اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

22nd (and Last) Episode of "Tu Jo Mil Jae” By Ana…


22nd (and Last) Episode of
"Tu Jo Mil Jae”
By Ana Ilyas

پارکنگ ميں گاڑی کھڑی کرتے لاک لگاتے وہ بھاگتا ہوا سيڑھياں چڑھنے لگا۔ کاشف بھی اسکے پيچھے تھا۔
ہارون کے فليٹ کے آگے پہنچتے جيسے ہی اس نے ناب گھمائ دروازہ بند ملا۔ اس نے ايک سيکنڈ بھی ضائع کئيے بنا لاک کی جانب گن کرکے فائر کيا۔ دروازے کا لاک جل گيا۔
باسانی وہ کھلتا چلا گيا۔
ہارون جو سٹور والے دروازے کے ساتھ نبردآزما تھا۔
اتنا دوازہ کھول چکا تھا کہ اس ميں سے باسانی الماری پر چڑھ سکتا تھا۔
"تو کيا سمجھتی تھی تو بچ جاۓ گی۔ اب تو تيرا وہ حشر کروں گا کہ تو سسک سسک کر روۓ گی” وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا کہ اتنی دير مين پہلے مين ڈور کی ناب گھمی اور پھر فائر کی آواز نے ہارون کو کچھ سوچنے کا ٹائم نہ ديا۔
اور وہ جسے اس نے فون پر بڑے دعوے کے ساتھ اکڑ کر۔۔غرور کے نشے ميں چور يہ کہا تھا کہ ميں تمہاری بيوی حاصل کروں گا۔ اس وقت اپنی موت کو اپنی جانب بڑھتا ديکھ رہا تھا۔
فائر کی آواز پر باقی فليٹ کے لوگ بھی باہر آچکے تھے۔
کاشف نے خبيب کے ايک بندے کو کال کرکے پوليس کے لوگوں کو اسی فليٹ پر آنے کا کہا تھا۔
"تيری ہمت کيسے ہوئ ميری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی” خبيب خطرناک تيوروں سے اسکی جانب بڑھا پھر مکے، تھپڑ ، ٹھڈے مار مار کر اس نے ہارون کو ادھ موا کر ديا۔
کاشف اتنی دير ميں وہيبہ تک پہنچ گيا تھا۔
الماری پر چڑھ کر احتياط سے اسے باہر لے کر آيا۔
وہيبہ کا دوپٹہ ہارون سے بچنے کے چکر ميں لاؤنج ميں گرا ہوا تھا۔
کاشف نے تيزی سے اسے اٹھايا۔
خبيب اندر آتے ہی اس کا دوپٹہ ديکھ چکا تھا جو کارپٹ پر پڑا تھا اور اس نے بھی خبيب کے غصے کو اور ہوا دی تھی۔
"خبيب بس کرو يار يہ اب پوليس کيس ہے تم اتنے انوالو مت ہو۔۔تمہيں تو زيادہ آئيڈيا ہو گا کہ مجرم پر تم کسی بھی ايف آئ آر کے بغير ہاتھ نہيں اٹھا سکتے۔” کاشف نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے رسان سے سمجھايا۔
"پوليس کيس۔۔۔يہ ميرا پرسنل کيس ہے اور ميں اسے ايسے نہيں چھوڑ سکتا” اسی لمحے خبيب کے کچھ ماتحت اندر آۓ۔
خبيب کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہيں لے رہا تھا۔
ايک پورا مجمعہ فليٹ کے باہر کھڑا تھا۔
"ايسے درندوں کو زندہ رہنے کا کوئ حق نہين جو اپنی ہوس پوری کرنے کے لئيۓ يہ تک نہيں سوچتی کہ جس لڑکی کو يہ نشانہ بنا رہے ہيں وہ کسی کی بيٹی، بہن، حتی کہ بيوی يا ماں ہے” خبيب نے ہارون کے بالوں کو مٹھی ميں جکڑتے ہوۓ دو چار جھٹکے اسکے سر کو مارے۔۔
کاشف وہيبہ کو دوسرے کمرے ميں جانے کا اشارہ کر چکا تھا۔
بڑی مشکل سے خبيب کو اسکے بندوں اور کاشف نے مل کر ٹھنڈا کيا۔
"مجھے ان کاؤنٹر ميں مرنے والوں ميں اب سب سے پہلے اس بندے کا نام پتہ چلنا چاہئيۓ اس کو ميں اب مزيد کوئ مہلت نہيں دے سکتا۔ نجانے کس کس لڑکی کو برباد کر چکا ہے۔” خبيب نے اپنے ايک ماتحت کو آہستہ سے کہتے انہيں ہارون کو لے جانے کا کہا۔
