پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#hamidnaved شمشیر بے نیام قسط نمبر 4 ”کھڑی دی…


#hamidnaved
شمشیر بے نیام
قسط نمبر 4

”کھڑی دیکھ کیا رہی ہو؟“ ہند نے ان عورتوں سے یوں کہا جیسے وہ پاگل ہو چکی ہو ۔”یہ دیکھو میں نے اپنے باپ ،اپنے چچا اور اپنے بیٹے کے قاتل کی لاش کا کیا حال کر دیا۔ جاؤ مسلمانوں کی ہر ایک لاش کا یہی حال کردواور سب کے کان اور ناک کاٹ کر لے آؤ۔“ اب وہ عورتیں مسلمانوں کی لاشوں کو چیرنے پھاڑنے کیلئے وہاں سے ہٹ گئیں تو ہند نے خنجر سے حمزہؓ کا پیٹ چاک کرکے اس کے اندر ہاتھ ڈالا۔ اس کا ہاتھ باہر آیا تو اس میں حمزہ ؓکا کلیجہ تھا جو ہند نے خنجر سے کاٹ لیا ۔اس نے اسی پر اکتفا نہ کیا ۔حمزہؓ کے کلیجے کا ایک ٹکڑاکاٹ کر اس نے اپنے منہ میں ڈال لیا اور بری طرح اسے چبانے لگی ۔لیکن تھوڑی دیر بعد اس نے کلیجے کے اس ٹکڑے کو اگل دیا۔خالد کو دور ابو سفیان کھڑا نظر آیا۔ ہند کی اس وحشیانہ حرکت نے خالد کا مزہ کِرکِرا کر دیا تھا۔ وہ جنگجو تھا ،وہ صرف آمنے سامنے آکر لڑنے والا آدمی تھا۔ اپنے دشمن کی لاشوں کےساتھ یہ سلوک نہ صرف یہ کہ اسے پسند نہ آیا بلکہ اس نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ ابو سفیان کو دیکھ کر خالد نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ابو سفیان کے پاس جا گھوڑا روکا۔ ”ابو سفیان !“خالد نے غصے اور حقارت کے ملے جلے لہجے میں کہا۔” کیا تم اپنی بیوی اور ان عورتوں کی اس وحشیانہ حرکت کو پسند کر رہے ہو؟“ابو سفیان نے خالد کی طرف ایسی نگاہوں سے دیکھا جن میں بے بسی کی جھلک تھی اور صاف پتا چلتا تھا کہ اسے لاشوں کے ساتھ اپنی بیوی کا یہ سلوک پسند نہیں۔”خاموش کیوں ہو ابو سفیان؟“”تم ہند کو جانتے ہو خالد ۔“ابو سفیان نے دبی سی زبان میں کہا۔” یہ عورت اس وقت پاگلوں سے بد تر ہے۔ اگرمیں یا تم اسے روکنے کیلئے آگے بڑھے تو یہ خنجر سے ہمارے پیٹ بھی چاک کردے گی۔“خالد ہند کو جانتا تھا وہ ابو اسفیان کی بے بسی کو سمجھ گیا ۔ابو سفیان نے سر جھکایا گھوڑے کی لگام کو جھٹکا دیا اور منہ پھیر کر دوسری طرف چل پڑا۔خالد بھی اس منظر کو برداشت نہ کر سکا۔جب ہند حمزہؓ کی لاش کا کلیجہ چبا کر اگل چکی تو اس نے پیچھے دیکھا ۔اس کے پیچھے جبیر بن مطعم کا غلام وحشی بن حرب کھڑاتھا۔اس کے ہاتھ میں افریقہ کی بنی ہوئی وہی برچھی تھی جس سے اس نے حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔”یہاں کیا کر رہے ہو بن حرب ؟“ہند نے تحکمانہ لہجے میں اس سے کہا۔”جاؤ اور مسلمانوں کی لاشوں کے ٹکڑے کردو۔“وحشی بن حرب بولتا بہت کم تھا۔ اس کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ بات اشاروں میں کر لی جائے۔اس نے ہند کا حکم ماننے کے بجائے اپنا ہاتھ ہند کے آگے پھیلا دیا اور اس کی نظریں ہند کے گلے میں لٹکتے ہوئے سونے کے ہار پر جم گئیں- ہند کو اپنا وعدہ یاد آ گیا۔ا س نے وحشی سے کہا تھا کہ تم میرے باپ چچا اور بیٹے کے قاتل کوقتل کردو تو میں نے جتنے زیورات پہن رکھے ہیں وہ تمہارے ہوں گے اور وحشی اپنا انعام لینے آیا تھا۔ ہند نے اپنے تمام زیورات اتار کر وحشی بن حرب کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیئے۔و حشی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور وہ وہاں سے چل پڑا۔ ہند پر اس وقت فتح اور انتقام کا بھوت سوار تھا۔ ”ٹھہر جاؤ بن حرب۔“ ہند نے جوشیلی آوازمیں اس حبشی کو بلایا۔ وہ جب اس کے پاس آیا تو ہند نے کہا ۔میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرا کلیجہ ٹھنڈا کردو تو تمہیں اپنے زیورات دوں گی لیکن تم اس سے زیادہ انعام کے حق دار ہو ۔“ہند نے قریش کی عورتوں کی طرف اشارہ کیاا ور کہا۔” تم جانتے ہو ان عورتوں میں کنیزیں کون کون سی ہیں ۔دیکھو وہ جوان بھی ہیں خوبصورت بھی۔ تمہیں جو کنیز اچھی لگتی ہے لے جاؤ ۔“وحشی بن حرب نے اپنی عادت کے مطابق خاموشی سے چند لمحے ہند کے چہرے پر نظریں گاڑھیں لیکن اس کی نظریں کنیزوں کی طرف نہ گئیں ۔اس نے انکار میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد میدانِ جنگ کی ہولناکی میں سے ہند کی بلند اور مترنم آواز سنائی دینے لگی ۔مؤرخ ابن ہشام کے مطابق اس نے ترنم سے جو نغمہ گایا ،اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے: ”ہم نے بدر کے معرکے کا حساب برابر کر لیا ہے۔۔۔ایک خونریز معرکے کے بدلے ہم نے ایک خونریز معرکہ لڑ لیا ہے ۔۔۔عتبہ کا غم میری برداشت سے باہر تھا ۔۔۔عتبہ میرا باپ تھا۔۔۔مجھے چچا کا بھی غم تھا اپنے بیٹے کا بھی غم تھا ۔۔۔