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔انھوں نے بچوں کے ادب پر بھی بہت کام کیا۔ 100 کے قریب بچوںکے لئے ناول لکھے۔مشتمل کتا بیں بچوں کے ادب میںبیش بہا اضافہ ہیں۔ بچوںکے لئے ہی لکھے جا نے والے ٹی وی ڈرامہ سیریل’ عینک والا جن، پاکستان ٹیلیوژن کی تا ریخ میں طویل ترین منفرد و مشہور ڈرامہ سیر یل کے طور پر یادرکھا جا ئے گا ۔اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ جن بچوں نے اس ڈرامہ سیر یل کو دو دہا ئی قبل ٹی وی پر دیکھا وہ آج بھی اس کے اثر انگیز کرداروں،کہانیوں اور ڈائیلاگز کے سحر سے نہیں نکل پا ئے۔ اس ڈر امے نے پوری نسل کو مسمر ائزکئے رکھا۔ عینک والاجن اور ’’ تھلے تھلی،،کے بعدانھوں نے ٹی وی کے لئے کچھ اورکام نہیںکیا جب کہ کا فی گنجائش تھی کہ وہ مزیدیاد گا ر کام کر سکتے تھے۔اے حمیدکے ادبی حوالوںمیں ایک حوالہ خاکہ نگا ری بھی ہے۔ خاکہ نگاری میںان کے موضوعات کی تعداد دو درجن سے بھی تجاوزکرگئی ہے اتنے بہت سے خا کوںکو یکجا کر دینے سے تکرارکا خطرہ پیدا ہونا لا زمی امر ہے مگر اے حمید کے خاکوں کی بابت احمد ندیم قا سمی کہتے ہیں ’’اس طرح کی تکرار اوپری اوپری باتیںکرنے والوں کے ہاں پیدا ہوسکتی ہیں ۔لیکن اے حمید نے تو ہر شخص کو اس کی انتہائی گہرا ئی سے جا نچا پرکھا ہے وہ تو کسی بھی شخصیت پر لکھتے ہوئے اس کی سو چوںاور امنگوں تک کے موتی ڈھونڈ ھ لا تا ہے اس لئے اس کے ہاں تکرارکاا مکان بھی ختم ہو جا تا ہے‘‘۔ جس طرح ان کے لکھے ہوئے تمام کردار خوش گفتار ، خوش خوراک اور زندگی سے بھرپور ہیں اسی طرح ان کی اپنی ظا ہری شخصیت بھی خوش شکل، وضعدار، خوش اطواراورخوش گفتاربناوٹ سے پاک ہے ان کی دراز قامتی ادبی محفلوں میں نمایاں نظر آتی۔زندگی بھر قلم کی مزدوری کرتے ہوئے کینسر جیسے موذی مرض سے مقابلہ کرتے رہے عمر کی آخری دہا ئیوں میں کالم نگاری کے ذریعے اپنے چاہنے والوں سے جڑے رہے اپنی بیماریاں ، دلی کیفیتیں ، یادیں،خوشی اور غم تحریر کرتے رہے۔ 29اپریل 2011ء کو لاہور میں زندگی کی بازی کینسر کے آگے ہار گئے اور اپنی تحریروں کی صورت میں اپنا دل مداحوں کے در میان چھوڑ گئے –