یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 35
"وقت تمہیں زندہ رکھے عالیان۔۔۔۔
بہاریں تم پر فدا ہو جائیں۔۔۔۔وہ تم سے جدا ہونے پر نالاں رہیں۔
قسمت کا قلم اگر تمہارے لیے کوئی دکھ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میں دعا کرتی ہوں کہ ایسا کرنے سے پہلے قسمت کی یاداشت کھو جائے اور وہ تمہارے نام دکھ لکھنا بھول جائے۔
جو دروازہ کھلتا ہے وہ بند بھی ہوتا ہے تم پر کبھی بند دروازوں پر دستک دینے کی نوبت نا آئے۔۔۔۔
رحمتوں کے دروازے تم پر کھلیں اور انہیں کبھی بند ہونے کا حکم نا ملے۔۔۔۔اور تمہاری جان میں آبِ حیات حلول کر جائے۔۔”
پورے چاند کے آسمان اور چن من ستاروں سے سجی رات میں وہ کھڑکی کے پاس کھڑی اپنے ہاتھ سے بنائے کارڈ پر لکھ دی گئی ان دعاؤں کو زیرلب دہرا رہی تھی’بار بار۔۔۔۔وہ ان میں مزید دعاؤں کا اضافہ کر رہی تھی۔
"بے سکونی کے سائے اندھےاور بہرے ہو جائیں،تم تک آنے کے لئے انہیں کوئی راہ دکھائی اور سجھائی نہ دے۔”
وہ کھڑکی میں کافی دیر سے کھڑی تھی ہر آہٹ پر اسے لگتا تھا بس وہ آگیا ہے جبکہ بارہ بجنے میں کافی وقت تھا۔
اور وہ وقت سے دس منٹ پہلے آگیا تھا۔
”ہیلپ !“
وہ بڑے آرام سے اُٹھا اور اس کی طرف آیا ۔امرحہ کی قسمت خراب کہ وہ پتلی گلی نما سٹرک بند تھی اور اس کے آگے سے ہو کر نہیں جا سکتی تھی۔
”ہیلپ…..ہیلپ۔“ساتھ اس نے بیگ میں سے فون نکالنا چاہا لیکن ہاتھوں میں اس بری طرح کپکپاہٹ تھی کہ بیگ کی زپ بھی نہیں کھول سکی،وہ بند گلی کے آخری دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی تھی اور وہ بڑے مزے سے اس کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔
”اب اگر ےتمہاری آواز نکلی تو میں تمہارا گلا کاٹ دوں گا۔“
”خدایا…..اے اللہ….“امرحہ نے بلند آواز سے کہا وہ بس بے ہوش ہو جانے کو تھی۔
”اللہ “وہ استہزائیہ ہنسا۔
دیوار کا سہارا لینا امرحہ کے لیے محال ہو رہا تھا وہ بس گر جانے کو تھی۔
”کیا ہو رہا ہے یہاں ؟“ایک تیز ٹارچ کی روشنی گلی میں چمکی۔ماسک مین تیزی سے بھاگ گیا ٹارچ والا گلی کے اس حصے کی طرف آیا جس طرف امرحہ تھی۔ خوف اور تکلیف کی وجہ سے امرحہ کو ٹھیک سے دیکھنےاور سمجھنےمیں وقت لگا ۔
”اوہ خدایا….. کیا ہوتا رہا ہے یہاں؟“ وہ امرحہ کو دیکھ کر بری طرح چونکا امرحہ نیچے بیٹھ گئی اس کے لیے کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا۔
”تم ٹھیک ہو “وہ گھٹنوں کے بل اس کےقریب بیٹھ گیا۔امرحہ نے خوف سے ہی اسے بھی دیکھا اور اُٹھنے کی کوشش کی۔
”ٹھہرو۔میں تمہارے لیے پانی لاتا ہوں۔“آدمی جلدی سے گیا اور پانی کی بوتل لے آیا۔
