منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

"ہماری شمو” تحریر زویا حسن قسط نمبر: 3 25 دسمبر …


"ہماری شمو”
تحریر زویا حسن

قسط نمبر: 3

25 دسمبر 2017 ، ناشتہ کرکے میں شمو کو بابا کی گاڑی میں گھمانے کے بہانے گھر سے لے گئی
تاکہ وہ اپنی سہیلیوں سے مل سکے۔۔ اس چکر میں میرا بھی موڈ فریش ہوجائے گا۔
ماڈل ٹاؤں کی سڑکوں پہ گھماتے گھماتے اس نے ایک گھر کے سامنے بریک لگوائی۔۔
"یہاں بینا رہیتی ہے۔۔ ”
"یہاں۔۔ ؟ اس گھر میں۔۔۔ ؟ کام کرتی ہے کیا۔۔؟”
میں نے سوال کیا
"نہیں۔۔ نہیں۔۔ کام تھوڑی کرتی ہے۔۔ یہ اسکا اپنا گھر ہے۔۔ ”
اس نے یقین دہانی کرائی
مجھے اسکی بات پہ ذرا بھی بھروسہ نہیں تھا۔۔ پھر بھی اسکی ضد پہ میں نے گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پہ گاڑی پارک کی اور نیچے اتر کے ڈور بیل بجائی۔۔
ایک لڑکی نے گیٹ کھولا۔۔۔ اور باہر نکلی
"بینا آپی یہاں رہیتی ہیں۔۔۔ ؟”
شمو نے پوچھا
"ہاں۔۔ لیکن آپ کون ہیں۔۔؟”
اس نے پوچھا
"مجھے چھوڑو۔۔۔ ! یہ بتاؤ تم ذکیہ ہو ناں۔۔۔ ”
شمو نے ہاتھ لہرایا
"ہاں۔۔۔ میں ذکیہ ہوں۔۔۔ ”
لڑکی نے حیران ہوکے جواب دیا
"میں شمو ہوں۔۔ بینا آپی سے ملنے آئی ہوں۔۔ سرگودھا سے۔۔۔ ”
شمو اندر گھسنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکا۔۔ اس پاگل لڑکی کے چکر میں کہیں بے عزتی نہ ہوجائے۔۔۔
اتنے میں اندر سے آواز آئی۔۔
"ذکیہ کون ہے گیٹ پہ۔۔۔ ؟”
"بینش آپی میں ہوں شمو۔۔۔۔ آپ سے ملنے آئی ہوں”
شمو نے جواب دیا۔ میں شرم سے پانی پانی ہونے لگی
ذکیہ ہمیں اندر لے گئی۔ سامنے ایک لڑکی لان میں بیٹھی بک پڑھ رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کے وہ کرسی سے اٹھی۔ میں شمو کو گھورتی رہی۔ اور وہ اپنے ہی سٹائل میں جا کے اس سے لپٹ گئی
"آپ سے ملنے کی بڑی حسرت تھی دل میں۔۔۔ پتا ہے کلثوم بھی آپ سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن وہ بے چاری آ نہیں سکتی ناں۔۔ ”
شمو بینا سے ایسے باتیں کررہی تھی جیسے سالوں کی جان پہچان ہو۔ پل بھر کے لیے مجھے بھی غلط فہمی ہوئی کہ شائد شمو سچ کہہ رہی تھی کہ بینا اسکی سہیلی ہے۔
"لیکن میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔۔۔”
بینا کے ردعمل پہ میرا دل کررہا تھا، زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔۔
"ہاں تو کیا ہوا۔۔ میں تو آپکو جانتی ہوں ناں۔۔۔ ”
شمو نے خوش ہو کے جواب دیا
"شمو۔۔! میں کیوں تمہاری باتوں میں آگئی۔۔ ”
میں دل ہی دل میں پچھتانے لگی
"یہ صبا آپی ہیں۔۔ میری خالہ زاد۔۔۔ انھیں بھی آپ سے ملنے کا بہت شوق تھا۔۔ ”
زندگی میں پہلی بار کسی نے ذلالت بھرا تعارف کرایا تھا۔
بینا مجھے دیکھ کے مسکرائی میں نے بھی جواباً پھیکی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا لی
"آپ لوگ یہاں بیٹھیں گے یا اندر چلیں۔۔۔ ؟”
بینا نے پوچھا
"ایکچولی ہم لوگ ذرا جلدی میں ہیں۔۔ پھر کبھی آئیں گے ۔۔ ”
میں کسی طرح جان چھڑانا چاہتی تھی
