یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 47
۔
اپنے لیے نکلی تھی۔اپنے خاندان کے مان سمان کے لیے، اُس کا انداز تلخ ہو گیا
"کچھ ہوا ہے کیا؟
تمہاری آنکھیں سرخ ہیں اور چہرہ ماتم زدہ "وہ طنزیہ ہنسی ۔ہان ایسا ہی ہے "کہتے ہیں اُس نے نظریں نہیں چرائیں۔تم کچھ اور نہیں تم کچھ اور نہیں دیکھ رہیں سادھنا؟؟
کچھ اور ۔سادھنا کی پیشانی کی کھال سمٹ گئ۔ کیا میں تمیں بدلی بدلی جُرات مند نہیں لگ رہی؟
نہیں تم مجھے نڈر لگ رہی ہو ۔اس کے چہرے کے عضلات سکڑ گئے۔ایک ہی بات ہے۔ امرحہ بیٹھ کے اپنے جوتے کے تسمے کھولنے لگی ۔نہیں جرات مند بہادر کو کہتے ہیں اور نڈر نہ ڈرنے والے کو ۔بے حس کو بھی ۔تسمے کھولتے امرحہ کے ہاتھ رُک گئے "تم نے کس کتاب میں نڈر کو بے حس پڑھا ہے؟ تسموں کی گرہ کھولنے کے بجائے اُس نے گرہ لگا دی۔
اپنی زندگی کی کتاب میں سادھنا نے دیکھ لیا اُس نے گرہ لگا دی ہے۔
امرحہ سر اُٹھا کے سادھنا کو دیھکنے لگی "تم نہیں سمجھو گی ۔
میں بھی اپنی بہن سے یہ ہی کہا تھا ۔تسموں میں ایک اور گرہ لگ گئ۔
کیا وہ عالیان ہے؟ تسموں کو دوسری گرہ لگتے بھی سادھنا نے دیکھ لی تھی ۔
وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ ۔کیا تمیں عالیان پسند نہیں؟؟ میرے بیٹے کو زندگی دینے والے فرشتوں میں سے ایک وہ بھی ہے۔وہ مجھے کیوں پسند نہیں ہوگا ”
تو تم نے سوال ایسے کیا جیسے تمیں اعتراض ہو۔****
ہمیں ہی تو اعتراض نہیں ہوتا امرحہ……
سادھنا اتنی زہین ہو گی امرحہ کو اندازہ نہیں تھا ۔ایک لفط میں ساری بات سمیٹ دی ۔پوری توجہ اُس نے تسمے کھولنے میں لگا دی اور اٹھ کر وارڈروب تک آئ ۔لیکن یہ سوچ کر نہیں کھولی کہ خالی وارڈروب دیکھ کر سادھنا اور سوال کے گئ۔
مجھے کوئ تو جواب دو ۔وہ دونوں ایک ہی حطے سے تھی ۔اور سادھنا اپنی طرف سے اُسے وہ سب سمجھانا چاہ رہی تھی ۔جو خود اُس نے بعد میں سمجھا تھا۔
مجھے اعتراض نہیں ہے سادھنا ۔اور میری بلا سے ساری دُنیاکو ہو۔ تھوڑا بہت اگر عالیان کے آگے پیچھے کا پتا چلے تو ٹھیک۔ ورنہ اب مجھے کوئ پروا نہیں ۔مجھے اپنے دل کے سوا کیسی کی بھی پروا نہیں۔میں نے دیکھ لیا ہے اسے کھو کر کیسا لگتا ہے ۔اور اس احساس کے ساتھ جینے کی مجھے کوئ خواہش نہیں۔میری آنکھوں سے دیکھوں مجھے اب اس کے سوا کوئ نظر نہیں آرہا۔میں پہلے ہی بہت بُرا کر چکی ہوں۔پھر نہیں کروں گئ۔
تم نے اپنے دادا سے بات کی ۔سادھنا کو سن کے حیرت نہیں ہوئ۔
کی تھی اور جواب وہی آیا تھا جس کی تواقع تھی ۔انہیں اچھے انسان سے مطلب نہیں ہے۔ انہیں ایک اچھا خاندان چاہیے تیز آواز میں کہہ کے وہ واش روم چلی گئ۔تاکہ سادھنا کمرے سے چلی جائے۔وہ زبان سے کہہ رہی تھی کہ وہ بہادر ہو گئ ہے ۔اور واش روم میں وہ پسینہ پسینہ ہو رہی تھی ۔
فون کرنے سے پہلے اس نے اپنے دماغ کو سُلا دیا تھا ۔اس سے پہلے بھی جب اُس نے فون کیا تھا وہ گبھرا رہی تھی ۔
ہیلو ۔ہان۔جی۔نہیں میں اپنا نام نہیں بتاؤں گئ ۔مجھے صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ مار گریٹ کی اولاد کے بارے میں کون معلوم کرنا چاہتا ہے ؟؟
تمیں اس بارے میں فکر مند ہونا چاہیے کھردرے انداز سے کہا گیا ۔
مجھے کچھ معلومات مل جائے تو شاید میں کچھ کر سکوں۔ اُس نے بات بنائ۔
پیسے دیے جائے گے معلومات نہیں ۔
میرا صرف ایک سوال ہے ۔کون ہے جو یے سب جاننا چاہتا ہے۔مارگریٹ کا شوہر؟؟
تھوڑی دیر خاموش رہی فون بند کر دیا گیا۔
اُس نے لوکل فون بوتھ سے فون کیا تھا ۔لیکن اس بار اُس نے اپنے موبیل سے فون کیا تھا۔ میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔لیکن اس کے فوراً بعد مجھے بتایا جائےگا کہ کون یہ سب معلوم کرنا چاہتا ہے؟؟
کچھ دیر خاموش رہی پھر اُسے ہولڈ کروایا گیا ٹھیک ہے۔
عالیان ۔مارگریٹ ۔اسٹوڈینٹ آف مانچسڑ یونیورسٹی۔ ایم بی اے ۔رہائشAnselm۔ہال وہ روانی سے بول گئ کہ مبادا وہ اپنا ارادہ ہی بدل دے۔اب مجھے میرے سوال کا جواب دیں ۔خوف نے یک دم اس کے گرد گیھرا تنگ کر دیا۔ ۔عالیان کا باپ کہہ کے فون بند کر دیا ۔اُس نے بہت پُر سکون سانس لی اُس کے دل کا سارا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔۔
اب اُس کا باپ غیر مسلم ہو تو موجود تو ہو گا ۔اس پر موجودہ سوالیہ نشان تو مٹے گا ۔وہ دادا کو منانے کی کوشش کرے گئ کے وہ ایک مسلمان سے شادی کرنے جا رہی ہے ۔باقی کی گنجائش اگر نہیں بھی نکلی تو اب وہ اس بارے میں نہیں سوچے گی ۔بہت سوچ لیا بہت رولیا یک دم سے خیال آیا کہ اسے معلوم ہوا کے عالیان کے کاغذات میں وہ مذہٰب لکھوانے گئے تھے ۔ایک مذٰہب اسلام تھا یعنی اس کا باپ مسلمان ہی تھا ۔اس سوچ نے اسے اور ہلکا پلکا کر دیا ۔اس نے اپنا دماغ منفی سوچو ں سے آذاد کر دیا اور اپنا سامان کھول دیا ۔*******
ویرا نیویارک اپنے بھائ کے پاس آئ تھی ۔ایلکسی نے درمیانے درجے کی ایک فلم میں پوسٹ پروڈکشن کا کچھ کام کیا تھا اور اب فلم کا پریمیر تھا ۔روس سے اُس کے ماما۔پاپا بھی آئے تھے پریمیر رات کو تھا اور شام کو وہ پاپا کے ساتھ نیویارک کی سڑکوں پے چہل قدمی کر رہی تھی ۔تمہارے نیویارک آنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئ ۔انہوں نے ویرا کا ہاتھ اپنے بازو کے خم میں دیا ۔اور کے چہرے پر دبے دبے اُس جوش کو جانچا جس کے لیے وہ انہوں چہل قدمی کے لیے لائ تھی ۔
میں ایلکسی کے لیے آئ ہوں اور آپ سے ملنے بھی۔
تم کرسمس کی چھٹیوں کے لیے پیسے اکھٹے کر رہی تھی اس ملاقات میں کیسے ویسٹ کر دیے ۔؟؟
میں اتنی بھی کنجوس نہیں پاپا ۔
تم اتنی بھی شاہ خرچ نہیں ویرا ۔
میں آپ کو یاد کررہی تھی آپ کو ملنا چاہتی تھی آپ سے ۔اُن کے بازو کو تھامے وہ پوری اُن کے ساتھ چِپک گئ۔
