اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#hamidnaved حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط …


#hamidnaved
حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 31

’’تو ملکہ‘ تجھے کیا غم‘‘ ’’ہماری دولت یہی لڑکے تھے جنہیں تو نے مروا دیا ہے۔‘‘ عورتیں واویلا بپا کیے جا رہی تھیں ۔ان کے بیٹے بعض کے بھائی باپ اور خاوند پوران کی للکار پر جوش میں آکر فوج میں شامل ہو گئے تھے اور گذشتہ دو مہینوں میں فوج سے مل کر شہر سے باہر مسلمانوں پرحملے میں شامل ہو تے رہے اور مارے جاتے رہے تھے۔
’’کیا تم اپنے ملک کیلئے کوئی قربانی دینا نہیں چاہتیں؟‘‘ پوران کو بڑی مشکل سے یہ کہنے کا موقع ملا۔’’ کیا تم نہیں جانتیں کہ اس شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تو تمام جوان لڑکیوں کو یہ وحشی عرب اپنی لونڈیاں اور کنیزیں بنا لیں گے۔‘‘
’’تم اپنے بھائی کوباہر کیوں نہیں نکالتیں؟ ‘‘ایک عورت نے کہا۔’’ یہ ملک ہمارا نہیں یہ یزدگرد اور اس کے خاندان کا ملک ہے۔ یہ بزدل اور عیاش فوج کا ملک ہے ۔بیٹے ہمارے مرواتی ہو ،عیش و عشرت تمہارا خاندان کرتا ہے۔‘‘ وہاں تو بغاوت جیسی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی۔ ان حالات میں کہ شہر محاصرے میں تھا اور فوج کی خاصی نفری ماری گئی تھی، ان لوگوں کو جبر و تشدد سے دبانا خطرناک تھا ۔پوران دیکھ رہی تھی کہ پہلے صرف عورتیں پھر مرد بھی جمع ہونے لگے تھے۔
ان میں سے بعض نے مدائن کے طعنے بھی دیئے۔ پوران تو دب کے رہ گئی۔ اس نے عورتوں کو تسلی دلاسا دیا ۔اپنے مخصوص اور پر اثر انداز میں بول کر اس نے مردوں کو بھی ٹھنڈا کردیا ،مگر خود اتنی مضطرب اور پریشان ہو گئی کہ گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں سے چلی تو اس کا سر اوپر نہیں اٹھ رہا تھا ۔ اس نے ایک جگہ جرنیلوں کو بلایا اور انہیں کہا کہ وہ سب حلوان پہنچیں ۔وہ خود بھی حلوان پہنچ گئی۔ ٭
مہران، فیروزان اور خرزاد اس کے پیچھے پیچھے حلوان پہنچے ۔پوران انہیں یزدگرد کے پاس لے گئی۔ ’’معلوم ہوتا ہے جلولا کی شکست بھی ہماری قسمت میں لکھ دی گئی ہے ۔‘‘پوران نے کہا۔’’ آج جلولا کی عورتوں نے مجھے جو طعنے دیئے ہیں ،وہ تم سنتے تو دجلہ میں ڈوب مرنے کیلئے چل پڑتے ۔لیکن تم دجلہ میں ڈوب مرنے کے حق سے بھی محروم کر دیئے گئے ہو۔دجلہ اب تمہارا نہیں رہا۔‘‘
’’کیا تم تینوں جرنیل بتا سکتے ہو کہ ہماری فوج میں کس چیز کی کمی ہے؟‘‘ یزدگرد نے اپنے جرنیلوں سے پوچھا۔ ’’
حوصلے کی۔‘‘ مہران نے جواب دیا۔’’ عربوں کی تعداد دس سے بارہ ہزار تک ہے لیکن ان کا حوصلہ مضبوط ہے۔ وہ شکست کھانے کے بجائے مر جانے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ پے در پے فتوحات نے بھی ان کے حوصلے بلند کر دیئے ہیں ۔ہماری فوج پر ان کا خوف غالب آگیا ہے۔ جب سے انہوں نے گھوڑوں کی پیٹھ پر دجلہ پار کیا ہے ہماری فوج میں یہ بات پورے یقین سے تسلیم کر لی گئی ہے کہ مسلمان جن بھوت ہیں یا ان کے پاس کوئی جادو ہے۔ ہم نے انہیں بہت سمجھایا ہے کہ مسلمانوں میں کوئی مافوق الفطرت طاقت نہیں لیکن ہمارے سپاہی جب ان کے سامنے جاتے ہیں تو بھاگنے کا راستہ پہلے دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ ’’شہنشاہِ فارس!‘‘فیروزان نے کہا۔ ’’مسلمان اپنے عقیدے کے پکے ہیں۔‘‘ ’’ان باتوں کا ہمارے پاس کوئی وقت نہیں۔‘‘ پوران نے کہا۔’’ میں نے تمہیں یہ رائے دینے کیلئے نہیں بلایا کہ عقیدہ کس کا پکا اور کس کا سچا ہے۔ میں تم سب کو یہ بتا رہی ہوں کہ ہم نے جلولا کا محاصرہ توڑ کر عربوں کو پسپانہ کیا تو جلولا کے شہری ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ۔وہ باغی ہو جائیں گے تو اپنی فوج کیلئے ایک مصیبت بن جائیں گے ۔وہ دروازے کھول کر باہر نکل جائیں گے اور خندق کے رستوں سے تار ہٹا دیں گے ۔تم بھی غور کرو یزدی ہمیں کچھ کرنا چاہیے اور بہت جلدی کرنا چاہیے۔‘‘