”لو یہ پیو اور اپنی سانسیں درست کرو۔پرسکون ہو جاؤ،میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔“امرحہ ہاتھ سے پسینہ صاف کرنے لگی۔اس کی سانسیں قابو میں ہی نہیں آرہی تھیں۔
”اس طرف ساتھ ہی میرا اسٹور ہےمیں کوڑا دان میں کوڑا ڈالنے آیا تو مجھے ہیلپ کی آواز آئی۔تم میرے اسٹور میں چل کر بیٹھ سکتی ہو ،آؤ میرے ساتھ میں پولیس کو فون بھی کرتا ہوں۔“
”نہیں پولیس رہنے دیں۔کیا آپ مجھے ٹیکسی میں بیٹھا سکتے ہیں ؟“
”رکو لڑکی! تم ایسے نہیں جا سکتیں تم غیر ملکی ہو تمہارے ساتھ مانچسٹر میں یہ سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا،جو ہم خود اپنے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے ۔آؤ میرے ساتھ۔“وہ نیم بوڑھا آدمی آگے آگے چلنے لگا ۔
امرحہ کو ناچار اس کے ساتھ جانا پڑا۔تھوڑے ہی فاصلے پر اس کا اسٹور تھا۔کہنی سے اوپر اس کے دائیں بازو میں کافی تکلیف تھی ،وہ جگہ خون سے گیلی ہو رہی تھی”تمہیں کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟“
”نہیں ….میں ٹھیک ہوں اسے میرا بیگ چاہیے تھا بس….“
تھوڑی دیر میں پولیس آگئی امرحہ نے سارا واقع بتا دیا ۔
”آپ پہچانتی ہیں اسے ؟“پولیس مین پوچھ رہا تھا۔
”وہ ماسک میں تھا“
”آواز ؟“
”نہیں جانتی اسے….آواز بھی نہیں۔“
”آپ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہیں اکثر ایسے اسٹوڈنٹ مذاق کرتے ہیں۔“
”نہیں ! وہ یونی اسٹوڈنٹ تو نہیں لگتا تھا اسے میرا بیگ چاہیے تھا۔“
”کیا اس نے مانگا تھا یا چھینا تھا؟“
”مانگا تھا۔میں نے نہیں دیا تو مجھے گرا دیا اس نے۔“
اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر بھی آپ نے اسے دینے سے انکار کر دیا جس میں صرف بیس پونڈز تھے،آپ کو ڈر نہیں لگا ؟“
بوکھلاہٹ میں میں نے انکار کر دیا سب کچھ ایک دم سے ہوا۔
پولیس کی ہی گاڑی اسے گھر چھوڑ گئی۔گھر آ کر اس نے بازو کا حال دیکھا گہرے رنگوں کی وجہ سے خون نظر نہیں آیا تھا فرسٹ ایڈ باکس کچن سے لا کر اس نے بڑی مشکل سے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کی پٹی کی فرسٹ ایڈ باکس میں کوئی انٹی بائیوٹک نہیں تھی اور اسے بازو پر کافی تکلیف ہو رہی تھی گرم دودھ میں ہلدی ڈال کر اس نے پی لی اور کمرے میں گم سم بیٹھ گئی۔
خاموش۔۔۔۔بلکل چپ
میں ایک بہادر لڑکی ہوں بہت دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے خود سے کہا میرے بازو میں تکلیف ہے لیکن میں اسے برداشت کر سکتی ہوں مجھے رونا آ رہا ہے لیکن میں روں گی نہیں میں خوف زدہ ہوں لیکن میں اپنے خوف پر قابو پا لوں گی عمل کا رد عمل ہے میں اسے اپنے عمل سے بدل دوں گی میں اسے ٹھیک کر لوں گی مجھے ڈرنا نہیں چاہیے میں اکیلی ہوں لیکن اکیلے ہونے کا مطلب یہ نہیں کے بزدل یا کمزور بن جایا جائے ویرا صبح کے قریب گھر آئ تھی عالیان کے کلاس فیلوز اور حال میٹس نے اس کے لئے برتھڈے پارٹی کا انتظام کیا تھا ویرا وہیں تھی رات بھر ۔۔۔۔۔