جب جب تم۔مجھ سے یے کہتی ہو مجھے محتاط کر دیتی ہو ۔ ایک سال پہلے تم نے یے تب کہا تھا جب تمیں مانچسڑ جا کے پڑھنا تھا ۔
مانچسڑ جاکےپڑھنے کافیصلہ غلط تو نہیں تھا ؟؟
نہیں ۔لیکن روس میں سب ہے یونیورسٹی بھی ۔
میں نئے ماحول میں آنا چاہتی تھی ۔
امرحہ سے ۔کارل سے ۔عالیان سے۔؟
بلکل مجھے ان سب سے مل کو بہت اچھا لگا ۔
یہ روس میں مجھے نا ملتے ۔
روس میں جو روسی تم سے ملتے وہ ان سے بُرے نہ ہوتے ۔رُک کر انہوں نے ویرا کو جتایا ۔
آپ ہمیشہ اس ایک بات کو ثبوت کیوں دیتے رہتے ہیں ۔کہ آپ بہت محب وطن ہیں۔۔
میں ہوں ۔اور اس میں کیا بُرا ہے۔ ہر انسان کو اپنی سر زمین سے محبت کرنی چاہیے ۔اور اس کی حمایت کرتے رہنا چاہیے۔اپنی اولاد کے سامنے تو حاص کر۔۔
محب وطن ہونے کے ساتھ محب دنیا بھی ہونا چاہیے۔ اس دنیا کا بھی کچھ حق ہے ہم پر ۔ تمہارا نکتہ کافی اہم ہے اوت مجھے پسند بھی آیا اور مجھے یہ خیال بھی آ رہا ہے کے تم نے یہ محب دنیا کا فلسفہ یہاں مانچسٹر آ کر سیکھا آکر سیکھا ہے ۔ اپنے بازو کے خم میں موجود اُس کے بازو کو دوسرے ہاتھ سے تھپک کے اُنہوں نے مسکرا کر کہا ۔
کسی سے ملوانا ہے آپ کو اُس نے ایک دم سے کہہ دیا۔۔
میری کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا ۔انہوں نے اپنے سر کو ہلایا۔۔
کیسے ۔وہ ہنسی ۔۔
تم مجھے بار بسر یہ کہتی تھی تم۔پڑھ پڑھ کے تھک چُکی ہو تمہاری آنکھو کے گِرد جھریاں نمودار ہونے لگی ہیں دوسرے معنوں میں تم بوڑھی ہو رہی ہو ۔کتابوں کے صفحات پڑھ پڑھ کے تم اوبنے لگئ ہو ۔ اور زندگی کو بس درس گاہوں تک ہی تو نہیں رہنا چاہیے نا ۔
وہ زور سے ہنسی ۔یہ سب تو میں مزاک میں کہہ رہی تھی ۔
لیکن میں سنجدگئ سے سنتا رہا ہوں ۔ تمیں شادی کرنی ہے ۔؟؟
نہیں کرنی چاہیے۔؟؟
ضرور کرنی چاہیے۔
آپ نے پوچھا نہیں کون ہے۔؟
پوچھنا نہیں ۔ملنا چاہتا ہوں۔۔
پھر بھی۔
ضرور پوچھ لیتا ۔اگر تمیں نہ جانتا ۔کافی عقل مند ہو تم۔ بے وقوفی تو نہیں کی ہوگئ۔
وہ بہت زہین ہے۔
اوہ تو مسئلہ زہانت ہے۔ شادی کر کے مات دینا چاہتی ہو۔ایسے ہراؤ گی اُسے۔
نہیں۔نہیں۔مجھے اُس کی شرافت پسند ہے ۔۔
کیتنے شریفوں سے مِل چُکی ہو جو اُس کی شرافت کو اولین کر رہی ہو؟؟؟
آپ جانتے نہیں کیتنا صفر کر چُکی ہوں دنیا کا ۔
تو تم نے اپنے تجربے کی بِنا پر اُسے چُنا؟؟
میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکی ۔ اُس نے جھوٹ نہیں بولا ۔۔
کب آنا چاہتی ہو گھر ؟؟
ڈگری لینے کے بعد۔اُس کا نام عالیان ہے ۔
اوہ عالیان میں اُسے جانتا ہوں ۔میری بیٹی ویرا اکثر اُس کا زکر کرتی ہے ۔ویرا دل کھول کر ہنسی اور سر اُن کے کندھے پر رکھ دیا۔میں اکثر سب کا ہی زکر کرتی ہوں پاپا۔
ٹہرو ۔مجھے اپنی یاداشت کنھگال لینے دو ۔میری بیٹی ویرا نے اُس کے بارے میں کیاکیا کہا ہے ۔انہوں نے اپنی کنپٹی کو مسلا۔
کل عالیان کا برتھ ڈے ہے اور میں پندرہ دن سے مالز کی خاک چھان رہی ہوں اور کوئ ایک بھی تحفہ دریافت نہیں کر سکی جو اُسے پسند آسکے تو آخر میں کیا کروں۔ میں پھر سے مال جا رہی ہوں ۔انہوں نے ویرا کے انداز کی نقل اُتاری ۔
۔۔بابا۔۔وہ اور ہنسنے لگے اور زیادہ شدومد سے کنپٹی مسلنے لگے اور ویرا نے اُن کے ہاتھ کو سختی سے اپنے ہاتھ میں بینھچ لیا ۔۔
عالیان کو ساتھ لے آتی۔۔
اُس نے کہا وہ اپنی کلاس نہیں چھوڑ سکتا ۔۔
تو امرحہ کو ہی ساتھ لے آتیں مجھے اُس سے باتیں کرنی تھی بہت ساری ۔۔
اُس نے بھی کہا وہ اپنی کلاس نہیں چھوڑ سکتی ۔۔
"دونوں نے ایک ہی بات کی… دونو بہت اچہے دوست ہیں نا ؟”
"تقریباً…امرحہ نے یہ بات عالیان سے سیکھی ہے ۔”
"اور اس پر سختی سے عمل بھی کرتی ہے؟” روک کر انہوں نے ویرا کو دیکھا اور ویرا نے اپنی گردن ان کے شانے سے ہٹالی۔
——————-
رات کو اس نے اپنے لئے کافی بنائ اور کمرے مے جا کر اسکو یاد آیا کہ مگ وہ کچن میں ہی بھول آیا ہے۔ پھر کچن سے مگ لا کر سامنے رکھ کر وہ اسے پینا بھول گیا۔ پھر وہ بلا وجہ ہال میٹس کے کمروں میں چکر لگاتا رہا۔ کچھ اسے بیٹھنے کے لیۓ کھتے تو وہ کمرے سے ہی باہر چلا جاتا۔
دو بار اس نے اپنا بستر ٹھیک کیا، تکیے سیٹ کیۓ اور لیٹ کر کتاب پڑھنے لگا پھر اس نے اس فلور پر جانے کا فیصلہ کیا جہاں ہفتہ وار خود ساختہ تھیٹر لگا تھا، اتوار کی رات تھی اور کارل شاہ ویز مل کر پروفیسرز اور فریشرز کی نقل اتار رہے تھے۔ وہ کوریڈار کے آخری سرے پر اپنے ڈرامے کر رہے تھے اور باقی کوریڈور میں ہال میٹس کرسیوں پر بیٹھے گلے پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہے تھے۔ درمیان درمیان میں شاہ ویز زنانہ کپڑے بھی پھن لیتا اور کسی لڑکی فریشر کا کردار نبھاتا، کارل نے اسے بھی گھسیٹا۔ "کہا تھے تم کب سے بلارہے ہیں تمھیں۔”
"پڑھ رہا تھا۔” اس نے جھوٹ بولا۔ "چلو پروفیسر oope set کو بہت دنو سے ہم یاد کر رہے ہیں۔”
اپنے ذہن کو بہلانے کے لیۓ وہ اپس سیٹ بن کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھوں پر چشمہ لگا لیا۔ بالوں کو پانی لگا کر سر پر جما لیا اور زرا سا کب نکال کر سر کو کھجانے لگا۔ دس اسٹوڈینٹ سامنے بیٹھ گۓ۔موبائل
"Oops..oops…pick up the call”
کی مضحقہ خیز ٹون کے ساتھ بجا پروفیسر اچھی طرح جانتے تھے کہ یونی میں انہیں کیا کہا جاتا ہے، ٹون کی آواز پر گردن کو جھٹک کر انھوں نے ایسے تاثرات دیۓ جیسے کسی نے پیچھے دبۓ پاؤں آکر ان کی کنپاٹی سے گن لگا دی ہو”فریز پروفیسر” اور پروفیسر فریز۔۔ حرکت کا سوال ہی نہیں۔
"کس کا فون ہے یہ” ہلے بیغر کہا گیا۔
ایک لڑکی (شاہ ویز)نے ہاتھ اٹھا کر زرا دور بیٹھے لڑکے کی طرف اشارہ کیا”اس کا پروفیسر” اس تیسرے لڑکے نے چوتھے کی طرف اس طرح یوں دس لوگوں کے بیس بازؤوں کا جال بن گیا ہے جس میں پروفیسر الجھ گۓ۔ فون ابھی الجھ رہا ہے۔
