بیٹا… آج میں نے تم سے بہت برا سلوک کیا۔‘‘ تم میرے…
💥 بیٹا… آج میں نے تم سے بہت برا سلوک کیا۔‘‘ تم میرے لیے پھول لائے تھے اور میں نے تمہیں ڈانٹ دیا۔ مجھے معاف کر دو۔‘‘ 🥹💔
اس دن دفتر سے نکلتے ہوئے سلمان کا موڈ خراب تھا۔
صبح سے تین میٹنگیں، دو فون کالیں اور ایک ایسا کلائنٹ جو ہر پانچ منٹ بعد اپنی بات بدل دیتا تھا۔ شام تک اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے سر کے اندر چھوٹی چھوٹی کیلیں ٹھونک دی ہوں۔
پارکنگ سے گاڑی نکالتے ہوئے ایک آدمی اچانک سامنے آ گیا۔
سلمان نے فوراً بریک لگا دی۔
دونوں چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
سلمان نے شیشہ نیچے کیا۔
’’اوہ، معاف کیجیے گا۔‘‘
آدمی نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔
’’نہیں نہیں، غلطی میری تھی۔ میں دھیان نہیں دے رہا تھا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ سلمان نے مسکرا کر کہا۔
’’شکریہ۔‘‘
اور دونوں اپنی اپنی سمت چل دیے۔
سلمان نے گاڑی آگے بڑھائی تو دل میں ایک عجیب سا اطمینان تھا۔
دنیا میں ابھی بھی تہذیب باقی تھی۔
وہ آدمی بھی کتنا مہذب تھا۔
وہ خود بھی تو غصے میں ہونے کے باوجود کتنی شائستگی سے پیش آیا تھا۔
گھر پہنچتے پہنچتے وہ چھوٹا سا واقعہ اس کے ذہن سے اتر چکا تھا۔
دروازہ کھولا تو اس کا آٹھ سالہ بیٹا ریحان بھاگتا ہوا آیا۔
’’ابو!‘‘
سلمان نے جوتے اتارتے ہوئے موبائل نکالا۔
’’ہاں بیٹا، ایک منٹ۔ پہلے مجھے ذرا سانس تو لینے دو۔‘‘
ریحان وہیں رک گیا۔
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔
مگر سلمان موبائل کی اسکرین پر نظریں جمائے اندر چلا گیا۔
رات کے کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔
سلمان کی بیوی نوشین باورچی خانے میں مصروف تھی۔
ریحان کبھی ماں کے پاس جاتا، کبھی باپ کے قریب آتا۔
اس شام وہ غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔
وہ کئی بار سلمان کو دیکھتا۔
جیسے کچھ کہنے کی ہمت جمع کر رہا ہو۔
آخرکار اس نے اپنی مٹھی میں کوئی چیز مضبوطی سے بند کی اور باورچی خانے کے دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا۔
سلمان پانی لینے کے لیے اٹھا۔
وہ پلٹا تو ریحان بالکل اس کے پیچھے کھڑا تھا۔
سلمان کا قدم تقریباً اس سے ٹکرا گیا۔
’’ریحان! تمہیں سمجھ نہیں آتی؟ راستے میں کیوں کھڑے ہو؟‘‘
بچے نے فوراً ایک قدم پیچھے ہٹایا۔
’’ابو، میں تو…‘‘
’’ہر وقت پیچھے پیچھے لگے رہتے ہو۔ جاؤ، وہاں بیٹھو!‘‘
سلمان کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند تھی۔
باورچی خانے میں برتنوں کی آواز اچانک رک گئی۔
ریحان نے سر جھکا لیا۔
’’جی۔‘‘
بس اتنا کہا۔
اور خاموشی سے چلا گیا۔
سلمان نے پانی پیا، موبائل اٹھایا اور دوبارہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر رات کو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا۔
سب سو گئے تھے۔
گھر خاموش تھا۔
سلمان بستر پر لیٹا کروٹیں بدلتا رہا۔
کبھی پنکھے کو دیکھتا، کبھی چھت کو۔
پھر اچانک اسے شام کا وہ اجنبی یاد آ گیا۔
’’معاف کیجیے گا۔‘‘
’’نہیں نہیں، غلطی میری تھی۔‘‘
سلمان نے آنکھیں بند کر لیں۔
ایک اجنبی کے سامنے وہ اپنے لہجے پر قابو رکھ سکتا تھا۔
ایک اجنبی کی معمولی غلطی پر فوراً معذرت کر سکتا تھا۔
مگر اپنے بیٹے کے لیے؟
اسے صرف چند لفظ نرم کرنے میں بھی اتنی مشکل کیوں پیش آتی تھی؟
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
پانی پینے کے لیے باہر نکلا تو باورچی خانے کی لائٹ جل رہی تھی۔
نوشین ریحان کو سلا کر شاید دودھ رکھنے آئی تھی۔
اس نے سلمان کو دیکھا تو ایک طرف ہو گئی۔
سلمان نے پوچھا:
’’ریحان سو گیا؟‘‘
نوشین نے چند لمحے اسے دیکھا۔
پھر صرف اتنا کہا:
’’ہاں۔‘‘
اور وہ خاموشی سے نکل گئی۔
