ہم راہ (زویا حسن) قسط نمبر 9 _____________________…
ہم راہ (زویا حسن)
قسط نمبر 9
_________________________
مجھے ہارنے کا بالکل ڈر نہیں تھا۔۔۔ پہلی بار میں نے اسکے بارے میں اتنی گہرائی میں جا کے سوچا
تھا۔ میں نہیں جانتی ہم یہ کھیل جیتیں گے یا نہیں۔۔۔ پر اتنا ضرور ہے۔۔ میں احمر کو جاننے لگی تھی۔۔۔
میرے پاس سے گزرتے اس نے آنکھ کے اشارے سے ہنٹ مانگا۔۔۔۔ میں نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا اور مسکرا کے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
"ہر جواب دل سے دینا۔۔۔۔۔ ”
ہم اپنے پارٹنرز کو کسی طرح کا کوئی ہنٹ نہ دیں۔۔۔ اس لیے میزبان نے ہمیں دور کھڑا کردیا۔۔۔ ہماری پشت ان کی جانب تھی۔۔۔
سب سے پہلے پہلی جوڑی کا ٹیسٹ تھا۔۔۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ بیوی کے جوابات شوہر کے جوابات سے کتنے میچ ہوتے ہیں۔۔۔۔ سب کی دھڑکنیں تیز تھیں۔۔۔ یہ ٹیسٹ اب ہار جیت سے نکل کے اس پوائنٹ پہ آ پہنچا تھا جہاں یہ ثابت ہونا تھا کہ دونوں پارٹنرز ایکدوسرے کو کتنا جانتے ہیں۔۔۔۔ ۔۔
پہلی جوڑی کے تین جوابات میچ ہوئے۔۔۔ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔ دوسری جوڑی کی باری آئی ۔۔ ایک ایک کر کے پھر سے سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔ اس جوڑی کے دو جوابات میچ ہوئے۔۔۔۔ ان دونوں کے چہروں پہ واضح مایوسی تھی۔۔۔
اب احمر کے ہاتھ میں مائیک تھا اور پورے ہال کی نظریں ہم دونوں کے گرد گردش کررہی تھیں۔۔۔ میرے لبوں پہ صرف مسکراہٹ تھی۔۔۔ کسی طرح کا کوئی خوف نہیں تھا۔۔۔۔ شائد میرے لیے بھی ہار جیت بے مطلب ہو چکی تھی۔۔۔۔
"مسٹر احمر ایک ایسے شخص کا نام بتائیں۔۔۔ جن سے آپ سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔؟”
ایک پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔۔۔۔ احمر نے اک گہری سانس لی
"ویسے تو ہر بچہ اپنی ماں سے دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہے۔۔۔ لیکن اپنی ماں سے بڑھ کے اگر میں نے کسی کو پیار کیا ہے تو وہ میری بہن تھی۔۔۔۔ جو اب اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔۔ پر اسکی ایک نشانی میرے پاس ضرور ہے۔۔۔ جس سے میں دل و جان سے پیار کرتا ہوں۔۔۔۔۔ وہ میری ‘پَری’ ہے۔۔۔۔۔۔ آئی لوّ ہر سو مچ۔۔۔۔۔”
احمر کے اس جواب پہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔۔ مدیحہ گلہ پھاڑ پھاڑ کے چیخ رہی تھی۔۔۔۔ ارسہ۔۔۔ احمر۔۔۔۔ ارسہ ۔۔۔ احمر۔۔۔۔
"مسٹر احمر۔۔۔ اس دنیا میں جہاں پیار ہے وہیں نفرت بھی موجود ہے۔۔۔ جہاں ہم اپنی زندگی میں ایک یا ایک سے زیادہ لوگوں سے بے حد محبت کرتے ہیں وہیں ۔۔۔ ایک انسان ایسا بھی ضرور موجود ہوتا ہے جس سے ہم نفرت کرتے ہیں۔۔۔۔ آپ کسی ایسے شخص کا نام بتا سکتے ہیں جس سے آپ سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں۔۔۔۔۔” دوسرا سوال آیا
"میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ایک پل میں بھڑک جاتے ہیں۔۔۔ غصے پہ قابو نہیں رکھ پاتے۔۔۔۔ لیکن ایسے لوگ دل کے صاف ہوتے ہیں۔۔۔ وہ ایک ہی بار چیخ چلا کے اپنے اندر کی بھڑاس نکال دیتے ہیں۔۔۔ پر وہ کبھی کسی سے نفرت نہیں کرسکتے۔۔۔۔ میں بھی کسی سے نفرت نہیں کرتا۔۔۔”
ایک بار پھر تالیوں کا شور گونجا
"تیسرا سوال آپکے لیے یہ ہے کہ زندگی کا کوئی اچھا یا برا واقعہ جس سے آپکی پوری زندگی بدل گئی ہو۔۔۔ یا یوں کہیں کہ جس کا اثر ہمیشہ آپ کی زندگی پہ رہے گا۔۔۔۔؟”
"روڈ ایکسیڈنٹ میں میرے والد، بہن اور بہنوئی کی ڈیتھ نے نہ صرف میری بلکہ میری پوری فیملی کی زندگیوں کو اثر انداز کیا۔۔۔” احمر کی آواز میں ایک درد تھا۔۔۔
اس بار تالیوں کی گونج سنائی نہیں دی ۔۔۔۔
"ہر انسان کی زندگی میں چند ایسی خاص چیزیں ہوتی ہیں جنھیں وہ خود سے کبھی الگ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ مجھے آپ کسی ایک چیز کا نام بتائیں جسے آپ ہر چیز سے اوپر سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔؟”
"میری زندگی میں صرف ایک ہی چیز ہے جو سب سے خاص ہے۔۔۔ اور وہ میری فیملی ہے۔۔۔۔ میں زندگی کے ایک ایسے موڑ پہ ہوں جہاں میں اپنی فیملی کے بنا نہیں رہ سکتا اور میری فیملی میرے بنا۔۔۔۔۔ ”
میری آنکھیں نم ہوگئیں۔۔۔۔ پہلی بار میں نےکسی کو اتنا قریب سے جانا تھا۔۔۔۔ اور وہ بھی ایسے شخص کو جس سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔۔۔۔
"مسٹر احمر۔۔۔۔ اصولی طور پہ آپ یہ کھیل جیت چکے ہیں۔۔۔ لیکن پھر بھی ایک آخری سوال میں ضرور پوچھنا چاہوں گا۔۔۔”
احمر نے سر ہلایا