"لئے۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔ میں اتنی دور سے آئی ہوں ان سے ملنے ۔۔ شکل دیکھ کے تھوڑی چلی جاؤں گی۔۔ بینا آپی ہم ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں ،بعد ا میں ندر چلیں گے۔۔ آپکا بیڈروم دیکھنا ہے۔ جہاں آپکی اور احتشام بھائی کی لڑائیاں ہوتی تھیں۔۔۔۔ ”
شمو کے ڈھیٹ پن پہ غصے سے زیادہ حیرت ہوتی تھی۔ میں نے جب جب سوچا کہ شمو اس سے بڑی بے وقوفی نہیں کرسکتی۔۔ پر اگلے ہی پل وہ مجھے غلط ثابت کردیتی تھی۔ جہاں ایک طرف میں اسے کھانا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی وہیں بینا کی آنکھوں میں اسے کے لیے محبت امڈرہی تھی۔
"ذکیہ۔۔ دو چئیرز لاؤ۔۔۔ ”
ذکیہ کرسیاں لائی اور ہم دونوں بیٹھ گئے۔
"آپ لوگ کیا لیں گے۔۔۔؟ چائے ، کوفی، کولڈ ڈرنک۔۔۔۔ ؟”
بینا نے پوچھا
"نہیں کچھ نہیں۔۔ہم ناشتہ کرکے ہی نکلے ہیں۔۔ آپ بالکل تکلف نہ کریں۔۔ ”
میں نے جواب دیا
"لو ۔۔۔۔ وہ اتنے پیار سے پوچھ رہی ہیں۔۔ منع کیسے کرسکتے ہیں۔۔۔ ہم لوگ چائے پئیں گے۔۔۔ ”
شمو نے ٹانگ اڑائی۔۔۔
"ذکیہ چائے لاؤ۔۔۔ ”
بینا نے اشارہ کیا
"ویسے میرے ہاتھ کی چائے۔۔۔۔ ”
شمو نے منہ کھولا۔ ۔۔ بینا کا دھیان ذکیہ کی جانب تھا۔۔ میں نے موقع پا کر شمو کو چٹکی کاٹی اور آنکھوں کے اشارے سے چپ رہنے کا کہا۔۔۔ پہلی بار وہ میرا اشارہ سمجھی اور اپنی چائے کا قصہ ادھورا چھوڑا۔۔۔
ذکیہ جانے لگی
"سنو ذکیہ۔۔۔ بسکٹ بھی لانا ساتھ میں۔۔۔ وہ کیا کہتے ہیں انھیں۔۔۔۔ کوکیز۔۔۔۔ ہاں چاکلیٹ کوکیز۔۔۔ ”
شمو نے بڑا سا منہ کھولا۔ ذکیہ سرہلاتے ہوئے اندر چلی گئی اور میں نے سر جھکا لیا
"شمو۔۔! تم بہت سویٹ ہو۔۔۔ کہاں سے آئی ہو۔۔۔ ؟”
بینا نے سوال کیا
"یہ سرگودھا سے ہے۔۔۔ ”
اس سے پہلے کہ شمو تفصیلی پتا بتائے۔۔ میں نے شارٹ کٹ میں بات ختم کردی۔۔
"اوہ ۔۔ اچھا ۔۔ اچھا۔۔”
بینا مسکرائی
"بینا آپی فیصل آباد سے ہیں۔۔ سرگودھا کا تو پتا ہوگا ہی انھیں۔۔ ”
شمو بولی
"ہاں۔۔ میں جانتی ہوں۔۔ میرے کافی جاننے والے ہیں سرگودھا میں۔۔۔ ”
بینا نے جواب دیا
"اچھا آپی۔۔۔ مجھے چھوڑ یں ۔۔ آپ بتائیں کہ زندگی کیسی چل رہی ہے۔۔ ؟ اس دن جب احتشام بھائی آپکو اسپتال سے گھر لائے۔۔ تو نئی شروعات کیسی تھیں؟”
"شمو۔۔! میرے لیے وہ سب ایسا تھا جیسے ایک لمبے سفرکے بعد مسافرکو منزل ملتی ہے۔ میں تو یہ امید ہی چھوڑ چکی تھی کہ احتشام اورمیں دوبارہ کبھی ایک ہو پائیں گے۔۔ وہ ایک سال تک مجھے ڈھونڈتا رہا۔۔۔ اور میں ایک عام سی نرس کی زندگی جی رہی تھی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ احتشام مجھ سے اتنا پیار کر سکتا ہے۔ ورنہ جن حالات میں ہماری شادی ہوئی، کون کہہ سکتا تھا کہ ایسے بے جوڑ بندھن میں محبت کی کونپلیں پھوٹیں گی۔۔ مجھے دکھ نہیں ہے کہ میں نے ایک سال اسکے بنا کاٹا۔۔ کیوں کہ اگر وہ ایک سال ہماری زندگی میں نہ آتا تو شائد کبھی ہم ایک دوسرے کے جذبات سمجھ ہی نہیں پاتے۔ بینا کو بینش احتشام بننے کے لیے اتنی سی قربانی تو دینی ضروری تھی”
