منتخب غزلیں

شکوا ہے نہ غُصہ ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا کیوں آپ…

شکوا ہے نہ غُصہ ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا
کیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

چُپ رہنے دو دم بھر مُجھے للہ نہ چھیڑو
اب اُس سے تمہیں کیا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

اُس لُطفِ زبانی کو ذرا سوچیے دل میں
یہ

عذر تو بے جا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

مُنہ میرا نہ کھلواؤ کہ ہو جائیں گے لب بند
دیکھو یہی اچھا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

ڈرتا نہیں جو دل میں ہو دُشمن کے لگائے
ان پر یہ ہویدا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

کیوں رکتے ہو عادت سے ہوں مجبور وگرنہ
کُچھ آپ سے پردا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

اب وہ بھی یہ سمجھا کہ یہ سمجھا میری گھاتیں
اُس بات سے ڈرتا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

ہر روز نئے ڈھنگ ہیں خاطر کے نسیمؔ آہ
کل سے یہی سودا ہے کہ میں کُچھ نہیں کہتا

(نسیمؔ دہلوی)

انتخاب: فیصل خورشید


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/