باقی پوليس کے بندوں نے وہاں کے لوگوں کو رش ہٹانے کا کہا۔
فليٹس کی انتظاميہ وہاں آچکی تھی۔
جس کو کاشف نے وہيبہ کا نام بيچ ميں لاۓ بنا يہ کہا کہ کسی لڑکی کو يہ بندہ اپنا شکار بنا کر لايا ہميں پتہ چل گيا اور ہم يہاں اسے بچانے پہنچے۔
خبيب نے انہيں اپنا پوليس کا کارڈ دکھايا تب کہيں جا کر انکی تسلی ہوئ۔
خبيب ان سے نمٹ کر اندو وہيبہ کو ڈھونڈتا ہوا ايک کمرے ميں آيا۔
يہ غالبا بيڈ روم تھا۔
وہيبہ بيڈ کے کنارے پر بيٹھی رو رہی تھی۔
"ہبہ” خبيب کے پکارنے پر اپنے آنسو پونچھتی وہ سيدھی ہوئ۔
خبيب اسکے قريب بيٹھتا اسے اپنے حصار ميں لے چکا تھا۔
اس کے رونے کی شدت ميں اضافہ ہوا۔
"کام ڈاؤن جان” خبيب نے اسکی پيٹھ سہلا کر اسے تسلی دی۔
"مجھے لگ رہا ہے کوئ بہت بھيانک خواب ديکھا تھا” ہبہ نے اپنی کيفيت بتائ وہ ابھی بھی خوفزدہ تھی۔
"ہاں يہ بھيانک خواب ہی تھا۔۔۔۔ڈونٹ وری سب ٹھيک ہو گيا ہے نا۔۔۔الحمداللہ يو آر سيف” خبيب نے اسکے ماتھے پر پيار کرتے اسے اپنے ساتھ بھينچا۔
"آپ نہ آتے تو۔۔۔” اور اس تو سے آگے سوچنے کی ہمت نہ وہيبہ کی تھی نہ خبيب کی۔
"بس کوئ فضول بات نہيں سوچيں۔۔۔بس اللہ نے آپکی حفاظت کرنی تھی اور اس نے کی ۔۔۔۔سب ٹھيک ہوگيا ہے نہ تو الٹی سيدھی باتوں کو دماغ ميں مت لائيں” خبيب نے اسے ٹوکا۔
"چليں اٹھيں اچھے سے اپنے فيس کو کور کر لينا کيونکہ باہر ميڈيا کہ اور يہاں کے فليٹس کے لوگ بھی کھڑے ہيں۔ ميں نہيں چاہتا کہيں بھی اس بات کے حوالے سے کسی بھی خبر ميں آپکا نام ہو” خبيب کے کہنے پر اس نے تيزی سے دوپٹہ سر پر جما کر ايک جانب سے اسکا کونا نفاب کی طرح آگے کر کے منہ چھپايا۔
اب صرف اسکی آنکھيں نظر آ رہی تھيں۔
خبيب اس کا ايک ہاتھ پکڑتا ہوا۔
باہر کھڑے لوگوں کے رش کو چيرتا ہوا اسے وہاں سے نکال لے گيا۔
گاڑی ميں بٹھايا اتنی دير ميں کاشف بھی آچکا تھا۔ گاڑی سٹارٹ کرکے اس نے گھر کے راستے پر ڈالی۔
__________________________
جب وہ گھر آئ سب کی جان ميں جان آئ۔ سب نے لپٹا لپٹا کر اسے پيار کيا۔۔ صدقے اور خيرات کئيے گۓ۔ حتی کہ ثمينہ، شبانہ اور حسنہ بھی وہاں موجود تھيں۔
ثمينہ نے آگے بڑھ کر وہيبہ، خديجہ اور فراز سے معافی مانگی۔
"مجھے معاف کردو ميں غصے ميں اتنی اندھی ہوگئ تھی يہ تک بھول گئ تھی کہ اپنے گھر کی بيٹی کو کس کيچڑ ميں دھکيلنے لگی ہوں۔ ہارون ميرا ہی چنا ہوا لڑکا تھا۔ جس نے آج ايک مرتبہ پھرہمارے پورے گھر کو تکليف سے دوچار کيا۔
ہو سکے تو تم سب مجھے معاف کردو۔۔۔۔اگر خدانخواستہ کچھ بھی غلط ہو جاتا تو ميں ساری زندگی خود کو معاف نہ کر پاتی۔” وہ رو رو کر معافی مانگ رہی تھيں۔
"ارے آپا بس کريں ہميں آپ سے کوئ گلہ نہيں۔۔اچھا ہوا تب آپ نے ہارون والا قصہ چھيڑا اگر وہ سب نہ ہوتا تو مجھے اتنا پيارا داماد کہاں سے ملتا”خديجہ نے انکے جڑے ہاتھ پکڑ کر انہيں ساتھ لگاتے انہيں شرمندہ ہونے سے روکا۔
وہيبہ بھی بڑھ کر انکے ساتھ لگ گئ۔
جو بھی تھا وہ اسکے باپ کی ماں جائ تھی۔
فراز نے بھی بڑھ کر انکے سر پر ہاتھ رکھ کر انہيں تسلی دی۔
