پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 13 زین ا…


یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون)
قسط نمبر 13

زین اسے لاؤنج میں لے آیا کاؤچ پر بیٹھنے کے بعد زین نے کاشف کو بلایا …
یس…وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا….
انکے لئے ایک کپ کافی بنا کر لاؤ…
نہیں میں کافی نہیں پیتی.
اوہ پھر رہنے دو…
میں کافی نہیں پیتی لیکن کولڈڈرنک پیتی ہوں..زین ہنسا…
ٹھیک ہے کاشف پھر تم فرج میں سے کولڈرنک ہی نکال کر لے آؤ…
یس سر…کاشف چلا گیا واپس آیا تو ٹرے میں کولڈرنک کے دو گلاس تھے وہ ٹرے اس نے میز پے رکھ دی…
کیسے آنا ہوا آپکا یہاں …زین نے کولڈرنک کا ایک گلاس اٹھاتے ہوئے کہا….
بس ایسے ہی ملنے چلی آئی….
ہوں زین نے اثبات میں سر ہلايا….
آپ کیا کرتے ہیں….
میں اسٹڈی کر رہا ہوں بس لاسٹ ایئر چل رہا ہے پھر کمپلیٹ ہو جائے گی پڑھائی.
گڈ پھر پڑھائی کے بعد کیا کرنا ہے کچھ سوچا ہے…
جی ہاں کہیں اچھی سی جاب کرنی ہے بس….زین نے مسکرا کر کہا….
آپکے والد کیا کرتے ہیں…
وہ پولیٹيشن ہیں . .
اوہ کیا نام ہے انکا…
حماد بخاری….
واؤ آپ حماد بخاری کے بیٹے ہیں اس نے حیرت سے کہا تو زین مسکرایا….
جی….
لگتے نہیں…
کیوں؟….
بس ایسے ہی آپ اتنے امیر نہیں لگتے…
زین مسکرایا .”اچھا امیر لگنے کیلئے کیا کرنا پڑتا ہے”….
نہیں کچھ کرنا تو نہیں پڑتا بس ایسے ہی….
ہوں…وہ اب بیزار ہو رہا تھا وہ زیادہ دیر تک کسی ایک انسان سے بات نہیں کر سکتا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آیا کے وہ کیا بہانہ کرے کے سینڈرا یہاں سے چلی جائے آخرکار اسکے ذہن میں ایک بہانہ آ ہی گیا اس نے سر ہاتھوں میں دے دیا .
میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے پلیز آپ ابھی جا سکتی ہیں بعد میں آ جائے گا ..
جی جی میں پھر کبھی آ جاؤں گی …وہ مسکراتے ہوئے کھڑی ہوئی…..
آئی ہوپ آپنے مائنڈ نہیں کیا ہو گا …
ارے نہیں نہیں اس میں مائنڈ کرنے والی کیا بات ہے میں پھر کبھی آ جاؤں گی آپ آرام کریں سینڈرا نے خوش دلی سے کہا اور لاؤنج سے باہر نکل گئی زین اسے دروازے تک چھوڑنے گیا اور پھر واپس لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا وہ مسکرا رہا تھا…
اففففففف یہ سب کے سیکرٹ کرش مجھ ہی پے کیوں ہوتے ہیں پہلے آئینہ اور اب یہ سینڈرا حد ہوتی ہے …زین نے دھیمى آواز میں کہا لیکن پاس سے گزرتے کاشف نے سن لیا وہ زیر لب بڑبڑایا…
خوشفہمياں..لیکن زین نے یہ سنا نہیں البتہ اسے ک
سینڈرا کچھ پراسرار لگی تھی پتا نہیں کیوں مگر وہ پراسرار تھی.