’’یہ میں پہلے ہی سوچ چکا ہوں۔‘‘ مہران نے کہا ۔’’ ہمیں اپنی پوری فوج سے عربوں پر حملہ کرنا چاہیے۔ محاصرے کو پچھتر دن گزر گئے ہیں۔ ہم بہت جانی نقصان اٹھا چکے ہیں ۔مجھے پوری امید ہے کہ میں ایک بھی عربی کو زندہ واپس نہیں جانے دوں گا۔ میں پوری فوج سے حملہ نہیں کروں گا۔ حملہ آدھی فوج سے ہوگا۔ یہ دستے تھکنے لگیں گے تو آہستہ آہستہ پیچھے آنا شروع کر دیں گے اور باقی آدھی فوج جو شہرمیں تیار ہو گی، وہ باہر آجائے گی اور لڑائی جاری رہے گی ۔عرب اتنی کم تعداد میں ہیں کہ لڑائی جاری نہیں رکھ سکیں گے۔‘‘
’’یہ حملہ کب ہو سکے گا؟‘‘ یزدگرد نے پوچھا۔ ’’تین چار دنوں بعد۔‘‘ مہران نے جواب دیا ۔’’میں اور فیروزان فوج کے ساتھ باہر جائیں گے ۔ہم ساتھ ہوں گے تو فوج جم کر لڑے گی۔‘‘
’’جاؤ! ‘‘یزدگرد نے کہا۔’’ ابھی تیاری شروع کر دو۔‘‘ ٭
اور تین دنوں میں تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ جلولا میں دوسری جگہوں سے نقل مکانی کر کے پہنچنے والے شہریوں اور بھگوڑے فوجیوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا۔ یزدگرد ،نورین اور پوران نے ان تین دنوں میں یہ معمول بنائے رکھا تھا کہ ان میں سے کوئی فوج کو اور کوئی شہریوں کو اکٹھا کرکے بڑے ہی جذباتی اور جوشیلے انداز اور الفاظ میں گرماتا اور اس طرح لڑائی کیلئے تیار کیا جاتا تھا۔ ’’اب بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟‘‘ یہ الفاظ ان تینوں کی زبانوں پر چڑھے ہوئے تھے ۔’’تمہیں فارس کی دوسری سرحد کے قریب پہنچا دیا گیا ہے۔ آگے رومیوں کا علاقہ ہے۔ تم عربوں کے نرغے میں آگئے ہو۔ اب عورتوں اور بچوں کو بھی لڑنا پڑے گا ۔اگر تم اس کیلئے تیار نہیں تو پھر عربوں کے غلام اور لونڈیاں بننے کیلئے تیار ہو جاؤ۔‘‘
مدائن کے دولت مند تاجر اور جاگیر دار بھی مدائن سے بھاگ کر جلولا چلے گئے تھے ۔ان کے خزانے مدائن میں ہی رہ گئے تھے۔ جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کی وہ وسیع و عریض اراضی جو سونا اور چاندی اگلتی تھی وہ مسلمانوں کے قبضے میں آگئی تھی ۔وہ تو کنگال ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے اعلان کر دیا کہ جو فوجی یا شہری بے مثال بہادری سے لڑے گا اسے سونے اور چاندی کی صورت میں وہ جھولی بھر کے انعام دے گا۔ فوراً ہی ایک اور جاگیردار نے اعلان کر دیا کہ بہاردری سے لڑنے والے کو وہ اپنی جاگیر میں سے حصہ دے گا۔ ایک ہی دن میں تقریباً تمام تاجروں اور جاگیرداروں نے بہادر ی سے لڑنے والوں کیلئے انعامات کا اعلان کر دیا۔ یزدگرد، نورین اور پوران کے اشتعال انگیز الفاظ کے ساتھ اتنے زیادہ انعامات کے اعلان نے فوج اور شہریوں میں نئی روح پھونک دی۔ کم سن لڑکے بھی مرنے مارنے پر تیار ہو گئے۔ عورتوں نے اعلان کر دیا کہ عربی اگر شہرمیں داخل ہو گئے تو وہ شہر کی گلیوں اور گھروں میں لڑیں گی۔ کسی عربی مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑیں گی یا خود زندہ نہیں رہیں گی۔ ایک طوفان تھا یا آتش فشاں میں ابلتا ہوا لاوا تھا ،جو جلولا کو محاصرے میں لیے ہوئے بارہ ہزار مجاہدین کو خس و خاشاک کی طرح اڑا اور بہا لے جانے کیلئے تیار تھا۔ مجاہدین کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ پہلے معرکوں کے زخمیوں اور شہیدوں کو مدائن بھیج دیا گیا تھا۔ان کی جگہ تازہ دم مجاہدین آگئے تھے ۔اس طرح جلولا کے مجاہدین کی نفری پوری بارہ ہزار ہی رکھی گئی تھی۔ تیروں اوربرچھیوں کے تو انبار تھے جو مجاہدین کیلئے بھیجے گئے تھے ۔مجاہدن کے دلوں میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں تھا۔ ان کے دلوں میں ﷲ اور رسولﷺ کی محبت تھی۔ جلولا کے اندر لڑنے کیلئے جو نفری تیار ہوئی تھی وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ ٭