بینا کی چمکتی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ اپنی زندگی سے کتنی خوش ہے۔
"صبا آپی۔۔! آپکو پتا ہے بینا آپی کی شادی ضد اور بدلے کی آڑ میں ہوئی۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کیا۔ جہاں اپنو ں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ، کیسے انھوں اس گھر اور احتشام بھائی کی زندگی میں جگہ بنائی۔ نوک جھونک محبت میں بدلی ۔۔ جب لگ رہا تھا کہ حالات ٹھیک ہوگئے ہیں۔ تبھی احتشام بھائی کی گزشتہ زندگی کا ایک بہت بڑا راز کھلا۔ اور اس وقت یہ چاہتیں تو خود غرض بن سکتی تھیں۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ احتشام بھائی کو انکی خوشیاں لوٹانے کے لیے انھوں نے بہت بڑا قدم اٹھایا۔ چپ چاپ انکی زندگی سے چلی گئیں یہ سوچ کہ وہ انکے بنا خوش رہیں گے۔ لیکن ایسا کہاں ممکن تھا۔ انکے جاتے ہی احتشام بھائی کو احساس ہوا کہ بینا آپی کے بنا انکی زندگی کتنی ادھوری ہے۔ انھیں واپس زندگی میں لانے کے لیے انھوں نے ہر حد پار کی۔۔۔ اور دیکھیں آج یہ کتنے خوش ہیں۔۔ ”
شمو نے مزید تفصیل بتائی۔ بینا کی زندگی کے بارے میں سن میں حیرت میں مبتلا تھی۔ وہیں کہیں دل میں اپنے ٹوٹتے رشتے کی خلش بھی تھی۔
"زندگی میں خوشیاں اتنی آسانی سے نہیں ملتیں۔ انکے لیں صبر اور ہمت چاہیے ہوتی ہے۔ حالات کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔۔ کئی با رتو ایک انسان کو دوسرے سے زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ تب جا کے منزل قدم چومتی ہے۔۔۔”
باتوں ہی باتوں میں چائے بھی آگئی۔۔
"بینا آپی۔۔! اب بھی احتشام بھائی سے آپکی لڑائیاں ہوتی ہیں۔۔ ۔۔ ؟”
شمو نے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے سوال کیا
"لڑائی جھگرا، نوک جھونک تو محبت کی علامت ہے۔۔ لیکن یہ لڑائیاں چند لمحوں پہ محیط ہونی چاہیں۔ اگر انھی لڑائیوں میں زندگی داؤ پہ لگ جائے تو نہ خوشیاں ہاتھ آتی ہیں اور نہ محبت قائم رہیتی ہے۔۔ احتشام اور میں ہر دن لڑتے ہیں۔۔ چھوٹی موٹی باتوں پہ بحث کرتے ہیں۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں یا تو وہ مجھے منا لیتا ہے یا میں اسے۔۔ ”
"میں کلثوم کو جاکے بتاؤں گی۔۔۔۔ ! وہ بہت خوش ہوگی یہ سب سن کے۔۔۔ ”
شمو نے چائے کا بڑا سا سپ لیا
"اماں اور ذکیہ کو آپ واپس لے آئے۔۔۔ ؟”
شمو نے سوال کیا
"اماں بے چاری تو کچھ مہینے پہلے گزر گئیں۔۔ ذکیہ کی شادی کردی تھی۔ احتشام اور میں اسے یہاں لے آئے۔۔ اسکے خاوند کو ڈرائیور رکھ لیا ہے”
بینا نے بتایا
"احتشام بھائی گھر پہ ہی ہیں۔۔۔؟”
"نہیں وہ ذرا باہر نکلے ہوئے ہیں۔۔ آج آفس سے تو چھٹی تھی ۔۔ لیکن کسی دوست کی طرف جانا تھا”
"آپکو پتا ہے ہم ایک خاص مقصدسے آئے ہیں یہاں۔۔ ؟”
شمو بولی
"اچھا۔۔۔! کیا ایسا مقصد ہے ۔۔ ؟”
بینا نے مسکرا کے پوچھا
"صبا آپی اور میں نے نیو ائیر پارٹی ارینج کی ہے۔۔ 31 دسمبر کی رات آپ لوگوں کو پارٹی میں آنا ہوگا۔۔ ”