"اور آج کا جو واقعہ ہوا بس وہ بھی يونہی ہونا تھا اور اس لڑکے کی پکڑ ايسے ہی ہونی تھی۔۔بس ہماری بيٹی ہميں باحفاظت مل گئ ہميں کيا چاہئيۓ” انہوں نے بھی بہن کو سرزنش کی۔
سب ہلکے پھلکے ہو کر خوش گپيوں ميں مصروف ہوگۓ۔
اسی دن کاشف اور نيہا کی شادی کی تاريخ بھی رکھ دی گئ۔
رات ميں جب خبيب کمرے ميں آيا وہيبہ نماز پڑھنے ميں مصروف تھی۔
خبيب پہلے ہی مسجد ميں جا کر نماز پڑھ آيا تھا۔
بيڈ پر بيٹھا وہ اسکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
جو نماز ختم کرکے دعا مانگنے بيٹھی تو رو رو کر ہچکی بندھ گئ۔
"وہيبہ” خبيب اٹھ کر اسکے پاس بيٹھتا اسے اپنے ساتھ لگا کر خاموش کروانے لگا۔
"اٹھيں يہاں سے بيڈ پر آئيں” اسے اٹھا کر جاء نماز طے کرکے وہ اسے لئيۓ بيڈ پر بيٹھ گيا۔
"کيوں رو رو کر خود کو ہلکان کر رہی ہيں۔” اس نے تاسف سے اسے ديکھا۔
"مجھے آپ سے اقرار نہ کرنے کی اتنی بڑی سزا ملنے لگی تھی جو ميں سوچ بھی نہيں سکتی تھی۔
اللہ نے اتنا خوبصورت رشتہ ميرے اور آپکے درميان بنايا جسے ميں اپنے خدشوں اور اپنی محروميوں کی نذر کررہی تھی۔ اللہ نے مجھے سزا دی ہے۔۔” وہ بس روتی جا رہی تھی۔ خبيب نے بڑھ کر اسے ساتھ لگاتے بيڈ کرواؤن سے ٹيک لگائ۔
"ايسے نہيں سوچتے يار”
"نہيں ميں ٹھيک سوچ رہی ہوں۔۔۔مجھے معاف کرديں خبيب۔۔۔ميں آپکی محبت کو قبول تو کب کا کرچکی تھی ہاں مگر اس پر يقين نہيں آ رہاتھا۔۔۔
آج مجھے يہ اعتراف کر ليںے ديں۔ کہ آپ ہی وہ واحد رشتہ ہيں جس نے مجھے يہ بتايا کہ محبت ہوتی کيا ہے۔۔۔نہ تو يہ خودغرض ہے اور نہ ہی يہ جھوٹی ہوتی ہے۔۔۔محبت کو ہم جس انداز ميں کرتے ہيں وہ انداز اسے غلط بنا ديتے ہيں۔ لوگوں کا محبت پر سے اعتبار ختم کر ديتے ہيں۔
آپکی محبت نے صرف مجھے ديا ہی ديا ہے۔۔۔بدلے کی کوئ اميد ہی نہيں رکھی۔
کوئ کسی سے اتنی بھی محبت کر سکتا ہے کہ اسکی ہر کڑوی کسيلی بات کو ہنس کر سن لے۔۔۔
مگر آپ نے ايسے کيا ہے۔۔۔ميں کتنی خوش قسمت ہوں جسے آپ جيسا شوہر اور محبوب اللہ نے ديا اور ميں آپکی قدر نہيں کر پا رہی تھی۔
خبيب ميں آپکے بغير ادھوری ہوں۔۔۔بالکل ادھوری۔ لوگوں کو محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر آپ سراپا محبت ہيں اور مجھے ہر لمحہ۔۔ہر وقت صرف اور صرف آپکی ضرورت ہے۔۔۔۔اور يہ ضرورت شايد محبت سے بھی بڑھ کر ہے۔
اور جہاں محبت کچھ قدم آگۓ نکل جاتی ہے وہاں سے عشق کی منزل شروع ہو جاتی ہے۔
مجھے آپ سے عشق ہے۔۔۔۔مجھے اب کبھی خود سے دور مت کرئيۓ گا۔ ميں زندہ نہيں رہ پاؤں گی۔
ميں آپکی ذات کا حصہ ہوں اور آپ ميری۔۔۔۔آئ ٹرولی ميڈلی ڈيپلی لو يو” خبيب کی جانب ديکھتے ہوۓ وہ اپنا ايک ايک جذبہ آج اس پر آشکار کر رہی تھی۔
اور خبيب گنگ بس اسے سنے جا رہا تھا۔
وہ دونوں ہی خوش قسمت تھے جنہيں ايک دوسرے کی محبت ملی تھی۔
غرض سے پاک۔۔۔پاکيزہ اور سچی محبت۔
"ہاں ہم ايک دوسرے کی ذات کا حصہ ہيں۔۔۔۔ميں بھی آپکے بغير نامکمل ہوں۔ ميری ذات کی تکميل آپ سے ہے ہبہ۔۔۔۔” اس نے وہيبہ کو خود ميں سموتے محبتوں کے در وا کر دئيۓ تھے۔