تاریخوں کے مطابق محاصرے کے اسّی دن پورے ہوئے تو شہر کے دروازے کھلے۔ کچھ آدمیوں نے آگے آکر خندق پر بنائے ہوئے راستوں سے خاردار تار ہٹا دیئے۔ بڑا ہی زبردست سیلاب تھا جو بند توڑ کر مجاہدین کی طرف آیا۔ یہ گھوڑوں اور انسانوں کا تیز و تند سیلاب تھا جس کے آگے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بارہ ہزار مجاہدین زندہ کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ مجاہدین کیلئے یہ حملہ غیر متوقع اور ناگہانی تھا ۔ ’’انہیں خندق کی طرف دبائے رکھو ۔‘‘یہ مجاہدین کے سالار ہاشم بن عتبہ کی آواز تھی جو بلند آواز مجاہدین نے محاصرے کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچا دی۔ فارسی لشکر میں نیا ہی جوش و خروش نظر آرہا تھا لیکن وہ زیادہ آگے آنے سے بھی گریز کر رہے تھے کیونکہ انہیں واپس بھی جانا تھا۔ واپسی کے راستے تین چار ہی تھے۔ علامہ شبلی نعمانی نے لکھا ہے کہ فارسیوں نے باہر آکر حملہ کیا تو بڑی تیز آندھی آگئی۔ مجاہدین نے اس آندھی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے شدید حملے کیے کہ فارسی خندق میں گرنے لگے اور ان کا آدھا لشکر تباہ ہو گیا۔ کسی اور مؤرخ نے آندھی کا ذکر نہیں کیا۔ سب لکھتے ہیں کہ یہ لڑائی غیر معموی طور پر خونریز تھی۔ ابنِ کثیر نے لکھا ہے کہ ایسی گھمسان کی لڑائی ہوئی کہ برچھیاں ٹوٹ گئیں ،تیر ختم ہو گئے، تلواریں نکلیں اور کلہاڑے نکلے ۔ فارسی اتنے زیادہ تھے کہ مجاہدین ان میں نظر نہیں آتے تھے ۔مجاہدین نے وہی طریقہ اختیار کیا کہ فارسیوں کو خندق کی طرف دباتے تھے اور فارسی پیچھے ہٹتے ہٹتے خندق میں گرتے تھے۔ بعض اپنے گھوڑوں کے نیچے آتے اور مرتے تھے ۔
مؤرخوں نے اس معرکے کو بیان کرتے ہوئے بار بار قعقاع کا ذکر کیا ہے۔ دوسرے سالاروں کی شجاعت بھی کچھ کم نہ تھی لیکن قعقاع نے تو معجزہ کر دکھایا تھا۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ خندق کے راستے بند کر دیئے جائیں تاکہ فارسی واپس نہ جا سکیں۔ لیکن قعقاع اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مؤرخوں نے اس معرکے کو عراق کی جنگ کا سب سے زیادہ خونریز اور انتہائی گھمسان کا معرکہ کہا ہے۔ فارسیوں کی ایک کمزوری یہ تھی کہ وہ ہجوم کی صورت میں آئے تھے اور ہجوم کی صورت میں ہی لڑ رہے تھے۔ مجاہدین انہیں بکھرنے نہیں دے رہے تھے۔ اس سے فارسیوں کیلئے یہ دشواری پیدا ہوگئی تھی کہ وہ ایک دوسرے میں پھنس گئے تھے ۔انہیں گھوم پھر کر لڑنے کا موقع نہیں ملتا تھا ۔دوسری کمزوری یہ کہ انہیں واپس بھی جانا تھا اور واپسی کے راستے تھوڑے بھی تھے اور تنگ بھی۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ بہادری سے لڑنے اور مرنے کا حلف اٹھانے کے باوجود ان پرمسلمانوں کی دہشت طاری تھی۔ یزدگرد، نورین اور پوران کی جوشیلی تقریریں بھی انہیں اس دہشت سے نجات نہیں دلا سکی تھیں۔ پھر فارسیوں کی ایک کمزوری اور بھی تھی ۔وہ یہ کہ مسلمان پہلے سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے ان کا مقابلہ کر رہے تھے اور مسلمان نعرے لگاتے تھے کہ امیر المومنین کا حکم ہے کہ بارہ ہزار مجاہدین دشمن کو شکست دیں ۔ ظہر کے وقت فارسی واپس جانے لگے ۔ مجاہدین نے بہت کوشش کی کہ واپسی پر انہیں مزید نقصان پہنچائیں ۔اس کوشش میں وہ خاصی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ جب آخری فارسی بھی خندق کی دوسری طرف چلا گیا تو کسی مجاہد نے اذان دی۔ سالار ہاشم بن عتبہ نے اعلان کرایا کہ نمازِ خوف ادا کی جائے گی۔ بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مجاہدین نے ظہرکی نماز اشاروں میں ادا کی ۔ دراصل یہ نمازِ خوف تھی جس کی ادائیگی کا ایک خاص طریقہ ہے ۔دشمن کی طرف سے اتنی مہلت مل گئی تھی کہ مجاہدین نے ٹولیوں میں تقسیم ہو کر نمازِ خوف ادا کر لی۔ ٭
’’ﷲ کے مجاہدو‘‘ قعقاع نے اپنے دستوں سے کہا۔’’ کیا تم ڈر تو نہیں گئے؟‘‘
’’ڈرے ہوئے نہیں ،ہم تھکے ہوئے ہیں۔‘‘ ایک مجاہد نے کہا۔’’ اگر ایسا اور حملہ ہوا تو وہ تازہ دم فوج سے ہوگا۔‘‘
’’ہاں ‘‘قعقاع نے کہا۔’’ ایسا حملہ ہوا تو اب ہم ذرا پیچھے ہٹ کر ان پرحملہ کریں گے اور انہیں اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ﷲ ان کے اور ہمارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کر دیتا۔ قعقاع کے یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ اس نے کہا۔’’ اب وہ آئے تو انہیں روکنے کے بجائے ان کے اندر گھس کر پیچھے چلے جانا۔‘‘ قعقاع کی یہ بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ شہر کے دو دروازے ایک بار پھر کھلے اور فارسیوں کے حملے کی دوسری طوفانی لہر آئی جو پہلے حملے جیسی ہی طوفانی اور تیزوتند تھی۔ یہ فارس کی فوج کے تازہ دم دستے تھے۔ ایک بار پھر گھمسان کا رن پڑا۔
