پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

Google

منٹو کی سالگرہ پر
جنّت سے منٹو کا خط​
(1)​
میں خیریت سے ہوں لیکن کہو کیسے ہو تم "راجہ"​
بہت دن کیوں رہے تُم "فلم کی دنیا" میں گم "راجہ"​
یہ دنیائے ادب سے کیوں کیا تم نے کنارا تھا​
ارے اے بے ادب کیا "شعر" سے "زر" تم کو پیارا تھا​
جو نظمیں تم نے لکھی تھیں کبھی جنت کے بارے میں​
چھپی تھیں وہ یہاں بھی "خلد" کے پہلے شمارے میں​
ادب کی شعر کی دنیا میں تم لوٹ آئے اچھا ہے​
ارے لکھوالو نظمیں! پھر سے تم چلّائے اچھا ہے​
مگر پھر سوچتا ہوں شعر لکھ کر کیا کرو گے تم؟​
یہ اندازہ ہے میرا غالباً بھوکے مرو گے تم​
یہ بہتر ہے کسی اچھی سی "مِل" میں نوکری کر لو​
کرو تم شاعری تفریح کو اور پیٹ یوں بھر لو​
(2)​
یہ وہ دنیا ہے جس نے "کیس" چلوائے ادیبوں پر​
بہت کی بارشِ مشقِ ستم ہم خوش نصیبوں پر​
ہوا پیدا یہاں جو نکتہ داں صدیوں میں سالوں میں​
مرا سڑکوں پہ وہ یا سڑ گیا پھر ہسپتالوں میں​
ہوں زندہ ہم تو ناک اور بھوں چڑھا کر نام دھرتے ہیں​
جو مر جائیں تو پھر دیکھو یہ کتنی قدر کرتے ہیں​
یکایک ایک دن روئیں گے یہ برسی منا لیں گے​
یہ غازی ہم شہیدوں کے لیے جھنڈے اٹھا لیں گے​
پڑھیں گے مرثیے تڑپیں گے کر ڈالیں گے تقریریں!​
ہمارا نام کرنے کی کریں گے لاکھ تدبیریں​
ہمارے بال بچوں سے نہ پوچھیں گے کہ کیسے ہو​
ادیبوں شاعروں کی قدر دانی ہو تو ایسے ہو​
کریں کیا ہم نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا ادیبوں کی​
یہ دنیا ہے سزاؤں کی، وہ دنیا ہے خطیبوں کی​
(3)​
زمیں والے ہوں کیسے بھی وہ ہر دم یاد آتے ہیں​
جو دنیا میں اٹھائے وہ حسیں غم یاد آتے ہیں​
زمیں والوں کی صحبت میں کبھی جو دن گذارے تھے​
قلم لکھنے سے قاصر ہے کہ وہ دن کتنے پیارے تھے​
وہ گلیاں بائیکلہ٭ کی دور سے مجھ کو بلاتی ہیں​
وہاں کے گھر کی یادیں دل میں اب تک گنگناتی ہیں​
مجھے اس گھر میں صفیہ٭ کی محبت یاد آتی ہے​
مجھے جنت میں بھی وہ گھر کی جنت یاد آتی ہے​
جہاں بچوں کی صورت دیکھ کر میں مسکراتا تھا​
جہاں آ کر میں دنیا کا ہر اِک غم بھول جاتا تھا​
بلاناغہ جہاں ہر شام تم ملنے کو آتے تھے​
جہاں سب دوست آ کر اِک نئی جنت بساتے تھے​
وہ جنّت لٹی چکی دل میں مگر آباد ہے اب تک​
فضا اُس گھر کی وقفِ ماتم و فریاد ہے اب تک​
تم اکثر اب بھی اُس گھر کی سڑک پر سے گذرتے ہو​
وہ سب کچھ لُٹ چکا بیکار تم کیوں آہیں بھرتے ہو؟​
یہی اجڑا ہوا گھر پھر بسانا چاہتا ہوں میں​
بلندی چھوڑ کر پستی پہ آنا چاہتا ہوں میں​
(4)​
فلک پر میں ہوں اور تم ہوں زمیں پر جی نہیں لگتا​
جہاں بھی جاؤں جنت میں کہیں پر جی نہیں لگتا​
میں چاہوں بھی تو اب دنیا میں واپس آ نہیں سکتا​
خوشی بن کر تمہاری محفلوں میں چھا نہیں سکتا​
زمیں والوں سے اے ملعون کب توڑو گے تُم ناتے؟​
بآسانی تم آ سکتے ہو ظالم، کیوں نہیں آتے؟​
فلک سے روز میں آواز دیتا ہوں تمہیں راجا​
