Category: منتخب غزلیں
-

مظفر علی خان اسیر لکھنوی کی وفات Feb 07, 1882 آج م…
مظفر علی خان اسیر لکھنوی کی وفات Feb 07, 1882 آج مصحفیؔ کے شاگرد ،ممتاز شاعر اسیرؔ لکھنوی کی برسی ہے ۔ مظفر علی خاں ۔ ولادت 1800ء میٹھی (یو پی) تلمذ : مصحفیؔ ۔ واجد علی شاہ کے مصاحب خاص تھے ۔ 7 فروری سنہ 1882 عیسوی کو اردو کے مشہور شاعر اسیر لکھنوی…
-

حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رھے ہو لگتا ہے کبھی …
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رھے ہو لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا
-

جانے اب کتنا سفر باقی بچا ہے عمر کا زندگی ابلے ہوئ…
جانے اب کتنا سفر باقی بچا ہے عمر کا زندگی ابلے ہوئے کھانے تلک کو آگئی منور رانامعروف شاعر منور رانا ہسپتال میں داخل ! मारूफ शायर मुनव्वर राना अस्पताल में भर्ती ! لکھنؤ ۔ 05 فروری 2019 (ویڈیو ۔ ای ٹی وی بھارت) ملک کے مشہور شاعر منور رانا صاحب کی طبیعت آج صبح…
-

لکھنئو۔ معروف اردو شاعر منور رانا کو لکھنؤ کے سنجے…
لکھنئو۔ معروف اردو شاعر منور رانا کو لکھنؤ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ (ایس جی پی جی آئی) میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق منور رانا کو سینے میں درد کی شکایت تھی، جس کے بعد انہیں اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے۔ فی الحال ان کی…
-

محشرِ خواب و خیالات لیے بیٹھے ہیں تم …
محشرِ خواب و خیالات لیے بیٹھے ہیں تم سے اُمیدِ ملاقات لیے بیٹھے ہیں تم نہیں ہو تو عجب عالمِ تاریکی ہے صبح ہوتی ہی نہیں رات لیے بیٹھے ہیں ایسی کیا بات ہے دم بھر کے لیے آ جاؤ کب سے ہم چھوٹی سی اک بات لیے بیٹھے ہیں آپ بے رنگیِ موسم سے…
-
کچھ رُوپ نگر کا ذکر کرو کچھ رنگ محل کی بات کرو رنگ…
کچھ رُوپ نگر کا ذکر کرو کچھ رنگ محل کی بات کرو رنگین فضا ہے محفل کی رنگین غزل کی بات کرو رندوں کو نہ اب ٹالو کل پر رندوں سے نہ کل کی بات کرو تم آج ہمارے ساقی ہو، تم آج نہ ہلکی بات کرو ہے صبحِ بنارس رُوپ اس کا تو شامِ…
-
"`آنسؔ مُعین صاحب کی ایک شاہکار نظم"` دانشور کہ…
"`آنسؔ مُعین صاحب کی ایک شاہکار نظم"` دانشور کہلانے والو! تُم کیا سمجھو؟ مُبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں؟ تھل کے رِیگستان مِیں رہنے والے لوگو! تُم کیا جانو؟ ساون کیا ہے؟ اَپنے بَدَن کو رَات مِیں اَندھی تاریکی سے دِن مِیں خُود اَپنے ہاتھوں سے ڈھانپنے والو عُریاں لوگو! تُم کیا جانو؟ چولی کیا ہے،…
-

کَرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے آج فُ…
کَرب چہرے سے مہ و سال کا دھویا جائے آج فُرصَت سے کہیں بیٹھ کے رویا جائے پھر کسی نظم کی تمہید اٹھائی جائے پھر کسی جسم کو لفظوں میں سمویا جائے کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اُترنے کی سزا گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے بج گئے رات کے دو اب…
-
دکھاوے کے لئے اعلان فیض عام ہوتا ہے جرم محمد آباد…
دکھاوے کے لئے اعلان فیض عام ہوتا ہے جرم محمد آبادی دکھاوے کے لئے اعلان فیض عام ہوتا ہے مگر اک خاص ہی حلقہ میں دور جام ہوتا ہے مورخ یوں جگہ دیتا نہیں تاریخ عالم میں بڑی قربانیوں کے بعد پیدا نام ہوتا ہے اسی کو سوچنا پڑتی ہیں تدبیریں رہائی کی جو طائر…
-
سائے جو سنگِ راہ تھے رستے سے ہٹ گئے دل جل اٹھا تو…
سائے جو سنگِ راہ تھے رستے سے ہٹ گئے دل جل اٹھا تو خود ہی اندھیرے سمٹ گئے دن بھر جلے جو دھوپ کے بستر پہ دوستو سورج چھپا تو چادرِ شب میں سمٹ گئے وہ کرب تھا کہ دل کا لہو آنچ دے اٹھا ایسی ہوا چلی کہ گریبان پھٹ گئے–!!! وہ فکر تھی…