"ہم نے تھوڑی دیر پہلے آپکی مسز سے پوچھا تھا کہ پہلی بارجب لوگوں کی پہلی ملاقات ہوئی۔۔۔ اس وقت آپ نے کس رنگ کا لباس پہنا تھا۔۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے آپ انکے دیے گئے جواب کی تصدیق کرتے ہیں ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔؟”
احمر کی حالت بھی میرے جیسے تھی۔۔۔ وہ ہنس پڑا۔۔۔۔
"اس چیز کی تو میں گارنٹی دے سکتا ہوں کہ انکا جواب بالکل ٹھیک ہوگا۔۔۔۔ میں نے اس دن وائیٹ شرٹ، میرون ٹائی اور بلیک پینٹ کوٹ پہنا تھا۔۔۔۔۔” احمر کے منہ سے ایک قہقہہ نکلا۔۔۔ ساتھ ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔
"میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اتنا تال میل ان جوڑوں میں بھی نہیں ہوگا۔۔۔ جتنا اس نئے شادی شدہ جوڑے میں دیکھا گیا ہے۔۔۔۔ ” میزبان نے بھی تالیاں بجانا شروع کردیں
باقی دو جوڑیوں کو سٹیج سے نیچے بھیج دیا گیا ، اب میں اور احمر سب کی نگاہوں کا مرکز تھے۔۔۔۔
"اس سے پہلے کہ میں آپکی جیت کا اعلان کروں۔۔ میرے ایک دو مزید سوال ہیں جن کا آپ دونوں نے مل کے جواب دینا ہے” میزبان ہم سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
ہم دونوں نے سر ہلایا۔۔۔
"مسز احمر۔۔۔ !آپ نے جتنے بھی جوابات دیے ۔۔۔ اگرچہ ان سب کی تصدیق ہو چکی ہے۔۔ پھر بھی میرے سمیت اکثر لوگوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ۔۔۔ کسی جواب میں آپ نے اپنا نام نہیں لیا۔۔۔۔ حالانکہ کہ ایک دو چیزیں ایسی تھیں جن میں لوگوں کو صاف طور پہ لگ رہا تھا کہ آپ اپنا نام لیں گی۔۔۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔۔۔ اسکی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔؟ کیا آپ مسٹر احمر کی زندگی کا اہم حصہ نہیں ہیں۔۔۔ اگر ایسا ہے بھی تو اتنا تال میل کیسے۔۔۔۔ ؟”
میزبان کے اس سوال پہ ہم دونوں خاموش ہوگئے۔۔۔۔
"اگر آپ لوگ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے تو اٹس اوکے ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے۔۔۔ لیکن جس طرح آپ نے ایک پرفیکٹ کپل کی مثال قائم کی ہے لوگ آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں ضرور جاننا چاہیں گے۔۔۔۔” میزبان پھر سےمخاطب ہوا
احمر کی آنکھیں میرے چہرے پہ جمی تھیں۔۔۔۔
"میں نے بہت دفعہ ایک چیز کتابوں میں پڑھی۔۔۔ لوگوں سے بھی سنی۔۔۔ پر اس بات کا صحیح مطلب آج سمجھ آیا ہے۔۔۔ کہ۔۔۔ کسی انسان کو سمجھنے کے لیے بس ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔۔۔۔ شائد وہ وہی لمحہ تھا جب میں ارسہ نہیں بلکہ احمر تھی۔۔۔۔ ۔۔ جو انسان میرے بغل میں کھڑا ہے۔۔۔ اسے میں چند دن پہلے حادثاتی طور پہ ملی تھی۔۔۔۔ اس کے بعد کئی اور ملاقاتیں بھی ہوئیں۔۔۔ لیکن ہر بار ہمارے بیچ میں صرف لڑائی ہوئی۔۔۔۔۔ جھگڑا ہوا۔۔۔۔ دراصل اس کھیل کا حصہ بننے کے لیے فارم فِل کرنے تک ہم دونوں میں ایک بھی چیز مشترک نہیں تھی۔۔۔۔ ابھی جب ہم اس سٹیج پہ کھڑے ہوکے اتنے سارے لوگوں کی نگاہوں کامرکز ہیں۔۔۔ ہر جوڑا ایک حسرت بھری نگاہ سے ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔۔۔۔ لیکن آپ سب ایک حقیقت سے نا واقف ہیں اور وہ یہ کہ ہم نہ تو شادی شدہ ہیں اور نہ ہی ایک’ آئیڈیل کپل’۔۔۔۔ بلکہ دو اجنبی انسان ہیں۔۔۔ میں انکی فیملی سے بس ایک بار ملی ہوں۔۔۔۔ میں نے جتنے بھی سوالوں کے جواب دیے خود کو مسٹر احمر کی جگہ پہ رکھ کے دیے ہیں۔۔۔۔۔ ہم نے موج مستی میں ہی اس کھیل میں حصہ لیا تھا۔۔۔ لیکن کسی جھوٹ کی بنا پہ چند انعامات جیتنے کی غرض سے میں اس کھیل کو نہیں جیتنا چاہتی۔۔۔۔ شائد آپکو آپکے سوال کا جواب مل گیا ہوگاکہ کیوں کسی جواب میں اِرّسہ ۔۔ احمر کے ساتھ نہیں تھی۔۔۔ ”
میں نے مائیک ٹیبل پہ رکھا اور سٹیج سے اترنے لگی۔۔۔۔ احمر بھی میرے پیچھے پیچھے آگیا۔۔۔۔ میزبان کی زبان پہ چپ کا تالا لگ گیا۔۔۔۔ پر جیسے ہی ہم نیچے اترے۔۔۔ پھر سے تالیاں گونجنے لگیں۔۔۔۔۔
میں نے ایک نظر احمر کو دیکھا۔۔۔۔ اس کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ تھی۔۔۔ اور آنکھوں میں انجانی سے ایک چمک۔۔۔ میں نےنظریں جھکا لیں۔۔۔۔ مدیحہ بھاگتی ہوئی ہماری طرف بڑھی۔۔۔۔ اور آکے مجھے گلے لگا لیا۔۔۔۔۔ سب کچھ بہت فلمی انداز میں لائیو سلو و موشن میں چل رہا تھا۔۔۔۔
"مسٹر احمر۔۔۔ اور مس ارسہ۔۔۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک بارپھر آپ سٹیج پہ آئیں۔۔۔ ” میزبان کی آواز ہمارے کانوں میں گونجی۔۔۔
بھیڑ میں چلتے چلتے ہمارے قدم رکے۔۔۔ احمر نے میری طرف دیکھا۔۔۔۔ میں نے سر ہلایا۔۔۔۔ ہم واپس سٹیج کی طرف مڑے۔۔۔