شمو نے د عوت دی
"شمو۔۔! ہم لوگ امی کی طرف فیصل آباد جانے کا پلان کررہے تھے۔۔ نیو ائیر ہم وہاں منائیں گے۔۔ ”
بینا کہنے لگی
"ایسے کیسے آپ شمو کا دل توڑ دیں گی۔۔ آنا تو پڑے گا آپکو۔۔ تھوڑی دیر کے لیے تو آنا ہے۔ شام میں چھ سات بجے آئیں اور رات 1،2 بجے چلے جائیں ۔ پھر صبح بے شک آپ فیصل آباد جائیں یا جہاں بھی۔۔۔ ”
شمو نے پلان ترتیب دیا
"اچھا میں احتشام سے بات کروں گی۔۔۔ ”
"صرف بات نہیں کرنی۔۔ آپ نے آنا ہے۔۔ ”
شمو کھڑی ہوئی
"آپ کو کیا لگتا ہے یہ آپکی ایسے جان چھوڑ دے گی ۔۔ آنا تو پڑے گا۔۔”
میں بھی مسکرا دی
"اچھا بابا ٹھیک ہے۔۔ ہم لوگ آئیں گے”
بینا نے حامی بھری۔ میں نے اسے گھر کا ایڈریس بتایا۔۔ شمو نے بینا کے گھر کا ایک ایک کونا دیکھا۔ اسکی زندگی کا ہر پرانا قصہ یاد کیا۔۔ ہنستے ہنستاتے ہم لوگوں نے اجازت لی اور واپس گاڑی میں بیٹھ گئے ۔۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی۔۔
"صبا آپی۔۔! آپ اسد بھائی سے کیسے ملیں۔۔۔ ؟”
شمو نے سوال کیا۔ بینا سے ملاقات کے بعد میرے دماغ میں اسد ہی چل رہا تھا۔ اس لیے شمو کے سوال نے مجھے حیران نہیں کیا۔
"اسد سے میری ملاقات حادثاتی تھی۔ میں اپنی دو فرینڈز کے ساتھ اسلام آباد سے واپس آرہی تھی۔ راستے میں گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ ہم میں سے کسی کو بھی ٹائر بدلنا نہیں آتا تھا۔ شام ہورہی تھی۔۔ آتی جاتی گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن کسی نے بھی مدد نہیں کی۔۔ اسد بھی وہاں سے گزرا۔۔ ہم نے اسے بھی روکا۔۔ خوش قسمتی سے اس نے بریک لگائی۔ اور ہماری مدد کی۔ اسی دوران اسد سے نمبر ایکسچینج ہوا۔۔ ہلکی پھلکی بات چیت سٹارٹ ہوئی۔۔ ”
میں بیتے ہوئے لمحوں میں ڈوبنے لگی
چند ایک بار اسد سے میری فون پہ بات ہوئی ۔ تھوڑی بہت دوستی تو ہو ہی گئی تھی۔ اسکے بعد ہم نے ملاقات پلان کی۔۔ اسی ملاقات میں اس نے مجھے پروپوز کیا۔ وہ میرے لیے بہت خوشی کا دن تھا۔ ایک انسان چھلاوے کی طرح زندگی میں آیا ، آتے ہی دل میں جگہ بنا لی۔ ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ کچھ ہی مہینوں میں ہم اس نتیجے پہ پہنچے کہ ایک دوسرے کے بنا گزارا نا ممکن ہے۔ اسد نے رشتے کے لیے اپنی فیملی کو ہمارے گھر بھجوایا۔۔ لیکن فیملیز کا آمنا سامنے ہم دونوں کو بھاری پڑا۔۔ درینہ دشمنی نکل آئی۔ رشتہ کھٹائی میں پڑ گیا۔۔۔
"تمہیں پتا ہے شمو۔! اسد سے گہری محبت کا احساس مجھے اس دن ہوا جب یقین ہوا کہ ہمارا ملنا نا ممکن ہے۔ میں اس سے لپٹ کے کتنا روئی تھی۔ ایسے لگا جیسے زندگی ختم ہونے والی ہے۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا۔۔ صبا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔ میں تمہیں پا کے رہوں گا ۔۔ تمہارے لیے کسی سے بھی لڑنا پڑا لڑ جاؤں گا۔ اگر وہ مجھے ہمت نہیں دیتا تو میں ٹوٹ جاتی ۔۔۔ اف کیسا وقت تھا وہ۔۔۔”
میں نے ایک گہری سانس لی
"پھر یہ محبت ختم کیسے ہوئی۔۔۔ !”
