__شاندور پتوفی Sándor Petőfi (1823-1849) ہنگری کا قومی شاعر اور قومی گیت کا خا…
__شاندور پتوفی Sándor Petőfi (1823-1849) ہنگری کا قومی شاعر اور قومی گیت کا خالق ہے۔ یہ جواں سالہ شاعر ہنگری انقلاب کا سپہ سالار ہے۔1848 میں 26 سال کی عمر میں ہنگری فوج کی قیادت کرتے ہوئے روس کے خلاف بڑی جانفشانی سے لڑا۔اپنی نظموں اور گیتوں سے ہنگری میں انقلاب کو زندہ رکھا۔اس کی نظمیں رزم اور ہمت کا راگ ہیں۔پتوفی کی جدوجہد دنیا والوں کے عزم میں یادگار رہے گی۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی ایک فارسی نظم میں پتوفی کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔جنگ کے بعد اس کی لاش نہیں ملی تھی۔کئی سال بعد اس کے ڈھانچے کی شناخت ہوئی۔کچھ کہتے ہیں کہ وہ غائب ہو کر دنیا کی ہر چیز سے تارک ہو گیا۔ہنگری میں ایک مقولہ ہے :
Eltűnt, mint Petőfi a ködben”
"پتوفی کی طرح دھند میں غائب ہو جاؤ!! ”
__پتوفی کی ایک نظم :
ایک خیال اکثر مجھے پریشان کرتا ہے
کہ میں کہیں تکیے پر سر رکھے ہی نہ مر جاؤں
یا بہت آہستہ سے ایک پھول کی طرح یوں مرجھاؤں
کہ سینہ کیڑے مکوڑے چاٹ لیں
اور میں پتی پتی ٹہنی سے گر جاؤں…
یا ایک سنسان کمرے کی روشنی
جو اندھیرے میں سسکیاں بھرے…
یا خدا! کوئی یوں نہ مرے
میں چاہتا ہوں
ایک درخت بن جاؤں
اور آسمانوں کی بجلی مجھ پر آن گرے
یا ایک بھاری چٹان ہو جاؤں
جو شیر کی طرح دہاڑتی ہوئی وادی میں جا گرے
اور زنجیروں میں جکڑی ہر قوم ،
جب میدان جنگ میں اُترے
اُس کے چہرے پر ایک لالی سی دہک اُٹھے
اور ہاتھوں کا پرچم ہوا میں لہرائے
” ہمیں آزاد ہونا ہے !! ”
اور یہی آواز شمال سے جنوب تک پھیل جائے
اُس وقت میں خوشی سے بھرا،
میدان میں موجود ہوں
اور میرے خون کا آخری قطرہ ،
اُس زمین پر گرے
اور میری آخری آواز ، لوہے کی آواز میں ڈوب جائے
پھر میری لاش پر سے
فتح کی فوجوں کے گھوڑے دوڑ کر گزریں
اور ان بہادروں کی یاد میں ایک جلوس ہو
جو تیرے لیے جیے ہیں !!
اور یہ میری ہڈیاں
ان کی ہڈیوں کے ساتھ
قبروں میں ہوں
اے کل عالم کی آزادی !! … جو تیرے لیے مرے ہیں ۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3845397179024120