روسی دھن کی سیٹی بجاتی جب ویرا اپنے کمرے میں چلی گئی تو امریحہ نے اٹھ کر اپنے بیگ میں سے کارڈز نکال کر الماری میں رکھے باکس میں رکھا پھول تو اس نے مسل کر آکسفورڈ روڈ پر ہی پھینک دیا تھا اگر وہ پھول عالیان کو دے بھی دیتی تو کیا وہ لے لیتا لے لیتا تو چلتے چلتے کہیں بھی پھینک دیتا وہ تو رات بھر مزے سے پارٹی کرتا رہا تھا امریحہ بھی مانچسٹر میں موجود ہے وہ تو یہ بھی بھول چکا تھا کبھی وہ اسکی دوست رہی تھی اس کبھی کے لئے ہی وہ اسے پارٹی میں بلا لیتا امریحہ شو اسٹور پر سارا وقت اس پارٹی کے بارے میں ہی سوچتی رہی تھی گھیسی ہوئی تین جینز کی پینٹون میں سے کوئی ایک اس نے پہنی ہو گی شاید ہلکے مٹے مٹے نیلے رنگ کی اور یونیفارم کی طرح جانی جانے والی کی کی بار استعمال کی جانے والی چند مخصوص ٹی میں سے کوئی ایک شاید کالی جس کی پشت پر موٹے تنا ور درخت کی صرف جڑیں سرمئی رنگ میں پھیلی پری تھی اور جو عالیان کو بہت پسند تھی یا شاید نیلی پر سفید وہی سفید جس کی فرنٹ پر سرچ می لکھا تھا
آخر تمہارا کیا مطلب ہے کیا ڈھونڈ لیا جائے تم میں سے؟
جنہیں کچھ ڈھونڈھنا ہو گا وہ کیا کیوں تو نہیں پوچھیں گے نا وہ تو بس کر گزرے گے
کیا کر گزرے گے ؟
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر بولا تم نہیں سمجھو گی
اور وہ نہیں سمجھی تھی ٹھیک کہا تھا اس نے اس کے پاس گھسے ہووے اور پرانے کپڑے ہی تھے یہ میں نے چار سال پہلے لی تھی یہ تین سال پہلے یہ جوتے یونان جرمنی اور فرانس تک جا چکے ہیں ابھی بھی دیکھ لو کتنے اجلے آجلے ہیں اور مضبوط بھی ان کے ساتھ مزید تین چڑ ٹورز کے جا سکتے ہیں تم کافی کنجوس ہو۔پرانی شرٹس تم خود ہی تراش خراش لیتے ہو یا جو جو کو دے دیتے ہو اور وہ فرانس کی قدیم و جدید تجردی آرٹ تمہاری شرٹس پر بنا دیتی ہے مجھے تو اسکی بنائی علامتون سے بغاوت کی بو آئ
ہاہاہا باغی ہی ہے اس کے آرٹ سے بنی شرٹس جب میں پہنتا ہوں تو اسے بہت سے آرڈر ملتے ہیں اس لئے تو وہ اتنی امیر ہے میں تو اسکا چلتا پھرتا ماڈل ہوں اور میں کنجوس بلکل نہیں ہوں صرف فضول خرچ نہیں ہوں میرے اس کراس بیگ کو دیکھو،بتاؤ یہ کتنا پرانا ہے؟
کم سے کم دس سال پرانا امرحہ نے چڑ کر کہا