’’مجاہدو‘‘ بڑی ہی بلند آوازیں سنائی دینے لگیں ۔’’مسلمانو ……تمہارے سردار خندق کے حصار کے اندر چلے گئے ہیں۔ آگے بڑھو ‘راستہ صاف ہے۔‘‘ یہ قعقاع کی بہادری کا غیر معمولی کمال تھا کہ چند ایک مجاہدین کو ساتھ لے کر دشمن کے پیچھے چلے گئے اور خندق کے دونوں راستوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہاں کچھ مؤرخوں کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ آندھی کا ذکر نہیں آیا۔ یوں لکھا ہے کہ گردوغبار سے فضا تاریک ہو گئی ۔کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اس تاریکی سے فائدہ اٹھا کر قعقاع نے خندق کے دو راستے بند کر دیئے۔ جب قعقاع نے یہ اعلان کروا دیا کہ وہ خندق کے اندر چلے گئے ہیں اور راستہ صاف ہے ۔تو فارسی پریشان ہو گئے۔ وہ پیچھے کو بھاگنے لگے لیکن راستے بند پائے ۔دوسرے ایک دو راستے دوسرے سالاروں نے بند کر دیئے۔ فارسی سوار افراتفری اور نفسانفسی کے عالم میں گھوڑوں سمیت خندق میں گرنے لگے ۔
مؤرخوں نے لکھا ہے کہ فارس کے گھوڑ سواروں پر خوف زدگی کی جو کیفیت طاری ہوئی اس کے زیرِ اثر وہ خندق کے باہر کی طرف خندق کے ساتھ ساتھ گھوڑے دوڑاتے پھرتے تھے ۔آندھی کی تاریکی مجاہدین کیلئے بھی یکساں تھی لیکن انہوں نے آنکھیں کھلی اور حوصلہ قائم رکھا۔ ان حالات میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ مسلمانوں کے ہاتھوں فارسیوں کا قتلِ عام تھا۔ بعض فارسی سواروں نے گھبراہٹ میں خندق کو پھلانگنے کیلئے گھوڑوں کو ایڑیں لگائیں لیکن خندق اتنی چوڑی تھی کہ گھوڑے خندق میں گرے۔ خندق کے اندر یہ حال تھا کہ سینکڑوں گھوڑے اس کے اندر سواروں کے بغیر بدکے ہوئے دوڑے پھر رہے تھے اور زخمی سوار اور پیادے گھوڑوں تلے کچلے جا رہے تھے۔ تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ کم و بیش ایک لاکھ فارسی مارے گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فارسیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ فارسی فوج کے جن پہلے دستوں نے باہر آکر حملہ کیا تھا ‘وہ دوسرے مرحلے میں بھی شامل تھے۔ فارس کے بچے کھچے فوجی شہرمیں نہ جا سکے ۔وہ باہر سے ہی حلوان کی طرف بھاگ گئے ۔ جلولا کا ایک جرنیل مہران قعقاع کو نظر آگیا۔ وہ اپنے محافظ دستے کے چند ایک سواروں کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔ قعقاع نے اس کا تعاقب کیا اور ایک مقام خانقین میں اسے جا لیا۔ اس کے محافظ اس کا ساتھ چھوڑ گئے ۔قعقاع نے اپنے ہاتھ سے مہران کو قتل کیا۔ مہران نے مقابلہ تو کیا تھا لیکن اس کے مقابل قعقاع تھا جو قتل ہونا نہیں قتل کرنا زیادہ بہتر جانتا تھا۔ دوسرا فارسی جرنیل فیروزان تھا۔ وہ جلولا سے فرار ہو کر حلوان پہنچ گیا تھا۔ تیسرے جرنیل خرزاد کے انجام کے متعلق تاریخ خاموش ہے ۔ مجاہدین جلولا میں داخل ہو گئے ۔اس وقت قعقاع اور ان کے مجاہدین حلوان پہنچ گئے تھے۔ ٭
اُس گھوڑ سوار کی رفتار بڑی ہی تیز تھی ۔اتنی تیز کہ یوں لگتا تھا جیسے گھوڑا بدک کر بے لگام ہو گیا ہو اور سوار کے قابو میں نہ آرہا ہو ۔ مدائن کی دیوار پر کھڑے ایک مجاہد نے دیکھا۔ ’’جلولا سے ایک سوار آرہا ہے۔‘‘ مجاہد نے چلّا کر کہا۔’’ گھوڑا بے لگام لگتا ہے۔‘‘ ’’جلولا سے ایک سوار آرہا ہے ۔‘‘نیچے کھڑے ایک مجاہد نے بلند آواز سے اعلان کیا ۔’’سپہ سالار کو اطلا ع کر دو۔‘‘ سپہ سالار سعد ؓبن ابی وقاص مدائن میں کسریٰ کے محل میں قیام پزیر تھے۔ اپنے بھتیجے ہاشم بن عتبہ کی زیرِ کمان بارہ ہزار مجاہدین کا لشکر جلولا بھیج کر سعد ؓبن ابی وقاص کی بیتابی کا یہ عالم تھا کہ فجر کی نماز کے بعد شہر کی جلولا کی طرف والی دیوار پر جا کھڑے ہوتے اور قاصد کی راہ دیکھنے لگتے تھے۔ انہوں نے بارہا افسوس کا اظہار کیا کہ وہ خود جلولا نہ جا سکے۔ ہر بار ان کے اظہارِ افسوس کی تان ان الفاظ پر ٹوٹتی تھی ’’……
