منتخب غزلیں

شہباز ندیم ضیائی کا یومِ وفات January 16, 2018 ( …

شہباز ندیم ضیائی کا یومِ وفات
January 16, 2018
( پیدائش : 21 اکتوبر 1951 – وفات : 16 جنوری 2018)
محمد فاروق انصاری قلمی نام شہباز ندیم ضیائی
……
نجانے کب مری ہستی دھواں دھواں ہو جائے
میں ایک ساعت_نامعتبر میں روشن ہوں
………
روشن ہے ذہن میں کبھی حدِ نظر میں ہے
یہ کون میرے ساتھ مسلسل سفر میں ہے
…….
میری آنکھوں میں ہے روشن تری آنکھوں کی چمک
میرے رُخ پر ترے چہرے کی شفق ہے جاناں
….
چلو یوں ہی سہی ہم بے وفا ہیں
مگر یہ تو بتائیں آپ کیا ہیں
……….
اک غلط فہمی نے دل کا آئنہ دھندلا دیا
اک غلط فہمی سے برسوں کی شناسائی گئی
……
دل کو رہتا ہے مسلسل منتشر ہونے کا خوف
یعنی اندر سے مجھے ٹوٹے ہوئے عرصہ ہوا
کاروبار زیست میں کچھ اس قدر الجھا کہ بس
تیرے بارے میں بھی کچھ سوچے ہوئے عرصہ ہوا
……………..
دیارِ شام نہ برجِ سحر میں روشن ہوں
میں ایک عمر سے اپنے ہی گھر میں روشن ہوں
ہجومِ شب زدگاں سے فرار ہو کر آج
جمال شعلۂ شمع سحر میں روشن ہوں
میں منتظر ہوں تو پھر منتظر بھی آئے گا
چراغِ جاں کی طرح رہگزر میں روشن ہوں
نہ جانے کب مری ہستی دھواں دھواں ہو جائے
میں ایک ساعتِ نا معتبر میں روشن ہوں
مرے حریفِ سخن کچھ تجھے خبر بھی ہے
ترے سبب سے حصار ہنر میں روشن ہوں
نظام گردشِ دوراں مرا مقدر ہے
میں اک ستارے کی صورت سفر میں روشن ہوں
اکیلا جان کے خود کو نہ ہو اداس کہ میں
مثالِ اشک تری چشمِ تر میں روشن ہوں
مجھے تلاش نہ کر میری ذات میں شہبازؔ
بہت دنوں سے جہانِ دگر میں روشن ہوں
……
ساعتِ آسودگی دیکھے ہوئے عرصہ ہوا
مفلسی کو میرے گھر ٹھہرے ہوئے عرصہ ہوا
لمحۂ راحت رسا دیکھے ہوئے عرصہ ہوا
ماں ترے شانے پہ سر رکھے ہوئے عرصہ ہوا
ہجر کی تاریکیوں کا سلسلہ ہے دور تک
چاندنی کو چاند سے بچھڑے ہوئے عرصہ ہوا
زندگی بے خواب لمحوں میں سمٹ کر رہ گئی
ہجر میں تیرے پلک جھپکے ہوئے عرصہ ہوا
خوف سے سہما ہوا ہے دل پرندہ آج بھی
سر سے سیلاب الم گزرے ہوئے عرصہ ہوا
دل کو رہتا ہے مسلسل منتشر ہونے کا خوف
یعنی اندر سے مجھے ٹوٹے ہوئے عرصہ ہوا
کاروبارِ زیست میں کچھ اس قدر الجھا کہ بس
تیرے بارے میں بھی کچھ سوچے ہوئے عرصہ ہوا
اے ہجومِ آرزو اب چاہتا ہوں تخلیہ
خانۂ دل میں تجھے رہتے ہوئے عرصہ ہوا
میں کہاں ہوں کون سی منزل میں ہوں کوئی بتائے
مجھ کو اپنی کھوج میں نکلے ہوئے عرصہ ہوا
دشمنی گم ہو گئی ہے دوستوں کی بھیڑ میں
چہرہ ہائے دشمناں دیکھے ہوئے عرصہ ہوا
جا تو اپنی راہ لے اب اے دلِ عشرت طلب
پہلوئے شہبازؔ میں بیٹھے ہوئے عرصہ ہوا
…………
گرمی پہلوئے دلدار نے سونے نہ دیا
مجھ کو رنگینی افکار نے سونے نہ دیا
یوں ہی تکتا رہا تاروں کو سحر ہونے تک
رات بھر دیدۂ بیدار نے سونے نہ دیا
رات بھر لذت قربت سے رہا محو کلام
رات بھر مجھ کو مرے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر جاگا کئے پلکیں نہ جھپکیں ہم نے
رات بھر عشق کے آزار نے سونے نہ دیا
رات بھر دل کے دھڑکنے کی صدا آتی رہی
رات بھر سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
رات بھر یاد گزشتہ نے ستایا مجھ کو
رات بھر چشم گہر بار نے سونے نہ دیا
رات بھر کھل نہ سکا مجھ پہ کسی طور ندیمؔ
رات بھر حسن پر اسرار نے سونے نہ دیا
……………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/