ہاہاہا نہیں یہ یونی کے پہلے دن سے میرے ساتھ ہے چند ایک بار پھٹ چکا ہے لیکن میں اسے سلا ئی کر لیتا ہوں دھو دیتا ہوں میں ایک یونی سٹوڈنٹ ہوں ماڈل نہیں جو نت نئے کپڑے پہن کر ہی یونی آ سکتا ہے بس۔ ۔۔۔۔یہ بیگ یہ جوتے اور کپڑے صرف استعمال کی چیزیں ہیں انہیں چیزیں ہی رہنے دینا چاہیے جنوں نہیں بنا لینا چاہیے انسانی ترقی کا راز ان سے ہے نا یہ ترقی کے رضا کار ہیں ان کے لئے پاگل ہونا پاگل پن ہے
ایک سال میں تم کتنی کھریداری کرتے ہو ؟
بہت کم ضرورت پڑتی ہے مما،مورگن اور شارلت کرسمس پے گفت دے دیتی ہیں کچھ دوست جو موٹے ہو جاتے ہیں یا انکی وارڈ روب میں مزید کپڑوں کے لئے جگہ نہیں بچتی وہ کم قیمت پر نیلامی کر دیتے ہیں اگر بہت ضرورت ہو تو میں اور کارل وہ لے لیتے ہیں
تو تم پیسوں کا کیا کرتے ہو؟
اسکو حیرت تھی مما مہر کے بیٹے کی یہ حالت تھی وہ جاب بھی تو کرتا ہے
ویل یہ ایک راز ہے تمہارے پاپا کیا بہت امیر ہیں تم کتنے نت نئے کپڑے بدلتی ہو یونی کے پہلے دن جو تم نے لباس پھنا تھا وہ میں نے دوبارہ نہیں دیکھا وہ گرمیوں کے لئے تھا گرمی اے گی تو دوبارہ استعمال کروں گی
امریحہ جھوٹ بول رہی تھی اپنا وہ سوٹ وہ این اون کو دے چکی تھی کیوں کے امریحہ کو وہ اچانک سے برا لگنے لگا تھا اپنی طرف سے اتنی کفایت کے باوجود وہ ہر مہینے اپنے اسٹور سے کم قیمت پر دو جوڑے جوتوں کے لے لیتی تھی کافی ساری جینز لے چکی تھی ٹاپ بھی گرم کوٹ جیکٹس اور بیگز دستانے تو اتفاق سے اس کے پاس اتنے ہو چکے تھے انہیں کاٹ کر سی کر ایک نیا سویٹر بن سکتا تھا اسے دستانوں کی لباس کے ساتھ میچنگ کا اتنا خبط ہو گیا تھا اور پاکستان سے جو وہ گرم کپڑے لائی تھی ان کے ساتھ دستانے میچنگ کرتے کرتے بس ہی ہو گئی تھی
امریحہ عالیان کی شرٹس کو انگلیوں پر گن سکتی تھی اور گن رہی تھی تو اس نے پہلے جو جو کی تجردی آرٹ سے سجی شرٹ پہنی ہو گی بلیک جینز پر اس نے پھونک ماری ہو گی اور کیک کاتا ہو گا اور کارل کے منہ میں ڈالا ہو گا شاید کیک کارل نے ہی کاٹ لیا ہو اور موم بتیوں کی جگہ کوئی راکٹ فٹ کر دیا ہو اور کیک عالیان کے منہ میں ڈالنے کی بجاے منہ پر تھوپ دیا ہو ساتھ ساتھ ان غباروں کو پھوڑا گیا ہو گا جن میں کارل نے پٹاخے بھرے ہوں گے جو زمین پر گرتے خود با خود پھوٹنے لگتے ہیں کان پھاڑ دینے والی آوازوں کے ساتھ پٹاخوں کے گرتے ہی سب چیخیں مرتے ادھر ادھر بھاگے ہوں گے خاص کر لڑکیاں
اور پھر تیز میوزک لگایا گیا ہو گا سب ساتھ ایک آواز میں گاتے ہوں گے
its my friends birthday
so dance buddy dance…..dance
عالیان کے گرد انہوں نے گول دائرہ بنا لیا ہو گا ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے وہ شانے دائیں بائیں لگاتے جھومتے جاتے ہو گے
its my friensz birthday
so i m dancing
امریحہ گم سم حالت سے چونکی
its my friends birthday
so i m praying
