منتخب غزلیں
رکھتے ہیں پریشاں تری آنکھوں کے ستارے معلوم …

رکھتے ہیں پریشاں تری آنکھوں کے ستارے
معلوم نہیں اِن میں بھنور ہیں کہ کنارے
معلوم نہیں اِن میں بھنور ہیں کہ کنارے
بنیاد سے ہل جائیں جو ہلکی سی ہوا میں
اتنے بھی تو کمزور نہ ہوں چھت کے سہارے
باتیں تو ملاقات میں ہوتی ہی رہیں گی
پہلے کوئی اس شوخ کا صدقہ تو اُتارے
جب آپ رقیبوں میں چمن بانٹ رہے تھے
بیٹھے تھے وہیں پاس ہی ارمان ہمارے
کب آؤ گے اے دوست کہ رو رو کے چُنے ہیں
کچھ پھول تمہارے لیے کچھ چاند ستارے
میں گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا
کوئی تو مجھے روک لے ، کوئی تو پکارے
سینے سے لگائے تمہیں سرشار تھے ایسے
تُم سے بھی گریزاں رہے درویش تمہارے
ہم جس کا جگر تھے کبھی اخترؔ، اسے کہہ دیں
ہم پھول نہیں مانگتے، پتھر تو نہ مارے
سعید احمد اخترؔ
از:-ورشانجلی ص ۶۰/۶۱
اِنتِخاب
سفیدپوش




عمدہ انتخاب
Kamal
Wah
Outstanding
کب آؤ گے اے دوست کہ رو رو کے چُنے ہیں
کچھ پھول تمہارے لیے کچھ چاند ستارے
میں گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا
کوئی تو مجھے روک لے ، کوئی تو پکارے
واہ
Wahhhh ????
Waaah
#sajjadali
BohT umda????????????