وقت گویا پر لگا کر اڑ رہا تھا زین کے فائنل ایئر کے ايگزيمز بھی ہو گئے تھے بس انکا رزلٹ آنا رہ گیا تھا وہ بھی کچھ ہی مہینوں بعد آ جانا تھا زین کی دونوں دوستيں (آئینہ اور سینڈرا)جنکا زین پے سیکرٹ کرش تھا وہ بھی زین کے گھر آتی جاتی رہتی تھیں لیکن زین نے ان سے صرف دوستی ہی کی ہوئی تھی اسے لڑکیوں سے فلرٹ کرنا پسند نہیں تھا ایک رات زین اپنے لیپ ٹاپ پے کوئی کام کر رہا تھا کے ایک ای میل ريسيو ہوئی وہ امریکا کی سب سے بڑی کار کمپنی کی طرف سے تھی اسے وہاں جاب کرنے کی پیش کش کی گئی تھی اس کمپنی کا ہیڈ آفس امریکا کے ہی شہر ہیون میں تھا انٹرویو کیلئے اسے ہیون بلایا گیا تھا اس ای میل کے جواب میں زین نے لکھا….
ابھی میرا فائنل ایئر کا رزلٹ نہیں آیا پھر آ مجھے جاب کی پیش کش کیسے کر سکتے ہیں دوسری طرف سے فورا ہی ریپلائی آیا ….
ہمیں پتا ہے کے آپ نہایت ہی زہین اور قابل سٹوڈنٹ ہیں آپکے پپرز کلئیر ہو جائیں گے اس ہی لئے ہم نے آپکو جاب کی پیش کش کی ہے اگر آپ چاہیں تو آ کر انٹرویو دے سکتے ہیں….
کب آنا ہے…زین اس جاب کیلئے راضی تھا خوشیاں خود چل کر اسکے پاس آ رہی تھیں وہ انکار کیسے کر سکتا تھا….
کل شام 6 بجے آپکا اپائنٹمنٹ سر سيئمن کے ساتھ ہے…سیئمن اس کار کمپنی کے مینیجر کا نام تھا….
اور میں ابھی میں کس سے بات کر رہا ہوں …
میں انکا اسسٹنٹ ہوں….
اوہ اچھا ویسے آپ نے مجھے ہی اس جاب کیلئے ہائر کیوں کیا…..
کیونکے آپ انٹيليجنٹ ہیں ہماری کمپنی کو آپ جیسے بندوں کی ہی ضرورت ہے…
انٹیليجنٹ تو اور بھی بہت سے لوگ ہیں پورا امریکا انٹيليجنٹ افراد سے بھرا پڑا ہے پھر بھی آپ نے صرف مجھے ہی کیوں ہائر کیا….
آپ نے سہی کہا امریکا انٹیليجنٹ لوگوں سے بھرا پڑا ہے لیکن ہمیں ایسے شخص کی تلاش ہے جو انٹیليجنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ شاطر دماغ بھی رکھتا ہو اور آپ شاطر ہیں ہماری کمپنی کو ترقی دلا سکتے ہیں اب سمجھ گئے ہم نے آپکو کیوں ہائر کیا….
ہوں ویسے آپکو میرے شاطر دماغ کے بارے میں پتا کیسے چلا ….
ہمیں سب پتا ہوتا ہے آپکو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے بس آپ کونفرم کر دیں کے کل شام آپ آ رہے ہیں تاکے میں سیئمن سر کے ساتھ آپکا اپائنٹمنٹ فکس کر دوں اور اگر نہیں آنا تو آپ ابھی انکار کر دیں….
نہیں میں آؤں گا لیکن پانچ بجے نہیں سات بجے….
جاب آپکو ہم دے رہے ہیں آپکو ہمارے دئے ہوئے ٹائم کے مطابق آنا چاہیے نہ کہ اپنا ٹائم دینا چاہیے….
سوری پھر میں بھی آپکی کمپنی میں جاب نہیں کر سکتا آپ کسی اور سے رابطہ کر لیں..
ایک منٹ میں ابھی پوچھ کر بتاتا ہوں اگر سر کل سات بجے فری ہوئے تو آپ سے میٹنگ کر لیں گے…..