تمہیں معلوم ہے "راجا" کا ہے اِک قافیہ "آ جا"​
زمیں سے بوریا بستر اٹھاؤ اور چلے آؤ​
مرے گھر آؤ میرا بیل بجاؤ اور چلے آؤ​
کروڑوں مر گئے چپ چاپ لیکن تم نہیں مرتے​
جو مردِ نیک ہیں جینے پہ اتنی ضد نہیں کرتے​
اگر کچھ عمر باقی ہے تو کر کے خودکشی آؤ​
میں ہوں جب تک یہاں خوفِ جہنّم سے نہ گھبراؤ​
میں جرمِ خودکشی کو لڑ جھگڑ کے بخشوا لوں گا​
تمہارا نام ہر جنت کے پرچے میں اچھالوں گا​
چلے آؤ، چلے آؤ مجھے تم سے محبت ہے​
چلے آؤ، چلے آؤ یہاں راحت ہی راحت ہے​
(5)​
نہیں میں خود غرض سن لو تمہیں میں کیوں بلاتا ہوں​
مرے راجا تمہیں میں ایک خوش خبری سناتا ہوں​
خبر یہ گرم تھی کچھ دن سے جنّت کے حسینوں میں​
تمہارا نام بھی شامل ہے جنّت کے مکینوں میں​
یہ سن کر میں نئی آبادیوں میں دوڑتا آیا​
جو کی انکوائری تو اس خبر کو میں نے سچ پایا​
تمہارا محل بھی دیکھا بہت ہی خوبصورت ہے​
یہ سمجھو جگمگاتے نور اور چینی کی مورت ہے​
تمہاری منتظر حوریں وہاں بے خواب رہتی ہیں​
چمن کی عندلیبوں کی طرح بے تاب رہتی ہیں​
وہ مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں بتلاؤ وہ کیسے ہیں​
فرشتے ہیں کہ شیطاں ہیں، وہ ایسے ہیں کہ ویسے ہیں​
تمہاری جھوٹی تعریفوں کے پُل میں باند دیتا ہوں​
خدا سے بعد میں رو رو معافی مانگ لیتا ہوں​
جواں حوریں کہیں بوڑھی نہ ہو جائیں چلے آؤ​
یہ جنگل میں محبت کے نہ کھو جائیں چلے آؤ​
انہیں چھپ چھپ کے اک کم بخت ملّا گھورا کرتا ہے​
بچا لو اِن کو اے راجا کہ وہ ان سب پہ مرتا ہے​
یہ چنچل ہرنیاں تکتے ہی اس کو بھاگ جاتی ہیں​
مری حوروں کو آ کر حال اپنا سب بتاتی ہیں​
(6)​
بہت جو یاد آتے ہیں اب ان کے نام لیتا ہوں​
زمیں کے دوستوں کے نام کچھ پیغام دیتا ہوں​
بہن عصمت٭ سے کہنا کب تلک فلمیں بناؤ گی​
یہ حالت ہو گئی ہے آہ کیا اب بھی نہ آؤ گی​
جو یاد آ جائے عصمت کی تو شاہد٭ بھی چلا آئے​
وہ ضدی٭ آتے آتے اپنی فلمیں سب جلا آئے​
مہندر ناتھ کو اور کرشن٭ کو بھی خط یہ دکھلاؤ​
جو ممکن ہو تو دونوں بھائیوں کو ساتھ لے آؤ​
اگر دنیا نہ آتی ہو موافق "فیض" و "راشد" کو​
تو ان سے پوچھ کر لکھو، میں بھیجوں اپنے قاصد کو؟​
نہ آئیں گر تو کہہ دینا کہ "پطرس" نے بلایا ہے​
تمہاری یاد میں "تاثیر" تڑپا تلملایا ہے​
تمہیں ہر روز "حسرت" اور "سالک" یاد کرتے ہیں​
تمہیں یہ دونوں اخباروں کے مالک یاد کرتے ہیں​
مجھے امید ہے یہ سن کے دونوں دوڑے آئیں گے​
مری جنت میں آ کر اک نئی جنت بسائیں گے​
دعا ہے یہ خدایا سب زمیں کے دوست مر جائیں!​
یہ جنت کے چمن، یہ گھر، یہ سڑکیں ان سے بھر جائیں​
​
(راجہ مہدی علی خاں)​
​
٭بائیکلہ، بمبئی کا وہ علاقہ جہاں سعادت حسن منٹو کی رہائش تھی​
٭ صفیہ یعنی صفیہ منٹو، منٹو کی بیوی​
٭ عصمت یعنی مشہور افسانہ نگار عصمت چغتائی​
٭ شاہد، عصمت چغتائی کا شوہر​
٭ ضدی، ایک فلم جو شاہد نے بنائی اور عصمت چغتائی نے اس کی کہانی لکھی

Google

Saadat Hasan Manto's 108th Birthday! #GoogleDoodle