ہر ایک ہاتھ بلند ہونے پر پروفیسر کے تاثرات کا مظاہرہ کرتے وہ سب کے پیٹ میں بل ڈال دیتا اور آخر ایک لڑکی "کاکروچ ” جیسی بلا کو دیکھ کر ایسے چلاتی ہے کہ پروفیسر کلاس کے باہر پاۓ جاتے ہیں۔ کوریڈور میں بیٹھے وہ سب اپنی کرسیوں سے نیچے لڑھک گۓ۔
پروفیسر صاحب کے ساتھ ایسے oops وہ کئ بار کر چکے تھے۔
"آج تمھاری پرفارمنس ہی لاجواب تھی یا خود بھی اپ سیٹ ہو۔”
"میں ٹھیک ہوں۔”
"تم مجھے اپنےٹھیک ہونے کا مت بتایا کرو۔ ویسے میرا خیال تھا کہ ویرا مجھے پسند کرتی ہے۔” کارل نے کوریڈور کی دیوار سے کمر ٹکائ اور ہاتھ باندھ لیے کارل بہت سی لڑکیوں کے بارے میں یہ دعوا کرتا تھا کہ وہ دل ہی دل میں اسے پسند کرتی ہیں اور کچھ وقت بعد جب وہ لڑکی کسی بھلے انسان کے ساتھ دیکھائ دیتی تو کارل کہتا کہ اس نے مجھے پروپوز کیا تھا، لیکن مجھے اس کی نیلی آنکھيں پسند نہیں تھیں تو انکار کر دیا۔ بلکہ اکثر ہال میٹس یا کلاس فیلوز اسے بتاتے کہ کارل وہ جو سبز آنکھوں والی معصوم سی لڑکی، جس کا تم پر کرش تھا نا، وہ آج فلاں ریسٹورنٹ میں ایک
ہینڑسم لڑکے کے ہاتھ سے اپنی انگلی میں انگھوٹی پہنتی پائ گئ ہے۔افسوس اسے یہ کام بجھے دل سے کرنا پڑا جب کہ وہ تو تمھیں پسند کرتی تھی۔”
"تو تم ویرا کو پسند کرتے ہو۔” عالیان اسکی تاریخ جانتا تھا، اسے چڑا رہا تھا۔
"میرا دماغ تھوڑا بہت کام کرتا ہے بڑی۔” وہ فلہال چڑنے والا نہیں تھا۔
"ویرا کا بھی تھوڑا بہت کام کرتا ہے نا بڈی۔!”
"تمھاری ناک توڑ دوں گا میں۔”اس نے گھونسا تان کر کہا۔
"پھر بھی لڑکیاں تمھے پروپوز نہیں کریں گی۔” اپنے ہاتھ کے گھونسے سے عالیان نے اس کے گھونسے کو روکا۔
"کیونکہ ان کی نظر کمزور ہے انھیں لگتا ہے کہ تم کوئ شہزادےویہزادے ہو۔”
شاید،لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی نظریں کمزور نہیں ہے، انھیں یقین ہے کہ تم کوئ شیطان ویطان ہو۔”
"زیادہ اچھلو مت، رم میں صرف ایک خوبی ہے کہ تم سگريٹ نہیں پیتے اور لڑکیوں کو سگریٹ سے نفرت ہوتی ہے۔”
"اور تم میں صرف ایک خرابی ہے کہ رم سگريٹ کے ساتھ ساتھ خون بھی پیتے ہو۔”
"تم بچ گۓ ہو ابھی تمھارا خون پینا ہےـ”
اس نے اس کی گردن کو دبوچا۔
"فرشتے کا خون تمھے بد ہضمی کردے گا۔ہضم نہیں ہوگا تمھیں۔” عالیان نے اپنی گردن اس سے دور کی۔
"فرشتے تو فرشتوں کا خون پیتے ہی نہیں تو یہ کام مجھے ہی کرنا ہےاور میںاسے ہضم بھی کروالوں گا اور سنو دی اینجل !اگلے ہفتے دو الوؤں کے ساتھ ریس ہے،انعامی رقم پچیس پونڈ میں نے طے کروالی ہے۔”اس نے آنکھ ماری۔
ساری یونی جانتی تھیکہ وہ کیسے اسٹوڈینٹس کو بھڑکاتا تھا اور پھر انہیں مقابلہ کرنا ہی ہوتا تھا۔یعنی ہر صورت مقابلہ،ورنہ ان کی غیرت کی موت۔
"ہاں ایک اور بار میں تمھارا اور ویرا کا بریک اپ بھی کرواسکتا ہوں،تمھیں یاد ہے نا تم نے میرے کتنے بریک اپس کرواۓ تھے۔”
کارل کھ کر دبارہ تھیٹر کی طرف لپکا، عالیان کے تاثرات ایک دم سے بدلے، کارل نے مزاق کیا تھا مگر اسے وہ ہتک یاد آگئ تھی جو ہارٹ واک میں اسکی ہوئ تھی۔ وہ اپنے کمرے میں آگیا۔
"امرحہ ۔۔وہ کون ہے۔۔ میں اسے نہیں جانتاـ”
پھر سے پرانی تکرار۔ جب انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے تو ان ٹکڑوں میں جابجا خوف،وہم اور بے عتباری قابض ہوجاتی ہے۔درزوں اور درازوں ہی میں۔۔ پھر یہ درزے پہاڑ بننے لگتی ہیں اعر پھر ان پہاڑوں کو سر کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اب اس وقت وہ خود کو ان پہاڑوں میں گہرا پا رہا تھا اور ان پر "ویرا ” نام کی صدا لگا رہا تھا جو پلٹ کر امرحہ کی صورت آرہی تھی۔
ایک دروازہ اس نے اپنے اندر کھلتا پایا کہ وہ ویرا کے کتنے بھی پلس پوائنٹس نکال لے، ایک پوائنٹ فلحال شاید کبھی ان میں شامل نہیں ہوسکے گا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔
اس نے خودکو وقت دیا۔۔ جلدبازی ہتک نہیں ہوگی اور آخری بار جب وہ اس کے پاس آئ تھی تو اس کے لیۓ کچھ لائ تھی۔۔ پیغامات۔۔ ان میں کیا لکھا تھا اس نے یہ جاننا نہیں چاہا تھا لیکن اب وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کاش چپکے سے اس کے کمرے سے چرا کر وہ انہیں پڑھ لے۔ یہ کوئ ایسا مشکل کام نہیں اس کے کمرے تک وہ بہت آسانی سے جا سکتا تھا۔
———————
یونیورسٹی میں ویرا کے پروپوزل کی خبر اسٹوڑینٹس اور گروپس میں سنی اور سنائ گئ عالیان کے پروپوزل کو دبے دبے انداز میں زیر بحث لایا گیا تھا۔ کیونک اس کے پروپوزل کی خبر ہارٹ راک سے نکلی تھی۔
اور اس انداز میں نکلی تھی کہ اسٹوڈینٹس نے اسے کمال رحمدلی سے نظر انداز کر دیا تھا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو عالیان کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ان سب کی ہمدردیاں عالیان کے ساتھ تھیں اور بہت سے اسٹوڈینٹس کے نزدیک امرحہ خودغرض تھی بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایسے تعلقات میں اتارچڑھاؤ آتے ہی رہتے ہیں اور کچھ کا مانناتھا کہ بات شروع ہوئ۔۔اور ختم ہوگئ۔۔ بس۔
"اور اب یہ ہیرا کہاں سے آگئ؟”بون فائر پارٹی میں آگ کے گرد بیٹھے ان سب کے گروپ میں پلیٹ اور مگ ہاتھ میں پکڑے بیٹھتے شرلی نے کہا۔
"جب دو میں فاصلہ اتنا زیادہ ہوگا تو تیسرا تو آۓ گا ہی۔”للی نے چچ چچ کے انداز میں کہا اورطشرلی کی پلیٹ سے چکن پیس اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لیا۔
"تم نے دیکھا تھا وہرا کو پروپوز کرتے؟”شرلی نے بیٹی لو سے پوچھا۔
ہاں مجھے اسٹوڈینٹس کی تالیونج نے متوجہ کیا وہاں زیادہ بزنس ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈینٹس ہی موجود تھے۔”بیٹی لو کافی پی رہی تھی۔
"عالیان نے کیا کہا ؟” ازرا نے پوچھا
