منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#hamidnaved حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط …


#hamidnaved
حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 1

مدینہ سے تیس پینتیس میل دور شمال مشرق میں ایک ہرا بھرا نخلستان تھا۔ چھوٹی سی ایک جھیل، جھیل کے کنارے کھجور کے پیڑوں کے جھنڈ اور صحرائی پودے لق و دق تپتے ہوئے اس صحرا میں جنت کا سماں پیدا کیے ہوئے تھے۔ یہ نخلستان ایک ریگزار میں یوں لگتا تھا جیسے دہکتے ہوئے انگاروں میں ایک پھول کھلا ہو۔ اس کے اردگرد صحرا ایسا بھیانک تھا کہ مسافر اُدھر سے گزرتے گھبراتے تھے اور اگر کوئی بھولا بھٹکا مسافر اُدھر جا بھی نکلتا تو دور سے نخلستان کو دیکھ کر یقین نہیں کرتا تھا کہ یہ نخلستان ہے۔ بلکہ وہ اسے سراب سمجھتا تھا۔ نظر کا دھوکا!

نخلستان تو اس ریگزار میں بہت تھے لیکن اس جیسا کوئی نہ تھا۔ اس کے اس طرف بھی خاصی اونچی پہاڑی تھی۔ جدھر سے سورج طلوع ہوتا تھا اور ایک پہاڑی اُدھر بھی تھی جدھر سورج غروب ہوتا تھا۔ ان پہاڑیوں کی وجہ سے یہ نخلستان دن کا خاصہ حصہ سورج کی جلا دینے والی گرمی سے محفوظ رہتا تھا۔کھجور کے درختوں کے علاوہ جھکے جھکے درختوں کی دوچار قسمیں اور بھی تھیں۔

جونہی سورج غروب ہونے سے پہلے مغرب والی پہاڑی کے پیچھے چلا جاتا۔ اس نخلستان کی محدود سی دنیا ٹھنڈی ہونے لگتی تھی، اور غروبِ آفتاب کے بعد ایسی خنکی کہ آسمان تلے بیٹھنے والا ٹھٹھرنے لگتا تھا۔

اس دلفریب نخلستان میں پانچ چھ خیمے نصب تھے جن میں ایک چوکور اور بڑا تھا ۔اس کے دو طرف دروازے اور دروازوں کے آگے ریشمی پردے لٹکے ہوئے تھے ۔خیمے کے اندر کسی شاہی محل کے کمرے کا گمان ہوتا تھا۔ فرش پر خیمے کی لمبائی اور چوڑائی جتنا ایرانی قالین بچھا ہوا تھا۔ ایک طرف گدے پڑے تھے جن پر ریشمی چادریں بچھی ہوئی تھیں اور گاؤ تکیے پڑے ہوئے تھے ، اوپر رنگارنگ فانوس لٹکے ہوئے تھے ۔ خیمے کے اندر جو کپڑا لگا ہوا تھا وہ بھی ریشمی تھا اور اس کے کئی رنگ تھے۔ اندر کی فضا طلسماتی تھی۔

رات کا پہلا پہر تھا، گدوں پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے تین آدمی کچھ بیٹھے کچھ نیم دراز سے تھے۔ ان کے سامنے مختلف النوع کھانے رکھے تھے ۔ ایک شیشے کی صراحی تھی اور ساتھ کچھ جام بھی تھے۔ ان تین آدمیوں کے ساتھ جو گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ، دو آدمی دائیں اور دو بائیں بیٹھے تھے۔ شراب کے جام صرف ان کے ہاتھوں میں تھے ۔باقی تین آدمی شراب نہیں پیتے تھے۔