اب میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ہے ۔۔۔میں نے اپنی قسم پوری کر لی ہے۔۔وحشی نے میرے دل کے درد کا مداوا کر دیا ہے ۔۔۔میں عمر بھر وحشی کی احسان مند رہوں گی۔۔۔اس وقت تک جب تک میری ہڈیاں قبر کی مٹی میں مل کر مٹی نہیں ہو جاتیں“ابو سفیان اس بھیانک منظر کوبرداشت نہ کر سکا تھا وہ پہلے ہر منہ پھیر کر جا چکا تھا۔ اس نے اپنے دو ساتھیوں سے کہا کہ اسے یقین نہیں آ رہا کہ محمد)رسول ﷺ (زندہ ہیں۔ ”خالد نے دور سے کسی اور کو دیکھ کر سمجھ لیا ہو گا کہ و ہ محمد)ﷺ( ہیں ۔“کسی نے ابو سفیان سے کہا ۔ابو سفیان یہ کہہ کر کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آتا ہے ۔اس تنگ سے درے کی طرف چلا گیا جہاں سے خالد اپنے سواروں کو واپس لایا تھا۔ وہ ایسی جگہ جا کھڑا ہوا جہاں سے اسے مسلمان بیٹھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ ’’محمد)ﷺ( کے پیروکارو !‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے کہا ۔’’کیا تم میں محمد )ﷺ(زندہ ہے؟‘‘ رسولِ کریمﷺ نے آواز سنی تو اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہیں ۔ابو سفیان نے اپنا سوال اور زیادہ بلند آواز سے دہرایا۔ا ب بھی اسے کوئی جواب نہ ملا ۔’’کیا ابو بکر تم میں زندہ موجود ہے ؟‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے پوچھا۔ اب بھی اسے کوئی جواب نہ ملا ۔تین بار پوچھنے کے باوجود بھی مسلمان خاموش رہے۔’’ کیا عمر زندہ ہے؟‘‘ ابوسفیان نے پوچھا۔اب کے بھی مسلمانوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ابو سفیان نے گھوڑے کو دوڑایا۔ اس نے نیچے دیکھا ۔قریش کے بہت سے آدمی رسولِ اکرمﷺ کے متعلق صحیح خبر سننے کو بیتاب کھڑے تھے۔ ’’اے اہلِ قریش!‘‘ ابو سفیان نے چلّا کر اعلان کیا ۔’’محمد)ﷺ( مر چکا ہے ۔ابو بکر و عمر بھی زندہ نہیں۔ اب مسلمان تمہارے سائے سے بھی ڈریں گے۔ خوشیاں مناؤ ،ناچو۔‘‘اہلِ قریش ناچنے اور ہلڑ مچانے لگے لیکن گرجتی ہوئی ایک آواز نے انہیں خاموش کر دیا۔ ’’اے خدا کے دشمن !‘‘درّے کے بلندی سے حضرت عمرؓ کی آواز گونجی۔’’ اتنا جھوٹ نہ بول ،وہ تینوں زندہ ہیں جن کے نام لے کہ تو انہیں مردہ کہہ رہا ہے۔ اپنے قبیلے کو دھوکہ مت دے۔ تجھے تیرے گناہوں کی سزا دینے کیلئے ہم سب زندہ ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور بلند آواز سے بولا۔’’ ابنِ الخطاب! تیرا خدا تجھے ہم سے محفوظ رکھے ۔کیاتو اب بھی ہمیں سزا دینے کی بات کر رہا ہے؟ کیا تو یقین سے کہتا ہے کہ محمد )ﷺ(زندہ ہے؟‘‘’’اﷲ کی قسم! ہمارے نبیﷺ زندہ ہیں ‘‘۔حضرت عمرؓ ابنِ الخطاب کی آوا ز جواب میں گرجی۔’’ اﷲ کے رسولﷺ تمہارا ایک ایک لفظ سن رہے ہیں ۔‘‘عربوں میں رواج تھا کہ ایک معرکہ ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے سردار یا سالار ایک دوسرے پر طعنوں اور پھبتیوں کے تیر برسایا کرتے تھے۔ ابو سفیان اسی دستور کے مطابق دور کھڑا حضرت عمرؓ سے ہم کلام تھا ۔’’تم ہبل اور عزیٰ کی عظمت کو نہیں جانتے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔ حضرت عمرؓ نے رسولِ اکرمﷺ کی طرف دیکھا ۔آپﷺ اونچا بول نہیں سکتے تھے ۔آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو بتایا کہ وہ ابو سفیان کو کیا جواب دیں ۔’’او باطل کے پجاری۔‘‘ حضرت عمر ؓنے بلند آواز سے کہا۔’’ اﷲ کی عظمت کو پہچان ،جو سب سے بڑاا ور سب سے زیادہ طاقت والا ہے۔‘‘’’ہمارے پاس ہبل جیسا دیوتا اور عزیٰ جیسی دیوی ہے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’کیا تمہارے پاس کوئی ایسا دیوتا یا دیوی ہے؟‘‘ ’’ہمارے پاس اﷲ ہے۔‘‘ رسولِ کریمﷺ نے حضرت عمر ؓکی زبان سے کہلوایا۔ جو حضرت عمر ؓنے بلند آواز سے کہا۔’’ تمہارا خدا کوئی نہیں ۔‘‘جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا ۔ابو سفیان نے کہا ۔’’تم نے بدر میں فتح پائی تھی، ہم نے اس پہاڑی کے دامن میں تم سے انتقام لے لیا ۔اگلے سال ہم تمہیں بدر کے میدان میں ہی مقابلے کیلئے للکاریں گے ۔‘‘’’انشاء اﷲ !‘‘حضرت عمر ؓنے رسول اﷲﷺ کے الفاظ بلند آواز سے دہرائے۔’’ اب تمہارے ساتھ ہماری ملاقات بدر کے میدان میں ہی ہو گی۔‘‘ابو سفیان نے گھوڑا موڑا گھوڑا دو قدم ہی چلا ہو گا کہ اس نے گھوڑے کو روک دیا۔ ’’اے عمر، ابو بکر اور محمد)ﷺ(!‘‘ ابو سفیان نے اب کے ذرا ٹھہری ہوئی آواز میں کہا۔’’ تم جب میدان سے اپنی لاشیں اٹھاؤ گے تو تمہیں کچھ ایسی لاشیں بھی ملیں گی جن کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں گے اور انہیں چیرا پھاڑا گیا ہو گا۔ خدا کی قسم! میں نے کسی کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور میں نے تمہاری لاشوں کے ساتھ یہ سلوک بالکل بھی پسند نہیں کیا ۔اگر اس کا الزام مجھ پر عائد کرو گے تو میں اسے اپنی توہین سمجھوں گا ۔‘‘ابو سفیان نے گھوڑا موڑا اور گھوڑے کو ایڑھ لگا دی۔چلتے چلتے خالد کے گھوڑے نے اپنے آپ ہی رخ بدل لیا۔ خالد نے گھوڑے کو نہ روکا ۔وہ سمجھ گیاکہ گھوڑے نے پانی کی مشک پا لی ہے۔ کچھ دور جا کر گھوڑا نیچے اترنے لگا ۔خالد کو یہ مقام یاد آ گیا۔ جنگِ احد کے بعد واپسی پر قریش نے کچھ دیر یہاں پر قیام کیا تھا۔ نیچے پانی کا خاصا ذخیرہ موجود تھا۔ گھوڑا بڑا تیزی سے گھاٹی اتر گیا اور پانی پر جا رکا ۔خالد گھوڑے سے کود کر نیچے اترا اور دو زانو ہو کر چلو بھر بھر کر اپنے چہرے پر پانی پھینکنے لگا ۔ذرا سستانے کیلئے بھربھر ی سی ایک چٹا ن کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب احد کے معرکے کے بعد اہلِ قریش واپس آ ئے تھے۔ انہوں نے مدینہ سے کچھ دور آ کر قیام کیا تھا ۔اس قیام کے دوران قریش کے سردار اس بحث میں الجھ گئے تھے کہ واپس مکہ پہنچا جائے یا مسلمانوں پر ایک اور حملہ کیا جائے۔ صفوان بن امیہ نے کہا تھا۔’’ ہم شکست کھا کر نہیں آئے ۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مسلمانوں کی حالت بہت بری ہے تو اپنی حالت دیکھو ۔ہماری حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ اب مسلمانوں کے ساتھ اتنی جلدی لڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے ۔ہو سکتا ہے قسمت ہمارا ساتھ نہ دے۔‘‘ جب یہ بحث جاری تھی تو قریش کے کچھ آدمی دو مسافروں کو پکڑ کر سرداروں کے سامنے لے آئے ۔انہیں بتایا گیا کہ یہ دونوں آدمی جو اپنے آپ کو مسافر کہتے ہیں ہمارے خیموں کے اردگرد گھوم پھر رہے تھے اور ہمارے چار پانچ آدمیوں سے انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں جا رہے ہو ؟ان دونوں نے ابو سفیان اور دوسرے سرداروں کے سامنے بھی یہی بیان دیئے کہ وہ مسافر ہیں اور کسی جگہ کا نام لے کر کہاکہ وہ ادھر جارہے ہیں ۔ابو سفیان کے حکم سے ان کے پھٹے پرانے کپڑے جو انہوں نے پہن رکھے تھے۔اتر وائے گئے تو اندر سے خنجر اور تلواریں برآمد ہوئیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ ہتھیار چھپا کر کیوں رکھے ہیں؟ خالد کی نظر بہت تیز تھی۔ اسے شک ہوا کہ یہ مسلمانوں کے جاسوس ہیں ۔ان دونوں کو قریش کی فوج کے سامنے کھڑا کر دیا گیا اور پوچھا گیا کہ انہیں کوئی پہچانتا ہے ؟دو تین آوازیں آئیں کہ ’’ہم انہیں پہچانتے ہیں ۔یہ یثرب )مدینہ( کے رہنے والے ہیں۔‘‘ ’’اس ایک کومیں اچھی طرح جانتا ہوں ۔‘‘قریش کے آدمی نے اٹھ کر کہا۔’’ اسے میں نے اپنے خلاف لڑتے ہوئے دیکھا تھا ۔‘‘’’تم اپنی زبان سے کہہ دو کہ تم محمد کے جاسوس ہو ۔‘‘ابو سفیان نے ان دونوں سے کہا۔’’ اور جاؤ میں تمہاری جان بخشی کرتا ہوں۔‘‘ دونوں میں سے ایک نے اعتراف کر لیا۔ ’’جاؤ!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’ہم نے تمہیں معاف کیا۔‘‘ دونوں جو واقعی مسلمانوں کے بھیجے ہوئے جاسوس تھے اور قریش کے عزائم معلوم کرنے آئے تھے ۔ہنسی خوشی اپنے اونٹوں کی طرف چل پڑے ۔ابو سفیان کے اشارے پر کئی ایک تیر اندازوں نے کمانوں میں تیر ڈالے اور پیچھے سے ان دونوں مسلمانوں پر چلا دیئے۔ دونوں کئی کئی تیر اپنے جسم میں لے کر گرے پھر اٹھ نہ سکے۔’’ کیا تم اس کا مطلب سمجھتے ہو؟‘‘ ابو سفیان نے اپنے قریب کھڑ ے سرداروں سے کہا۔’’ جاسوس بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہارے نہیں۔ وہ ابھی یا کچھ ہی عرصے بعد ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔فوراً مکہ کو کوچ کرو اور اگلی جنگ کی تیاری کرو۔‘‘ اگلے روز رسولِ اکرمﷺ کو کسی نے آ کر بتایا کہ ا ہل ِقریش نے جہاں پڑاؤ کیا تھاوہاں اپنے دونوں جاسوسوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور اہلِ قریش مکہ کو روانہ ہو گئے ہیں- خالد نے یہ پہلی جنگ لڑی ۔لیکن وہ سمجھتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکا ہے۔ آج چار برس بعد وہ اس سوچ میں غرق تھا کہ مسلمانوں کی یہ طاقت عام انسانوںکی طاقت نہیں تھی کوئی راز ہے جسے وہ ابھی تک نہیں پا سکا۔ اسے اہلِ قریش کی کچھ خامیاں یاد آنے لگیں۔ کچھ باتیں اور کچھ اعمال اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ اسے یہودیوں کی دو بڑی خوبصورت عورتیں بھی یاد آئیں جو اہلِ قریش کے سواروں میں گھل مل گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہودی اپنے نسوانی حسن کے جادو سے اہلِ قریش پر چھا جانے کی اور انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ اسے پسند نہ تھا لیکن ان میں سے ایک عورت ایک روز خالد سے ملی تو خالد نے محسوس کیا کہ یہ عورت جو کچھ کہہ رہی ہے اس میں عقل و دانش ہے۔ اس عورت کے حسن و جوانی کا اپنا ایک اثر تھا لیکن طلسم جو اس کی زبان میں تھا اس کا اثر خالد نے بھی محسوس کیا تھا۔ کچھ دیر تک یہ عورت خالدکے خیالوں پر چھائی رہی۔ اسکا گھوڑا ہنہنایا تو خالد جیسے خواب سے بیدار ہو گیا۔ وہ تیزی سے اٹھا، گھوڑے پر سوار ہوا اور پھر مدینہ کے راستے پر ہو لیا۔ولید کا بیٹا خالد شہزادہ تھا ۔عیش و عشرت کا بھی دلدادہ تھا لیکن فنِ حرب و ضرب کا جنون ایسا تھا کہ عیش و عشرت کو اس جنون پر حاوی نہیں ہونے دیتا تھا۔ مدینہ کی طرف جاتے ہوئے اسے وہ حسین و جمیل یہودن یاد آئی جس کا نام’’ یو حاوہ ‘‘تھا۔ اس نے اس یہودن کو ذہن سے نکال دیا لیکن یوحاوہ رنگ برنگی تتلی بن کر اس کے ذہن میں اڑتی رہی۔ خالد اسے ذہن سے نکال نہ سکا۔ خالد کے ذہن میں اڑتی ہوئی اس تتلی کے رنگ پھیکے پڑنے لگے ۔پھر تمام رنگ مل کر سرخ ہو گئے۔ خون جیسے سرخ ۔یہ ایک بھیانک یاد تھی۔ خالد نے اسے ذہن سے اگل دینے کی بہت کوشش کی لیکن تتلی جو زہریلی بھڑ بن گئی تھی۔ اس کے ذہن سے نہ نکلی۔ یہ معرکہ احد کے تین چار ماہ بعد کا ایک واقعہ تھا۔ یہ ایک سازش تھی جس میں وہ شریک نہ تھا لیکن وہ قبیلہ قریش کا ایک بڑا ہی اہم فرد تھا ۔مسلمانوں کے خلاف کسی سازش میں شریک نہ ہونے کے باوجود وہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس میں شریک نہ تھا۔ معرکہ احد میں زخمی ہونے والے بعض اہلِ قریش کے زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوئے تھے کہ ایک روز خالد کو خبر ملی کہ مدینہ سے چھ مسلمان تبلیغِ اسلام کیلئے رجیع کی طرف جا رہے تھے کہ عفان سے تھوڑی دور ایک غیر مسلم قبیلے نے انہیں روک لیا اور ان میں سے دو کو مکہ لایا گیا اور انہیں نیلام کیا جا رہا ہے ۔ خالد دوڑتا ہوا وہاں گیا ۔وہ دو مسلمان خبیبؓ بن عدی، اور زیدؓ بن الدثنہ تھے۔ خالد دونوں کو جانتا پہچانتا تھا ۔وہ اسی کے قبیلے کے افراد ہوا کرتے تھے ۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ان میں حب رسولﷺ کا یہ عالم تھا کہ رسولِ خدا ﷺ پر جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔ رسولِ خداﷺ انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ خالد نے دیکھا کہ انہیں ایک چبوترے پر کھڑا کر دیا گیا تھا اور اردگرد اہلِ قریش کا ہجوم تھا۔ ایک غیر مسلم قبیلے کے چار افراد ان کے پاس کھڑے تھے ۔دونوں کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔’’یہ دونوں مسلمان ہیں۔‘‘ ایک آدمی چبوترے پر کھڑا علان کر رہا تھا۔’’ یہ دونوں احد میں تمہارے خلاف لڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں تمہارے عزیز اور خون کے رشتے دار مارے گئے تھے ۔ہے کوئی جو انتقام کی آگ بجھانا چاہتا ہے ؟انہیں خریدو انہیں اپنے ہاتھوں قتل کرو،اور خون کے بدلے خون بہاؤ ۔یہ آدمی سب سے اونچی بولی دینے والے کو ملیں گے ۔بولو؟‘‘ ’’دو گھوڑے۔‘‘ ایک آواز آئی۔’’بولو بڑھ کر بولو۔‘‘’’دو گھوڑے ایک اونٹ ۔‘‘ایک اور آواز آئی۔’’گھوڑوں اونٹوں کو چھوڑو ۔سونے میں بولی دو۔سونا لاؤ، دشمن کے خون سے انتقام کی پیاس بجھاؤ۔‘‘وہ لوگ جن کے قریبی رشتے دار احد کی لڑائی میں مارے گئے تھے ۔بڑھ چڑھ کر بولی دے رہے تھے۔ خبیب ؓاور زیدؓ چپ چاپ کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف نہ تھا گھبراہٹ نہیں تھی ۔ہلکی سی بے چینی بھی نہیں تھی ۔خالد ہجوم کو چیرتا ہوا آگے چلا گیا۔’’او قریش کے سردار کے جنگجو بیٹے !‘‘خبیبؓ نے خالد کو دیکھ کر بڑی بلند آواز سے کہا۔’’تیرا قبیلہ ہم دونوں کا خون بہا کر اس مقدس آواز کو خاموش نہیں کر سکتا جو غارِ حرا سے اٹھی ہے ۔لا اپنے قبیلے کا کوئی نامور لڑاکا اور میرے ہاتھ کھلوادے پھر دیکھ کون کس کے خون سے پیاس بجھاتا ہے؟‘‘’’میدانِ جنگ میں پیٹ دکھانے والو! ‘‘زیدؓ نے گرجدار آواز میں کہا۔’’ تم نے شکست کا انتقام ہمارے بھائیوں کی لاشوں سے لیا ۔تمہاری عورتوں نے احد کے میدان میں ہماری لاشوں کے کان اور ناکیں کاٹ کر ان کے ہار اپنے گلوں میں لٹکائے ہیں۔‘‘ آج چار برس بعد مدینہ کی طرف جاتے ہوئے خالد کو خبیب ؓاور زیدؓ کی للکار اور طعنے صاف سنائی دے رہے تھے۔ وہ زیدؓ کے طعنے کو برداشت نہیں کر سکا تھا۔ آج چار برس بعد اسے یہ طعنہ یاد آیا تو بھی اس کے جسم میں جھرجھری لی ۔ اسے احد کے میدان کا وہ منظر یاد آیا جب ابو سفیان کی بیوی ہند نے حمزہؓ کی لاش کا کلیجہ نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور چبا کر اگل دیا تھا ۔