ٹھیک ہے…اسکے تقریباً پانچ منٹ بعد اسکی میل آئی …
ٹھیک ہے کل شام آپ سات بجے ہمارے ہیڈ آفس پہنچ جائیں سر سیئمن خود آپکا انٹرویو لیں گے…زین مسکرایا اس نے شروع میں ہی اپنی بات منوانا شروع کر دیا تھا وہ چاہتا تو پانچ بجے بھی جا سکتا تھا اسے کوئی پرابلم نہیں تھی لیکن اسنے اپنی بات ان سے منوائی وہ شروع سے ہی ان پے دباؤ ڈالے رکھنا چاہتا تھا کسی کے دباؤ میں آ کر کام نہیں کرنا چاہتا تھا…..
زین کی جاب کے بارے میں سن کر سب نے الگ الگ رائے دی اشعر نے کہا کے تم میری کمپنی کے 25% شیئرز کے مالک بن جاؤ جبکے نعمان نے کہا کے میں تمھیں پیسے دے دیتا ہوں تم اپنا بزنس خود سٹارٹ کرو کہیں اور جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے حماد بخاری نے بھی اسے اپنا بزنس کرنے کی ہی رائے دی لیکن اسنے نہ اشعر کی کمپنی کے 25% شیئرز لئے نہ حماد بخاری اور نعمان سے اپنے بزنس کیلئے پیسا لیا زین کا کہنا تھا کے وہ پہلے اس کار کمپنی میں جاب کرکے کچھ سالوں کا ايكسپیرئینس حاصل کرنا چاہتا ہے تب تک وہ کچھ پیسے بھی جمع کر لے گا اور پھر کچھ پیسے ادھار لے کر اپنا ہی کارز کا بزنس سٹارٹ کرے گا اسکے جواب میں نعمان نے یہ کہا کے میں ابھی تمھیں اتنی رقم دے سکتا ہوں کے تم اپنی کار کی کمپنی قائم کر سکو جس پے زین نے کہا کے جب اسے اتنا ايكسپیرئینس ہی نہیں ہو گا تو وہ کمپنی کیا خاک سنبھالے گا لوس ہی لوس ہوگا اور نعمان کا پیسا الگ ڈوبے گا جب اس نے کسی کی ایک نہ سنی اور اپنی جاب والی ضد پے قائم رہا تو سب نے ایک ہی جملہ کہا….
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی…اور وہ ہمیشہ کی طرح اپنی بات منوائے جانے پے مسکرا دیا….
امریکا کے اس شہر کے ائیرپورٹ سے وہ اپنا بیگ کندھے پے ڈالے تیز تیز چلتا باہر آیا ائیرپورٹ کے باہر کا روڈ کافی سنسان ہو رہا تھا ٹیکسیاں لائن سے کھڑی تھیں صبح کے پانچ بج رہے تھے بہت سے ٹیکسی ڈرائیور سو رہے تھے ایک دو اٹھے ہوئے تھے جو ناشتہ کر رہے تھے زین ائیرپورٹ سے باہر آیا تو ایک ٹیکسی ڈرائیور اسکی طرف بڑھا …
سر آپکو کہاں جانا ہے؟…
زین نے اس ہوٹل کا نام بتایا جس کی اس نے دو دن کیلئے اونلائن بکنگ کروا لی تھی….
آپ دس منٹ رک سکتے ہیں میں پاس ہی ہوٹل سے ناشتہ کر کے آ جاتا ہوں….
چلو میں بھی چلتا ہوں مجھے کافی پینی ہے اس ہوٹل میں مل جائے گی…
جی جی مل جائے گی آئیں …ڈرائیور نے کہا تو دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے تقریباً تین منٹ تک چلنے کے بعد وہ ایک ڈھابے کے سامنے رکے جسے وہ ہوٹل کہ رہا تھا خیر تھا تو ہوٹل ہی زین اس کے ساتھ اس ڈھابے نما ہوٹل میں داخل ہوا جہاں لکڑی کی گول میزوں کے گرد دو تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں وہ دونوں ایک میز کی طرف بڑھے زین کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا جبکے ڈرائیور ڈھابے کے دوسرے حصّے کی طرف گیا جہاں سے چائے کافی اور پراٹھوں وغیرہ کی ملی جلی خوشبو آ رہی تھی جلد ہی وہ ڈرائیور واپس آیا….