لیکن امیر المومنین مجھ سے زیادہ بہتر سوچا کرتے ہیں۔‘‘ کمک اور رسد ہر وقت تیار رہتی تھی۔ جوں ہی جلولا سے زخمی اور شہیدوں کی لاشیں آتی تھیں، اسی وقت اتنی ہی تعداد میں مجاہدین جلولا کو روانہ ہو جاتے تھے۔ اُدھر سے رسد کی جو بیل گاڑیاں اور گھوڑا گاڑیاں خالی واپس آتی تھیں ،اتنی ہی گاڑیاں رسد سے بھر کر روانہ کر دی جاتی تھیں۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے اسّی دن اور راتیں قاصدوں کے انتظار میں اور قاصدوں سے جلولا کے محاصرے کی خبریں سنتے ، انہیں ہدایات دیتے اور احکام دے کر رخصت کرتے ،زخمیوں کی عیادت کرتے اور ذہن میں کشمکش اور اعصاب پر سخت دباؤ لیے گزارے تھے۔
وہ اکیاسیواں دن تھا جب ان کے کانوں میں آواز پڑی کہ جلولا سے ایک سوار آرہا ہے۔
سعد ؓکا گھوڑا ہر وقت تیار رہتا تھا۔ یہ اعلان سنتے ہی سعدؓ دوڑتے باہر نکلے۔ رکاب میں پاؤں رکھ کر سوار ہونے کے بجائے اچھل کر گھوڑے کی پیٹھ پر جا بیٹھے اور باگ کو جھٹکا دے کر گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ جلولا کی طرف والے دروازے سے نکلے۔ گھوڑ سوار ابھی کچھ دور تھا۔ سعدؓ نے اس کی طرف گھوڑا سر پٹ دوڑا دیا۔ ’’دور سے بولو۔‘‘ سعدؓ نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا۔’’ کوئی خبر لائے ہو؟‘

–
فتح مبارک ہو سپہ سالار‘‘گھوڑ سوار نے جواب دیا ۔’’ہم جلولا میں داخل ہو گئے ہیں۔‘‘ سوار سعدؓ بن ابی وقاص کے قریب آگیا ۔سعدؓ نے اپنا گھوڑا موڑا اور دونوں گھوڑے پہلو بہ پہلو مدائن کی طرف دوڑنے لگے۔ ’’رکنا نہیں۔‘‘ سعدؓ نے سوار سے کہا ۔’’وہ دیکھو۔ مدائن کی دیوار پر کتنا ہجوم تمہارے انتظار میں کھڑا ہے۔‘‘
’’خدا کی قسم‘‘ شہر کے قریب جا کر سعدؓ بن ابی وقاص نے دیوار پر کھڑے ہجوم سے کہا۔’’ میرے بھتیجے نے اپنا عہد پورا کر دیا ہے۔‘‘ جلولا کی فتح کی خبر نے مدائن میں خوشیوں کا ہنگامہ بپا کر دیا۔ مجاہدین کی بیویاں اور بچے مدائن میں آگئے تھے ۔عورتیں بھی باہر نکل آئیں اور مسرت و شادمانی اور فتح و نصرت کے جنگی ترانے گانے لگیں۔ سعدؓ بن ابی وقاص قاصد کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس سے آخری لڑائی کی تفصیلات سنیں۔ ’’آپ کا جلولا پہنچنا بہت ضروری ہے۔‘‘ قاصد نے سعدؓ سے کہا۔’’آتش پرست تو حلوان بھاگ گئے ہیں ۔ایساکوئی خطرہ نظر نہیں آتا کہ وہ جوابی حملہ کریں گے یا جلولا کو محاصرے میں لے لیں گے ۔ سردار قعقاع بن عمرو حلوان تک پہنچ گئے ہیں۔ آپ کا وہاں فوراً پہنچنا اس لئے ضروری ہے کہ جلولا میں مدائن کی طرح بہت ہی قیمتی اور خاصا زیادہ مالِ غنیمت ہے۔
‘‘ سعدؓ نے پہلا کام یہ کیا کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے نام جلولا کی فتح کا پیغام لکھوایا ۔قاصد سے جو تفصیلات معلوم ہوئی تھیں وہ لکھوائیں اور اس کے بعد لکھا کہ فارسی بھاگ رہے ہیں۔ ان کے قدم کہیں بھی جم نہیں رہے اور ان کے لڑنے کا جذبہ ختم ہو چکا ہے۔ اجازت دی جائے کہ ان کا تعاقب جاری رکھا جائے اور انہیں اتنی مہلت نہ دی جائے کہ کچھ دنوں کیلئے سستا سکیں۔ انہیں اتنی مہلت مل گئی تو وہ اپنی بکھری ہوئی فوج کو یکجا کر لیں گے اور شہریوں کی بھی فوج بنا لیں گے۔ وہ اب حلوان میں ہیں ۔ہمیں فوراً حلوان کا محاصرہ کر لینا چاہیے۔ یہ پیغام مدینہ کو بھجوا کر سعدؓ ابن وقاص اپنے محافظ دستے کے ساتھ جلولا کو روانہ ہو گئے۔ ٭
جلولا مدائن جیسی اہمیت کا شہر نہ تھا، لیکن وہاں سے مدائن جیسا ہی قیمتی اور بے انداز غنیمت کا مال ملا ۔جلولا میں شاہی خاندان کے دو چار ملازم وہیں رہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ مال ہے جو شاہی محل کے کارندے مدائن سے لائے تھے اور بڑے بڑے جاگیردار اور تاجر بھی مدائن سے اپنے ساتھ بہت سا سونا، چاندی اور نقدی لائے تھے۔ جلولا کے اسّی دنوں کے محاصرے کے دوران شہریوں کو یزدگرد اور جرنیل خوشخبری سناتے رہے کہ انہوں نے محاصرہ توڑ دیا ہے اور عربوں کواتنا زیادہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ کسی بھی وقت بھاگ جائیں گے۔ شہر کی دیوار پر کسی شہری کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے لوگوں کو محاصرے کی صحیح صورتِ حال کا پتہ ہی نہیں چل سکتا تھا۔ انہیں یہ بھی پتہ نہ چلا کہ انہیں جھوٹی تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ وہ اطمینان سے شہر میں بیٹھے رہے اور قیمتی مال و متاع اپنے اپنے طور پر چھپا دیا مگر ایک روز اچانک انہیں پتہ چلا کہ مسلمان خندق کے اندرونی طرف آگئے ہیں اور ان کی اپنی فوج خندق کے باہر چلی گئی ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں بری طرح کٹ رہی ہے۔ پھر اچانک مسلمان شہر میں داخل ہونے لگے اور فارس کی فوج کی جو نفری شہر کے اندر تھی وہ بھاگنے لگی۔ دیوار پر جو تیر انداز اور برچھی باز تھے وہ دیوار سے غائب ہونے لگے ۔شہر میں افراتفری بپا ہو گئی اور یہ خبر بھی شہر میں پھیل گئی کہ شہنشاہِ فارس یزدگرد اپنے شاہی خاندان کے ساتھ رات کو ہی بھاگ کر حلوان پہنچ گیا ہے۔
’’کہاں ہے شہنشاہ جو ہمیں کہتا تھا کہ فارس کی آن پر مر مٹو۔‘‘ ’’پوران کہاں گئی جو کہتی تھی کہ سلطنتِ فارس پر اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہا دے گی۔ شہنشاہ کی ماں کو بلاؤ جو اپنے بیٹے کو بچاکر لے گئی ہے۔‘‘
’’بھاگو لوگو بھاگو‘ ہمیں اپنے جرنیلوں نے دھوکا دیا ہے۔‘‘ جلولا کے اندر میدانِ حشر کا منظر بپا تھا۔ جاگیرداروں، تاجروں اور امرأ کو اپنی جانوں کا، اپنی نوجوان بیٹیوں اور جوان عورتوں کا اور اپنے بچوں کا غم اور فکر لگ گیا۔ عورتیں اور بچے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ بھاگنے والی فوج کے گھوڑوں کے ٹاپوں کا شور تھا۔ بعض فارسی سواروں نے بچوں کو روند ڈالا۔ اُدھر مسلمان شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ لوگ بلند آواز میں اپنے شہنشاہ، اس کے خاندان اور جرنیلوں کو کوس رہے تھے۔ وہاں صورتِ حال کچھ اور تھی ورنہ یہی لوگ اپنے شہنشاہ کے خلاف بغاوت کر دیتے ۔اب تو ان کو جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ قیامت کی اس صورتِ حال میں لوگ اپنے اہل و عیال کو بچا کر بھاگ جا نے کے سوا کچھ بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔جن کے گھروں میں زرو جواہرات اور دولت تھی، وہ سب کچھ بھول گئے اور اپنی جانیں لے کر شہر سے نکل گئے۔ شہر کے باہر انہو ں نے جو منظر دیکھا اس سے ان کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے۔ انہیں اپنی فوج نظر آرہی تھی، جس کے سوار اور پیادے وسیع علاقے میں بکھرے ہوئے مُڑ کے پیچھے دیکھے بغیر سر پٹ بھاگے جا رہے تھے۔ مجاہدین ابھی اپنی پوری تعداد میں شہر میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ شہر خالی ہو گیا۔ پھر بھی کچھ لوگ پیچھے رہ گئے ۔ان میں بوڑھے تھے ،بچے تھے،مریض تھے اور خاصی تعداد ان لوگوں کی تھی جو محنت مزدوری یا امرأ کے گھروں میں نوکری کر کے روز مرہ کی ضروریات پوری کرتے تھے۔ ان میں ان کی نوجوان لڑکیاں اور عورتیں بھی تھیں۔ مکانوں کی تلاشی شروع ہوئی۔ مکان خالی تھے۔ بعض مکانوں میں سے بے انداز دولت، ہیرے جواہرات ملے اور کچھ مکانوں میں چھپی ہوئی عورتیں بھی ملیں۔ انہیں گھر والے بھاگتے وقت بھول گئے تھے۔ ان عورتوں نے چھپ جانا ہی بہتر سمجھا ۔مجاہدین جب مکانوں کی تلاشی لے رہے تھے، تب یہ عورتیں اپنے آپ ہی سامنے آگئیں۔ ان میں بہت کم ایسی عورتیں تھیں جنہوں نے رو رو کر مجاہدین سے التجا کی ہو کہ ان کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ زیادہ تر عورتیں خود ہی مجاہدین کے سانے آگئیں ۔وہ اپنی فوج کو اپنے مردوں کو بزدل اور دھوکے باز کہہ رہی تھیں۔ ان میں بعض نے خوشی کا اظہار کیا کہ ان کے بزدل مرد بھاگ گئے۔ دو تین مؤرخوں نے ان کے متعلق ذرا تفصیل سے لکھا ہے ۔سعدؓ بن ابی وقاص جلولا میں آئے تو ان تمام عورتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سعدؓ کو بتایا گیا ۔سعدؓ وہاں آئے۔ ’’میں تمہارے چہروں پر خوف دیکھ رہا ہوں۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے ترجمان کی وساطت سے عورتوں سے کہا۔’’ اور میں تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھ رہا ہوں۔ خدا کی قسم تم اس قوم کے ہاتھوں میں ہو جو عورت کا احترام اور مریض کی تیمارداری کرتی ہے ۔تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو گا جو فاتح مفتوح شہر کی عورتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔‘‘
