ایک زمین شکیلؔ بدایونی پیر نصیر الدین نصیرؔ ۔۔۔…
ایک زمین
شکیلؔ بدایونی
پیر نصیر الدین نصیرؔ
۔۔۔۔۔
شکیلؔ بدایونی
مَدینے کی فضا ہے اَور مَیں ہُوں
دَرِ خیرُالوریٰ ہے اَور مَیں ہُوں
نِگاہیں عَرش کے جَلوؤں میں گُم ہیں
جَمالِ مُصطفیٰ ہے اَور مَیں ہُوں
مِری ہَستی ہے اَور خاکِ مَدِینہ
جُنُوں کی اِنتِہا ہے اَور مَیں ہُوں
مُکَمَّل کَر رَہا ہُوں دِین و اِیماں
دِلّاۓ مُصطفیٰ ہے اَور مَیں ہُوں
غَمِ ہِجرِ مُحمَّد تیرے صَدقے
مِرا عَہدِ وَفا ہے اَور مَیں ہُوں
خُدا ہے اَور حَبِیبِ کِبرِیا ہے
حَبِیبِ کِبرِیا ہے اَور مَیں ہُوں
مِرے عِصیاں کی پُرسِش ہورَہی ہے
عطاۓ کِبرِیا ہے اَور مَیں ہُوں
شَکِیلؔ اَپنے سُخَن پر کیوں نہ ہو ناز
ثناۓ مُصطفیٰ ہے اَور مَیں ہُوں۔۔۔!
۔۔۔۔۔
پیر نصیرؔ
عَرَب کا مَہ لَقا ہے اَور مَیں ہُوں
”جَمالِ مُصطفیٰ ہے اَور مَیں ہُوں“
یہی صُبح و مَسا ہے اَور مَیں ہُوں
مُحَمَّد ہیں خُدا ہے اَور مَیں ہُوں
ہے اُن سے نامَہ و پیغام ہر دَم
مَدِینہ ہے صبا ہے اَور مَیں ہُوں
غُلام اُن کا ہُوں جو آقا ہیں سَب کے
مِرا بَختِ رَسا ہے اَور مَیں ہُوں
مُیَسَّر ہے مُجھے کَیفِ حُضُوری
”دَرِ خیرالوریٰ ہے اَور مَیں ہُوں“
پہنچ جاؤں کِسی صُورَت مَدِینے
یہی اِک مُدَّعا ہے اَور مَیں ہُوں
وہی رَوزِ جَزا ہیں میرے حامی
بَس اُن کا آسرا ہے اَور مَیں ہُوں
عِنایَت ہو شَہِ بَطحا کی مُجھ پر
زبان پر یہ دُعا ہے اَور مَیں ہُوں
ہر اِک ڈھڑکَن میں ہے نامِ مُحَمَّد
مِرے دِل کی صَدا ہے اَور مَیں ہُوں
رَسُول اللہ مُجھ پر مَہرباں ہیں
نصیرؔ! اُن کی عطا ہے اَور مَیں ہُوں۔۔۔!