ان سب آدمیوں کے لباس بتاتے تھے کہ یہ عربی ہیں اور مالدار عربی ہیں۔ وہ الف لیلیٰ کی داستانوں کے کردار لگتے تھے……شاہی خاندان کے افراد……ان کے سامنے ایک نیم عریاں رقاصہ رقص کی اداؤں سے ان سات آدمیوں کو مسحور کر رہی تھی۔اس کی کمر سے ریشم کے دھاگوں کی بنی ہوئی رنگ برنگی رسیاں لٹک رہی تھیں جو اتنی گھنی اور گنجان تھیں کہ دور سے کپڑا لگتی تھیں ۔ان میں رقاصہ عریاں نہیں لگتی تھی لیکن رقص کرتے اس کی ٹانگیں پاؤں سے کولہوں تک رسیوں سے باہر آجاتی تھیں۔ رقاصہ کے کھلے ہوئے بال بھی جیسے ریشم کے انتہائی باریک تار تھے جو اس کے مرمریں شانوں پر جھول رہے تھے۔

خیمے کے ایک کونے میں سازندے بیٹھے تھے اور ان کے پاس رقاصہ کی عمر کی دو لڑکیاں بیٹھی گا رہی تھیں۔ ایک ادھیڑ عمر عورت دف کی تھاپ پر تالی بجا رہی تھی۔ رقص اچھل کود نہیں تھا نہ دف اور سازوں نے واویلا بپا کر رکھا تھا۔ موسیقی مدھم اور خوابناک سی تھی اور رقص ایسا جیسے رقاصہ پھن دار ناگن کی مانند جھول رہی ہو۔ اس کا تبسم سحر انگیز تھا۔ گیت رومانی تھا۔ اس کے الفاظ اور سرتال ایسی جیسے خیموں سے کچھ دور بیٹھے ہوئے اونٹوں اور بندھے ہوئے گھوڑوں پر بھی وجد طاری ہو ا جا رہا ہو۔

رقص جاری رہا‘ شر اب چلتی رہی۔ خیمے میں بیٹھے یہ سات آدمی جھومتے اور خاموش اشاروں سے داد دیتے رہے اور جب رقاصہ نے جھک کر ہاتھ ماتھے پر رکھا تو گاؤ تکیے کے ساتھ بیٹھے ایک آدمی نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رقص کی محفل برخاست ہوتی ہے۔

رقاصہ یوں خیمے سے جھکی جھکی باہر نکلی کہ اس نے پیٹھ ان آدمیوں کی طرف نہ کی۔ گانے والیوں کا اور سازندوں کا انداز بھی یہی تھا۔

’’اب کام کی کچھ باتیں ہو جائیں۔ ‘‘گاؤ تکیے کے ساتھ لگے درمیان والے آدمی نے گاؤ تکیے سے آگے ہو کر کہا۔ ’’دن کو ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے ، ہم خوش تھے کہ محمد)محمدﷺ(کے اس دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد مسلمان پھر قبیلوں میں بٹ کر بکھر جائیں گے اور ہم اُنہیں ایک بار پھر ایک دوسرے کا دشمن بنا کر جاہلیت کے اسی دور میں پہنچا دیں گے جہاں سے اُنہیں ان کے رسول)ﷺ( نے نکالا تھا۔پھر ان کے خلاف ہر طرف بغاوت شروع ہو گئی تھی‘ جسے یہ لوگ ارتداد کہتے ہیں۔ ہم اس وقت اور زیادہ خوش ہوئے کہ اب اسلام ان باغیوں کے ہاتھ ہمیشہ کیلئے عرب کی ریت میں دفن ہو جائے گا، لیکن اس بوڑھے ابو بکر نے ایسا طوفان کھڑا کیا کہ مسیلمہ اور مالک بن نویرہ جیسے طاقتور باغی ان چند ایک مسلمانوں سے شکست کھا گئے۔

’’ابو سلمیٰ!‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔’’ اسلام کے یہ باغی اگر بغاوت سے پہلے متحد ہو جاتے تو کبھی شکست نہ کھاتے۔‘‘

’’نہیں ابنِ داؤد!‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔ ’’وہ متحد ہوتے ‘تو بھی شکست کھا جاتے۔ یہ کہو کہ مسلمانوں کے پاس خالد بن ولید اور ابو عبیدہ نہ ہوتے تو یہ باغی شاید کامیاب ہو جاتے……خدائے یہودہ کی قسم! اگر ہمارا منصوبہ ان لوگوں نے قبول کرلیا اور ہماری باتیں مان لیں تو اسلام کا نام و نشان نہیں رہے گا۔‘‘