’’اے عربی سپہ سالار‘‘ ایک جواں سال فارسی عورت بلند آواز سے بولی۔’’ ہم بزدلوں کی بیویاں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں ۔اس سے زیادہ بزدلی اور کیا ہوگی کہ وہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ تمہیں پورا حق حاصل ہے کہ تم ہمارے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کرو اور ہمارے مردوں کو اس کا پتہ چلے کہ ان کی عزت کے ساتھ عربی کھیل رہے ہیں ۔ہمارے جسموں کو مٹی کے کھلونے سمجھ کر توڑ پھوڑ دو۔ تم فاتح ہو ،تم بہادر ہو۔‘‘
’’خدا کی قسم اے عجم کی بیٹی ‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ تیری شادی تجھ جیسے بہادر عربی سے کراؤں گا۔ تم میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی وہ سلوک نہیں ہو گا جو فاتح مفتوح شہر کی عورتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں ۔ہم جسموں پر نہیں بلکہ جسموں کے اندر دھڑکتے ہوئے دلوں پر قبضہ کیا کرتے ہیں ۔یہ ہمارا ایمان ہے اور یہ ہمارا دین ہے اور یہ ایک آسمانی تحفہ ہے جو ہم تمہارے لیے لائے ہیں۔‘‘
’’پھر ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ ‘‘ایک نوجوان لڑکی نے پوچھا۔
’’تم سب کو ہم اپنی عورتوں کے حوالے کر دیں گے۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے جواب دیا۔’’ پھر تمہیں عرب کے شہر مدینہ بھیجا جائے گا ۔تمہیں ہمارے امیر المومنین دیکھیں گے اور پھر باقاعدہ شادیاں کرادی جائیں گی۔ تم میں کسی کو بھی داشتہ یعنی بے نکاحی بیوی بنا کر نہیں رکھا جائے گا……کیا تم پسند کرو گی کہ تمہیں تمہارے اُن ہی مردوں کے حوالے کر دیا جائے جو تمہیں پیچھے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج وہ تمہیں ہمارے حوالے کر گئے ہیں اور کل وہ تمہیں رومیوں کے آگے پھینک کر بھاگ جائیں؟‘‘

’’نہیں، نہیں‘‘ بہت سی عورتوں نے انکار کرنا شروع کر دیا اور ان کی اس قسم کی آوازیں سنائی دیں ۔’’ہم اب اپنے مردوں کے پاس نہیں جائیں گی……خدائے آفتاب کا قہر نازل ہو اُن بے غیرت اور بزدل مردوں پر ……اگر تم ہمیں دھوکا نہیں دے رہے تو ہم تمہارے پاس رہیں گی……تمہارا دین سچا ہے تو ہم پر اس کی صداقت ثابت کرو۔‘‘
’’ہم نے عراق کے کتنے ہی شہر فتح کیے ہیں۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ اُن شہروں کے لوگ دوسرے شہروں میں جاتے رہے ہیں۔ کیا تم نے کبھی کسی سے سنا ہے کہ عربوں نے کسی عجمی عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے؟‘‘
’’نہیں‘‘ بہت سی عورتوں نے جواب دیا ۔’’ہم نے ایسا کبھی نہیں سنا۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے حکم دیا کہ ان عورتوں کو اپنی عورتوں کے حوالے کر دیا جائے۔ مالِ غنیمت کے ساتھ انہیں مدینہ بھیجا جائے گا۔ ٭
سعدؓ بن ابی وقاص جلولا کے محل میں گئے ،جہاں مالِ غنیمت اکٹھا کیا جارہا تھا۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جلولا مدائن جیسا بڑا شہر نہ تھا لیکن وہاں سے جو مالِ غنیمت ملا وہ مدائن والے مالِ غنیمت سے اگر زیادہ اور قیمتی نہ تھا تو اس سے کم بھی نہ تھا۔ تاریخوں کے مطابق جلولا سے باربرداری کے جانور یعنی اونٹ ،گھوڑے اور بَیل اتنے زیادہ ملے کہ ہر سوار کے حصے میں نو نو گھوڑے آئے ۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے مالِ غنیمت اپنے تمام لشکر میں تقسیم کیا۔ جن مجاہدین نے اسّی روز لڑ کر جلولا فتح کیا تھا انہیں انعام کے طور پر خاصا زیادہ حصہ دیا گیا۔ شہیدوں کی بیوگان کو ان سے بھی زیادہ حصہ دیا گیا ۔یہ تقسیم اس حکم کے مطابق تھی جوحضرت عمرؓ نے شروع سے ہی دے رکھا تھا۔ حضرت عمرؓ نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا کہ خمس یعنی خلافت کا حصہ کم آیا ہے یا زیادہ ۔وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ گھروں سے دور صحراؤں دریاؤں اور سنگلاخ چٹانوں میں لڑنے اور جانیں قربان کرنے والوں کو اتنا حصہ ملے کہ ان کے بچے جوان ہونے تک کسی کے محتاج اور دستِ نگر نہ رہیں۔ مالِ غنیمت کا خُمس زیاد بن ابی سفیان کی نگرانی میں مدینہ بھیجا گیا ۔جلولا شہر کے جن آدمیوں اور عورتوں کو پکڑا گیا تھا انہیں بھی اس قافلے کے ساتھ مدینہ بھیج دیا گیا۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ مالِ غنیمت کا جو حصہ مدینہ جا رہا تھا، اس کی بات پہلے کرلی جائے۔