"اصولی طور پہ دیکھا جائے تو آپ نے قانونی اور معاشرتی اعتبار سے جھوٹ بولا اور ہم سب کو دھوکہ دیا۔۔۔ لیکن اگر گہرائی میں جا کے دیکھا جائے تو آپ دونوں نے جس شادی شدہ جوڑے کی ایکٹنگ کی ہے۔۔۔ یہ سبھی کے لیے ایک مثال ہے۔۔۔۔ ساتھ صرف ساتھ رہنے سے نہیں ۔۔۔ بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے سے قائم رہیتا ہے۔۔۔۔ ہر پل قریب ہوتے ہوئے بھی اگر ہم ایکدوسرے کوسمجھ نہیں پاتے تو ہم اجنبی ہیں۔۔۔۔ اس کے بعد ہر تعلق بے مطلب ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ”
میزبان ایک پل کے لیے خاموش ہوا۔۔۔ پھر سے بولا
"میں آپ لوگوں کو "پرفیکٹ کپل” کی ٹرافی تو نہیں دے سکتا ، اور نہ ہی ‘کینڈل لائٹ ڈنر’ آفر کر سکتا ہوں۔۔۔ لیکن کچھ تحائف پہ آپکا حق ہے ۔۔۔ جو آپکے ساتھ جائیں گے۔۔۔۔ میری بیسٹ وشز آ پ دونوں کے ساتھ ہیں۔۔۔ میری دعا ہے کہ آپ اپنے حقیقی پارٹنرز کے ساتھ بھی اسی طرح کا ایک مثالی رشتہ قائم کر پائیں۔۔۔۔”
اس نے آگے بڑھ کے کچھ گفٹ پیکس میرے حوالے کیے اور کچھ احمر کو تھمائے۔۔۔۔۔ ہم مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سٹیج سے اتر آئے۔۔۔۔ اس سب کے بعد ہم لوگوں کا وہاں رکنا شائد مناسب نہیں تھا۔۔۔ ہم ایگزٹ ڈور کی طرف بڑھے۔۔۔ مدیحہ اور احمر کا دوست بھی ہمارے ہم قدم ہوئے۔۔۔۔
"آئی ایم پراؤڈ آف یو۔۔۔۔۔!” مدیحہ نے اپنا بازو میرے بازومیں حائل کیا۔۔۔۔
ہم چاروں مال سے نکل کے پارکنگ میں پہنچے۔۔۔۔
"مس اِرّسہ۔۔۔۔۔۔ !” احمر نے میری طرف دیکھا
میری نظریں اسکی طرف اٹھ گئیں۔۔۔
"تھینکس۔۔۔۔۔ !” وہ بولا
"کس لیے۔۔۔۔؟” میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
"فار ایوری تھنگ۔۔۔۔۔ !” اس نے جواب دیا
"ویسے۔۔۔ مجھے پتا نہیں تھا کہ تم احمر کو اتنا جانتی ہو۔۔۔۔۔” مدیحہ شرارتی نظروں سے میری طرف دیکھ کے بولی
"ایکچولی۔۔۔۔ ! میں دوستوں سے زیادہ دشمنوں کی خبر رکھتی ہوں۔۔۔۔۔” میں نے ہنس کے جواب دیا
تینوں نے ایک قہقہہ بلند کیا ۔۔۔
"ویسے۔۔۔ میں تو سمجھا تھا۔۔۔ دشمنی اب تک دوستی میں بدل گئی ہوگی۔۔۔۔۔” احمر کہنے لگا
"نو۔۔۔۔۔ نیور۔۔۔۔ سوچنا بھی مت۔۔۔۔” میں نے تیوری چڑھائی
سب نے ایک بار پھر دانت نکالے
"اِرّسہ۔۔۔۔۔ جی۔۔۔ یہ جو آپ نے گفٹس پکڑے ہوئے ہیں چپ چاپ میرے حوالے کردیں۔۔۔۔” مدیحہ میرے گفٹس پہ جھپٹ پڑی۔۔۔
"ارے۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔۔ میری محنت کا پھل ہے۔۔۔۔ میں تو نہیں دوں گی۔۔۔۔” میں نے اسے گھورا
"او ہیلو۔۔۔۔ ! کھیل میں جیتنا کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔۔۔۔ اس کھیل کے لیے تم دونوں کو راضی کرنا سب سے مشکل تھا۔۔۔ جو کہ میں نے کیا۔۔۔۔ اس لیے اسکی صحیح حقدار میں ہوں۔۔۔۔” اس نے میرے ہاتھ سے گفٹس لے لیے
"مس مدیحہ۔۔۔۔ ! میری بھی کافی انرجی لگی ہے احمر کو منانے میں۔۔۔۔۔۔” احمر کا دوست بولا
"تو بھائی صاحب۔۔۔! آپ بھی اپنا حق لیجئے نا۔۔۔۔۔۔۔” مدیحہ اسکی طرف دیکھ کے بولی
اس نے احمر کے گفٹس جھپٹ لیے۔۔۔۔
میں اور احمر مایوس ہو کے ایکدسرے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
مدیحہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔
"اب میرے ساتھ چلنا ہے ۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔ اپنے ان کے ساتھ۔۔۔۔۔۔” اس نے ٹونٹ کیا
"واٹ۔۔۔۔۔ ! رکو۔۔۔ تمہاری ایسی کی تیسی۔۔۔۔۔” میں جلدی سے گاڑی میں بیٹھی
مدیحہ نے گاڑی سٹارٹ۔۔۔ احمر کی مسکراتی نگاہیں ہماری گاڑی کا تعاقب کرتی رہیں۔۔۔
"خیر تو ہے۔۔۔۔۔ ؟ بتیسی بہت کِھل رہی ہے۔۔۔؟” مدیحہ میری طرف دیکھ کے بولی
"نہیں ۔۔ تو۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔” میں نے جواب دیا۔۔۔
"اب تک تو میں ایک سڑی ہوئی ارسہ کو جانتی تھی۔۔۔۔۔ پر یہ روپ پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔۔۔” وہ ہنسنے لگی
"اف او۔۔۔ کچھ بھی سوچتی رہیتی ہو۔۔۔۔” میں جھلا گئی
وہ خاموش ہوگئی۔۔۔
ہم گھر کے گیٹ پہ پہنچے تو ایکدم سے میرے دماغ میں بات آئی
"مدیحہ۔۔۔ ! پلیز۔۔۔ پلیز ۔۔۔خالہ کو اس سارے چکر کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے۔۔۔۔” میں سنجیدہ ہو کے بولی
"اچھا۔۔۔۔ !ایسی بات ہے۔۔۔۔ ؟ چلو سوچتے ہیں۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ بے بی ۔۔ ہر راز کو راز رکھنے کی ایک قیمت ہوتی ہے۔۔۔۔” وہ تیوری چڑھا کے بولی۔۔۔
"او میڈم۔۔۔۔ ! اگر ایسی بات ہے تو سارے گفٹس واپس کرو۔۔۔۔” میں نے بھی اسی طرح جواب دیا
"نہیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ ظلم مت کرو۔۔۔ یہ راز راز ہی رہے گا کہ تم کبھی کسی کی دلہن بنی تھی۔۔۔۔ بے فکر ہو جاؤ۔۔۔” وہ جلد ہی لائن پہ آگئی۔۔۔