’’میں ایک بات کہوں ابو سلمیٰ! ‘‘ایک اور آدمی بولا۔’’ تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تم یہودی ہو اور تمہاری تاریخ میں صرف منصوبے ملتے ہیں ……سازشوں کے منصوبے ، قتل کرانے اور بھاگ نکلنے کے منصوبے…… تمہیں میری بات سے رنج نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نہ سمجھنا کہ میں نصرانی ہوں اس لئے یہودیوں کے خلاف بات کر رہا ہوں۔‘‘

’’تم کھل کر بات کرو اسحاق!‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ ہم اس صورت میں ہی کامیاب ہو سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کی خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کریں ۔ یہاں سوال میری ذات یا بنی اسرائیل کی توہین کا نہیں ، ہمیں اسلام کا خاتمہ کرنا ہے۔ جس کیلئے بہترین وقت یہی ہے ……تم چاروں نصرانی ہو اور ہم تین یہودی ہیں ۔ میں اس وقت کو تصور میں لا رہا ہوں جب نصرانیوں اور یہودیوں میں اتحاد ہو گا ۔ اب بات کرو۔‘‘

’’میرا مقصد کسی کی توہیں نہیں۔ ‘‘اسحاق نے کہا۔’’ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بنی اسرائیل جنگ سے گریز کرتے ہیں اور میدانِ جنگ سے دور رہتے ہیں۔ اگر ہم نصرانیوں کی طرح تم لوگ بھی جنگجو ہو جاؤ اور یہودی اور نصرانی متحد ہو جائیں تو یہی ایک ذریعہ ہے اسلام کے خاتمے کا۔‘‘

’’بہت وقت چاہیے۔‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ کئی سال لگ جائیں گے دونوں قوموں کو قریب لاتے۔ ہمارے دانشمند بزرگ کہہ گئے ہیں کہ کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کی قیادت کو بدکردار بنا دو اور جو کردار سے دستبردار نہیں ہوتا اسے ایسے خفیہ طریقے سے قتل کردو کہ قاتل کا سراغ نہ ملے۔‘‘

’’کس کس کو قتل کرو گے؟‘‘ ایک اور نصرانی بولا۔’’ ابو بکر کو میں نے چند دن پہلے مدینہ میں دیکھا ہے‘ وہ اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ دنیا سے جلد ہی اُٹھ جائے گا۔ اسے قتل کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ سوچ لو کہ اگر اس کے بعد ابن الخطاب آگیا تو مسلمانوں کا محاذ او ر مضبوط ہو جائے گااور اسلام شام کی سرحدوں سے بھی آگے نکل جائے گا۔ میں نے جو جاسوسی کرائی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا پہلا خلیفہ ابو بکر خالد بن ولید کو دمشق کی طرف روانہ کر رہا ہے۔‘‘

’’خالد بن ولید کی بات کرتے ہو؟‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ دعا کرو کہ ابو بکر کے بعد خلافت عمر بن الخطاب کو مل جائے۔ ان کے آپس میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں کہ خالد بن ولید، ابن خطاب کے ہاتھوں گمنامی میں چلا جائے گا۔‘‘

’’میں نہیں مانتا۔‘‘ اسحاق نے کہا۔’’میں اس وقت مدینہ میں تھا جب عمر کے اُکسانے پر ابو بکر نے خالد بن ولید کو بطاح سے بلایا تھا کیونکہ اس نے ارتداد کے ایک قائد مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی انتہائی خوبصورت بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ خالد بن ولید جب مدینہ پہنچا تو سیدھا مسجد میں گیا۔عمر وہیں تھا۔ ابن الولید کو دیکھتے ہی عمر اس پر برس پڑا اور اس قدر لعن طعن کی کہ جو بیٹا باپ کی بھی برداشت نہ کر سکے۔ لیکن خالد نے برداشت سے کام لیا کیونکہ عمر اُس سے بڑا تھا اور ابن الولید اسلام کی تعلیمات کا پابند تھا۔ اُس نے اپنی بے عزتی برداشت کر لی لیکن عمر کی عزت رکھ لی۔ اس قوم میں یہ جو خوبی پیدا ہو گئی ہے اسے ختم کرنا محال نظر آتا ہے۔‘‘