امریحہ نے آنکھیں بند کر کے اس کے لئے دوا کی اگلی صبح وہ یونی نا جا سکی دیر سے سو کر اٹھی۔اسے بخار ہو رہا تھا۔پہلے ڈاکٹر کے پاس گئی۔ڈاکٹر کو بتایا کہ حادثاتی طور پر وہ اپنا ایک بازو ایک لوہے کی سلاخ سے زخمی کر بیٹھی اس کے زخم میں سوجن تھی بہت اور اس کے لیے بازو کو حرکت دینا مشکل تھا۔اسے ہر حال میں یونی جانا تھا ،لیکن اس کا بخار بڑھ رہا تھا ،اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔وہ آدھے راستے سے ہی گھر واپس آگئی ،تیز دھار چاقو اس کی کھال میں گھسا تھا زخم تازہ تھا تو اتنی تکلیف نہیں تھی،لیکن اب تو اس برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا۔وہ گھر آکر سو گئی ۔
اسے اتنا تیز بخار ہوگاا کہ وہ مدہوشی میں بڑبڑانے لگی۔سادھنا رات اس کے کمرے میں ہی سوئی اور جب اگلی صبح وہ اسے سوپ پلا رہی تھی تو وہ تذبذب سے امرحہ کو دیکھنے لگی۔
”اگر یہ سوپ تم نے پینا ہے تو پی لو پلیز مجھے ایسے نہ دیکھو۔“امرحہ نے مذاق کیا ۔
”تمہارے اور عالیان کے درمیان کچھ ہوا ہے؟“
”کچھ کیا….کچھ بھی نہیں ….دائیں بازو کی تکلیف پورے جسم میں ڈورگئی۔
”ویرا عالیان کی برتھ ڈے پارٹی میں گئی تم کیوں نہیں گئیں ؟“
”تمہیں تو معلوم ہے یہ لوگ کیسی کیسی شرارتیں کرتے ہیں پارٹی میں،دادا نے منع کر دیا۔“
”تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نارضگی ہے،پہلے تو تم اس کی کافی باتیں کرلیا کرتی تھیں میرے ساتھ…؟“
”نہیں….وہ مصروف ہوتا ہے بہت…..اس کے اور دوست بھی تو ہیں،میں اس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوں۔“
”کیا تمہیں یہی دکھ ہے کہ تم اس کے لیے اتنی اہم نہیں …؟“
”دکھ….نہیں دکھ کیوں ہو گامجھے؟“
”تو پھر امرحہ تم رات بھر اس کا نام لے کر روتی کیوں رہی ہو ؟“
امرحہ خاموش سادھنا کو دیکھتی رہی،لفظوں کو اس حلق سے نکلنے میں دقت درپیش تھی۔
”میں روتی رہی ہوں ؟“
”اتنی اونچی آواز میں کہ مجھے کمرے سے باہر جا کر دیکھنا پڑا کہ آواز گھر میں کہاں تک جا رہی ہے۔“
”بخار میرے سر کو چڑھ گیا ہو گا ۔“
”بخار…..تم اس طرح رو رہی تھیں کہ میں بھی رونے لگی۔میرا دل پھٹنے لگا اور میں نے پراتھنا کی کہ بھگوان تمہیں سکون دے۔“
”میں …میں دادا کو یاد کر رہی ہوں گی۔پتا نہیں ڈاکٹر نے کل کیسی دوا دی تھی۔“
”سادھنا نے کھڑکی کے پردے اُٹھا دیے،باہر روشن دن نکلا تھا،دھوپ چمک رہی تھی مانچسٹر کی دھوپ لاہور کی دھوپ کی چھوٹی بہن سی…..اوپری من سے روٹھ جانے والی سہیلی سی…..دوپٹے کا کونا دانتوں میں دبا کر دلہن بنی ننھی سی بچی کی ایویں،ایویں شرماہٹ سی اورکسی جان سے پیارے کی ”پکی کٹی سی بھی….
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