شمو نے آہستگی سے سوال کیا
"اچھا۔۔! یہ بتاؤ اب کہاں جانا ہے۔۔؟”
میں نے جان بوجھ کے بات بدل دی
"کینٹ ۔۔ کینٹ جانا ہے۔۔ ”
اس نے جواب دیا
"اب وہاں کون ہے۔۔۔ ؟ پلیز سارا کچھ پہلے ہی بتا دو۔۔ بینا کے گھر والا ڈرامہ مت کرنا۔۔۔ ”
میں نے اسے گھورا
"اگر میں آپکو پہلے بتا دیتی کہ وہ مجھے نہیں جانتی تو آپ کبھی وہاں جانے کی حامی نہیں بھرتیں۔۔۔ لیکن دیکھا کیسی کمال کی ملاقات رہی ہماری۔۔ بینا آپی بھی میری فین ہوگئیں۔۔۔ ابھی تو انھوں نے میرے ہاتھ کی چائے بھی نہیں پی۔۔”
اس نے قہقہہ لگایا
"اب ہم کس محترمہ سے ملنے جارہے ہیں۔۔۔ ؟”
میں نے سوال کیا
"ارسہ احمر۔۔۔! ”
اس نے جواب دیا
"ان کی تھوڑی سی تفصیل بتاؤ۔۔”
"اف کیا بتاؤں۔۔۔ ایک پرفیکٹ لوّ سٹوری۔۔۔ کیچڑپھینکنے سے جو لڑائی شروع ہوئی ۔۔ اسکا اختتام گہری محبت پہ ہوا۔۔ کافی داؤ پیچ کے بعد ارسہ اور احمر ملے۔۔۔ انکے رشتے میں پیار بھری باتوں کی بجائے تکرار ہی رہی ۔۔۔ انجانی راہوں میں ٹکرانے والے ہمراہ بن گئے۔۔۔ ”
ہاتھ لہرا لہرا کے وہ گن گانا شروع ہوئی
"تمہارے جاننے والی سبھی اتنے فلمی کیوں ہیں۔۔ ؟”
میں نے چھیڑتے ہوئے پوچھا
"کیوں کہ میں خود بہت فلمی ہوں۔۔۔ ”
اس نے جواب دیا۔۔ ہم دونوں ہنس پڑے
شمو کے نقشے کے حساب سے چکر کاٹتے ہم عین اس گلی میں پہنچے جہاں ارسہ اور احمر کا گھر تھا۔۔۔ لیکن اس گھر کے گیٹ پہ بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔۔ ہم لوگوں کو مایوسی ہوئی۔۔ میں نے واپسی کے ارادے سے گاڑی موڑ لی۔۔
"ایک منٹ۔۔ ایک منٹ۔۔ یہاں پاس ہی ارسہ کی خالہ کا گھر ہے۔۔ ان سے پوچھتے ہیں۔۔ ”
شمو نے مجھے روکا
گاڑی وہیں روک کے ہم لوگ ارسہ کی خالہ کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دوڑ بیل بجائی۔ ملازمہ باہر نکلی
"ہاں جی۔۔ کون؟”
اس نے سوال کیا
"ہم ارسہ سے ملنے آئے تھے۔۔ لیکن وہاں تالہ لگا ہے۔۔ اسکی خالہ یہاں رہیتی ہیں۔۔ ؟”
میں نے اس سے پوچھا
"ہاں ۔۔ پر تسی کون او۔۔۔ ؟”
"میں شمو ہوں۔۔ ارسہ کی سہیلی۔۔۔ اس سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ ”
شمو سینہ تانے کے آگے آئی
"آپ اگر ارسہ کی سہیلی تو پھر تو آپکو پتا ہونا چاہیے کہ ارسہ تو پنڈی رہیتی ہے۔۔۔ ”
ملازمہ نے جواب دیا
"لیکن اسکی تو شادی یہیں ہوئی ہے ناں۔۔۔ ؟”
شمو نے پوچھا
"شادی۔۔۔۔ ! باجی۔۔۔ کیڑی شادی دی گل کر رے او تسی۔۔۔ ”
ملازمہ ہنسنے لگی۔۔
ہم دونوں ایکدوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
"کون ہے۔۔ ؟ ”
لبنیٰ بھابی نے آواز دے کے پوچھا
"باجی۔۔! ارسہ دا پچھ رے نے۔۔۔”
ملازمہ مڑ کے پیچھے دیکھنے لگی