میں نے بول دیا ہے آپکی کافی تھوڑی دیر میں آ جائے گی….
ہوں کتنے کی ہے…..
ایک ڈالر…
زین نے ایک ڈالر نکل کر اسے دیا…..
ارے نہیں نہیں اسکے پیسے تو میں ہی دے دوں گا…
اوہ شٹ اپ میں اپنے پیسے خود دیتا ہوں..
ٹھیک ہے…اس نے پیسے اس طرح شرما کر لئے جیسے زین اسے عیدى دے رہا ہو…
سنو تمہارے ناشتے کے کتنے پیسے بن رہے ہیں….
دو ڈالر….
یہ لو زین نے دو ڈالر اسکی طرف بڑھائے …
ارے اپنے پیسے میں خود ہی دے دوں گا آپ نے اپنے دے تو دیا ناں…
اوہ شٹ اپ آج کا ناشتہ میری طرف سے …
ارے نہیں نہیں….
اونہوں…زین نے ہاتھ بڑھا کر پیسے اس کی شرٹ کی جیب میں ڈال دئے زندگی میں کبھی کبھار ہی وہ ایسی سخاوت دکھاتا تھا چند منٹ بعد کافی آ گئی اور ڈرائیور کا ناشتہ ایک چائے کا کپ اور دو پراٹھے زین کافی کے لمبے لمبے گھونٹ بھرنے لگا جبکے وہ نہایت ہی سستی سے اپنے پراٹھا کھا رہا تھا کافی ختم کرنے کے بعد زین ڈھابے سے باہر آ کر کھڑا ہو گیا باہر ابھی تک اندھیرا چھایا ہوا تھا دور کہیں سے آذان کی آواز آ رہی تھی بہت دیر تک وہ اس ہی طرح کھڑا رہا سورج اب نکلنے کی تیاری کر رہا تھا کچھ دیر بعد سورج نکلنا شروع ہو گیا رفتہ رفتہ پوری دنیا پے پیلے رنگ کی چادر چڑھانے لگا سورج کے ابھرنے کا منظر اسے دنیا کے خوبصورت ترین مناظر میں سے ایک لگتا تھا اس وقت بھی وہ اپنے اطراف سے بے خبر صرف اور صرف ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھ رہا تھا جو کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اونچائی پے جاتا جا رہا تھا انسان کو بھی اس ہی طرح ہونا چاہیے صرف ابھرتے رہنا چاہیے لوگوں کی پرواہ کئے بغیر انکی باتوں کی پرواہ کئے بغیر لیکن جائز طریقے سے ابھرنا چاہیے لیکن جائز طریقے سے آگے بڑھنا چاہیے ناجائز طریقے سے نہیں کیونکے ناجائز طریقے سے صرف وقتی خوشی اور وقتی کامیابی حاصل ہوتی ہے ہمیشہ کیلئے صرف وہی چیز رہتی ہے جسے ہم جائز طریقے سے حاصل کرتے ہیں…
چند منٹ بعد اسکے کندھے پے کسی نے ہاتھ رکھا زین مڑا وہ ڈرائیور تھا …
چلیں؟..ڈرائیور نے سوال کیا…
ہوں..زین نے کہا اور وہ لوگ ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف بڑھ گئے وہ لوگ ٹیکسی میں بیٹھے اور ٹیکسی چل پڑی …
بارش ہو سکتی ہے…ڈرائیور بڑبڑايا ……
کیوں؟…بادلوں کو دیکھیں..
زین نے ٹیکسی کے شیشے سے باہر دیکھا سیاہ بادلوں نے پورے شہر کو ڈھانپ رکھا تھا…
ہاں ہو سکتی ہے…..اور کچھ دیر بعد بارش شروع ہو گئی بارش کی بونديں ٹیکسی نے شیشے پے گر رہی تھیں اور وہ اس ہی طرح بارش بھرا سفر طے کرکے ہوٹل پہنچے….