"گڈ گرل۔۔۔۔۔۔!” میں مسکرائی۔۔۔
ہم گھر میں داخل ہوئے تو خالہ پورچ میں ہی کھڑی تھیں
"کہاں ۔۔۔ رہ گئے تھے تم لوگ۔۔۔۔ ٹائم دیکھا ہے۔۔۔۔ رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔۔۔۔۔” وہ چلانے لگیں۔۔۔
میں اور مدیحہ ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
"آنٹی۔۔۔ ! ہم نے ایک گیم میں حصہ لیا ۔۔۔۔۔ تو بس اسی میں دیر ہوگئی۔۔۔۔” مدیحہ بولی’
میں نے اسے گھورا۔۔۔۔
"گیم۔۔۔ کیسی گیم۔۔۔ ؟” خالہ نے پوچھا
"بڑی مشکل گیم تھی۔۔۔۔ یو ں سمجھ لیں کے میں واہگہ بارڈر پہ کھڑی تھی۔۔۔ میرا ایک ہاتھ پاکستان کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا نڈیا کے ہاتھ میں۔۔۔۔ اب مجھے انڈیا کا ہاتھ پاکستان کے ہاتھ میں دینا تھا۔۔۔۔ آئی مین انکی دوستی کرانی تھی۔۔۔۔ آپ خود سوچیں کتنا مشکل ہوا ہوگا میرے لیے۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ میں نے ہمت نہیں ہاری۔۔۔ اور جیت کے آئی۔۔۔۔ ” مدیحہ نان سٹاپ بولے جارہی تھی
"ہیں۔۔۔۔ ! تم لوگ تو امپوریم کا کہہ کے نکلے تھے۔۔۔ اور پہنچ گئے واہگہ بارڈر۔۔۔۔۔۔” خالہ بھڑک گئیں
میں مدیحہ کو آنکھیں دکھا رہی تھی
"نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔ ہم گئے تو امپوریم ہی تھے لیکن وہاں پہ ہی واہگہ بارڈر بنا لیا۔۔۔۔ ” مدیحہ اب اپنی ہی باتوں میں پھنس چکی تھی
"مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ پتا نہیں کیا بول رہی ہو۔۔۔۔۔” خالہ نے سر پکڑ لیا
"آپ یہ سب چھوڑیں۔۔۔۔ یہ دیکھیں ۔۔۔ آپکی بھانجی اتنے سارے گفٹس جیت کے آئی ہے۔۔۔۔۔” مدیحہ پھر سے پھسل گئی
"ارسہ۔۔۔۔ ارسہ جیت کے آئی ہے۔۔۔۔؟” خالہ حیران ہو ئیں
"کیا بکواس کررہی ہو۔۔ مدیحہ۔۔۔ پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔۔؟” میں دانت پیسنے لگی
"آنٹی ۔۔۔ میں۔۔۔ میں اپنی بات کررہی ہوں۔۔۔ بس ارسہ ہی آپکی بھانجی ہے۔۔۔۔ ؟ میں نہیں ہوں۔۔۔؟” وہ جھوٹ موٹ کی خفگی دیکھانے لگی
خالہ نے کوئی جواب نہیں دیا
مدیحہ نے گاڑی میں سے گفٹ نکالے۔۔۔
"یہ دیکھیں۔۔۔۔ اگر آپکو یقین نہیں آرہا۔۔۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔۔۔” وہ بولی
"اچھا۔۔۔ بابا۔۔۔ تم لوگ جیتے میں ہاری۔۔۔۔ اب تم جلدی اپنے گھر پہنچو۔۔۔۔ تمہاری امی پریشان ہورہی ہوں گی۔۔۔۔ ارسہ تم اندر آؤ۔۔۔۔” خالہ یہ کہہ کے اندر چلی گئیں
"کتنی بڑی ڈھکن ہو نہ تم۔۔۔۔ بال بال بچ گئے۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی ۔۔۔ گیم کا بتانے کی؟ اگر وہ انویسٹیگیشن شروع کردیتیں تو۔۔۔۔؟” میں چڑ کر بولی
"ارے۔۔۔ بچ گئے نہ اب۔۔۔۔ انت بھلا سو بھلا۔۔۔۔۔ اب تم سکون سے جا کے سو جاؤ۔۔۔ میں گھر جا کے گفٹس کھولتی ہوں۔۔۔” وہ جلدی سے گیٹ کی طرف بڑھی
میں نے مسکرا کے اسکی طرف دیکھا
"اے۔۔۔۔ سن۔۔۔۔ !” وہ واپس میری طرف مڑی
میں نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
"اس کھڑوس کے سپنے نہ دیکھنا۔۔۔۔۔۔ ” وہ ہنستے ہوئے بولی
"شٹ اپ۔۔۔۔۔۔ !” میں جھلا کے بولی
وہ منہ چڑاتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
میں نے جا کے کپڑے بدلے۔۔۔ خالہ کو دوائی دی۔۔۔ اور پھر بیڈ پہ لیٹ گئی۔۔۔۔ حالانکہ میں بہت تھکی ہوئی تھی۔۔۔ پر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔ آج جو کچھ بھی ہوا۔۔۔ فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔۔۔۔ شادی۔۔۔۔ شوہر۔۔۔ ساتھ۔۔۔ میرے لیے یہ سارے لفظ۔۔۔ بے مطلب سے ہوا کرتے تھے ۔۔ ۔۔۔ پر چند پل کے لیے ہی سہی۔۔۔ میں نے ان چیزوں کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔ ایک عجیب سا احساس تھا۔۔۔ پہلی بار۔۔۔ دل اور دماغ ایک ہی سمت چل پڑے تھے۔۔۔۔۔ بار بار۔۔۔ احمر کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے منڈلا رہا تھا۔۔۔۔
"میں تمہارے قدم سے قدم ملا کے چلوں گا۔۔۔۔ بس میرا ہاتھ مت چھوڑنا۔۔۔۔۔۔”
اسکی آواز میرے کانوں میں گونجتی رہی۔۔۔
سمندر کی لہروں کی طرح۔۔۔۔۔ مسکان میرے ہونٹوں سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔۔
میں کبھی اس کروٹ سوتی تو کبھی اس کروٹ۔۔۔۔ بے چینی اور سکون کا ملا جلا احساس۔۔۔ دھڑکنیں بڑھا رہا تھا۔۔۔
میں نے زبردستی آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔ پر حواس تھے۔۔۔ جو ضد لگا کے بیٹھے تھے۔۔۔ کہ اب نہیں۔۔۔
"نیند۔۔ نہیں آرہی۔۔۔۔؟ سب ٹھیک ہے نا؟” خالہ کی آواز میرے کانوں میں پڑی
میں نے آنکھیں کھول دیں۔۔۔
"ہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے چائے کا ایک کپ پی لیاتھا۔۔۔ شائد اس لیے آنکھ ہی نہیں لگ رہی۔۔۔” میں نے ان کی تسلی کے لیے جھوٹ بول دیا۔۔۔
انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ شائد پھر سے انکی آنکھ لگ گئی۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں نے امّی کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔
"آج میری بیٹی نے بھی مجھے یاد کرلیا۔۔۔۔!” امی فون اٹنڈ کرتے ہی بولیں
"کیسی ہیں آپ۔۔۔۔؟”
"میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپا کیسی ہیں۔۔۔؟ تم انکا خیال رکھ رہی ہو نا۔۔۔؟”
"جی امّی۔۔۔ وہ ٹھیک ہیں۔۔۔۔ بھائی کیسے ہیں۔۔۔؟”
"تمہارا بھائی بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔ پھوپھو کی طرف گیا ہے۔۔ انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ میں بھی جانا چاہ رہی تھی لیکن گھر میں کام بہت تھے۔۔۔ کل چکر لگاؤں گی انکی طرف۔۔۔۔”
"اوہ۔۔۔ کیا ہوا پھو پھو کو۔۔۔۔۔؟”
"شوگر ہائی تھی۔۔۔ انکی۔۔۔۔ بس بیٹا عمر کا بھی تو تقاضہ ہے۔۔۔”
"میں انھیں فون کروں۔۔۔ طبیعت کا پوچھنے کے لیے۔۔۔۔؟” میں سچ مچ پریشان ہوگئی
امّی ایکدم سے چپ ہوگئیں۔۔
"امّی۔۔۔ ! آپکو میری آواز سنائی دے رہی ہے۔۔۔؟” انکا جواب نہ ملنے پہ میں نے پوچھا
"ہاں بیٹا۔۔۔ آواز تو سنائی دے رہی ہے۔۔۔ تم ارسہ ہی ہو نا۔۔۔۔؟” وہ بولیں
"کیا مطلب۔۔۔ اب تک آپ کس کا سمجھ کے بات کررہی تھیں۔۔۔؟” میں خفا ہوئی
"تم پھوپھو کو فون کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔ اس بات نے مجھے کش مکش میں ڈال دیا ہے۔۔۔ کہ میری بیٹی اتنی سمجھدار کیسے ہوگئی۔۔۔؟” وہ بولیں
"امّی۔۔۔۔ ! آپ بھی نا۔۔۔۔۔ کبھی نہیں سمجھیں گی مجھے۔۔۔۔۔” میں چڑ گئی
"میں تو خوش ہو رہی ہوں کہ تم نے ایسا سوچا۔۔۔۔ اگر فون کرنا ہے تو ضررو کرو۔۔۔ وہ خوش ہوں گی۔۔۔ بلکہ ایسا کرو بھائی کے نمبر پہ فون کرلو۔۔ وہ انکے پاس ہی ہے۔۔۔” امی نے بتایا
"ٹھیک ہے ۔۔ کرلیتی ہوں۔۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
"اچھا ۔۔ سنو۔۔۔ ! خالہ سے میری بات کراؤ۔۔۔۔ ” وہ بولیں
میں نے فون خالہ کو پکڑایا۔۔۔
میں بھی انکے پاس بیٹھ گئی۔۔
"ثریا۔۔۔ ! تیری بیٹی تو میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔۔۔ کبھی اداس ہوکے بیٹھی ہوتی ہے۔۔۔تو کبھی بلاوجہ مسکرانے لگتی ہے۔۔۔ پوچھو کچھ۔۔۔ جواب کچھ آتا ہے۔۔۔۔ ” خالہ میرے بارےمیں امّی کو بتا رہی تھیں
"لو بھلا۔۔۔ ! اب خالہ نے بھی میری شکائتیں لگانا شروع کردیں۔۔۔” میں ہونٹوں میں بڑ بڑائی۔۔۔
مجھے امّی کا جواب تو سنائی نہیں دیا ۔۔۔ پر انکے جواب پہ خالہ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔
"ہاں۔۔۔ ہاں ۔۔ یاد ہے مجھے۔۔۔۔ نبیلہ سے میں نے ریشم کی کونیں منگوا لی تھیں۔۔ آج ہی ساجدہ کو بھجواتی ہوں۔۔۔ جب تک ارسہ یہاں پہ ہے ۔۔ دو سوٹ تو تیار ہو ہی جائیں گے”
خالہ امّی سے باتوں میں لگی رہیں ، میں نے نجمہ کو چائے کہا اور خود چھت پہ چلی گئی۔۔۔۔
ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔۔۔ میں چہل قدمی کرنے لگی۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد نجمہ چائے لے کے آئی۔۔
"بی بی کہہ رہیں چائے پی کے نیچے آجائیں ۔۔۔ کچھ کام ہے ” نجمہ بولی
"اچھا۔۔۔ ! چلو میں آتی ہوں۔۔۔۔” میں نے سر ہلایا۔۔۔
کچھ دیر بعد میں نیچے اتری تو خالہ نے اپنے بیڈ پہ کچھ سوٹ پھیلائے ہوئے تھے۔۔۔۔
"آؤ۔۔۔ آؤ ۔۔۔۔میں تمہارا ہی انتظار کررہی تھی۔۔۔۔ ” وہ مجھے دیکھ کے بولیں
میں انکے پاس جا کے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
"تمہاری ماں نے کافی عرصہ پہلے ہینڈ ایمبرائیڈری کے لیے پانچ سوٹ بھجوائے تھے۔۔ میں نے نبیلہ سے ریشم کی کونیں بھی منگوا لی تھیں۔۔۔ لیکن ساجدہ کو دینا یاد نہیں رہا۔۔۔۔ ”
میں انکی بات دھیان سے سننے لگی۔۔
” میں نے ساجدہ کو بلوایا ہے۔۔۔ رشیدہ اسے لے کے آتی ہوگی۔۔ جب تک تم رنگوں کا تناسب اور ڈیزائن دیکھ لو۔۔۔ ساجدہ اپنے گاؤں بھجوا دے گی۔۔۔ میں چاہتی ہوں تمہارے ہوتے ہی یہ تیار ہوجائیں تاکہ جاتے ہوئے تم ساتھ ہی لے جاؤ۔۔۔۔”
خالہ نے کچھ ڈیزائنز مجھے تھمائے۔۔۔ میں غور سے دیکھنے لگی۔۔۔
"خالہ ۔۔۔ امّی۔۔ یہ سوٹ کس کے لیے تیار کروا رہی ہیں۔۔۔؟” میں نے پوچھا
"ثریا کی ایک نک چڑھی بیٹی ہے۔۔۔ اس کے لیے تیار ہورہے ہیں یہ سوٹ۔۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوئے بولیں
انکی بات سن کے میں ہنس پڑی
اتنے میں رشیدہ اندر آئی۔۔۔
"بی بی۔۔۔ ! ساجدہ بی بی کہہ رہی ہیں کہ وہ نہیں آسکتیں۔۔۔ پَری کی طبیعت خراب ہے۔۔ اس کے ساتھ بیٹھی ہیں ۔۔۔ آپ خود ہی چکر لگا لیں۔۔۔”
"آ ۔۔ہائے۔۔۔۔ کیا ہوا بیچاری بچی کو۔۔۔؟” خالہ نے پوچھا