____________________
"آپ نے کيا مجھے چھوٹی سی بچی بنا ديا ہے۔۔۔اتنا عجيب لگ رہا ہے آج۔۔۔ميں کوئ چھوٹی بچی ہوں جس کی برتھ ڈے سيلبريٹ کی جا رہی ہے” کل والے تکليف دہ واقع ميں سب بھول چکے تھے کہ آج وہيبہ کی سالگرہ تھی۔
مگر وہ جس کے ساتھ اللہ نے اسے ساری عمر کے لئيۓ باندھ ديا تھا۔ وہ کيسے بھول سکتا تھا۔
اس نے وہيبہ کی نہ صرف برتھ ڈے سيلبريٹ کرنے کا سوچا بلکہ اسکی ارينجمنٹ بھر پور طريقے سے گھر سے دور کسی جگہ کی تھی۔ جہاں کا صرف کاشف اور اسے ہی پتہ تھا۔
"آج کے دن اللہ نے دنيا ميں میرے گم شدہ حصے کو اتارا تھا تو ميں کيسے اس دن کی خوشی نہ مناؤں” اپنے سامنے وائٹ اور ڈل گولڈ کے ہلکے سے کام والے فراک کور چوڑی دار پاجامے ميں کھڑی وہ اسے کوئ حور ہی لگ رہی تھی۔
خبيب خود بليک ڈريس کوٹ ميں ملبوس بے حد وجيہہ لگ رہا تھا۔
وہيبہ نے مسکراتے ہوۓ
کچھ پڑھ کر خبيب پر پھونک ماری۔
وہ چونکا۔
"يہ کيا” حيرت سے پوچھا۔
"نظر نہ لگنے والی دعا پڑھ کر پھونکی ہے” اس نے اپنی محبت پاش نظروں سے اپنے محبوب شوہر کو ديکھا۔
"اب کسی کی نظر نہيں لگتی مجھے۔۔۔آپکے عشق ميں مجھے اندھا ديکھ کر کون بے وقوف ہے جو مجھے نظر لگاۓ گی” خبيب نے مجبت سے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں ميں لے کر محبت کی مہر ثبت کی۔
بہت خوبصورت سا کسی ہوٹل کا وہ گارڈن تھا جہاں خبيب نے سارا ارينجمنٹ کيا تھا۔
گول ميزوں کے گرد کرسيوں کا انتظام تھا۔ جن پر وائٹ اور گولڈن ہی کپڑے چڑھے ہوۓ تھے۔
سامنے خوبصورت سا فلور بنا کر اسے اسٹيج کی شکل دی گئ تھی جس کے اردگر سب وائٹ ڈيکوريشن کی گئ تھی۔
فلور کے ساتھ بڑی سی ايل سی ڈی پر وہيبہ کی وہ تصويريں چينج ہو رہی تھيں جو خبيب نے اپنے موبائل ميں برف ميں لی تھيں۔
جن ميں وہ ہاتھ پھيلاۓ برف کے گالوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔
وہيبہ تو يہ سب ديکھ کر بس خوشی سے حيرت زدہ تھی۔ اسکے وہم و گمان ميں بھی نہيں تھا خبيب اس دن کو اسکے لئيۓ اتنا يادگار بنا دے گا۔
سب گھر والے موجود تھے۔
وہيبہ نے بھرپور تاليوں کی بيچ کيک کاٹا۔
"اپنی خوبصورت سی بيوی اور آجکی مہمان خصوصی کے لئيۓ خوبصورت سا ايک اور سرپرائز۔”
خبيب فلور پر آکر مائيک ميں بولا۔
وہيبہ جو سامنے ہی کرسيوں پر بيٹھی تھی دل تھام کر رہ گئ۔
"اب کون سا سرپرائز” دل ميں سوچا۔
تما لائٹس آف ہو کر ايک سپاٹ لائٹ کہيں سے اسٹيجر کے بيج گول دائرے کی شکل ميں موجود تھی۔
خبيب آہستگی سے وہيبہ کی جانب آيا۔
اسکا ہاتھ تھام کر اس روشنی کے بيچ لے آيا۔
فلور پر وہ جگہ باقی پورے فلور کی نسبت تھوڑا اوپر کی جانب اٹھی ہوئ ايک گول دائرے کی شکل ميں تھی۔
وہيب اسکو لئيۓ وہاں کھڑا ہوگيا
دونوں آمنے سامنے تھے۔ خبيب کی آنکھوں ميں فقط محبت تھی۔
جو وہيبہ کو پگھلا رہی تھی۔
يکدم ساؤنڈ سسٹم پر
Carry brothers
کی آواز گونجی۔اور ساتھ ہی فلور کا وہ حصہ ہلکے سے گھومنا شروع ہوا
Just a voice inside you head
Whispering all the hope is dead
All the times you had to prove
That no one really loves you
I found you in a reflection
You didn’t want me to see
I will give you all I have
Just look up, break down and believe