ہیون کے اتنے بڑے رقبے پر پھیلی کمپنی کے ایک آفس میں وہ اس کار کمپنی کے مینیجر سيئمن کے ساتھ سامنے بیٹھا تھا سیئمن گھنگھرالئے بالوں والا ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا جو بار بار اپنی فرنچ پر دائرے کی صورت میں انگلی پھیر رہا تھا وہ غور سے زین کا جائزہ لے رہا تھا اسکی آنکھوں میں گہری چمک تھی تھوڑی دیر بعد ہی کافی آ گئی…
اب کافی آ گئی ہے تو ہم بات شروع کریں..سیئمن نے خوش دلی سے کہا …
شيور…
آپ نے اس سے پہلے کہیں جاب نہیں کی ہے نہ؟….
جی….زین نے یک لفظی جواب دیا….
اس لئے یہ آپکی پہلی جاب ہو گی آپکو کیا لگتا ہے ہم آپکو پہلی دفع میں کونسے عہدے پر فائز کریں گے….
مجھے کیسے پتا یہ تو آپ پے ڈیپینڈ کرتا ہے کے آپ مجھے کیا کام دیتے ہیں…….
ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن پھر بھی آپ اپنے اندازے سے بتائیں کے ہم آپکو کیا کام دیں گے سمجھ لیں یہ سوال بھی آپکے انٹرویو کا ہی ایک حصّہ ہے میں دیکھنا چاہتا ہوں آپ اندازے لگانے میں کس حد تک ماہر ہیں….
ہوں…زین سوچنے لگا ،آپ مجھے اپنے اسسٹنٹ کے اسسٹنٹ کا عہدہ دیں گے اور اگر میں نے کچھ مہینوں تک اچھا کام کیا تو آپ مجھے اپنا اسسٹنٹ بنا دیں گے یعنی اسسٹنٹ مینیجر اور ابھی جو آپکے اسسٹنٹ رابرٹ ہیں انہیں آپ میرا اسسٹنٹ بنا دیں گے سہی کہا نہ میں نے..سیئمن حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگا اس نے زین کے بارے میں بلکل یہی سوچ رکھا تھا …
ویل ڈن آپ نے بلکل ٹھیک اندازے لگائے ہیں مجھے یہ تو پتا تھا کے آپ قابل ہیں لیکن اتنے قابل ہیں اس بات کا مجھے اندازہ نہیں تھا…..
تھنکس سر…
اب کچھ سیلری کے بارے میں ڈسکس کر لیں….
زین مسکرایا .”شيور” .
50 thousand dollars per month…..
ٹھیک ہے….
ہوں اب آپ جا سکتے ہیں میرے اسسٹنٹ آپکو آپکا کام سمجھا دیں گے …
اوکے…زین نے ہاتھ ملایا اور آفس سے باہر آ گیا اسکے برابر میں ہی رابرٹ کا آفس بنا ہوا تھا زین نے دروازے پے دستک دی…
کم ان…
زین دروازہ کھول کر اندر آیا وہ 28-29 سالہ گورا چٹا نوجوان تھا بال گولڈن کلر کئے ہوئے تھے…
زین؟..اس نے سوالیہ نگاہوں سے زین کو دیکھا …
ہاں….
وہ جلدی سے اپنی کرسی سے اٹھا اور زین سے مصافحہ کیا واپس کرسی پے بیٹھ گیا اور زین کو سامنے والی کرسی پے بیٹھنے کو کہا …
آج رات آپ فری ہیں…رابرٹ نے سوال کیا….
جی فری ہوں..
ابھی میں بیزی ہوں کیا آپ رات کو میرے گھر آ سکتے ہیں ساتھ میں ڈنر کر لیں گے اور میں آپکی جاب بھی آپکو سمجھا دوں گا ابھی میں بیزی ہوں اس لئے ابھی آپکو آپکا کام بھی ٹھیک سے نہیں سمجھا سکوں گا…
ٹھیک ہے میں رات میں آ جاؤں گا لیکن کب تک آؤں؟…
آپ نو بجے تک آ جائیں….