زیاد بن ابی سفیان کے قافلے نے ایک ایسی جگہ پڑاؤ کیا جو صحرا تھا۔ اردگرد صحرائی چٹانیں تھیں ۔دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ قافلے کے پاس پانی کی کوئی کمی نہیں تھی ورنہ وہاں دور دور تک پانی نہیں مل سکتا تھا۔ رات کھانے کے بعد زیاد بن سفیان اپنے ساتھیو ں کے ساتھ بیٹھا اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہا تھا۔
’’میرے رفیقو‘‘ زیاد نے کہا۔ ’’یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے تاجروں کا کوئی خوش قسمت قافلہ ہی خیریت سے گزر جایا کرتا تھا۔ ڈاکو ان قافلوں کو لوٹ لیتے تھے ۔اب کتنی ہی بار مالِ غنیمت کے قافلے یہاں سے لُٹے بغیر گزر گئے ہیں۔ اگر ڈاکو آجائیں تو ہم سے انہیں اتنا زیادہ مال و دولت ملے جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔‘‘
’’ہاں زیاد‘‘ زیاد کے ایک ساتھی نے کہا۔ ’’وہ آئیں تو ہمیں لوٹ سکتے ہیں ۔وہ تو پوری فوج کی صورت میں آتے ہیں ۔ہم ان کا مقابلہ کرنے کیلئے بہت کم تعداد میں ہیں۔‘‘
’’اب وہ نہیں آئیں گے ۔‘‘ایک ادھیڑ عمر مجاہد نے کہا۔’’ جانتے ہو کیوں؟ ……
پہلے عرب کے یہ لوگ بڑی سخت محنت و مشقت کر کے روزی کماتے تھے ،پھر بھی ان کے پیٹ پوری طرح نہیں بھرتے تھے۔ انہوں نے یمن شام اور عر ب کے تاجروں کے قافلوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ ایک قافلے کو لوٹ کر وہ بہت دن محنت و مشقت کے بغیر اپنے بچوں کے پیٹ بھر لیتے تھے ۔جب سے شام اور عراق سے مالِ غنیمت آنے لگا ہے قافلوں پر ڈاکوؤں کے حملے کم ہو گئے ہیں۔ تم شاید نہیں جانتے کہ بہت سے ڈاکو مجاہدین کے لشکر میں شامل ہو کر شام اور عراق کے محاذوں پر لڑنے کیلئے چلے گئے تھے۔وہ بہادری اور دیانت داری سے لڑے اور ان کے حصے میں جو مالِ غنیمت آتا رہا وہ اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنے پر صرف کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔‘‘
’’تمہاری یہ بات میرے لیے قابلِ قبول نہیں۔ ‘‘ایک اور مجاہد بولا۔’’ جو ایک بار ڈاکو بن جائے وہ ساری عمر یہی کام کرتا ہے ۔جہاد میں شامل ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔‘‘
’’نہیں میرے دوست ‘‘ ادھیڑ عمر مجاہد نے کہا۔’’ ڈاکو مجاہد بن سکتا ہے۔ میں ہوں ایک مجاہد جو پہلے ایک ڈاکو ہوا کرتا تھا۔ میرے قبیلے نے تو ڈاکہ زنی اور رہزنی کو اپنا باقاعدہ پیشہ بنا لیا تھا ۔اب میرے قبیلے میں ایک بھی آدمی ڈاکو نہیں۔ سب محاذ پر لڑ رہے ہیں……
جب سے عمر الخطاب خلیفہ بنے ہیں ،ڈاکہ زنی کی وارداتیں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ اس خلیفہ نے تمام عرب میں ایسے سخت حکم بھیجے ہیں کہ لوگ ہاتھ پاؤں کٹنے کے ڈر سے ڈاکہ زنی اور رہزنی چھوڑ گئے ہیں ۔ہم لوگوں نے دیکھا کہ مالِ غنیمت میں سے سالار کو بھی اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا مجھ جیسے گناہگار کو تو پھر کمزوروں کے قافلوں کو لوٹنے کی کیا ضرورت ہے ؟
آدمی کو اس کا پورا حق اور انصاف مل جائے تو وہ ڈاکو اور راہزن کیوں بنے۔‘‘ مشہور تاریخ دان محمد حسنین ہیکل نے مختلف مؤرخوں اور مبصروں کے حوالوں سے لکھا ہے کہ صحرا کے وہ تمام علاقے جن میں ڈاکوؤں کی حکمرانی تھی جہاد کی وجہ سے محفوظ ہو گئے تھے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسا ن کو کوئی بلند اور مقدس نصب العین دے دیا جائے تو وہ از خود ہی جرم اور گناہ کا راستہ چھوڑ کر صراطِ مستقیم پر آجاتا ہے ۔اگر لوگوں کو حکمران اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے لگیں اور انہیں انعام و اکرام سے بھی نوازیں تو وہ لوگ کیوں دین اور ایمان کی پابندیوں کو قبول کریں گے۔ حکمران قیادت میں مخلص ہوں اور لوگوں کو ایک عظیم نصب العین دیں تو وہاں وعظ اور خطبے کی ضرورت نہیں رہتی۔ لوگ خود ہی ایک قوم بن جاتے ہیں اور پھر ان کا قدم راہِ راست پر آگے ہی اٹھتا ہے،پیچھے نہیں آتا نہ ان کے قدم لڑکھڑاتے ہیں۔ ٭

جاری ہے