’’کیا تم کوئی آسان کام کرنا چاہتے ہو؟‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ اسی محال کو ہم نے آسان کرنا ہے ، باتیں بہت ہو چکی ہیں۔ بہت دنوں سے ہم باتیں ہی کیے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت اپنے سینے پر لکھ لو کہ اسلام کی بیخ کنی کوئی آسان کام نہیں۔ یہ کام ہم میدانِ جنگ میں نہیں کر سکتے نہ فوجیں اسلام کے خلاف کوئی کامیابی حاصل کر سکتی ہیں…… میں کہہ رہا تھا کہ کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کی قیادت کو بدکردار اور بد دیانت بنا دو۔‘‘

’’لیکن کیسے؟ ‘‘اسحاق نے کہا۔’’ میرا نظریہ بھی یہی ہے کہ ان باتوں کی بجائے کوئی عمل کیا جائے۔‘‘

’’کردار میں بدی خوبصورت عورت سے پیدا ہوتی ہے یا شراب سے۔‘‘ ابن ِداؤد نے کہا۔’’ مسلمان شراب نہیں پیتے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا تھا کہ ایک روز ان کے رسول)ﷺ( نے اعلان کیا کہ آج سے شراب حرام ہے تو پانی کی طرح شراب پینے والے اہل ِاسلام نے اسی وقت شراب کے مٹکے اور شراب کی صراحیاں باہر گلیوں میں انڈیل دی تھیں۔وہ پیالے توڑ دیئے تھے جس میں وہ شراب پیتے تھے…… ہم تو یہودی ہیں ،شراب نہیں پیتے۔ ان نصرانی بھائیوں سے پوچھو جو شراب کے رسیا ہیں ۔انہیں کہو کہ شراب کی یہ صراحی اور اپنے سامنے رکھے ہوئے جام اٹھاکر باہر پھینک دیں تو یہ ہنس کر ٹال دیں گے۔ یا یہ کہہ دیں گے کہ ایک دو دنوں بعد ہم شراب سے توبہ کرلیں گے۔ یہ توبہ نہیں کریں گے ۔لیکن مسلمانوں نے آنِ واحد میں توبہ کر کے دکھا دی اور شراب کو اُمّ الخبائث قرار دے دیا۔‘‘

ابو سلمیٰ اس طرح ہنسا جیسے اس کے سامنے بیٹھے ہوئے یہ آدمی کم عقل اور طفلانِ مکتب ہوں۔

’’مسلمانوں نے شراب چھوڑ دی ہے۔‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ عورت کا نشہ برقرار رکھا ہے۔ ایک ایک آدمی خصوصاً سرداروں نے کئی کئی بیویاں رکھی ہوئی ہیں اور وہ خوبصورت اور جوان لڑکیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ نہ بھولو کہ خوبصورت اور جوان لڑکی ایک ایسی طاقت ہے جس نے بڑے بڑے جابر اور جنگجو بادشاہوں کے تاج اپنے قدموں میں رکھ لئے ہیں۔ ہم مرد کی اس کمزوری کو استعمال کریں گے…… اور یہ بھی دماغ میں بٹھا لو کہ جولذت بدی میں ہوتی ہے وہ نیکی میں نہیں ہوتی۔ مسلمان اپنے رسول )ﷺ(کے اس وعدے پر نیک اور پاک ہو گئے ہیں کہ اگلے جہان انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جہاں حسن و جمال والی حوریں ملیں گی اور شہد سے میٹھی شراب ملے گی۔ ہم ان لوگوں کو دنیا میں جنت دکھا دیں گے۔‘‘