ٹھیک ہے پھر ابھی میں چلتا ہوں آپ اپنے کام نپٹا لیں…..
ٹھیک میں اپنا ایڈریس آپکو میل کر دوں گا .
شيور…وہ آفس سے باہر نکل گیا…..
زین 09:00 بجے رابرٹ پلیس پہنچا وہ اپنی بیوی اینا کے ساتھ رہتا تھا اسکا بنگلو انکی فیملی کے لحاظ سے کافی بڑا تھا زین اسکے لاؤنج میں آ کر نرم گداذ سنگل صوفہ پر بیٹھا اس کے سامنے رابرٹ اور اسکی بیوی بیٹھے تھے رابرٹ کے چہرے پے خوشگوارى چھائی ہوئی تھی اسکی بیوی بھی اس ہی کی طرح خوش اخلاق لگتی تھی زین انکے لاؤنج کا جائزہ لینے لگا وہ نہایت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کھڑکیوں پے نفیس پردے لگے تھے دیواروں پر بہترین پینٹ کیا گیا تھا جس سے لاؤنج کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا زین اسکے لاؤنج کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکا…
آپکا لاؤنج کافی خوبصورت ہے کس کی چوائسز ہیں یہ سب….
یہ میری وائف کی چوائس ہے ….
ہوں واقعی بہت اچھا ہے…زین نے اینا کو ستائشى نگاہوں سے دیکھا….
وہ خوش دلی سے مسکرائی… تھنک یو سو مچ…
تھوڑی دیر بعد کھانا لگا دیا گیا انہوں نے ڈنر کیا اور اس کے بنگلو کے لان میں آ کر بیٹھ گئے اینا اندر چلی گئی کیونکے اب رابرٹ کو زین سے کام کی بات کرنی تھی….
اب سنو تمہارا کیا کام ہے ..زین نے اثبات میں سر ہلايا…
مہینے بھر میں ہماری کمپنی کی کار کس کس شہر میں کون کون سے شوروم میں بھیجی جا رہی ہیں کتنی بھیجی جا رہی ہیں تمھیں اس سب کا حساب کتاب رکھنا ہو گا…
اور آپ کیا کریں گے…
تمھیں مجھسے سوال نہیں کرنے چاہییں میں تمہارا باس ہوں تم میرے نہیں اس لئے جو میں کہوں تم وہی کرو سمجھ گئے میرا کام دوسرا ہے وہ ابھی تم سمجھ نہیں سکتے تم تھوڑا آگے برہو گے تو میرا کام بھی تمہاری سمجھ میں آ جائے گا…زین مسکرایا..ٹھیک ہے. ..
تم سمجھ تو گئے نہ اپنا کام یا مجھے مزید کچھ بتانے کی ضرورت ہے…
نہیں نہیں میں اپنا کام سمجھ گیا ہوں آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا..
گڈ مجھے تم سے یہی امید تھی اور آگے بھی بہت سے امیدیں ہیں امید ہے تم میری تمام امیدوں پر پورا اترو گے…رابرٹ نے گویا امید الفاظ کی لائن لگا دی..
ضرور..زین نے مسکرا کر کہا کچھ دیر تک اس ہی طرح کی باتیں کیں اور زین اسکے بینگلو سے چلا آیا….
زین اپنی کار میں آ کر بیٹھا اور سیئمن کو کال کرنے لگا پانچ منٹ تک لگاتار بیزی رہنے کے بعد آخر اس نے زین کی کال اٹینڈ کی..
ہیلو..دوسری طرف سے کہا گیا….
ہیلو مسٹر سیئمن میں زین حماد….
جی جی میرے پاس آپکا نمبر سیو ہے کہیں کیسے کال کی….