"موسمی بخار ہے۔۔۔۔ ” رشیدہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا
"بیٹا۔۔۔ ! تم خود انکی طرف چلی جاؤ۔۔۔۔ پَری کو بھی دیکھ لو۔۔۔ اور سوٹوں کا بھی سمجھا دینا ۔۔۔” خالہ میری طرف مڑیں
میں نے سر ہلایا
"رشیدہ ۔۔۔ ! ارسہ کو ساجدہ کے دروازے تک چھوڑ کے تم ذرا سبزی لینے چلی جاؤ۔۔۔۔۔” خالہ نے رشیدہ کو کہا۔۔
رشیدہ نے سوٹ اور ریشم کی کونیں پکڑیں۔۔۔۔ میں اسکے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔
میں نے دوبار ساجدہ آنٹی کے گھر کی بیل بجائی۔۔۔۔ لیکن کوئی بھی باہر نہیں آیا ۔۔۔۔ میں نے رشیدہ سے سارا سامان پکڑا اور اسے سبزی لینے بھیج دیا۔۔۔
اتنے میں گیٹ کھلا۔۔۔۔
"آہاں۔۔۔۔۔۔ آج دشمن ہمارے درازے پہ تشریف لے آئے۔۔۔۔۔” احمر کی آواز میری کان میں پڑی
میں بنا کوئی جواب دیے اندر جانے لگی۔۔۔ اس نے میرا راستہ روک لیا۔۔۔۔
"راستہ چھوڑیں ۔۔۔ مجھے اندر جانا ہے۔۔۔” میں تپ کر بولی۔۔۔
"ہم دشمنوں کو گھر کے اندر ایسے نہیں گھسنے دیتے۔۔۔۔ پہلے ویریفیکیشن ہوگی۔۔۔۔” وہ مستی کے انداز میں بولا
"میری ویری فیکیشن کرنے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔۔۔۔” میں چڑ گئی
"پھر۔۔۔ تو آپ اندر بھی نہیں آ سکتیں۔۔۔۔ ” اس نے ضد پکڑ لی
"ساجدہ آنٹی۔۔۔۔۔ !ساجدہ آنٹی۔۔۔۔!” میں نے آوازیں دینا شروع کردیں
"او۔۔۔ او۔۔۔ میڈم۔۔۔۔ ! امّی کو کیوں بلا رہی ہو۔۔۔۔؟َ”
"تاکہ انھیں بھی پتا چلے نہ کہ ان کا بیٹا میری ویری فیکیشن کررہا ہے۔۔۔”
"بس۔۔۔ اتنی سی بات سے گھبرا گئی۔۔۔۔۔؟”
"میں کیوں گھبرانے لگی۔۔۔۔؟”
"گھبرا تو رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
"نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔۔۔!”
"تمہاری آنکھیں صاف صاف بتا رہی ہیں ۔۔۔ تم ڈر رہی ہو۔۔۔”
"غلط فہمی ہے آپکی۔۔۔۔۔ اچھے اچھوں کو پچھاڑ چکی ہوں۔۔۔۔”
"اوہ۔۔۔ سیریسلی۔۔۔۔۔؟”
"ارے۔۔۔ ! آپ سے بڑھ کے اس بات کو کون جانتا ہے۔۔۔۔؟ یا پھر بھول گئے۔۔۔۔ ڈائیوو ٹرمینل۔۔۔” میری ہنسی نکل گئی
"مجھے تو یاد ہے ۔۔۔۔ پر آپ بھول رہیں ہیں۔۔۔۔۔ مال آف لاہور۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیجئے۔۔۔۔ پھر کبھی ایسا نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔” وہ میری نقل اتارنے لگا
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
"اب کیا ہوا۔۔۔۔ ؟ بولتی بند۔۔۔۔۔؟ ویسے ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔ اس دن یہ کیوں کہا تھا۔۔۔۔ ‘میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی’۔۔۔ ” اسکی آنکھوں سے جھلکتی شرارت سے میری نگاہیں جھک گئیں
"کیونکہ مجھے آپ میں دلچسپی ہے نہ ہی آپ سے شادی کرنے میں۔۔۔۔ سمجھے۔۔۔۔؟” میں جھلا کے بولی
"کیسے کیسے لوگ ہیں یار۔۔۔۔۔ بڑی بڑی باتیں کرکے جب منہ کے بل گرتے ہیں پھر بھی اکڑ نہیں جاتی ۔۔۔۔ شرٹ خرا ب کرکے معافی مانگی۔۔۔۔ شادی سے منع کرکے مسز احمر بن گئیں۔۔۔۔۔ کیا کہیں اب ہم۔۔۔۔؟” وہ کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا
میرے پاس اسکی باتوں کا جواب نہیں تھا۔۔۔ وہ ذرا سا پیچھے ہٹا۔۔۔ مجھے جانے کا رستہ مل گیا۔۔۔ میں لپک کے اندر گھسنے لگی۔۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے۔۔۔ اس سے ٹکرا گئی۔۔۔۔ اس نے مجھے گرنے سے بچا لیا ۔۔۔ لیکن سوٹ اور ریشم کے دھاگے فرش پہ پھیل گئے۔۔۔
"یہ کیا کیا۔۔۔۔؟” میں بھنا گئی۔۔۔
"میں نے کیا کیا۔۔۔۔ ؟ تمہاری ہی غلطی تھی۔۔۔۔ ” اس نے جواب دیا
"ایکسکیوز می۔۔۔۔۔ ! آپ مجھ سے آکے ٹکرائے ہیں۔۔۔۔ ”
"میں۔۔۔ میں تو بس ایک دشمن کا راستہ روک رہا تھا۔۔۔۔۔”
ریشم کی کونیں کھل کے بکھر گئیں۔۔۔
"کیسا شور ہے بھئی۔۔۔۔ ؟” ساجدہ آنٹی بھی باہر آگئیں۔۔۔
"دیکھیے نا۔۔۔ آپکے بیٹے نے کیا کیا۔۔۔۔۔؟” میں انکی طرف مڑی
"اوہو۔۔۔ احمر۔۔۔ بچے بن جاتے ہو تم۔۔۔۔” انھوں نے احمر کو گھورا
"امّی۔۔۔ ! یہ انکی اپنی غلطی سے ہوا۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔” وہ معصوم بن گیا
"نہیں آنٹی یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔۔ انھوں نے میرا راستہ روک لیا اور اندر بھی نہیں آنے دے رہے تھے۔۔۔ جب میں نے اندر آنے کی کوشش کی تو مجھے دھکا مار کے سب گرا دیا۔۔۔۔۔۔” میں نے بھی شکائت لگا دی
ساجدہ آپی غصے سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔ احمر نے سر جھکا لیا۔۔۔۔
میں سوٹ اور کونیں اٹھانے لگی۔۔۔۔ ساجدہ آپی نے میرے ہاتھ سے سوٹ لیے اور بولیں
"بیٹا۔۔۔ یہ سار کونیں سمیٹ کے اندر لے آؤ۔۔۔ احمر تمہاری مدد کرے گا۔۔۔۔”
ان کے اندر جاتے ہی میں نے اسکی طرف دیکھا