’’بات آپ کی ہی درست معلوم ہوتی ہے۔‘‘ ایک اور نصرانی نے کہا۔’’ لیکن مسلمانوں پر جنگ و جدل کا جنون طاری ہو چکا ہے ۔ یوں پتہ چلتا ہے کہ جیسے ان کا کسی اور طرف دھیان ہی نہ ہو۔ کرنا ہے تو یوں کریں کہ یہودیوں اور نصرانیوں کو تیار کریں کہ وہ ظاہری طور پر اسلام قبول کر کے ان کی فوج میں شامل ہو جائیں اور میدانِ جنگ میں اُنہیں دھوکا دیں اور ان کی شکست کا باعث بنیں ۔لیکن مجھے یہ کام کچھ آسان نظر نہیں آتا کیونکہ ان مسلمانوں میں صرف جوشِ جہاد اور شوق ِشہادت ہی نہیں بلکہ ان پر جہاد کا جنون طاری ہے۔ میدان ِجنگ میں اگر ان کا آدھے سے زیادہ لشکر مارا جائے تو باقی لشکر بھاگتا نہیں بلکہ پہلے سے دگنی طاقت استعمال کر کے اپنے مرے ہوئے آدھے لشکر کی کمی پوری کر دیتا ہے۔‘‘

’’یہ کام بھی وقت طلب ہے۔ ‘‘ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ یہ بھی آگے چل کر کریں گے ۔یہ تو تم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے کئی آدمی مسلمانوں میں نظریاتی تخریب کاری میں مصروف ہیں ۔ مسلمان اپنے رسول)ﷺ( کی احادیث کے شیدائی ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ اُنہیں کہیں سے پتا چلتا ہے کہ محمد)ﷺ( نے یہ بات کہی تھی تو لوگ فوراً لکھ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے یہ آدمی جن کا میں ذکر کر رہا ہوں‘ مسلمانوں میں من گھڑت احادیث مشہور کر رہے ہیں اور لوگوں نے اُنہیں صحیح احادیث میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم نے بنی اسرائیل کے کچھ پڑھے لکھے آدمیوں کو اس کام پر لگا دیا ہے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کریں اور دور دراز کے مقامات پر جا کر مسجدوں کے امام بن جائیں اور مسلمانوں کے ذہنوں میں قرآن کی غلط تفسیریں ڈالیں۔ ہم یہ محاذ کبھی کا کھول چکے ہیں۔ اب ہم عورت کو استعمال کریں گے ۔تم جانتے ہو کہ ساتھ والے خیمے میں جو تین لڑکیاں ہیں ہم انہیں تیار کر چکے ہیں ۔ میں آج تمہیں یہی بتانا چاہتا تھا کہ یہ مہم فوراً شروع کرنی ہے ۔اس لڑکی کو ابنِ داؤد مسلمان کے روپ میں اپنے ساتھ لے جائے گا…… ذرا ٹھہرو‘ میں اس لڑکی کو یہیں بلاتا ہوں ۔ تم سب اس کے ساتھ باتیں کرکے مجھے یہ بتانا کہ یہ لڑکی یہ کام کر سکے گی یا نہیں اور ہم نے اسے جو تربیت دی ہے وہ اس نے ذہن نشین کر لی ہے یا نہیں۔‘

فوراً بعد ایک لمبوترے قد اوربڑے ہی دلکش جسم والی لڑکی خیمے میں داخل ہوئی۔ اس کے نقش و نگار میں مسحور کن جاذبیت تھی اور اس کے چلنے کے انداز میں بھی جادو کا سا اثر تھا۔

’’بنتِ یامین! ‘‘ابو سلمیٰ نے اس لڑکی سے کہا۔’’اس وقت سے تم مسلمان ہو اور تمہارا نام یہی ہو گا۔ تم ایک مسلمان کی بیوی بننے جا رہی ہو۔‘‘

بنتِ یامین نے فوراً وہ چادر جو اس نے کندھوں پر پھیلا رکھی تھی ‘دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر اس سے اپنا سر ڈھانپ لیا اور پھر یہ چادر اس طرح لپیٹ لی کہ اس کا سینہ اور اوپر ناک تک کا جسم ڈھانپا گیا۔صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ پیشانی پر بھی اس نے چادر لے لی تھی اور پھر اس نے سر جھکا لیا۔‘‘

خیمے میں بیٹھے ہوئے ہر آدمی نے اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی بات کی۔ لڑکی نے ہر سوال اور ہر بات کا موزوں جواب دیا اور جواب دینے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ شرم و حیا سے مری جا رہی ہو۔ پھر اس سے سوال پوچھا گیا کہ ایک مسلمان کی بیوی بن کر وہ کیا کرے گی؟ اس نے جو تربیت حاصل کی تھی اس کے مطابق تفصیلی جواب دیا۔

