ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی میں نے بینائی…

میں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی
نام :اظہارالحسن
تخلص :اثرؔ
پیدائش :01 جون 1929 بجنور اتر پردیش
وفات : 15 اپریل 2011
اظہار اثر کرت پور بجنور میں 15 جون 1927 کو پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور تلاش معاش میں لگ گئے۔ دہلی میں رہ کر ایک لمبے عرصے تک آزادانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دیتے رہے۔ ’بانو‘ اور ’چلمن‘ جیسے رسالوں کی ادارت کی۔ ’ہم قلم‘ کے نام سے ایک پندرہ روزہ ادبی رسالہ جاری کیا اور ایک ڈائجسٹ بھی نکالا۔ اظہار اثر کے جاسوسی، سائنسی اور عوامی پسند کے موضوعات پر مشتمل ناولوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔
15 اپریل 2011 کو انتقال ہوا۔
۔۔۔۔۔
تمام مظہر فطرت ترے غزل خواں ہیں
یہ چاندنی بھی ترے جسم کا قصیدہ ہے
۔۔۔۔۔
تو بھی تو ہٹا جسم کے سورج سے اندھیرے
یہ مہکی ہوئی رات بھی مہتاب بکف ہے
۔۔۔۔۔
میرا جنوں ہی اصل میں صحرا پرست تھا
ورنہ بہار کا بھی یہاں بندوبست تھا
آیا شعور زیست تو افشا ہوا یہ راز
تیرے کمال فن کی میں پہلی شکست تھا
اوروں نے کر لیے تھے اندھیروں سے فیصلے
اک میں ہی سارے شہر میں سورج بدست تھا
اک چیختے سکوت نے چونکا دیا مجھے
میں ورنہ اپنے حال میں مدت سے مست تھا
آئینہ جب دکھایا تو یہ راز بھی کھلا
جتنا بھی جو بلند تھا اتنا ہی پست تھا
تخلیق کل کے لمحۂ اول میں اے اثرؔ
میں زندگی کی پہلی ہمک پہلی جست تھا
۔۔۔۔۔
"تاریک پہلو”
مری دسترس میں ستارے بھی سورج بھی اور کہکشاں بھی
مری دسترس میں ہوائیں بھی طوفان بھی بجلیاں بھی
مری دسترس میں سمندر بھی صحرا بھی کہسار بھی گلستاں بھی
مری دسترس میں بہاریں بھی موسم بھی قوس قزح بھی
مری دسترس میں گلوں کی مہک بھی ہے کلیوں کی رعنائیاں بھی
مری دسترس میں نم آلود ہونٹوں کی دوشیزگی بھی جواں مرمریں جسم کی تشنگی بھی
مری دسترس میں تمناؤں کے مرحلے بھی شب وصل کے سلسلے بھی
مری دسترس میں عزائم بھی جرأت بھی ایقان بھی حوصلے بھی
مگر مجھ سا محروم بھی کوئی ہوگا
ہر اک شے مری دسترس میں
مگر میرے ہاتھوں میں جنبش کی طاقت نہیں ہے
اگر وہ نہ چاہے
یہی میرے انسان ہونے کا تاریک پہلو ہے شاید