"انھیں کہو ہمیں کچھ نہیں پتا۔۔ دروازہ بند کردو۔۔۔ ”
ملازمہ نے دروازہ بند کردیا۔۔۔ ہم لوگ حیران اور پریشان تھے کہ آخر کاجرہ کیا ہے
"شمو۔۔ ! تجھے یقین ہے ناں کہ ارسہ کی احمر سے شادی ہوئی تھی۔۔ ؟”
میں نے اس سوال کیا
"آپی۔۔! انکا نکاح تو ہوا تھا۔۔ یہ بات تو پکی ہے۔۔ رخصتی ہوئی یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔ ویسے پچھلی گلی میں اسکی ایک فرینڈبھی رہیتی تھی۔۔ بھلا سا نام تھا اسکا۔۔۔ ”
وہ سوچنے لگی
"او۔۔ ہیلو۔۔! گھر چلو اب۔۔۔ کسی اور سے بے عزتی کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا۔۔۔ ”
میں بازو سے پکڑ کے اسے گاڑی کے پاس لے آئی
وہاں سے نکل کے ہم نے گھر کا رستہ پکڑا۔۔
"ویسے۔۔ میں سوچ رہی ہوں۔۔ کچھ تو گڑ بڑ ہوئی ہوگی۔۔ احمر کے گھر کا دروازہ بند ہے۔۔ ارسہ کے بارے میں ان لوگوں کے ایسے ریمارکس۔۔ ”
میں سوچتے ہوئے بولی۔۔ شمو مجھ سے بھی زیادہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔۔
"آپی۔۔! دعا کریں۔۔۔ وہ دونوں ساتھ ہوں۔۔ کتنی مشکل سے تو وہ ملے تھے۔۔ ”
شمو بولی
"کیا کہہ سکتے ہیں یار۔۔۔ یہی تو ہوتا ہے۔۔ پیار محبت کب ختم ہوجائے ۔۔۔۔”
میں نے جواب دیا

"کیا آپکے دل سے اسد بھائی کی محبت ختم ہوگئی۔۔۔؟”
شمو نے سیدھا وار مجھ پہ کیا
"یار۔۔! میرا اور اسد کا کیس بہت الگ ہے۔۔۔ تم نہیں سمجھو گی۔۔۔ ”
میں نے اسے چپ کرا دیا۔۔ دراصل سمجھ تو میں خود بھی نہیں پا رہی تھی کہ جو کچھ ہو رہا ہے ۔۔ وہ کیا ہے اور کیوں ہے۔
ہمیں گھر پہنچتے پہنچتے دوپہر ہوگئی۔
سرمد ڈارئنگ روم میں بیٹھا تھا۔ امی کیچن میں تھیں او ر بابا اپنے روم میں ۔ سرمد نے ہم دونوں کو نظر انداز کیا۔ میرے ساتھ اسکی بول چال بند تھی اورشمو سے وہ بات کرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں اپنے روم کی طرف بڑھی لیکن شمو نے ہاتھ پکڑکے روکا اور سرمد کی طرف دیکھ کے بولی
"اسلام و علیکم۔۔۔! ”
اس نے ہماری طرف کوئی دھیان نہیں دیا
"سرمد بھائی۔۔! اسلام علیکم۔۔۔ ”
وہ اونچی آواز میں بولی
اس بار بھی اس نے ہٹ دھرمی دکھائی
"میں آپ سے ہوں۔۔۔ ! سنائی نہیں دے رہا آپکو۔۔۔ ”
وہ اسکے پاس جا کے کھڑی ہوئی
مجھے ڈر لگنے لگا کہیں سرمد غصے میں اسے کچھ بول نہ دے۔۔۔ لیکن وہ وہاں سے اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔۔ شمو بھاگ کر اسکے کمرے کے دروازے کے آگے جا کے کھڑی ہوگئی
"یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔ ؟”
وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا
"جب کوئی گھر میں آئے تو اسے سلام نہ کرنا بدتمیزی ہوتی ہے۔۔”
شمو نے اسے جواب دیا
"ہو دا ہیل آر یو۔۔۔ !”