’’میرے ساتھ زیادہ باتیں نہ کریں۔‘‘ بنتِ یامین نے کہا۔’’ آپ کے تمام سوالوں کے جواب میرے عمل سے ملیں گے ‘جس کیلئے میں بالکل تیار ہوں۔‘‘

ابو سلمیٰ نے اسے اشارہ کیا کہ وہ چلی جائے۔ اس نے فوراً سر سے چادر اتاری اور پہلے کی طرح کندھوں پر پھیلا دی اور وہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔

’’کیا خیال ہے؟ ‘‘ابو سلمیٰ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔

’’باتوں کی حد تک لڑکی ہوشیار معلوم ہوتی ہے۔‘‘ اسحاق نے کہا۔ ’’اس خیمے میں تو ہمیں اس نے ہمیں مطمئن کر دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان کے خیمے میں جا کر یہ کیا کرے گی یا کیا کر سکے گی۔‘‘

’’اتنی حسین لڑکی کسی بھی مسلمان پر جادو کی طرح چھا سکتی ہے۔ ‘‘ابو سلمیٰ نے کہا۔

’’ہمیں تمہاری ہر بات سے اتفاق ہے ابو سلمیٰ!‘‘ ایک نصرانی نے کہا۔’’ ہمیں خوش فہمیوں میں مبتلا نہیں ہو نا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے پچھلے ناکام تجربوں کو سامنے رکھیں ۔ مسلمانوں کے خلاف ہماری ہر سازش ناکام ہوئی ہے، مجھے خیبر کا معرکہ یاد ہے ۔ مسلمانوں کی قیادت ان کے اپنے ر سول)ﷺ( کے ہاتھ تھی اور مسلمانوں نے فتح حاصل کر لی تھی ۔ بنی اسرائیل کی ایک عورت زینب بنت الحارث نے جو سلام بن شکم کی بیوی تھی، محمد)ﷺ( کو قتل کر نے کا کتنا اچھا طریقہ آزمایا تھا۔‘‘

اس نصرانی نے غزوہ خیبر کے فوراً بعد کا واقعہ سنایا۔ اس یہودن نے رسول کریمﷺ کے پاس جا کر عقیدت مندی کا اظہار والہانہ طریقے سے کیا اور عرض کی کہ وہ رسولﷺ کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کرنا چاہتی ہے۔ حضور ﷺنے اس یہودن کی جذباتیت سے متاثر ہو کر دعوت قبول کر لی تھی اور اسی شام اس یہودن کے گھر چلے گئے۔ آپﷺ کے ساتھ بشر ؓبن الباء تھے۔

زینب بنت الحارث نے سالم دنبہ بھونا تھا ۔جو اس نے حضورﷺ کے آگے رکھ کر پوچھا کہ آپﷺکو دنبے کا کون سا حصہ پسند ہے۔ آپﷺ نے دستی پسند فرمائی۔ زینب نے دستی کا ٹ کر آپﷺ کے آگے رکھ دی۔ بشر ؓبن الباء نے ایک بوٹی کا ٹ کر منہ میں ڈال لی اور چبانے لگے۔ رسول کریمﷺ نے ایک بوٹی کاٹی اور منہ میں ڈالتے ہی اگل ڈالی ۔فرمایا’’ ابن الباراء! اس گوشت میں زہر ملا ہوا ہے۔‘‘

بشرؓ بن الباراء بوٹی چبا رہے تھے جو انہوں نے اُگل تو دی لیکن زہرلعابِ دہن کے ساتھ حلق میں اتر چکا تھا۔

’’اے یہودن!‘‘ حضورﷺ نے بنتِ الحارث سے فرمایا۔’’ خدا کی قسم! تو نے اس گوشت میں زہر ملایا ہوا ہے۔‘‘

آپﷺ غصے سے اٹھے تو یہودن نے فوراً تسلیم کر لیا کہ اس نے گوشت میں سریع الاثر زہر ملا رکھا ہے۔

