اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

کوئی کسی کو دیکھ کر فوراً پہچان نہیں لیتا، مگر جن …


کوئی کسی کو دیکھ کر فوراً پہچان نہیں لیتا، مگر جن لوگوں نے حال ہی میں کسی اپنے کو دفن کیا ہو، وہ ایک دوسرے کو ہجوم میں بھی پہچان لیتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں دنیا پوری کی پوری موجود ہوتی ہے، مگر فوکس کہیں نہیں ہوتا۔ جیسے دھندلے شیشے کے اُس پار سے زندگی کو دیکھ رہے ہوں۔ جیسے روشنی ان کے لیے ضرورت سے زیادہ سفید ہو گئی ہو۔

سعد بھی اب ایسے ہی لوگوں میں شامل تھا۔

وہ دفتر جانے کے لیے ہر صبح وہی سفید رومال جیب میں رکھتا جس کے ایک کونے پر اس کی بیوی مریم نے سبز دھاگے سے چھوٹا سا حرف "م” کاڑھا تھا۔ رومال اب بھی صابن کی ہلکی خوشبو سنبھالے ہوئے تھا، حالانکہ مریم کو قبر میں اترے تین مہینے گزر چکے تھے۔

یہ رومال اب اس کے لیے کپڑا نہیں، ایک دروازہ تھا۔

گھر میں ہر چیز اپنی جگہ پر تھی، مگر اپنی جگہ جیسی نہیں لگتی تھی۔ فریج پر لگے بچوں کے پرانے میگنیٹ، باورچی خانے میں الٹا رکھا ہوا کپ، آنگن میں نیم کے پتوں کی باریک تہہ، سب جیسے کسی ایسے شخص کا انتظار کر رہے تھے جسے خود خبر نہ ہو کہ وہ مر چکا ہے۔

اس کی ماں روز شام کو چائے بناتے ہوئے پوچھتی،
"شکر ایک چمچ ہی ڈالوں نا؟”

سعد ہر بار چونک جاتا۔

مریم چائے میں کبھی ایک چمچ سے زیادہ شکر نہیں پیتی تھی۔

ماں ہر بار سوال پوچھنے کے بعد ایک لمحے کو خاموش ہو جاتی، جیسے اسے یاد آ جاتا ہو کہ یہ سوال اب عادت سے نکلتا ہے، ضرورت سے نہیں۔

محلے والے اسے دیکھتے تو آواز دھیمی کر لیتے۔

کچھ لوگ کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے۔

کچھ نظریں چرا لیتے۔

اور کچھ ایسے مسکرا دیتے جیسے بیماری کا حال پوچھ رہے ہوں۔

سعد کو سب سے زیادہ انہی لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔

ایک جمعرات وہ قبرستان گیا۔

بارش کے بعد کی مٹی ابھی تک نم تھی۔ قبر کے کنارے اگے ہوئے ننھے سبز پتے ہوا سے ہل رہے تھے۔ اس نے جیب سے وہ سفید رومال نکالا، مٹی جھاڑی، پھر بے اختیار اسے قبر کے کچے کتبے پر رکھ دیا۔

ایک بوڑھا مالی قریب ہی جھاڑیاں کاٹ رہا تھا۔

اس نے کہا،
"بیٹا، رومال گھر لے جاؤ… یہاں کپڑے زیادہ دیر صاف نہیں رہتے۔”

سعد نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید غم بھی مٹی جیسا ہوتا ہے۔

جو چیز اس کے قریب رکھی جائے، وہ بھی اس جیسی ہو جاتی ہے۔

اس نے رومال اٹھا لیا۔

چند قدم دور ایک عورت کھڑی تھی۔

اس کے ہاتھ میں بھی ایک سفید رومال تھا۔

وہ قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد دیر تک وہیں کھڑی رہی، جیسے اسے یاد نہ آ رہا ہو کہ واپس کس طرف جانا ہے۔

ان دونوں کی نظریں ایک لمحے کے لیے ملیں۔

کوئی تعارف نہ ہوا۔

کوئی تعزیت نہ ہوئی۔

صرف ایک ایسی پہچان گزری جس کے لیے زبان ایجاد نہیں ہوئی۔

سعد نے پہلی بار جانا کہ سوگوار لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں، ایک دوسرے کے اندر سے گزرتے ہیں۔