"اس کا جواب مبہم تھا۔جارحیا بتا رہی تھی کہ اس نے کہا جواب کے لیے اسے کچھ وقت چاہیے۔”
"اور کیا جواب ہوگا اسکا؟”ہانا نے سہم کر کہا۔
ظاہر ہے ہاں۔اگر ہاں نہ ہوتا تو ویرا کے پروپوز کرنے کی نوبت ہی کیوں آتی۔”عزرا نےسنگ دلی سے کہا۔
تو ثابت ہوا عالیان کو امرحہ سے کوئ دلچسپی نہیں ہے۔شرلی نے ہونٹ سکوڑ کر راۓ دی۔
"میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ ایک کرسچن عورت کے بیٹے سے کوئ تعلق نہي بناۓگی” عزرا نے شانے اچکا کر اپنی راۓ کی تصدیق چاہی اور سب کی طرف دیکھا۔
"جب وہ نئی نئی یہاں آئ تھی تو تم نے کہا تھا یہ بہت بگڑ جاۓ گی۔”شرلی نے عزرا کو اسکی ایک اور راۓ یاد دلائ۔
"بگڑنے سے میرا مطلب یہ تھا کہ وہ غیر مناسب کپڑے پہننے لگے گی،بارز میں جاۓگی، پارٹیز اٹینڈ کرے گی، اس کے دوستوں کے حلقے میں بہت سے لوگ ہونگے۔ ٹھیک ہے میری راۓ غلط ثابت ہوئ،اس نے ویسٹرن کپڑے پہنے لیکن غیر مناسب نہیں، وہ ریسٹورنٹ اور کیفے میں دیکھی گئ لیکن نائٹ کلب میں نہیں۔”
"تو ۔۔۔؟” ہانا نے پوچھا۔
"تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ اپنی روایات کے ساتھ جڑی ہوئ ہے۔ یہاں اسے کوئ بھی نہیں دیکھ رہا پھر بھی اس نے وہ سب نہیں کیا جو اکثر اسٹوڈینٹس کیا کرتے ہیں۔ آزادی کا بےجا استعمال۔”
"اسے یہ یاد تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ "شرلی نے بہت وثوق سے کہا۔
وہ بزدل ہے اگر عالیان مجھے پروپوز کرتا تو میں ساری دنیا سے لڑ کر اسے ہاں کھ دیتی۔۔۔ بہاڑ میں جاۓ ۔۔دنیا۔۔ اصول۔۔ قانون۔۔”للی نے سنجیدگی سے کہاـ "اسی لیے اس نے تمھیں پروپوز نہیں کیا۔ "عزرا نے اسے چڑایا۔
"عالیان کو پوری یونی میں وہی ملی تھی؟” شرلی نے کہتے ہوۓ مگ ہانا کے آگے کیا کہ خیر سے ایک مگ کافی اور لادے۔
"ویرا کے بارے میں کیا خیال ہے؟”ہانا مگ لے کر اٹھتے ہوۓ بولی۔” ویرا کی شخصیت کا ریکارڈر اتنا صاف ہے کہ اسے انکار کرنا بےوقوفی ہوگی۔” عزرا نے کہا۔
"مجھے کہانی کے کلائمکس کا انتیظار ہے” ہانا واپس آکر بیٹھ گئ۔
"مجھ سے سن لوـ عالیان ویرا کا ہاں کہے گا۔ امرحہ کو عالیان کی پرواہ ہوتی تو ایسے اس کی بے عزتی
نہ کرتی۔ کس انداز میں وہ عالیان کے بارے میں بات کر رہی تھی۔” چھوٹے ذہن کی۔”عزرا نے نخوت سے کہا
"اگر امرحہ ایسے اس کی بے عزتی کر چکی ہے اور اسے عالیان سے کوئ مطلب نہیں تو وہ عالیان کے پاس بار بار جاتی کیوں رہی ہے؟”
"اس کا ضمیر ملامت کرتا ہوگا،شادی تو وہ اپنے پاپا کی مرضی سے ہی کرے گی”شرلی نے ایسے کہا جیسے وہ امرحہ کو اچھی طرح سے جان گئ ہے۔
تو پھر عالیان کو اتنا پاگل بننے کی ضرورت کیا تھی۔ہر وقت عالیان اس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ ہانا کے انداز میں ساری ہمدردیاں عالیان کے لیے تھیںـ
"ضرورت نہیں خودغرضی۔۔”عزرا نے سر کو جھٹک کہ کہا۔
"لگتی نہیں۔۔لیکن ہوگئ ہے۔کوئ بھی ہوسکتا ہے۔ کوئ لڑکا ایسے آگے پیچھے ہو تو کوئ بھی ہو سکتا ہے۔۔”
"ویسے مجھے امرحہ نے کافی کمپلیکس دیا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایسی بونگی لڑکی میں اسے ایسا کیا اچھا لگا ہے۔”تھوڑی دیر خاموش رہ کر جیسے عزرا نے اقرار کیا۔اب اس کے بال کافی بڑے ہو چکے تھے اور اس پر جچ بھی رہے تھے۔
چاروں نے قدرے حیرت سے عزرا کو دیکھا کہ کیا وہ مزاق کر رہی ہے۔ لیکن مزاق کے آثار نظر نہیں آۓ۔
"شاید اسکا بونگا پن۔۔”شرلی ہسنے لگی اور آگ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ "وہ کہتا تو میں بھولی بن جاتی ۔۔” اف عزرا کا سنجیدہ انداز۔
"تم کہنے سے بنتی وہ بنی بنائ تھی۔”للی نے کھ کر قہقہ لگایا۔
"میں سمجھتی تھی کہ عالیان مجھے پسند کرتا ہے۔۔”عزرا آج رات رو کر سونا چاہتی تھی۔
"تم یہ کیسے سمجھی۔۔؟”ہانا کو اس کی سنجیدگی پر حیرت ہورہی تھی۔
"وہ مجھے ٹوئٹس دے کر لینا بھول جاتا تھا۔”
"بس اتنی سی بات پر تم سمجھی کہ وہ تمھیں۔۔”ہانا نے بمشکل اپنی ہنسی دبائ جبکہ عزرا نے اسے گھور کر دیکھا۔
یہی موضوع دو اور لوگوں میں زیر بحث تھا۔دائم اور نوال میں۔
"اب مجھے امرحہ پر ترس آتا ہے۔” نوال نے سوپ پیتے ہوۓ کہا۔
"مجھے نہیں لگتا کہ وہ عالیان کو پسند کرتی ہے۔ نجانے کیوں لیکن مجھے ہمیشہ سے ہی لگا کہ وہ مختلیف خیالات کی لڑکی ہے۔ "دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔
"تمھارا مطلب عجیب خیالات کی؟”نوال امرحہ کے ساتھ تھی۔
"شاید۔۔”
"عالیان کوپسند کرنے میں ایسی کون سی سائنسں چلانی تھی اسے۔”
"یار، سیدھی سی بات ہے۔جب تمھارے گھر میرا پروپوزل گیا تو تمھارے نانا نے کیا کہا تھا۔؟”
"کہا تو کچھ نہیں تھا انہیں تنھارے خاندان کے بارے میں معلومات چاہیے تھیں۔”
"میرا شجرہ نسب۔۔ میری ذات۔۔ میری ماماکی طرف کے خاندان کے بارے میں معلومات۔۔ میرے پاپا کی طرف کے خاندان کے بارے میں بھی۔۔”دائم نے جتایا۔
"کم ان یار، انہوں نے یہ سب ایسے ہی پوچھا تھا، ویسے بھی وہ ذرا پرانے خیالات کے انسان ہیں اور پھر بڑے ہیں۔ اگر کچھ پوچھ بھی لیا تو یہ کوئ ایسا بڑا ایشو نہیں ہے۔ بس یہی خیالات امرحہ کے ہونگے۔”
"وہ اتنی دقیانوسی نہیں ہو سکتی ماسٹرزکر رہی ہے، روشن خیال ہےـ”
"چلو پھر یہ مان لیتے ہیں کہ وہ روشن خیال ہے لیکن اس کے گھر والے نہیں۔”
"تمھارا مطلب اس نے اپنے گھر بات کی ہوگی۔۔؟”
ویراور عالیان…سائی نے نرمی سے اسے کچھ سمجھانا چاہا.
ان دونوں کا نام ساتھ ساتھ نا لو سائی…خدا کے لیے..
تو تم حقیقت کا مقابلہ ایسے کرنا چاہتی ہو..خود کو بدلو امرحہ.
کتنا تو بدل لیا ہے_تم جانتے ہی نہیں, اس رات سے اب تک میں کتنا بدل چکی ہوں.
سائی کو اس میں انوکھے پن کا احساس ہوا_اس کے چہرے کے تاثرات میں کچھ اور بھی نمایاں ہونے لگا.