سر آپکی کمپنی کی کوئی ورک فائل تو ہو گی جس میں یہ سب درج ہو گا کے کس عہدے کے شخص کو کیا کام کرنا ہے …
ہاں ہے…
اس میں اسسٹنٹ مینیجر اور اسسٹنٹ مینیجر کے اسسٹنٹ کے بارے میں بھی درج ہو گا …
ہاں بلکل اس میں مینیجر سے لے کر معمولی ملازم کے کام تک کی تفصیلات ہیں کے کسے کس وقت کیا کام کرنا ہے….
جی جی مجھے وہی فائل چاہیے …
کیوں ؟ آپ کیا کریں گے اس فائل کا…
سر مجھے ضرورت ہے….
سوری کمپنی کے رولز کے مطابق جب تک آپ مجھے ورک فائل لینے کی وجہ نہیں بتائیں گے میں فائل آپکو نہیں دے سکتا….
پلیز سر آئی نیڈ دس.. ..
سوری زین آپ وجہ بتا دیں میں فائل آپکے حوالے کر دوں گا …
لیکن میں اوریجنل فائل تو نہیں مانگ رہا مجھے فائل کی کاپی چاہیے ہے اور آپکے پاس تو فائل کی ڈھیروں کاپیز ہوں گی پھر دینے میں کیا پرابلم ہے …
سوری میں کاپی بھی نہیں دے سکتا…
ٹھیک ہے پھر میں آپکو وجہ بتا دیتا ہوں .زین نے یہ کہا اور اسے بتایا کے زین کو لگتا ہے کے رابرٹ اپنا کام بھی اس ہی کے حوالے کر رہا ہے اس لئے وہ کمپنی کی ورک فائل پڑھ کر تسلی کرنا چاہتا ہے کے رابرٹ نے واقعی اپنے کام کا برڈن اس پے ڈال دیا ہے یا صرف اسے غلط فہمی ہوئی ہے…
ٹھیک ہے آپ مجھسے فائل لے لیجئے گا ….
ہوں پھر میں کل صبح کمپنی آجاؤں…..
نہیں آپکو آنے کی ضرورت نہیں فائل آپکے پاس پہنچ جائے گی آپ ایسا کریں کے اپنے ہوٹل کا نام اور ہوٹل کا کمرہ نمبر میسج کر دیں….
ٹھیک ہے میں آپکو میسج کر دیتا ہوں ..یہ کہ کر زین نے کال کاٹ دی اور اپنے ہوٹل کا نام اور ہوٹل کا کمرہ نمبر اسے میسج کر دیا…..
رات میں ہی ایک نوجوان لڑکا کمپنی کی ورک فائل اسے دے کر چلا گیا زین نے اپنا گلاسز لگایا اور ہوٹل کے کمرے میں لگی کرسی پے وہ کتاب رکھ کر بیٹھ گیا اس نے پہلے صفحے سے پڑھنا شروع کیا پوری فائل پڑھنے میں اسے آدھ گھنٹہ لگا آدھے گھنٹے بعد اس نے وہ فائل اٹھا کر سائیڈ پے رکھی اور کرسی پے ٹانگ پے ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا اس نے پوری فائل پڑھ لی تھی اس لئے اسے کمپنی کے سب رولز اور قوائد و ضوابط معلوم ہو چکے تھے اور کمپنی کے رولز کے حساب سے اسسٹنٹ مینیجر کے اسسٹنٹ کام صرف یہ حساب کتاب رکھنا تھا کے کس تاریخ کو کونسے ماڈل کی کار کمپنی سے گئی ہے اور رہی بات یہ کہ کار کونسے شہر میں جاتی ہے اور کونسے شوروم میں جاتی ہے یا اگر کسی اور ملک میں بھی جاتی ہے اس سب کا حساب کتاب اسسٹنٹ مینیجر کو رکھنا تھا اور اس نے اپنا کام بھی زین کے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی لیکن زین بھی ڈیڑھ ہوشیار تھا اسکے ذہن میں فورا کمپنی کی ورک فائل پڑھنے کا خیال آیا اور اس نے اپنے اس خیال پے عمل بھی کر دیا زین کو رابرٹ نے شروع میں ہی دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی اور اب اسے اس دھوکے کا بدلہ لینا تھا وہ کل صبح کا منتظر تھا کل کا سورج رابرٹ کیلئے پریشانیاں لے کر ابھرنے والا تھا اور ان پریشانیوں کی وجہ زین بننے والا تھا ..