سلمان پانی لینے باورچی خانے میں گیا۔
تب اس کی نظر دروازے کے پاس پڑی۔
فرش پر تین چھوٹے چھوٹے پھول پڑے تھے۔
ایک پیلا۔
ایک گلابی۔
اور ایک سرخ۔
سلمان جھک گیا۔
اس نے پھول اٹھا لیے۔
ان کے ڈنٹھل ٹیڑھے میڑھے تھے۔
پتیاں بھی جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھیں۔
جیسے کسی ننھے ہاتھ نے انہیں بڑی احتیاط سے توڑا ہو۔
سلمان انہیں دیکھتا رہا۔
پھر اچانک اسے ریحان کی مٹھی یاد آئی۔
وہ باورچی خانے کے دروازے پر کیوں کھڑا تھا؟
اتنا خاموش کیوں تھا؟
کچھ کہنا کیوں چاہ رہا تھا؟
سلمان کے سینے میں جیسے کوئی چیز آہستہ سے ٹوٹ گئی۔
وہ سیدھا ریحان کے کمرے میں گیا۔
بچہ سو رہا تھا۔
چہرہ تکیے میں آدھا چھپا ہوا تھا۔
سلمان اس کے پاس بیٹھ گیا۔
اس نے بیٹے کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
ریحان ذرا سا ہلا، مگر آنکھیں نہ کھولیں۔
سلمان کی نظر اس کے چھوٹے سے ہاتھ پر پڑی۔
وہ مٹھی اب خالی تھی۔
سلمان نے بہت آہستہ سے کہا:
’’ریحان…‘‘
بچے نے آنکھیں کھول دیں۔
’’جی؟‘‘
’’یہ پھول تم لائے تھے؟‘‘
ریحان نے چند لمحے باپ کو دیکھا۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
’’ہاں۔‘‘
’’میرے لیے؟‘‘
’’آپ کے لیے۔‘‘
سلمان کی آواز بھرا گئی۔
’’کیوں؟‘‘
ریحان نے آنکھیں ملیں۔
’’کیونکہ آج آپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ میں نے سوچا… آپ کو اچھے لگیں گے۔‘‘
سلمان نے نظریں جھکا لیں۔
کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر ریحان نے دھیرے سے پوچھا:
’’ابو… آپ کو پسند آیا؟‘‘
سلمان نے پھول کو دیکھا۔
’’بہت۔‘‘
ریحان مسکرایا۔
’’مجھے پتا تھا۔‘‘
سلمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس نے بیٹے کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ریحان… آج ابو نے تم سے بہت برا سلوک کیا۔‘‘
بچہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
’’تم میرے لیے پھول لائے تھے اور میں نے تمہیں ڈانٹ دیا۔ مجھے معاف کر دو۔‘‘
ریحان نے کچھ سوچا۔
پھر اپنا ننھا سا ہاتھ باپ کے گال پر رکھ دیا۔
’’کوئی بات نہیں ابو۔‘‘
سلمان نے اسے سینے سے لگا لیا۔
ریحان نے دھیرے سے کہا:
’’میں آپ سے ناراض نہیں ہوں۔‘‘
یہ جملہ سلمان کے لیے معافی سے زیادہ بھاری تھا۔
اس نے بیٹے کو اور مضبوطی سے اپنے سینے سے لگا لیا۔
کچھ دیر بعد ریحان سو گیا۔
سلمان کافی دیر تک اس کے پاس بیٹھا رہا۔
پھر اس نے تینوں پھول اٹھائے اور اپنے کمرے کی میز پر رکھ دیے۔
صبح نوشین نے میز پر پھول دیکھے تو رک گئی۔
’’یہ یہاں کیوں رکھے ہیں؟‘‘
سلمان نے کچھ لمحے انہیں دیکھا۔
’’تاکہ مجھے یاد رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تہذیب کا حق اجنبیوں کا نہیں… اپنے لوگوں کا ہے۔‘‘
نوشین خاموش رہی۔
سلمان نے گھڑی دیکھی اور دفتر جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھا۔
وہ ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ پیچھے سے ریحان کی آواز آئی:
’’ابو!‘‘
سلمان رک گیا۔
اس نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔
ریحان دروازے پر کھڑا تھا۔
’’آج جلدی آؤ گے؟‘‘
سلمان نے ایک لمحے کے لیے گھڑی دیکھی۔
پھر بیٹے کو دیکھا۔
’’ہاں۔‘‘
ریحان نے فوراً پوچھا:
’’پکا؟‘‘
سلمان مسکرایا۔
’’پکا۔‘‘
وہ جھکا اور بیٹے کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
اس دن سلمان دفتر تو گیا، مگر پہلی بار اسے یہ احساس ساتھ لے کر گیا کہ انسان ساری عمر جن لوگوں کے لیے محنت کرتا ہے، اکثر انہی کے لیے وقت نکالنا بھول جاتا ہے۔
شام کو میز پر رکھے تینوں پھول مرجھا چکے تھے۔
مگر ایک پھول سلمان کے اندر کہیں کھل گیا تھا۔
وہاں، جہاں ایک باپ بہت عرصے سے موجود تھا…
مگر اپنے بیٹے تک پہنچنے کا راستہ بھول چکا تھا۔
افسانہ: احساس
©️ انتخاب سخن