اسی عورت نے اپنے ساتھ کی عورتوں سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کی لاشوں کے کان اور ناکیں کاٹ لائیں ۔ان عورتوں نے اس کے آگے کانوں اور ناکوں کا ڈھیر لگا دیا تھا۔ ہند نے ان کا نوں اور ناکوں کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈال لیا تھا اور وہ پاگلوں کی طرح میدان میں ایک گیت گاتی اور ناچتی پھری تھی ۔اس منظر کو اس کے خاوند ابو سفیان نے پسند نہیں کیا تھا ۔خالد نے تو نفرت سے منہ پھیر لیا تھا۔تین چار ماہ بعد دو مسلمان جن کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔اسے طعنے دے رہے تھے ۔وہ اوچھے طریقے سے انتقام لینے والا آدمی نہیں تھا۔ وہ یہاں سے کھسک آیا اور اہلِ قریش کے ہجوم میں گم ہو گیا۔اسے اس قبیلے کا ایک آدمی مل گیاجو ان دو مسلمانوں کو پکڑ لایا تھا۔ کسی بھی تاریخ میں ا س قبیلے کا نام نہیں ہے۔ مؤرخوں نے بھی ہشام کے حوالے سے ایک جنگجو قبیلہ لکھا ہے جو قریش کا اتحادی تھا۔ خالد نے اس جنگجو قبیلے کے اس آدمی سے پوچھا کہ ان دو مسلمانوں کو کس طرح پکڑا گیا۔’’ خدا کی قسم! ‘‘اس آدمی نے کہا۔’’ کہو تو ہم ان مسلمانوں کے رسول کو پکڑ لائیں اور نیلامی کے چبوترے پر کھڑا کر دیں ۔‘‘’’تم جو کام نہیں کر سکتے اس کی قسم نہ کھاؤ۔‘‘خالد نے کہا ۔’’مجھے بتاؤ کہ ان دو کو کہاں سے پکڑا گیا ہے ؟‘‘یہ چھ تھے ۔اس شخص نے جواب دیا۔’’ ہم نے احد میں مارے جانے والوں کا انتقام لیا ہے۔ آئندہ بھی ایسے ہی انتقام لیتے رہیں گے۔ ہمارے قبیلے کے کچھ آدمی مدینہ میں محمد)ﷺ( کے پاس گئے اور کہا کہ وہ اسلام قبول کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا پورا قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ کر چکا ہے لیکن پورا قبیلہ مدینہ نہیں آ سکتا۔ ہمارے ان آدمیوں نے محمد )ﷺ(سے کہا کہ ان کے ساتھ چند ایک مسلمانوں کو ان کے قبیلے میں بھیجا جائے جو پورے قبیلے کو مسلمان کرے اور پھر قبیلے کو مذہبی تعلیم دینے کیلئے کچھ عرصہ وہیں رہے۔‘‘’’ہمارے یہ آدمی جب واپس آئے تو ان کے ساتھ چھ مسلمان تھے ۔ادھر ہمارے سردار شارجہ بن مغیث نے ایک سو آدمیوں کو رجیع کے مقام پر بھیج دیا ۔جب یہ چھ مسلمان رجیع پہنچے تو ہمارے ایک سو آدمیوں نے انہیں گھیر لیا۔ تم سن کر حیران ہو گے کہ یہ چھ مسلمان تلواریں نکال کر ایک سو آدمیوں سے مقابلے پر آگئے ۔ہم نے تین کو مار ڈالا اور تین کو پکڑ لیا۔ان کے ہاتھ رسیوں سے باندھ دیئے ۔شارجہ بن مغیث نے حکم دیا تھا کہ مدینہ سے کچھ مسلمان تمہارے دھوکے میں آکر تمہارے ساتھ آ گئے تو ان میں سے دو تین کو مکہ لے جانا اور انتقام لینے والوں کے ہاتھوں فروخت کر دینا۔‘‘ ’’ہم تین کو ادھر لا رہے تھے۔ راستے میں ان میں سے ایک نے رسیوں میں سے ہاتھ نکال لیے مگر وہ بھاگا نہیں۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ اس نے ہمارے ایک آدمی کی نیام سے تلوار نکال لی کیونکہ اسے ہم نے نہتا کر رکھا تھا۔ اس نے بڑی تیزی سے ہمارے دو آدمیوں کو مار ڈالا۔ اکیلا آدمی اتنے سارے آدمیوں کا مقابلہ کب تک کرتا؟ وہ مارا گیااور ہم نے اس کے جسم کا قیمہ کر دیا ۔یہ دو رہ گئے۔ ہم نے ان کے ہاتھ اور زیادہ مضبوطی سے باندھ دیئے اور یہاں لے آئے ۔‘‘’’اور تم خوش ہو؟‘‘خالد نے اسے طنزیہ کہا ۔’’محمد)ﷺ( کیا کہے گا اہلِ قریش اور ان کے دوست قبیلے اتنے بزدل ہو گئے ہیں کہ اب دھوکہ دینے اور چھ آدمیوں کو ایک سو سے مروانے پر اتر آئے ہیں؟ کیا تم نے مجھے یہ بات سناتے شرم محسوس نہیں کی؟کیا ان ایک سو آدمیوں نے اپنی ماؤں کو شرمسار نہیں کیا؟جن کا انہوں نے دودھ پیا ہے؟‘‘’’تم نے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیا تھا ولید کے بیٹے!‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’ کیا تم محمد)ﷺ( کی طاقت کا مقابلہ کر سکتے ہو؟بدر میں ایک ہزار قریش تین سو تیرہ مسلمانوں سے مار کھا آئے تھے۔احد کی لڑائی میں محمد)ﷺ( کے پیروکار کتنی تعداد میں تھے۔سات سو سے کم ہوں گے زیادہ نہیں۔قریش کتنے تھے؟ہزاروں ۔سن خالد بن ولید۔محمد )ﷺ(کے ہاتھ میں جادو ہے۔ جہاں جادو چلتا ہے وہاں تلوار نہیں چل سکتی۔‘‘’پھر تمہاری تلوار کس طرح چل گئی؟‘‘خالد نے پوچھا۔’’ اگر محمد کے ہاتھ میں جادو ہے تو وہ تمہارے سردار شارجہ بن مغیث کے دھوکے میں کس طرح آگیا ؟اس کے چار آدمیوں کو کس طرح مار ڈالا؟ان دو کو محمد)ﷺ( کا جادو آزاد کیوں نہیں کرا دیتا؟تم جس چیز کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتے اسے جادو کہہ دیتے ہو۔