This is a glass parade
A fragile state
And I am trying not to break
And the stars are shining
The moon is right
And I would kill to be with you tonight

Wish you told me all the truth
So afraid to face an absolute
All the fights you had to lose
All the fear was put upon you

I found you when you were broken
Too many cracks of deceit
I will give you all I have
Just look up, break down and believe

This is a glass parade
A fragile state
And I am trying not to break
And the stars are shining
The moon is right
And I would kill to be with you tonight

This is the feeling, falling
So much I want to say
Show me the same emotion
Show me what’s at stake
And how much can you take
When you realize your fate?

Hold me now as the car lights fade
And we are dancing in the glass parade
Dancing in the glass parade
We are dancing in the glass parade

It’s just a voice inside your head
پھولوں کی پتياں ان پر گر رہیں تھيں۔ خبيب ہلکے ہلکے اسٹيپ ليتا اسے اپنے ساتھ ڈانس کروا رہا تھا۔
وہيبہ آنسو آنکھوں ميں لئيۓ اس شخص کو ديکھ رہی تھی جس نے اسکی زندگی کو خاص الخاص بنا ديا تھا۔
خبيب اپنے مووز روک کر آہستہ سے اسکے سر کے ساتھ اپنا سر ٹکاۓ۔۔ اسے محسوس کر رہا تھا۔
سا تالياں بجاتے اس خوبصورت منظر کو ديکھنے ميں محو تھے۔
"آپکے کل کے اظہار کا گفٹ”خبيب سيدھا ہوتا اسکی آنکھوں ميں ديکھتا سرگوشی نما آواز ميں بولا۔
The end