وہ چلایا
"آئی ایم شمو۔۔۔ ڈائریکٹ فرام سرگودھا ٹو لاہور ۔۔۔ ”
شمو کے جواب پہ میری ہنسی نکل گئی
اتنے میں امی آگئیں
"اف۔۔۔ لڑ کیوں رہے ہو تم لوگ۔۔۔ ؟”
"خالہ جی۔۔! دیکھیں ذرا۔۔۔ ایک تو آپ کے بیٹے نے ہمیں سلام نہیں کیا اوپر سے اکڑ دکھا رہا ہے۔۔ بھلا ایسے ہوتا ہے کیا۔۔۔۔؟ ”
شمو سرمد کے آگے جوں کی توں دیوار بنی کھڑی رہی
"ٹھیک تو کہہ رہی ہے۔۔ سلام تو کرنا چاہیے۔۔۔ ”
امی نے شمو کی سائیڈلی
سرمد کو اور زیادہ غصہ آگیا
اس نے شمو کی کلائی سے پکڑا اور ایک جھٹکے اسے دروازے کے آگے سے ہٹایا۔ کمرے کا درواز کھولا اندر جا کے دھک سے بند کیا۔۔۔
امی اور میں دور کھڑے یہ تماشہ دیکھتے رہے۔۔
"شمو بیٹا۔۔! اس کے منہ نہ لگا کرو۔۔۔ تمہیں پتا تو ہے ہر وقت سڑا رہیتا ہے۔۔ ”
امی سمجھانے لگیں
"کوئی بات نہیں خالہ۔۔ سڑے ہوئے لوگوں کو تنگ کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔۔ ”
وہ ہنستے ہوئے بولی
"شمو ۔۔! تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔۔ ؟ لگی تو نہیں۔۔؟”
میں اسکے پاس گئی
"ہاں ۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔ آپکو پتا نہیں۔۔ شمو کتنی سخت جان ہے۔۔ جب ہم سکول میں تھے تو ایک موٹے تازے لڑکے کے ساتھ میری لڑائی ہوگئی۔۔۔ میں نے اسکی خوب دھلائی کی۔۔۔ ابھی تک یاد کرتا ہوگا۔۔۔ ”
شمو نے ایک اور قصہ چھیڑا۔۔
میں ہنس پڑی۔۔
امی میرے پیچھے ہی کھڑی تھیں۔
"صبا۔۔۔! تم اور شمو۔۔ فریش ہوجاؤ۔۔ کھانا تیار ہے۔۔ ”
وہ مجھ سے مخاطب تھیں۔۔ میں حیرت زدہ ہوکے پیچھے مڑی۔۔ کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا کہ کل رات کی جنگ کے بعد امی کا موڈایک دم سے کیسے بدل گیا۔۔
شمو کے ہونٹوں پہ پھیلی معنی خیز مسکراہٹ مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرگئی

بقیہ اگلے حصے میں۔۔۔

لائیک ، کمنٹ اور شئیر کرنا نہ بھولیں
"اس کہانی کی بلا رکاوٹ اپ ڈیٹس لینے کے لیے ابھی اس پیج کو "فالو” کریں اور "سی فرسٹ” پہ کلک کرکے ہر قسط بر وقت پڑھیں”
Click “Following” and select “See First”