‘‘’’ہم نے جادو کو جادو سے کاٹا ہے۔‘‘ شارجہ بن مغیث کے قبیلے کے آدمی نے کہا۔’’ ہمارے پاس یہودی جادوگر آئے تھے ۔انکے ساتھ تین جادوگرنیاں بھی تھیں۔ ان میں سے ایک کا نام یوحاوہ ہے ۔ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ایک گھنی جھاڑی میں سے ایک برچھی زمین سے سرکتی ہوئی باہر آئی ۔یہ برچھی جھاڑی میں واپس چلی گئی اور سانپ بن کر واپس آئی۔یہ سانپ واپس جھاڑی میں چلا گیا ۔‘‘مدینہ کی طرف جاتے ہوئے اسے یہ واقعہ یاد آ رہا تھا ۔وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن زہریلی بھڑوں کی طرح یہ یاد اس کے اوپر بھنبھناتی رہی۔اسے یوحاوہ یاد آئی۔ وہ جادو گرنی تھی یا نہیں۔ا س کے حسن میں، جسم کی ساخت، مسکراہٹ اور بولنے کے انداز میں جادو تھا۔ اس نے شارجہ بن مغیث کے اس آدمی کے منہ سے یوحاوہ کا نام سنا تو وہ چونکا۔ معرکہ احد کے بعد جب اہلِ قریش کی فوج مکہ واپس آئی تھی تو مکہ کے یہودی ایسے انداز سے ابو سفیان ،خالد اور عکرمہ کے پاس آئے تھے جیسے احد میں یہودیوں کو شکست ہوئی ہو۔ یہودیوں کے سرداروں نے ابو سفیان سے کہا تھا کہ مسلمانوں کو شکست نہیں ہوئی اور لڑائی ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی ہے، تو یہ قریش کی شکست ہے۔ یہ یہودیوں کی ناکامی ہے ۔یہودیوں نے اہلِ قریش کے ساتھ اس طرح ہمدردی کا اظہار کیا تھا جیسے وہ اہلِ قریش کی ناکامی پر غم سے مرے جا رہے ہیں ۔انہی دنوں خالد نے پہلی بار یوحاوہ کو دیکھا تھا۔ وہ اپنے گھوڑے کی ٹہلائی کیلئے آبادی سے باہر نکل گیا تھا۔جب وہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں اسے یوحاوہ مل گئی ۔یوحاوہ کی مسکراہٹ نے اسے روک دیا ۔’’میں تسلیم نہیں کر سکتی ،ولید کا بیٹا جنگ سے ناکام لوٹ آیا ہے۔‘‘ یوحاوہ نے کہا اور خالد کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرنے لگی اور بولی۔’’ مجھے اس گھوڑے سے پیار ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑنے گیا ۔‘‘خالد یوں گھوڑے سے اتر آیا جیسے یوحاوہ کے جادو نے اسے گھوڑے سے زمین پر کھڑاکردیا ہو۔’’اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی کہ تم مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکے ۔‘‘یوحاہ نے کہا۔’’ تمہاری شکست ہماری شکست ہے۔ اب ہم تمہارا ساتھ دیں گے لیکن تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تم ہمیں اپنے ساتھ نہیں دیکھ سکو گے۔۔‘‘خالد نے یوں محسوس کیا جیسے اس کی زبان بند ہو گئی ہو۔ تلواروں برچھیوں اور تیروں کی بوچھاڑوں کا مقابلہ کرنے والا خالد یوحاوہ کی مسکراہٹ کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ ’’اگر یہودی ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے تو ہمارے کس کام آ سکیں گے؟‘‘ خالد نے پوچھا۔’’ کیا تم سمجھتے ہو کہ صرف تیر ہی انسان کے جسم سے پار ہو جاتا ہے؟‘‘ یوحاوہ نے کہا ۔’’عورت کا تبسم تم جیسے دلیر اور جری مردوں کے ہاتھوں سے تلوار گرا سکتا ہے۔‘‘ خالد اس سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن کچھ پوچھ نہ سکا ۔یوحاوہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پھولوں کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر تبسم آ گیا ۔یوحاوہ آگے چل پڑی ۔خالد اسے دیکھتا رہا ۔ اس کے گھوڑے نے کھر مارا تو خالد اپنے آپ میں آ گیا۔ وہ بڑی تیزی سے گھوڑے پر سوار ہوا اور چل پڑا۔ کچھ دور آ کر اس نے پیچھے دیکھا ۔یوحاوہ رک کر اسے دیکھ رہی تھی۔ یوحاوہ نے اپنا ہاتھ ذرا اوپر کر کے لہرایا ۔ اب جب کہ دو مسلمانوں کو نیلام کیا جا رہا تھا اور خالد کو ایک آدمی نے بتایا تھا کہ ان مسلمانوں کو کس طرح دھوکے میں لایا گیا ہے اور اس آدمی نے یوحاوہ کا نام بھی لیا تو اس نے ارادہ کر لیا کہ معلوم کرے گا کہ یوحاوہ نے وہ جادو کس طرح چلایا ہے۔ اسے اپنے قبیلے کاایک سرکردہ آدمی مل گیا۔ اس سے اسے پتا چلاکہ یہ مسلمان اہلِ قریش کے ہاتھ کس طرح آئے ہیں ۔تین چار سرکردہ یہودی یوحاوہ اور دو تین اور یہودیوں کو ساتھ لے کر شارجہ بن مغیث کے پاس چلے گئے ۔یہ قبیلہ تھا تو جنگجو لیکن اس پر مسلمانوں کارعب کچھ اس طرح طاری ہو گیاتھا جیسے لوگ جادوگروں سے ڈرتے تھے۔ اس قبیلے میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ رسولِ اکرمﷺ کے ہاتھ میں کوئی جادو ہے۔ یہودیوں نے اپنی زمین دوز کارروائیوں کیلئے اس قبیلے کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ جنگجو قبیلہ تھا ۔