چیونٹیاں اور ٹِڈا : یونانی حکایت : ایسوپ جاتی خز…
چیونٹیاں اور ٹِڈا :
یونانی حکایت : ایسوپ
جاتی خزاں کا ایک سہانا دن تھا اور چیونٹیوں کا ایک کنبہ گرم دھوپ میں اناج کے ان دانوں کو سکھانے میں سرگرم تھا جو انہوں نے موسم گرما میں اکٹھے کر کے رکھے تھے۔۔ اتنے میں ایک بھوکا ٹِڈا بغل میں اپنی سارنگی دبائے وہاں آیا اور اس نے چیونٹیوں سے نہایت عاحزی سے کھانے کو کچھ دانے مانگے۔۔
" کیا ! " چیونٹیاں حیرانی سے چلائیں، " کیا تم نے پالے کے موسم کے لئے کچھ بھی جمع کرکے نہیں رکھا ہوا ؟ تم سارے گرمیاں کیا کرتے رہے ہو ؟ "
" مجھے وقت ہی نہیں ملا کہ میں اپنے لئے خوراک کا ذخیرہ کر سکتا، " ٹِڈے نے جھنپتے ہوئے کہا :
" میں تو موسیقی کے سُر بکھیرتا رہا اور مجھے پتہ
بھی نہ چلا کہ گرمیاں جا چکیں ہیں۔۔۔ "
چیونٹیوں نے حقارت سے کندھے اچکائے۔۔
" تم موسیقی کے سُر بکھیرتے رہے؟ وہ چلائیں، بہت اچھے، اب بہتر ہے کہ تم بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر رقص کرو۔۔"
یہ کہہ کر انہوں نے ٹِڈے کی طرف پیٹھ کی اور اپنے کام میں مصروف ہو گئیں۔۔۔
کام کے سمے کام کرنا چائیے اور کھیل کے وقت کھیلنا چائیے ۔۔
•••••••
کتاب : حکایات عالم
اردو قالب : قیصر نذیر حاور
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2913772532186594