میں نے عالیان کے باپ کو فون کیا ہےوہ اسے ﮈھونﮈ رہے تھے.انکا بھیجا ایک آدمی مجھ تک بھی آیا تھا.اور اب میں نے انھیں عالیان کے بارے میں بتا دیا.لیﮈی مہر کو کوئی حق نہیں کہ وہ اسے اس کے خاندان سے دور رکھیں…عالیان کو اسکا خاندان مل جاۓ گا.دادا عالیان سے ضرور ملنا چاہیں گے__
سائی نے سہم کر امرحہ کو دیکھاتو اس کے چہرے پر نمایاں ہونے والا تاثرخودغرضی کا تھا.اس کے اپنے ہی اندر کچھ چھن سے ٹوٹ گیا_اس نے اپنا نچلا ہونٹ کاٹا_اگر وہ خود کو عہد توڑنے کے اجازت دیتاتو امرحہ کو بتاتاکہ عالیان اپنے باپ کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا_وہ اس کی ماں کو مرنے کے لیے چھوڑ گیا تھا اور اسے بھی__
یہ تم نے کیا کیا امرحہ..وہ بے آواز بڑبڑایا_عالیان کو اپنے باپ سے ملنا ہوتاتو وہ خود اسے ﮈھونڑ لیتا_تم نے اپنے اور اس کے تعلق کو تابوت میں دفنا کراس میں وہ آخری کیل ٹھونک دی.جو اب قوت سے نکلے گی نا تدبیر سے_اب وہ قسمت کی رحمدلی کا محتاج ہوگااور قسمت کو رحمدلی پر اکسانےکے لیےبہت آنسوبہانے پڑتے ہیں.. وہ خاموش کھڑا سوچ رہا تھا..
تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہوسائی…
میں چاہتا ہوں تم اپنے لیے دعا کرو..بہت ساری دعائیں کرو..کہہ کر سائی پلٹ آیا.اس کا دل برا ہوگیاتھا.اور اسے امرحہ پر غصہ سا آیا تھا…..
رات کے آخری پہر وہ چونک کر اٹھا.
اس کے سینے پر مارگریٹ کی ﮈائری تھی اوراسکی آنکھ میں نمی تھی..وہ چھت کو دیکھنے لگا پھر آس پاس.اسے یہ یاد کرنا پڑا کہ وہ کہاں ہے اور اس کےساتھ کیا ہوتا رہا ہے.
ان کیفیات کا شکار وہ بچن میں ہوا کرتا تھا.جب بستر پر روتےروتے سوجایا کرتا تھا.اور پھر سوئی جاگی حالت میں اسے لگا کرتا تھا کہ کوئی اس کے سرہانےبیٹھے سرگوشیاں کرتا رہا ہے.ایسی سرگوشیاں جو اسے بوجھل نہیں کرتی تھیں اور آنکھ کھلنے پر اسے رو دینے پر مجبور کردیتی تھیں.وہ اس خوشبو کو بہت قریب محسوس کرتا.جو مارگریٹ کے سوتھ لگ کر سونے سے اس کے اندر حلول کر گئی تھی.اور جسے اس نےاپنے اندر سے کبھی جدا نہیں ہونے دیا تھا.
وہ سرگوشیوں کی رات تھی.وہ مارگریٹ کی خوشبو کوبہت وضاحت سے محسوس کر رہا تھا.وہ اٹھ کر بیٹھ گیا.اور اسے لگا وہ بس ہاتھ بڑھا کر اپنی ماں کو ﮈھونڑ نکالے گا.اس نے کمرے میں اندھیرا ہی رہنے دیا.اور خود وہ بچہ ہی بن گیا.جو اپنی ماں کےساتھ سویا کرتا تھا.اس نے بہت دھیمی آواز میں مارگریٹ کو پکارا
"ماما!”
اور پھر وہ اپنی آنکھیں مسلنے لگا.ﮈائری کو ہاتھوں سے چھوا اور لیٹ کر پھر سےاسے اپنے سینے پر رکھ لیا..
صبح آنکھ کھلتے ہی اس نے وہ سب یاد کرنا چاہا جو رات بھر اس کے ساتھ ہوتا رہا تھا.کافی دیر تک بستر میں پڑا وہ ﺫہین پر زور ﮈالتا رہا_ کہیں سرگوشیاں تھیں. کہیں امرحہ اور دیرا اور کہیں وہ خود__
بھاگ پڑنے..ہانپ جانے اور رو دینے کی کیفیات غالب رہیں..
اس نے محسوس کیا کہ وہ ﺫہنی طور پرکچھ زیادہ ہی الجھا ہوا ہےاسے خود کو معول پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے.اسے خود کو وقت دینا چاہیےاور خود کو تھکا دینے کے بجاۓپرسکون رہنے کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے.
اپنا بستر اور کمرہ صاف کرنے میں اسے معمول سے زیادہ وقت لگا پھر اس نے خود کو ﺫرا زیادہ اچھی طرح سےتیار ہونے دیا.تاکہ زیادہ ہشاش بشاشنظر آۓ.اس نے سائی کی گفٹ کی چیک شرٹ پہنی کارل کا گفٹکیاکوٹ اور بالوں کوہیئرجیل لگا کر شیٹ کیا.
کارل اس کے کمرے میں آیا”یہ لو اپنا ناشتہ”
لیپ ٹاپ کو بندکرتے اس نے کارل کی لائی ٹرے کو دیکھا تین عدد موٹے تازے سینڑوچز اور کافی کا مگ…مجھے نہیں کرنا ناشتہ..!” اس نے ہنسی دبا کر کہا.
برننگ مین ایونٹ میں آگ کے مختلف کرتبوں میں عالیان نے کارل کو ہرایا تھا.اب کارل کو اسے لنچ کروانا تھا.اور لنچ سے پہلے وہ اسکا پیٹ اچھی طرح سے بھر دینا چاہتا تھا جبکہ اپنی باری وہ تین تین وقت رہا کرتا تھا.
"آج تم فوج بھی لے آؤتو آج میں ناشتہ نہیں کروں گا”عالیان نے اسے اور جلانا چاہا.
” فوج کا سربراہ آگیا ہے کافی ہے…”اسنے بڑھ کر دروازہ لاک کیا.
شرافت سے انھیں کھا لو ورنہ مجھے تمھارا منہ کھول کر انہیں اندر ﮈالنا پڑے گا.اور یہ کوٹ اتار دو اس پر کافی کے داغ لگ سکتے ہیں. ”
عالیان نے اپنا موبائل نکالا اور دو منٹ بعد لاک کھلنے کی آواز آئی.شاہ ویزاور سائی دروازے میں کھڑے تھے.عالیان نے پہلے سے ہی چابی شاہ ویز کو دے دی تھی.اور اس نے موبائل پر بیل دی تھی اور دونوں نے کارل کی لائی ٹرے پر ہلا بول دیااور عالیان دروازے کے باہر کھڑا ہوگیا.
میں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا.اپنی جیب بھر کے نکالنا آج…آج لنچ میں میں تھیں بھی کھا جاؤں گا”کہہ کر وہ بھاگ گیا.
اچھا کیا تم نے یہ سینڑوچز کھا لیےورسٹ فلور پر جو جوئیل ہے نا,اسے میں جا کر بتا آتا ہوں کہ اسکی جو ناشتے کی ٹرے غائب ہوئی ہے وہ کہاں ہے.کارل دانت نکال کر فرسٹ فلور کی طرف بھاگا.
یونیورسٹی سے عالیان ہارٹ راک آگیا.کارل نے لنچ ٹال دیا تھاوہ جانتا تھا کارل ایک دو دن ایسے ہی ٹالے گا, پھر بھی وہ ایک بھاری بل کی ادائیگی سے نہیں بچ پاۓ گا.
ہارٹ راک میں داخل ہوتے ہی اسے سامنے مینیجر نظر آیا.جو غیر معمولی بات تھی.اس کے تاثرات کافی حیران کن تھے.اور اس کی آنکھوں میں ایسا اچھنبا تھا جیسے وہ پہلی بار عالیان کو دیکھ رہا تھا.
تم ٹھیک ہو.کارل نے شرارت سے اسکی ٹھوری کو چھوا.
"ہاں…!” اس نے بھی مسکرانے کی کوشش کی.
آج کیفے خالی کیوں ہے کوئی ایشو..
"پرائیوٹ بکنگ” کہتے اس نے ترچھی نظروں سے تن کر کھڑے اور چاق و چوبند نظر آتے دو گارﮈ نما آدمیوں کو دیکھا.
"اوہ..” اس نے سیٹی بجائی..”پورا کیفے”
ہاں…”
اور اسٹارف…”
تم اس طرف چلے جاؤ..”مینجر نےاندر ایک ہال کی طرف اشارہ کیا.
اسٹاف میٹنگ ہے..”?
مینجر نے اسکا سوال سنا لیکن جواب دیے بغیر وہ اپنے آفس کی طرف چلا گیا.مینجر کے انداز پر اسے حیرت ہوئی.لیکن پھر بھی وہ اسکی ہدایت پر عمل کرتے اسٹاف میٹنگ کا سوچتے اسہال کی طرف آگیا جس کی طرف اسے جانے کا کہا گیا تھا.