یہودی بڑی دانشمند قوم تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر مسلمانوں کے جادو کا وہم پھیل گیا تو دوسرے قبیلے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ یہ یہودی اس قبیلے کے سردار شارجہ بن مغیث کے پاس گئے اور اس کا یہ وہم دور کرنے کیلئے کہ مسلمان جادوگر ہیں ،اسے بہت کچھ کہا۔ لیکن شارجہ بن مغیث نے تسلیم نہ کیا۔رات کو یہودیوں کے کہنے پر شارجہ بن مغیث نے ان مہمانوں کی ضیافت کا انتظام باہر کھلے آسمان تلے کیا۔ ان یہودیوں نے اپنے ہاتھوں اپنے میزبانوں کو شراب پلائی۔شارجہ بن مغیث اور اس کے قبیلے کے چند ایک سرکردہ افراد کوجو شراب پلائی گئی اس میں یہودیوں نے کوئی سفوف سا ملا دیا تھا، پھر یہودیوں نے اپنے جادو کے کچھ شعبدے دکھائے۔یوحاوہ نے اپنے حسن کا جادو چلایا۔ اس کا ذریعہ ایک رقص بھی تھا جس میں یہ یہودنیں نیم ہرہنہ تھیں۔ ناچتے ناچتے ان کے جسموں پر جو ادھورے سے لباس تھے وہ بھی سرک کر زمین پر جا پڑے ۔یہودی اپنے سازندے ساتھ لے گئے تھے۔ اگلے روز جب شارجہ بن مغیث کی آنکھ کھلی تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ بڑے ہی حسین خواب سے جاگا ہو۔ اس کے خیالات بدلے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ پھر اپنے قبیلے کے دوسرے سرداروں کیساتھ یہودیوں کے پاس بیٹھا تھا۔ یہودنیں بھی وہاں موجود تھیں۔ یوحاوہ کو دیکھ کر وہ بے قابو ہو گیا۔ اس نے لپک کریوحاوہ کا بازو پکڑا اور اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔’’ضروری نہیں کے دشمن کو میدان میں للکار کر اسے شکست دی جائے ۔‘‘ایک یہودی نے کہا ۔’’ہم مسلمانوں کو دوسرے طریقوں سے بھی ختم کر سکتے ہیں اس کا ایک طریقہ ہم تمہیں بتاتے ہیں۔‘‘خالد کو بتایا گیا کہ ان چھ مسلمانوں کو مدینے سے دھوکے سے لانے کا یہ طریقہ یہودیوں نے بتایا تھا اور شارجہ بن مغیث نے جو آدمی رسولِ کریمﷺ کے پاس بھیجے تھے ان میں ایک یہودی بھی تھا ۔خالد مسلمانوں کو اپنابد ترین دشمن سمجھتا تھا لیکن اسے یہ غیر جنگی طریقے اچھے نہیں لگتے تھے ۔ خالد اپنے گھر گیا۔ اپنی ایک خادمہ سے کہاکہ وہ یوحاوہ یہودن کو بلا لائے۔یوحاوہ اتنی جلدی اس کے پاس آئی جیسے وہ اس کے بلاوے کے انتظار میں قریب ہی کہیں بیٹھی تھی۔’’تم نے مسلمانوں کو کامیابی سے دھوکا دیا ہے۔‘‘خالد نے یوحاوہ سے کہا۔’’ اورمغیث کے قبیلے کے لوگ تمہیں جادوگرنی کہنے لگے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ مجھے پسند نہیں آیا۔‘‘’’میری بات غور سے سنو خالد !’’تم اپنے قبیلے کے نامور جنگجو ہو لیکن تم میں عقل کی کمی ہے۔ دشمن کو مارناہے ۔تلوار سے مارو اور اسے تیکھی نظروں سے ہلاک کر دو، تیر اور تلوار چلائے بغیر دشمن کو کوئی مجھ جیسی عورت ہی مار سکتی ہے۔ آج چار برس بعد وہ جب صحرا میں تنہا جا رہا تھا۔ تو یوحاوہ کی باتیں اُسے یاد آ رہی تھیں۔ اس حد تک تو وہ خوش تھا کہ یہودی ان کے ساتھ تھے لیکن اسے یہ بھی معلوم تھاکہ یہودیوں کی دوستی میں جہاں مسلمانوں کی دشمنی ہے وہاں ان کے اپنے مفادات بھی ہیں ۔البتہ ا س نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ یوحاوہ اگر جادوگرنی نہیں تو اس کے سراپا میں جادوکا کوئی اثر ضرور ہے۔خالد کا گھوڑا مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا ۔ اس کے ذہن میں پھر خبیب ؓبن عدی اور زیدؓ بن الدثنہ آگئے۔ لوگ ان کی بولیاں بڑھ بڑھ کر دے رہے تھے۔ آخر سودا ہو گیا اور قریش کے دو آدمیوں نے انہیں بہت سے سونے کے عوض خرید لیا۔ یہ دونوں آدمی ان دونوں صحابیوںؓ کو ابو سفیان کے پاس لے گئے ۔’’ہم نے اپنے عقیدے سے ہٹ کر محمد )ﷺ(کے پاس چلے جانے والے ان دو آدمیوں کو اس لئے خریدا ہے کہ ان اہلِ قریش کے خون کا انتقام لیں جو احد کے میدان میں مارے گئے تھے۔‘‘ انہیں خریدنے والوں نے کہا ۔’’ہم انہیں آپ کے حوالے کرتے ہیں ۔آپ قریش کے سردار و سالار ہیں۔‘‘’’ہاں!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’مکہ کی زمین مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے ۔ان دو مسلمانوں کا خون اپنی زمین کو پلا دو۔لیکن مجھے یاد آ گیا ہے کہ یہ مہینہ جو گزر رہا ہے ہمارے دیوتاؤں عزیٰ اور ہبل کا مقدس مہینہ ہے ۔یہ مہینہ ختم ہو لینے دو ۔اگلے دن انہیں کھلے میدان میں لے جا کر لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ باندھ دینا اور مجھے بلا لینا۔‘‘خالد نے جب ابو سفیان کا یہ حکم سنا تو وہ اس کے پاس گیا۔ ’’مجھے آپ کا یہ فیصلہ اچھا نہیں لگا ۔‘‘خالد نے ابو سفیان سے کہا ۔’’ہم دگنی اور تگنی تعداد میں ہوتے ہوئے اپنی زمین کو مسلمانوں کا خون نہیں پلا سکے تو ہمیں حق حاصل نہیں کہ دو مسلمانوں کو دھوکے سے یہاں لا کر ان کا خون بہایا جائے ۔