’’اے محمد!‘‘ زینب بنت الحارث نے بڑی دلیری سے کہا۔’’ خدائے یہودہ کی قسم! یہ میرا فرض تھا جو میں نے ادا کیا۔ آج میں ناکام ہوگئی تو کل کوئی اور کامیاب ہو جائے گا۔‘‘

بشرؓ بن الباراء اپنے حلق پر ہاتھ رکھ کر اُٹھے اور چکرا کر گر پڑے۔ زہر اتنا تیز تھا کہ اس نے بشر ؓکو پھر اٹھنے نہ دیا۔ وہ زہر کی تلخی سے تڑپے اور فوت ہو گئے۔

رسولﷺ نے زینب بنت الحارث اور اس کے خاوند کے قتل کا حکم دیا اور خیبر کے یہودیوں کے ساتھ آپﷺ نے جو مشفقانہ رویہ اختیار کیا تھا وہ منسوخ فرمایا اور حکم دیا کہ یہودیوں پر اعتماد نہ کیا جائے اور ان کے ہر قول و فعل پر نظر رکھی جائے۔
مؤرخ ابن اسحاق لکھتے ہیں مروان بن عثمان نے مجھے بتایا تھا کہ رسولﷺ آخری مرض میں مبتلا تھے ۔ آپﷺ نے وفات سے دو تین روز پہلے اُمّ بشر الباراء سے جب وہ آپﷺ کے پاس بیٹھی تھیں فرمایا تھا۔ ’’اُمّ بشر !میں آج بھی اپنے جسم میں اس زہر کا اثر محسوس کررہا ہوں جو اس یہودن نے گوشت میں ملایا تھا ۔میں نے گوشت چبایا نہیں اُگل دیا تھا مگر زہر کا ثر آج تک موجود ہے۔‘‘ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ رسولﷺ کی آخری بیماری کا باعث یہی زہر تھا۔

نصرانی نے یہ واقعہ ابو سلمیٰ ، ابنِ داؤد اور سب کو سنایا۔

’’مجھے یہ واقعہ یاد ہے۔‘‘ ابو سلمیٰ نے کہا۔’’ مجھے اپنے تمام تجربات یاد ہیں جن میں ہم ناکام رہے تھے ۔ مدینہ پر قریش کا حملہ کوئی پرانی بات تو نہیں، مسلمانوں نے مدینہ کے اردگرد خندق کھود ڈالی تھی ۔ بنی اسرائیل مدینہ میں تھے ۔انہوں نے محمدﷺ کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رکھاتھا اور مسلمان ان پر اعتماد کرتے تھے ۔ہم نے اس اعتماد سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی……

مسلمانوں نے اپنی عورتوں کو اور بچوں کو ایک قلعہ نما مکان میں اکٹھا کر لیا تھا۔ ہمارا ایک آدمی محمد)ﷺ( کے قتل کیلئے رات کے وقت جا رہا تھا ، وہ اس مکان کے قریب رُک گیا تو اسے حسان نے دیکھ لیا اور محمد)ﷺ( کی پھوپھی صفیہ کو بتایا کہ ایک یہودی مشکوک انداز سے کھڑا ہے ۔ وہ بنو قریظہ کا آدمی تھا ، اس کے پاس برچھی تھی……

صفیہ ایک ڈنڈا لے کر باہر نکلیں اور عقب سے اس آدمی کے قریب جا کر للکارا۔ ہمارے آدمی نے گھوم کر دیکھا اور صفیہ پر وار کرنے کیلئے برچھی تانی مگر صفیہ نے فوراً اس کے سر پر ڈنڈا مارا‘ وہ تیورا کر گرا۔ صفیہ نے ڈنڈے کی ضربوں سے اس کی کھوپڑی کچل ڈالی……

ہم نے تو اُن مسلمانوں پر جو مدینہ میں خندق کے اندر کی طرف رات کو سوئے یا بیٹھے ہوئے تھے ، حملہ کرنے کی بھی سوچی تھی لیکن اس آدمی کے قتل سے یہ راز کھل گیا کہ ہماری نیت ٹھیک نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محمد ﷺ کے حکم سے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا۔‘‘

جاری ہے….