یال میں چوکور میزوں میں سے ایک کے گرد ایک شخص قیمتی تھری پیس میں ملبوس ,عجلت کا انداز لیے اپنی گھڑی کو دیکھ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سےاپنی ٹھوڑی کو مسل رہا تھا..
Pg #178
تھوڑی کو مسل رہا تھا۔ اس کا سر اس انداز میں اور ایسی بے نیازی لیے ہوۓ اٹھا ہوا تھا جیسے اس کی سلطنت کی رعایاء سامنے زمین پر بیٹھی تھی اور وہ ان پر اپنے من چاہے احکامات نافد کرنے جا رہا تھا۔ اس کا پہلا تاثر مطلق الغان کا تھا اور اگلا تاثر پہلے کی گواہی۔۔
سامنے میز پر پرچ میںکافی کپ اوندھا پڑا ہوا تھا۔ آہٹ پر احکام صادر کرنے والے شخص نے سر اٹھایا اور عالیان پر اس کی طرف آنے والی روشنی روک لیتے وجود کی حقیقت کھل گئ۔
سیاہ تل نے ساری روشنیاں کسی سیاہی چوس کی طرح جزب کرلیں۔
چھناکے سے ہال کی چھت سے جھولتے قمقے ٹوٹے۔۔
گزر چکے سب ہی وقت کی دبی دبی سسکیاں اور آہیں اپنی قبروں سے اگل دیں۔
کچے گوشت کے جلنے کی بو اس کے نتھنوں میں گھسی اور دنیا بھر کی مخلوق اور ماداوں کا درد زہ اسکے وجود سے لپٹ گیا۔۔ ہال میں پھیل گیا۔۔آہیں اٹھیں۔
یہ اس کے اندر شدید خواہش رہی تھی یا شدید نفرت کہ اس کی نظریں آنکھ کے کنارے پر برجمان تل پر ٹھر گئیں اور جیسے ایسا تل ساری دنیا میں کل انسانیت میں ایک ہی انسان رکھتا تھا ۔۔ اور یہ وہی انسان ہی تو تھا۔ کھڑے کھڑے وہ اپنی ہی پرچھائیں بن گیا اور اس پر اپنے گپت ہونے کا ادراک ہوتا۔۔ سمعی بصری قوتیں در فنا میں پناہ لینے کو ہوئیں اور عالم فنا کا شور عالم وجود میں کانوں کے پردے پھاڑنے لگا۔
اس کی سانسوں نے باد سموم (زہریلی ہوا)کی موجودگی کو محسوس کیا۔
چار بھوری آنکھیں اٹھیں۔ایک دوسرے کی سمت۔۔
"اورجس دن میں اور ولید پہلی بار ایک چھت تلے اکھٹے ہوۓ، مجھے یقین ہوگیا کہ اس سے تعلق مجھ پر واجب تھا۔۔ اور اس سے محبت مجھ پر فرض۔۔”
اٹھ کر ملیں اور ٹھر گۓ۔۔
"جب وہ سو جایا کرتا تھا میں جاگ جاگ کر اسے دیکھا کرتی تھی، میں اپنی سانسوں کی آمدورفت کو اتنا بے ضر بنا لیا کرتی تھی کہ وہ اس کی نیند میں مخل نہ ہوسکیں اور اسے جی بھر کر دیکھتے رہنے کا میرا خواب ٹوٹ نہ جاۓ۔۔”
عالیان نے اتنا لمبا سانس لیا جیسے آخری سانس۔۔
"جب وہ مجھے دیکھاکرتا تھا تو مجھے یقین ہوجایا کرتا تھا کہ مجھے خاص اسی مقصد کے لیے بنایا گیا ہےـ اگر وہ مجھے نہیں دیکھے گا تو میرے ہونے کا مقصد ختم ہوجاۓ گا۔۔”
وہ کھڑا ہوا اور چل کر اس انداز میں اس کی طرف آیا جیسے سدھاتے ہوۓ جانور کی پشت پھیرنے کا ارادہ ہو۔
وہ مہزوم(شکست خوردہ)بنا کھڑا تھا کہ اس کی پشت پر ہاتھ پھیرا جا سکتا تھا۔
اس کے اندر دفن بند تابوتوں کے ڈھکن ایک جھٹکوں سے کھلے اور اسے صاف صاف مارگریٹ دیکھائ دینے لگی۔۔ رونا۔۔ تڑپنا۔۔ ہاتھ کاٹ لینا۔۔ بڑبڑانا۔۔ چلانا۔۔ بھول جانا۔۔ بھٹک جانااور پھر "سرد ” ہوجانا۔۔
آہیں۔۔ صدائیں۔۔ واویلا اور خاموشی۔
"میں نے تمھیں پھچان لینے میں وقت نہیں لیا۔”
ولیدالبشر نے اپنے دونوں ہاتھ کہنی سے اوپر اس کے بازوؤں پر رکھے اور اسے جوش سے جھنجھوڑا۔
"اس کے ہاتھ کو ہاتھوں میں لے کر بیٹھے رہنے کے خواب میں نے ہر رات دیکھے۔ میں ہر رات ایک ہی خواب دیکھ لینے پر قدرت حاصل کر چکی ہوں۔ جو بھی ہے۔۔ میں ہر رات اہتمام سے اس خواب کے لیے خود کو تیار کرتی ہوں۔”
"تم میں میری کتنی شباہت ہے”
ولیدالبشر نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ عالیان بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس کے لوٹ آنے کی دعائیں میں نے اتنی
کثرت سے کیں،جیسے لمحوں میں بنجر زمین پر جنگل اُگ آۓ اور اس جنگل میں ، میں نے اپنی باقی مندہ قوتوں کو اکھٹا کر کے اس کے نام کی صدائیں لگائیں۔۔”
pg #179
"میرے بیٹے دیکھو۔۔ دیکھو اپنے باپ کو” اس نے اسکے سینے کے مقام پر جوش سے ایک گھوسا مارا۔
"اب ہم ایک ساتھ ہیں۔۔ میں تمھارے سامنے کھڑا ہوں۔۔ تمھارا باپ۔۔ ولیدالبشر۔۔”
"میں نے ایک افریقی جادوگر کو اپنی جماپونجی تھما دی اور اس کے کہے پر ایمان لے آئ کہ ولید ضرور آۓ گا۔”
"وہ آگیا ہے”عالیان بڑبڑایا۔۔ "افریقی جادوگر نے وقت کیوں نہ بتایا۔؟” آواز اس کے اندر چکراتی رہی۔
"کچھ بولو مائ سن۔۔ میں نے تمھاری آوازیں خوابوں میں سنی ہیں۔!”