زین نے اپنی شرٹ پے لگے اس چوكور بٹن کو ایک جھٹکے سے کھینچا جو شرٹ سے الگ ہو گیا زین نے اس بٹن کے اگلے حصّے پر ہاتھ پھیرا تو تھوڑی سی جگہ کھلی اور ایک منی فلیش ڈرائیو اس میں سے باہر نکلی وہ کچھ دیر تک اسے ہاتھ میں پکڑے دیکھتا رہا پھر اسے پہلے کی طرح اس بٹن میں قید کر دیا اور بٹن کو واپس اپنی شرٹ پے لگا دیا وہ شرٹ اتار کر اس نے ہینگر کی اور دوسری شرٹ نکال کر پہن لی….
اس بڑی کمپنی کے اس آفس میں سیئمن بیٹھا اپنے کسی ملازم کو کوئی ہدایت دے رہا تھا کے انٹر کام کی ٹون بجی سیئمن نے انٹر کام اٹھایا….
ہیلو مارک کیا بات ہے؟.
سر مسٹر زین حماد آپ سے ملنا چاہتے ہیں…
کون زین حماد …؟..
جنہیں اسسٹنٹ مینیجر کے اسسٹنٹ کی جاب دی گئی ہے….
اوہ اچھا وہ خیر انہیں پانچ منٹ بعد میرے آفس بھیج دینا….
اوکے سر …
سیئمن پھر اپنے ملازم سے بات کرنے لگا پانچ منٹ بعد اسنے اپنے ملازم کو باہر بھیجا تو زین اندر آیا….
خیریت آپ ایسے اچانک آ گئے ….؟
ہاں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ….
کیسی بات….؟…
مجھے یہاں دھوکے میں زیادہ کام کرانے کی کوشش کی گئی….
ابھی تو آپ نے کمپنی جوائن بھی نہیں کی پھر آپکو دھوکہ کس طرح دیا جا سکتا ہے….
آپکے اسسٹنٹ رابرٹ جب کل مجھے میرا کام سمجھا رہے تھے تو انہوں نے اپنا کام بھی میرے سر ڈالنے کی کوشش کی گئی…
آپکے پاس انکے خلاف کوئی ثبوت ہے…
جی ہے اگر ثبوت بلکل درست ہوا تو کیا مسٹر رابرٹ کے خلاف کروائی کی جائے گی…
بلکل کی جائے گی قانون سب کیلئے برابر ہے….
اور اگر آپ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جو کمپنی کے رولز کے خلاف ہو تو کیا آپکے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی…..
جی جی میں بھی اس کمپنی میں ہی ملازمت کرتا ہوں تو میرے خلاف بھی وہی ہو گا جو عام ملازم کے ساتھ ہو گا لیکن ابھی تو آپ رابرٹ کی بات کر رہے تھے پھر میں کہاں سے بیچ میں آ گیا….
آپ کہیں سے بھی بیچ میں نہیں آئے میں بس تسلی کر رہا تھا کے کمپنی کے رولز واقعی سب کیلئے برابر ہیں یا نہیں..
اب ہو گئی آپکی تسلی…
جی ہو گئی ….
پھر اب آپکے پاس رابرٹ کے خلاف جو بھی ثبوت ہے وہ پیش کریں تاکے میں اسکے خلاف کاروائی کر سکوں لیکن اگر ثبوت نقلی ثابت ہوا تو کمپنی کے مینیجر کو دھوکہ دینے کے جرم میں آپکے خلاف کاروائی ہو سکتی ہے…
وہ مسکرایا _”لیکن ایسا ہو گا نہیں کیونکے ثبوت سو فیصد اصلی ہے….

(جاری ہے)..