گھر واپس آیا تو بیٹی عائشہ اسکول سے لوٹ چکی تھی۔

اس نے بستہ اتارا اور پوچھا،
"ابو… امی کی آواز بھول سکتی ہوں کیا؟”

سعد نے فوراً جواب نہیں دیا۔

اس نے رومال کھولا، اس سے عائشہ کے ہاتھ صاف کیے، جیسے بچپن میں مریم کیا کرتی تھی۔

پھر بولا،
"آوازیں نہیں بھولتیں… بس کبھی کبھی بہت دور چلی جاتی ہیں۔”

عائشہ نے سر ہلا دیا، مگر اس کی آنکھوں میں اطمینان نہیں آیا۔

اسی رات سعد کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ مریم کے مرنے کا نہیں، اس کے آہستہ آہستہ مٹنے کا خوف کھا رہا ہے۔

انسان ایک دن میں نہیں مرتا۔

وہ یادداشتوں سے قسطوں میں دفن ہوتا ہے۔

چند ہفتوں بعد اس نے الماری صاف کرتے ہوئے مریم کا دوپٹہ، نسخے، پرانی رسیدیں اور وہ عینک دیکھی جس کا ایک بازو ٹیپ سے جوڑا گیا تھا۔

ہر چیز کو ہاتھ لگایا۔

مگر رومال کو نہیں۔

وہ جیب میں رکھا رہا۔

جیسے دل سینے میں رہتا ہے۔

وقت گزرتا رہا۔

لوگوں نے کہنا شروع کیا،
"اب تو سنبھل جاؤ۔”

یہ جملہ اسے ہمیشہ عجیب لگتا۔

غم کوئی گرا ہوا برتن نہیں تھا جسے اٹھا کر سیدھا رکھ دیا جائے۔

وہ تو پانی تھا۔

اپنی سطح خود تلاش کرتا تھا۔

ایک دن عائشہ کو تیز بخار ہو گیا۔

رات کے پچھلے پہر وہ اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہا تھا۔ اچانک بچی نے نیم غنودگی میں کہا،

"ابو… امی آئی تھیں۔”

"کیا کہہ رہی تھیں؟”

"کہہ رہی تھیں رومال دھو لینا… بہت میلا ہو گیا ہے۔”

سعد کے ہاتھ رک گئے۔

اس نے پہلی بار جیب سے رومال نکال کر غور سے دیکھا۔

وہ واقعی میلا ہو چکا تھا۔

اس پر مٹی کے دھبے، پسینے کی شکنیں، اور انگلیوں کے نشان تھے۔

اس نے اسے دھونے کے لیے بالٹی میں ڈبویا۔

سبز دھاگے سے بنا ہوا چھوٹا سا "م” پانی میں بھیگ کر اور زیادہ نمایاں ہو گیا۔

اُسے اچانک سمجھ آیا۔

وہ رومال مریم کی آخری نشانی نہیں تھا۔

وہ اس کے غم کی آخری پناہ گاہ بن گیا تھا۔

اور وہ خود تین مہینوں سے مریم کو نہیں، اپنے غم کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا۔

اس نے رومال نچوڑا، رسی پر پھیلا دیا۔

صبح کی ہوا میں وہ آہستہ آہستہ خشک ہونے لگا۔

عائشہ جاگ کر باہر آئی۔

بولی،
"ابو… امی والا رومال؟”

سعد نے مسکرا کر کہا،
"ہاں… اسے بھی سانس لینے دو۔”

عائشہ نے کچھ نہیں پوچھا۔

اس نے صرف رومال کو ہوا میں ہلتے دیکھا۔

جیسے کوئی رخصت ہونے کے بعد پہلی بار واقعی چلا گیا ہو۔

اور سعد نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ بعض لوگ قبر میں دفن نہیں ہوتے… وہ ہماری جیبوں میں رہتے رہتے ایک دن خاموشی سے آسمان میں منتقل ہو جاتے ہیں۔