” جان لو مارگریٹ۔۔ آفاق ایک احرام ہے جس نے تمھاری ساری دعاوں کو حنوط کر دیا ہے اورکوئی ایک بھی دوا آسمان کو چھید کر ولید کو چین لانے کی طاقت ن نہیں رکھتی،مجھے اپنی قوت دوا پر ملال رہے گا ۔۔”
حال کی دیوار پر مارگریٹ کی فلم چل رہی تھی ایک کے بعد اگلا منظر۔۔پھر اگلا۔۔آخری منظر میں وہ سرد تر ہوتی جارہی تھی، یس کی آواز کی لکنت یس کی ناپید ہوتی قوت کا نشان دی رہی تھی۔
"اس کے ساتھ گزری ساعتیں میں گنوانا نہیں چاہتی مے اپنی آنکھیں بینڈ کر لینے کو ہوں اور ان آنکھوں میں اسے مقید۔۔ مے ماضی کا حصّہ بننے جا رہی ہوں لیکن میں انھے ماضی کے سپرد نہیں کرونگی ۔۔اگر ارواحکو دیا کا موقع دیا جایگا تو میری پھیلی پھر سے وہ ہوگا اور آخری بھی۔۔”
یس کی کندھے پر ایک ہاتھ آکر ٹھر گیا۔۔وہ ہاتھ اس کے داۓ گال پر آیا اور گال کو نرمی سے مسلنے لگا۔۔
"عالیان !”یس نی آواز کو روح میں اور انگلی کو دل پر محسوس کیا۔ ہال کی دیواروں پر بھاگتی دوڑتی مارگریٹ کی فلم اندھیروں میں گم ہونے لگی۔
"عالیان !”ہاتھ گال مسل رہا تھا۔
اسے دق مائیں ملی تھیں۔۔ باپ نہیں۔۔ اسکی آنکھيں لبالب بھر گئیں۔ اسکے باپ کا ہاتھ اسکے گال پر تھا۔وجود میں آنے والا ، وجود میں لانے والے کی بہت قدرکرتا ہے۔ خون میں ایک ابال ہوتا ہے جو دنیا کی کسی آگ سے نہیں ابلتا اور خونی رشتے کی صرف آنچ سے ابل کر چھلکنے لگتا ہے۔دنیا میں کسی بھی انسان سے دل کھول کر نفرت کی جاسکتی ہے۔ خونی رشتے سے نفرت کرنے کے لیے پتھر سا دل چاہیے۔ اسکا دل چاھا۔۔ حتہ کہ وہ مٹتے بنتے مارگریٹ کی زندگی کے مناظر دیکھ رہا تھا کہ وہ اس چوڑے سینے میں سر دے لے اور پھوٹ پھوٹ کر روۓ اسنے چاہا کہ وہ اپنی یاداشت کو گم کردے اور ولیدالبشر سے ناپسندگی کا جذبہ بھولہ بسرا کردے۔ ہاں وہ خود سے کیے گیے وعدے سے وعدہ خلافی کردے۔۔اس کے سامنے اسکا باپ کھڑا تھا۔۔اس کے قد کے عین برابر۔۔ اسکی آنکھوں کے عین سامنے۔۔اسکے گال اور شانے اس گرمی سے دہک رہے تھے جو اسکا باپ اسکے وجود میں منتقل کر رہا تھا۔اسکے دل کے مقام پر گھونسا پڑا۔ وہ اسے گمشدہ مسرت سے لبریز کر دینے کو تھا۔
"بہت بڑے ہو گۓ ہو تم ہاں۔۔!تمھیں ہونا ہی تھا۔” ہاتھ اسکے سر کے بالوں تک گیۓ!اسنے خود کو ایک قدم پیچھے کیا۔
ولیدالبشر نے ذرا چونک کر اس خاموش کہڑے مجسمے کو دیکھا جسے عربی ہاتھوں نے بغربی ڈھب میں ڈھالا تھا جس کے چوڑے شانے اور اونچا قد اسکے مضبوط ہونے کی دلیل دے رہے تھے اور جس کی عرب رنگ آنکھيں اتنی بے تاثر تھیں جیسے وہ سدا روشنی سے انجان رہی ہیں اور جن کی بینائ کا واسطہ صرف اندھیرے سے رہا ہے۔
” دیکھو عالیان۔۔!میں نے تمھیں ڈھونڈ نکالا۔۔” دو قدم خود کو پیچھے لے جاتے ولیدالبشر نے دونوں بازو وا کر دیے۔۔ اس اونچے، لمبے، طاقتور مرد لو قابو کرلینے کے لیے نس اتنا ہی کافء تھا۔
عالیان کے جسم میں سنسناہٹ ہونے لگی۔
pg #180
وہ چار قدم پیچھے ہوا ور نامحسوس انداز میں گہرے گہرے سانس لیے مارگریٹ کی ڈوبتی ابھرتی تصویروں پر ابھی بھی اسکی نظر تھی۔
"مجھے گم کیوں کیا تھا؟” الفاظ کو اس نے جان لگا کر بے تاثر رکھا۔
ولیدالبشر ٹھٹک کے رہ گیا۔عالیان کے سوال پر اس کے تاثرات نے حکم عدولی کی مہر لگائ۔اس نے اپنی نظریں بدلیں پھر ان میں معملہ فہمی چہلکنے لگی۔ عالیان نے ان بدلتے تاثرات کو بھانپ لیا۔
"تمھارا باپ تمھارے پاس پہلی بار آیا ہے۔۔اس کے سینے سے لگنے سے پہلے ایسا سوال کوئ بھٹکا ہوا ہی کر سکتا ہے۔”آواز میں دبا دبا سا جلال تھا اور الفاظ سے زیادہ ان کی ادائیگی میں ایسی طاقت تھی کہ عالیان نے سوچا کہ اگر یہ شخص ” میں مر رہا ہوں، میری بانہوں میں آجاو” کھ دیتا تو وہ اسکے قدمو میں جا بیٹھتا۔ اب میرا باپ میرے پاس پہلی بار کیوں آیا؟ اس نے خود کو مضبوط کرنا چاہا جبکہ اسے یقین ہونے لگا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کو اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کی سب آوازیں سنائ دے رہی ہیں۔ ” تمھیں سب معلوم ہوجاۓ گا۔۔ میں بتاؤں گا ۔۔ آو میرے ساتھ یہاں بیٹھو۔۔ ” پیشانی پر ناگواری کی لکیریں ابھریں اور اسکی آواز کی خود ساختہ نرمی معدوم ہونے لگی۔
عالیان ، مارگریٹ جوزف نہیں بننا چاہتا تھا۔ وہ ڈٹ کر کھڑا تھا،گو ایسا کرنے میں بہت سی قوت حائل تھیں۔
"مجھے کھڑا رہنے دیں تاکہ ہم دونوں کو چلے جانے میں آسانی رہے۔”اس کی آواز کھردری ہوگئ۔
کرسی کو اس کے لیے باہر نکالتے ولیدالبشر کے ہاتھ روک گۓ اور جم زدہ گردن پر ناگواری کی چھپی ہوئ۔۔ نسسیں بھی ابھر آئیں مگر انہیں فوراً چھپا لیا گیا۔ لیکن عالیان دیکھ چکا تھا۔اسکی نظر سامنے موجود انسان کی ایک ایک جنبش پر تھی۔
"ہم جائیں گے تو ایک ساتھ جائیں گےـ” ولید مسکرایا۔
"ایک ساتھ کا مطلب جانتے ہیں آپ۔۔۔”
اب ولیدتھوڑی کو مسلتے اسے دیھکنے لگا ایک ایسےکہلاڑی کی طرح جسے اپنا اگلا مہرہ چلنا تھا ورنہ بساط اُلٹ جاتی۔
"پتہ نہیں اس عورت نے تمھیں میرے بارے میں کیاکیا کہانی بنا کر سنائ ہے۔”
"انہیں لیڈی مہر کہۓ۔۔ میں ان کے لیے احترام کی درخواست کروں گا۔”
"میں مارگریٹ کی بات کر رہا ہوں۔”
ولیدالبشر کے منہ سے اس نام کے نکلتے ہی وہ ٹھیک اس جگہ پر جا کے کھڑا ہوگیا جہاں سے چلا تھا۔” سرد مردہ ہاتھ سے ہاتھ چھڑاۓ جانے سے۔”
"ایسی سختی اور نخوت سے ماما کا نام مت لیں۔ـ” وہ چلا اٹھا۔
ولید نے اسے سرد نظروں سے دیکھا۔ "تمھارا انداز بتا رہا ہے کہ تمھیں میرے بارے میں غلط بتایا جاتا رہا ہے۔”
"ہوسکتا ہے اب آپ ٹھیک بتا دیں۔۔” ولیدالبشر نے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو انگھوٹے کے ساتھ رگڑا۔۔شاید عادتاً اس کی جھکی ہوئ بھنوئیں ذرا سا اور جھک گئیں،اور عالیان نے ان میں وہ رنگ دیکھا جو آسمان پر ُاڑتے باز پر نشانہ باندھے شکاری کی آنکھ میں اس وقت ابھرتا ہے جب وہ ٹریگر پر انگلی کا دباؤ بڑھانے والا ہوتا ہے۔اور باز کا شکاری تند خو اور دورفہم ہوتا ہے۔۔آسمان سے جالینے والا۔۔۔ صرف شست ہی باندھ کر مار دینے والا۔
میں نے مارگریٹ کو اچھی عورت سمجھ کر شادی کی.وہ مجھے چھوڑ گئی اور تمھیں بھی لے گئی اور میں پاگلوں کی طرح تمھیں ﮈھونڑتا رہا.اتنے سال میں کہاں کہاں نہیں گیاپھر مجھے معلوم ہواکہ اس کی موت واقعہ ہو گئی ہےمیں بہت مشکل سے تم تک پہنچا ہوں عالیان…
اور جس آنچ سے اسکے خون میں ابال اٹھے تھےوہ خون ایک دم سےسرد ہوگیا.وہ استہزائیہ ہنس دیا
"ناروۓ کے ہوٹل میں کس عورت کو طلاق اور دھتکار دی تھی آپ نے?.
ولیدالبشر کو جھٹکا سا لگا.اسے بتایا گیا تھاکہ وہ بہت چھوٹا تھا جب اسے بے سہارا بچوں کے ادارے میں داخل کروایا گیا تھا اسے توقع نہیں تھی کہ اسےاس بارے میں بھی معلوم ہوگا.
جس فلیٹ میں شادی کر کے انہیں رکھا تھاوہ اسی فلیٹ میں مر گئی تھیں تو آپ انہیں کہاں پاگلوں کی طرحﮈھونڑتے رہے تھے.میری پیدائش سے پہلے آپ انگلیڑ چھوڑ چکے تھے.بہت آسانی سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہےکہ دوبارہ آپانگلینڑ آۓ…
میں اپنے دوست کو بھیجتا رہا تھا تمھیں ﮈھونڑنے…اپنے انداز کی تلخی کواس نے بمشکل قابو میں کیا..
