Category: منتخب غزلیں
-

-

تنویر نقوی کی پیدائش Feb 06, 1919 اردو کے نامور ف…
تنویر نقوی کی پیدائش Feb 06, 1919 اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کا اصل نام سید خورشید علی تھا اور وہ 6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا اور ان کے بڑے بھائی بھی نوا نقوی کے نام سے شاعری کرتے…
-

شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے داغِ دلِ بے درد،…
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدار آئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی جی کس قدر افسردگئ دل پہ جلا ہے تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بصد…
-

چکبست اور فراق کے ماتھے کا تلک ہوں اقبال کی نغمات …
چکبست اور فراق کے ماتھے کا تلک ہوں اقبال کی نغمات میں آیات کی جھلک ہوں دوہوں میں کبیر کے محبت کی مہک ہوں کیوں مجھ کو کہہ رہے ہو کہ میں مسلمان ہوں ہندوستان کی شان میں اردو زبان ہوں محترمہ تسنیم جوہر
-

انور مرزاپوری میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل ن…
انور مرزاپوری میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے نہ جھکاؤ تم نگاہیں کہیں رات ڈھل نہ جائے مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے…
-

باقر زیدی بھی چھوڑ گئے ! انا للہ و انا الیہ راجعون…
باقر زیدی بھی چھوڑ گئے ! انا للہ و انا الیہ راجعون February 06, 2019 زخمِ دِل جب ہرا سا لگتا ہے وہ ستمگر، بَھلا سا لگتا ہے کل کہیں جانِ جاں نہ بن جائے اجنبی ، آشنا سا لگتا ہے کیا کریں اُس کی بے رُخی کا گِلہ شہر بھر بے وفا سا لگتا…
-

-

سودا کی اپنی ہی غزل پر تضمین مرزا رفیع سودا کی یہ …
سودا کی اپنی ہی غزل پر تضمین مرزا رفیع سودا کی یہ غزل بہت مشہور ہے اور یقیناً سودا کو بھی بہت پسند ہوگی اسی لیے اِس پر مخمس کی شکل میں تضمین بھی کہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔ کرے جو ظلم و ستم کرنے دو، ہوا سو ہوا جفا و ظلم ستی مت ڈرو، ہوا…
-

نبض بیمار جو اے رشکِ مسیحا دیکھی آج کیا آپ نے جاتی…
نبض بیمار جو اے رشکِ مسیحا دیکھی آج کیا آپ نے جاتی ہوئی دنیا دیکھی لے چلے باغ جناں میں جو فرشتے ہم کو دیر تک راہ تری او گل رعنا دیکھی ہر جگہ وضع نئی چال نئی لوگ نۓ ہم تو جس شہر میں پہنچے نئی دنیا دیکھی سب چلے جاتے ہیں کچھ ملکِ…
-

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم سو بار چمن مہکا سو بار بہار…
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی اس عالم ویراں میں…