ابو سفیان کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو دھوکا دینے والی تین چار عورتیں تھیں ؟کیا آپ اپنے دشمن سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ اہلِ قریش اب عورتوں کی آڑ میں بیٹھ گئے ہیں؟‘‘ ’’خالد!‘‘ ابو سفیان نے با رعب لہجے میں کہا۔’’ خبیب اور زید کو میں بھی اتنا ہی اپنے قریب سمجھا کرتا تھا جتنا تم انہیں اپنے قریب سمجھتے تھے ۔تم اب بھی انہیں اپنے قریب سمجھ رہے ہو ؟اور یہ بھول رہے ہو کہ اب یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اگر تم انہیں آزاد کرانا چاہتے ہو تو لاؤ اس سے دگنا سونا لے آؤ اور ان دونوں کو لے جاؤ۔‘‘ ’’نہیں!‘‘ پردے کے پیچھے سے ایک گرجدار نسوانی آواز آئی۔ یہ ابو سفیان کی بیوی ہند کی آواز تھی ۔اس نے غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔’’ حمزہ کا کلیجہ چبا کر بھی میرے سینہ میں انتقام کی آگ سرد نہیں ہوئی ہے ۔اگر ساری دنیا کا سونا بھی میرے آگے لا رکھو گے تو بھی میں ان دو مسلمانوں کو آزاد نہیں کروں گی۔‘‘’’ابو سفیان !‘‘خالد نے کہا۔’’ اگر میری بیوی میری بات کے درمیان یوں بولتی تو میں اس کی زبان کھینچ لیتا۔‘‘’’تم اپنی بیوی کی زبان کھینچ سکتے ہو؟‘‘ہند کی آواز آئی۔’’ تمہارا باپ نہیں مارا گیا تھا۔ تمہارا کوئی بیٹا نہیں مارا گیا اور تمہارا چچا بھی نہیں مارا گیا۔ایک بھائی قید ہوا تھا اور تم مسلمانوں کے پاس جا کر منہ مانگا فدیہ دے کر اپنے بھائی کو چھڑا لائے ۔آگ جومیرے سینہ میں جل رہی ہے تم اس کی تپش سے نا آشنا ہو۔‘‘خالد نے ابو سفیان کی طرف دیکھا ۔ابو سفیان کے چہرے پر جہاں مردانہ جاہ و جلال اور ایک جنگجو سردار کا تاثر تھا۔ وہاں ایک خاوند کی بے بسی کی جھلک بھی تھی۔ ’’ہاں خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’جس کے دل پر چوٹ پڑتی ہے ا سکے خیالات تم سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔کسی کو اپنا دشمن کہنا کچھ اور بات ہے لیکن اپنے دشمن کو پنے کسی عزیز کا خون بخش دینا بڑی ہی ناممکن بات ہے۔ تم کس کس کو قائل کرو گے کہ وہ ان دو مسلمانوں کی جان بخشی کر دے؟تم جاؤ خالد۔ ان دو مسلمانوں کو اپنے قبیلے کے رحم و کرم پر چھوڑ دو۔‘‘خالد خاموشی سے واپس چلا گیا۔پھر خالد کو وہ بھیانک منظر یاد آیا جب باہر میدان میں لکڑی کے دو کھمبوں کے ساتھ خبیبؓ اور زیدؓبندھے کھڑے تھے۔ تماشائیوں کا چیختا چلاتا ہوا ہجوم اکھٹا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے ابو سفیان اور ہند گھوڑوں پر سوار ہجوم میں داخل ہوئے ۔ہجوم کے نعرے اور انتقامی نعرے پہلے سے زیادہ بلند ہو گئے۔ اگر اس ہجوم میں کوئی خاموش تھا تو صرف خالد تھا۔ ابو سفیان گھوڑے پر سوار دونوں قیدیوں کے قریب گیا اور دونوں نے اسے کہا کہ’’ وہ زندگی کی آخری نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے انہیں اجاز ت دے دی ۔خالد اب مدینہ کی طرف جا رہا تھا۔ اسے جب وہ منظر یاد آیا کہ دونوں قیدیوں کے ہاتھ کھول دیئے گئے اور وہ قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔خالدپر اس وقت جو اثر ہوا تھا وہ اب چار برس بعد اس کی ذات سے ابھر آیا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے خالد کا سر جھک گیا ۔خبیبؓ بن عدی اور زیدؓ بن الدثنہ ہجوم کی چیخ و پکار سے لا تعلق پنی موت سے بے پرواہ خدا کے حضور رکوع و سجود میں محوَ تھے۔ انہوں نے نہایت اطمینان سے نماز پڑھی ۔دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ کوئی نہی بتا سکتا، تاریخ بھی خاموش ہے کہ انہوں نے خدا سے کیا دعا مانگی؟ انہوں نے خدا سے یہ نہیں کہا ہوگا کہ دشمن انہیں آزاد کردے۔وہ اٹھے اورخود ہی لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ پیٹھیں لگا کر کھڑے ہو گئے۔ ’’او بد قسمت انسانو! ‘‘ابو سفیان نے بڑی بلند آواز سے خبیبؓ اور زیدؓ سے کہا۔’’ تمہاری قسمت اور زندگی میرے ہاتھ میں ہے۔ا پنی زبانوں سے کہہ دو کہ ہم اسلام کو ترک کرتے ہیں اور اب ہم اہلِ قریش میں سے ہیں اور تین سو ساٹھ بتوں کو برحق مانتے ہیں ۔یہ اعلان کر دو اور اپنی زندگیاں مجھ سے واپس لو۔اگر نہیں تو موت کو گلے لگاؤ۔یہ بھی سوچ لو کہ تمہاری موت سہل نہیں ہو گی۔‘‘’’اے باطل کے پجاری ابو سفیان!‘‘زیدؓ کی آواز گرجی۔ ’’ہم لعنت بھیجتے ہیں پتھر کے ان بتوں پر جو اپنے اوپر بیٹھی ہوئی مکھی کوبھی نہیں اڑا سکتے۔ ہم لعنت بھیجتے ہیں عزیٰ اور ہبل پر جو تمہیں اگلے جہان دوزخ کی آگ میں پھینکیں گے۔ ہم پجاری ہیں اس ایک اﷲ کے……..

ـــــــــــــــــــــــــــــ
جاری ہے.