آپ خود کیوں نہیں آۓ?
مجھے انگلینڑ سے نکال دیا گیا تھا. میرے کاغزات میں گڑبڑتھی.مارگریٹ نے مجھ سے رابطہ ختم کر دیا تھا”
آپ کی نیت میں گڑبڑ تھی مجھے یقین ہے اس کا.انگلینڑ سے نکلتے ہی آپ نے ناروے میں شادی کر لی تھی فورا…
وہ میری مجبوری تھی.
میں کیا تھا….ضرورت…مجبوری…خواہیش…وقت گزاری…?
میں صرف اسلیۓ غلط نہیں ہو سکتا کہ تم سے الگ رہا…تم غصے میں ہو.
آپ جھٹ بول رہے ہیں ..ایک ساتھ اتنے جھوٹ بول دیےآپ نے…”
خود کو پر سکون کرو…تھوڑے نارمل ہو جاؤ..
ٹھیک ہے ..اگلی بار پھر اتنے ہی سالوں بعد آئیں گا شاید میں نارمل ہو چکا ہوں.وہ پلٹ کر جانے لگا.
کیا چاہتے ہو تم?
آپ کیا چاہتے ہیں?
میں تمھیں لینے آیا ہوں..”اتنے سالوں بعد کیوں? مجھے صرف سچ سننا ہے ورنہ کچھ نہیں..
ولیدالبشر نے اپنے اندرتیزی سے جوڑ توڑ کیے.
میں نے مارگریٹ کو طلاق دے دی تھی, یہ میرا حق تھا اور وہ غصے میں آگئی…
جب ناروے میں وہ آپ کو میرےبارے میں بتا رہی تھیں تب آپ نے کیا کہا تھا.
میں سمجھا وہ جھوٹ بول رہی ہے.
نہیں آپ سمجھے میں آپ کا نہیں کسی اور کا بچہ ہوں.ہتے وہ ﺫرا شرمندہ نہیں ہوا.حکم عدولی کرنے والوں کودی ھانے والی سزاکے اعلان کرنے کے انداز کو ولید نے بمشکل دبایا.
"کسی اور کے بچے کو اب کیوں سمیٹنے آۓ ہیں?”
یہ غلط ہے …جھوٹ ہے.
عالیان ایک کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گیااور خود کو سوچنے کے لیے وقت دیااس کے سامنے ایک صحت مند خوش شکل,قیمتی لباس اور جوتوں میں ملبوساسکا باپ کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں وہ گھڑی تھی.جو ایک معروف کمپنی آرﮈر پر صرف "ایک” تیار کرتی ہے.ولیدالبشر کی کھال پر ایکجھری نہیں تھی وہ اپنی صحت کا بہت خیال رکھتارہا تھا.وہ اسکن سرجری سے کئی بار گزر چکا تھا.اسکی خوبصورتی اسکا لباس اسکا انداز اسکے الفاظ اسکےتاثرات کوئی ایک بھی چیزاس بات کی گواہی نہیں دے رہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے غم میں گھلتا رہا ہے.اسکی ماں گھل گھل کر مر چکی تھی.اور اسکا باپ کھلا گلاب بنا
اس کے سامنے موجود بیٹے کی جدائ پڑ رونا چاہتا تھا …
‘یہ صرف میرے لیے یہاں نہیں آیا ‘ عالیان نے اپنا سر پکڑ لیا اور ولیدالبشر نے آ گے بڑھ کر اسکے سر بوسہ لیا
‘تم خود کو پر سکون رکھو اور آؤ میرے ساتھ. یہ میری بدنصیبی تھی کہ میں نے تمہیں کھو دیا .. زندگی نے بہت برا کیا میرے ساتھ .. مجھے معاف کر دو.. لیکن اس میں میرا کوئ قصور نہیں تھا’
عالیان سر جھکائے ہی رکھا ..اسکی ماں کا ایک آنسو گرتا تھا تو وہ تڑپ اتھٹآ تھا اسکا باپ رو کر اس کا بوسہ لے رہا یے اور وہ بت بنا بیٹھا ہے ..
‘آپ میرے باپ بننے آئے ہیں اور مجھے آپ کا بیٹآ نہیں بننا مجھے آپ میں دلشسپی نہیں ھے اور ہو گی بھی کیوں ? ‘ عالیان نے بہت کھردرے اور غیر جذباتی انداز سے کہا وہ ایسے سپاٹ ہو گیا جیسے مشین ھو
‘تمہارا باپ ایک کامیاب بزنس مین ھی اور تمہیں اس میں دلچسپی نہیں’الٹی طرف سے ولیدالبشر نے وہ پتا پھینکا جسے سیدھے سیرھےاور صاف صاف عالیان نےپڑھ لیا وہ ذرا سا چونکا اور اس کی نظروں سے ٹپکتی لالچ ولیدالبشر نے تاڑ لی اور خود کو داد دی
‘ میرا سب کچھ تمھارا ھی ھے میں سمجھ سکتا ھوں کہ تم نے کیسے زندگی گزاری ھوگی میرا پاس بہت کچھ ھے عالیان .. میں تمہیں بہت کچھ دے سکتا ہوں’
اور اس باز کو مار گراتے وہ چوک گیا اسکا انداز کا روباری ھو گیا اور وہ بھول گیا کہ اسے فیالحال ایک غم زدا باپ کا ہی کردار نبھاتے رہنا تھا …
خصلت پانی میں تیرتا ھواکاگ ہے جو زیر پانی رہ ہی نہیں سکتا اسے اوپر آنا ہی ھے …
‘میں نہیں مانتا کہ آپ کے پاس کچھ ھوگا چند ہزارڈولرز کے سوا ‘ اس نے لالچی اندازاپنا لیا
‘اس پورے ہارٹ راک کو بک کروانے کے لیے جا نتے ہو کتنے ہزار پونڈز چاہیں’
:وہی چند ہزار نا میرے پاس اس سے زیادہ پیسے ہیں ماما مہر کے پاس اس سے زیادہ دولت ہے’
‘تمھاری ماما مہر کے پاس میری دولت کا ایک حصہ بھی نہیں ہوگا’ولید چڑگیا
‘اچھی بڑ ہے ‘ عالیان بھر پور استہزائیہ ہنسا
‘بڑ نہیں ھی یہ ‘ ولید غصے سے بھڑک اٹھا .
شاید اسے اپنی دولت اتنی پیاری تھی کہ اس پہ طنزاسکا گوارہ نہیں تھا ..وہ تیزی سے ہال سے باہر گیا اور وا پس آ کر ایک فائل اسکے سامنے رکھ دی
‘اسے کھولو اور پڑھو میری کمپنی اور اس کے شیئرز کتنی مالیت کے ہیں ‘اسکا انداز ایسا تھا جیسے کہتا ھو … دیکھو .. پڑھو .. ولیدالبشر کےنا قیمتی ہے کیا سمجھ کر تم ایسے قیمتی انسان سے ایسی بات کر رہے ہو
اور بس ایک پل لگا عالیا ن کو بات سمجنے میں .. اسکا شک یقین میں بدل گیا اور اس پقین پر اسکا دل پاش پاش ہو گیا موہوم سی جو امید تھی وہ دم توڑ گئی اندر ہی اندر اس حقیقت پر وہ رو دینے کو ہو گیا وی اس سے نفرت کرتا تھا اب اسے اب خود سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی .. تو بس یہ حیثیت ہے اسکی
اسکا باپ ایک بیو پاری… بیوہ امیر عورت ..کمپنی …. شیئرز… سگی اولاد .. سوتیلی اولاد …
ولیدالبشر نہیں جانتاتھا کہ وہ بز نس کا کتنا زہین اسٹوڈنٹ ہے عالیان نے فائل پر سرسری نظر بھی نہیں ڈالی تھی.. اسکی ضرورت ہی نہیں رہی تھی
‘میرے علاوہ آپکی کوئاولاد ہے? ‘ اپنی آواز کی لرزش کو قابو پا کر اس نے عام انداز اپنا کر یہ سوال پوچھا.
دکھ کا ایک سایہ ولیدالبشر کے چہرے کے پار ہوا ..
‘ہاں.. ایک بیٹا تھا’
‘تھا?’اب عالیان ساری کہانی ہی سمجھ گیا..
‘کار کے حادثےمیں اس کی ڈیتھ ہو گئ ‘ نیم دکھ کے تاثر کے ساتھ ولید خا موش ہو گیا…
پلیز آپ کی سہولیات کے لیے ہم پیج کو اچھے سے اچھا بنانے کی کوشش کریں گے اس کے لیے جاری ہے
72

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