"سنائی نہیں دیا۔۔۔۔۔ آنٹی کیا کہہ کے گئی ہیں۔۔۔۔۔؟” میں بولی
"اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ کررہا ہوں مدد۔۔۔۔” وہ نیچے بیٹھ گیا۔۔۔۔
میں ریشم کے الجھے ہوئے دھاگے سمیٹنے لگی۔۔۔۔ وہ مجھے چور نظروں سے دیکھتا رہا ۔۔۔ اور میں اسے۔۔۔۔ میں نے اپنے چہرے پہ بناوٹی خفگی سجا لی۔۔۔۔
"آپ بچپن سے اتنی سڑی ہوئی رہیتی ہیں۔۔۔۔؟”
"آپ سے مطلب۔۔۔۔؟”
"مطلب تو کچھ نہیں ۔۔۔ بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔۔”
"اپنے کام سے کام رکھیے۔۔۔۔ مجھ پہ دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔”
"دھیان نہیں دے رہا۔۔۔ بس آپکو جاننے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔۔”
"کس خوشی میں۔۔۔۔۔ ؟”
"کسی مہان انسان نے کل مجھ سے ایک بات کی تھی کہ دشمنوں کی خبر رکھنا اچھا ہوتا ہے۔۔۔۔”
"مہان انسان نے ایک اور بھی بات کی ہے۔۔۔۔۔۔”
"اور بات۔۔۔۔ ؟ کونسی۔۔۔؟”
"یہی کہ اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔۔ ”
"جو حکم ۔۔۔۔۔ ”
نہ چاہتے ہوئے بھی مسکان میرے لبوں پہ آ ہی گئی۔۔۔
میں ساری کونیں سمیٹ کے کھڑی ہوئی اور اندر جانے لگی۔۔۔۔ وہ بدستور گھٹنوں کے بل فرش پہ بیٹھا رہا۔۔۔
"سنیئے ۔۔۔۔۔ !” اس کی آواز میرے کان میں پڑی
میں نے مڑ کے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔
وہ مجھے دیکھ کے مسکرانے لگا۔۔۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ ”
میں اسکے اس انداز پہ الجھ سی گئی۔۔۔۔
"آجاؤ بیٹا۔۔۔۔۔ !” ساجدہ آنٹی کی آواز پھر سے گونجی
میں جلدی سے اندر چلی گئی۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں تھیں۔۔۔ میں بھی اسطرف چل دی۔۔۔
پَری بیڈ پہ لیٹی تھی۔۔۔ساجدہ آنٹی اسکے پاس بیٹھ تھیں۔۔۔۔
"کیا ہوا ۔۔۔۔؟ میری باربی ڈال کو۔۔۔۔۔” میں نے پری کے ماتھے پہ بوسہ دیا
"کل سے بخار ہے اسے۔۔۔ پر دیکھو۔۔۔ دوائی نہیں کھا رہی۔۔۔۔” ساجدہ آنٹی کے ہاتھ میں سیرپ تھا
"لائیں ۔۔۔ مجھے دیں۔۔۔۔ پَری۔۔۔اپنی آنٹی کی بات ضرور مانے گی۔۔۔۔” میں نے سیرپ اور چمچ ساجدہ آنٹی کے ہاتھ سےلیا
پَری نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
"گڑیا۔۔۔۔ دوائی کھاؤ گی تو ٹھیک ہوگی نا۔۔۔۔۔؟” میں اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی
وہ پھر بھی نہیں مانی۔۔۔۔
"ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔ آپ دوائی مت لو۔۔۔۔ میں جارہی۔۔۔ ہوں۔۔۔۔ دوستی ختم۔۔۔۔۔” میں اٹھ کھڑی ہوئی
اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔ میں مسکرانے لگی۔۔۔ چمچ میں داوئی ڈال کے میں اسکے منہ کے پاس لے گئی۔۔
"ماموں کی جان نے پارٹی بدل لی۔۔۔۔۔۔” احمر اندر آگیا
پَری نے جھٹ سے میرا ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔۔
"پَری۔۔۔۔ ! تم میری بات نہیں مانو گی۔۔۔؟” میں نے اسے گھورا
"پَری۔۔۔ تو ماموں کی جان ہے۔۔۔ ماموں کے ہاتھ سے دوائی لے گی۔۔۔ دشمنوں کے ہاتھ سے نہیں ۔۔۔۔” وہ بھی اسکے پاس آکے بیٹھ گیا
"جی ۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں پَری کی اچھی والی آنٹی ہوں۔۔۔۔۔ میری بات مانے گی۔۔۔” میں نے جواب دیا
"اف۔۔ ہو۔۔۔۔ کتنا لڑتے ہو آپ دونوں۔۔۔۔۔ جائیں میں کسی کے ہاتھ سے دوائی نہیں لوں گی۔۔۔۔” پَری اٹھ کے بیٹھ گئی
ہم دونوں ایکدوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔۔۔۔
"اچھا۔۔ ہم نہیں لڑتے ۔۔۔ آپ چپ چاپ یہ سیرپ پی لو۔۔۔۔” میں پیار سے بولی
وہ مسکرانے لگی۔۔۔ میں نے سیرپ کا چمچ اسکے منہ میں انڈیل دیا۔۔۔۔
اسکے بعد ساجدہ آنٹی اور میں کڑاھی کے ڈیزائن سیلکٹ کرنے لگے۔۔۔۔
مجھے وہاں پہ کافی دیر لگ گئی۔۔۔۔ ساجدہ آنٹی مجھے ہال میں لے آئیں۔۔۔۔ وہ خود کیچن میں میرے لیے چائے بنانے چلی گئیں۔۔۔۔ میں اپنا موبائل فون گھر چھوڑ آئی تھی۔۔۔۔ اس لیے وقت کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ ہال میں وال کلاک لگی تھی لیکن بند تھی۔۔۔
"آنٹی۔۔۔ ٹائم کیا ہوا ہے؟” میں نے انھیں آواز دی
"بیٹا۔۔ ! پتا نہیں۔۔۔۔ احمر سے پوچھ لو۔۔۔۔” انھوں نے جواب دیا
"میں پاگل ہوں۔۔۔ جو اس کھڑوس سے ٹائم پوچھوں گی۔۔۔۔” میں نے اپنے آپ سے سرگوشی کی
میری نظر ٹیبل پہ پڑی۔۔۔ وہاں پہ کسی کا موبائل فون پڑا تھا۔۔۔ ٹائم دیکھنے کے لیے میں نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔۔۔
"آپ موبائل چوری کررہی ہیں۔۔۔۔۔۔” وہ پھر سے میرے سر پہ سوار ہوگیا
میں نے جلدی سے موبائل واپس ٹیبل پہ رکھ دیا۔۔۔
"بتائیں ۔۔۔۔۔ چوری کررہی تھیں نا۔۔۔۔؟”
"جی نہیں۔۔۔۔ مجھے ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”
"تو۔۔۔۔ پھر کیوں اٹھایا۔۔۔۔۔؟”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
ساجدہ آنٹی چائے کے دو کپ اٹھائے کیچن سے نکلیں
"امّی۔۔۔۔ ! دیکھیں ۔۔۔۔ یہ لڑکی کیا کر رہی تھی۔۔۔۔؟” وہ بولا
میں کھڑی ہوگئی
"اینف۔۔۔۔۔ مسٹر احمر۔۔۔۔۔ ہر چیز مذاق نہیں ہوتی۔۔۔۔ اگر میں آپکو چور لگتی ہوں تو دوبارہ کبھی اس گھر میں نہیں آؤں گی۔۔۔۔” میں دروازے کی طرف بڑھی
وہ ہڑ بڑا گیا
"ارسہ بیٹا۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔ بات سنو۔۔۔۔۔” ساجدہ آنٹی نے آواز دی
"نہیں آنٹی۔۔۔۔ میں اب جارہی ہوں۔۔۔۔۔” میں نے بنا مڑے جواب دیا
"مس ارسہ ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ آئی ۔۔۔ واز۔۔۔۔ جسٹ۔۔۔۔” احمر بولا
میں بنا کوئی جواب دیے باہر نکل آئی۔۔۔۔ وہ میرے پیچھے آیا لیکن تب تک میں مین گیٹ کراس کرکے گلی میں آگئی۔۔۔۔
مجھے شدید غصہ تھا اس پہ۔۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیوں ہر وقت۔۔ میرے ساتھ بچوں جیسا برتاؤ کرتا رہیتا ہے۔۔۔۔۔ حد ہوتی ہے کسی چیز کی۔۔۔۔
غصے میں تلملاتی میں گھر میں داخل ہوئی۔۔۔۔ خالہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔۔۔۔
"آگئی بیٹا۔۔۔۔۔ ؟ سوٹ دے دیے۔۔۔۔؟” انھوں نے پوچھا
"جی۔۔ دے دیے۔۔۔۔” میرا موڈ بہت خراب تھا
"کیا ہوا۔۔۔ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے ۔۔۔۔؟”
"کچھ نہیں خالہ۔۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔۔ نجمہ کہاں ہے۔۔۔۔ ؟” میں نے انکی بات ٹالی
"نجمہ اور رشیدہ اپنے گھر چلی گئی ہیں۔۔۔۔۔ انکے رشتہ داروں میں کسی کی وفات ہوئی ہے ، اچانک خبر آئی تو میں نے انھیں جانے دیا۔۔۔ کھانا بنا کے گئی ہیں۔۔۔۔ بھوک لگے تو کھا لینا۔۔۔۔” وہ بتانے لگیں
"نہیں۔۔۔ خالہ۔۔۔ میرا سر درد کررہا ہے۔۔۔ میں سونے جارہی ہوں۔۔۔ کچھ چاہیے ہو تو مجھے آواز دے دیجئے گا۔۔۔” میں بے رخی سے بولی
"اتنی جلدی سو رہی ہو۔۔۔۔۔؟ سب خیریت ہے نہ۔۔۔۔؟” وہ پریشان ہوگئیں
"ہاں۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ بس سر درد کررہا ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر سوؤں گی تو ٹھیک ہو جائے گا”
یہ کہہ کے میں کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
"کیا ہورہا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔۔ وہ تو بس مذاق کررہا تھا ۔۔۔۔ کیوں اتنا چڑ گئی میں۔۔۔۔۔ ساجدہ آنٹی کیا سوچ رہی ہوں گی۔۔۔۔ ” بستر پہ لیٹتے ہی میں اپنے آپ میں ہی الجھ گئی۔۔۔۔
کروٹیں بدلتے بدلتے ۔۔۔۔ میری آنکھ لگ گئی۔۔۔۔ کل رات بھی ٹھیک طرح سے سو نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو خالہ اونگھ رہی تھیں۔۔۔۔ انکی آنکھیں بند تھیں لیکن۔۔۔۔ آواز سے صاف لگ رہا تھا کہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔
اف خدایا۔۔۔۔ اپنے چکروں میں میں نے خالہ کو دوائی بھی نہیں دی تھی۔۔۔۔ میں نے خالہ کو جگانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں اٹھیں۔۔۔۔ میں نے انھیں ہلانا شروع کیا۔۔۔۔ وہ تب بھی نہیں اٹھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔ گھر پہ میرے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا ۔۔۔۔ میری سانسیں پھولنے لگیں۔۔۔۔۔ خدایا۔۔۔۔ میں اب کیا کروں۔۔۔۔۔ میں نے زور زور سے چلانا شروع کردیا لیکن ۔۔۔۔ خالہ اسی طرح اونگھتی رہیں۔۔۔۔ میں نے موبائل فون نکالا اور مدیحہ کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔۔ اسکا نمبر سوئیچ آف تھا۔۔۔۔۔
میں بھاگتے ہوئے باہر پہنچی۔۔۔۔ باہر بہت تیز بارش ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔ خدایا رحم کر۔۔۔ کس کو مدد کے لیے پکاروں۔۔۔۔۔ احمر۔۔۔۔ احمر۔۔۔ کو بلاتی ہوں۔۔۔۔ میں ننگے پاؤں گیٹ سے گلی میں آئی۔۔۔۔ بھاگتے بھاگتے ۔۔۔ احمر کے گھر کے دروازے پہ پہنچی۔۔۔۔۔۔ بار بار بیل بجانے پہ جب کوئی باہر نہیں آیا تو میں نے دروازہ پیٹنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔
ہر گرزتے پل میں میری ہمت ٹوٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ میں گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھ گئی۔۔۔۔ تیز طوفانی بارش میں شائدمیری چیخ و پکار کسی کی سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔
ایک دم سے دروازہ کھلا۔۔۔۔۔۔
"احمر۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔ خالہ کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔۔ ”
میری حالت دیکھ کے وہ بوکھلا سا گیا۔۔۔۔۔۔
بقیہ اگلے حصے میں۔۔۔۔۔۔
_________________________