پاکستان کا معاشرہ ان چند معاشروں میں سے ایک ہے جہاں معاشی مشکلات کے باوجود لوگ د…
پاکستان کا معاشرہ ان چند معاشروں میں سے ایک ہے جہاں معاشی مشکلات کے باوجود لوگ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ نہیں چھوڑتے۔ 2024 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دنیا کے 101 ممالک میں سخاوت کے اعتبار سے 17ویں پوزیشن حاصل کی۔
یہ درجہ بندی محض ایک نمبر نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ یہاں کے لوگ اب بھی اجتماعی بھلائی کو ذاتی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 73 فیصد افراد نے کسی نہ کسی شکل میں عطیہ دیا۔ اس کے مقابلے میں دنیا بھر کی اوسط شرح 64 فیصد ہے۔
یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب بھی ایک دوسرے کا خیال رکھتا ہے۔ کسی کے لیے دوا خرید دینا، کسی طالب علم کی فیس ادا کر دینا، یا کسی گھرانے کے لیے راشن کا بندوبست کر دینا، یہ سب کام خاموشی سے، بغیر کسی دکھاوے کے کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں عطیات دینے کی جڑیں صرف انسانی ہمدردی سے نہیں جڑی ہوئیں، بلکہ ایک گہرا مذہبی پس منظر بھی رکھتی ہیں۔ زکوة، صدقہ، فطرانہ، اور خیرات یہاں صرف مالی لین دین نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر سطح پر محسوس کیا جا سکتا ہے، چاہے دینے والا امیر ہو یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
اسی مذہبی اور معاشرتی شعور کی وجہ سے پاکستانی اپنی آمدن کا اوسطاً 1.64 فیصد عطیہ کرتے ہیں، جو کہ دنیا کے کئی امیر ممالک سے بھی زیادہ ہے۔
اکثر لوگ خود ادارے نہیں بناتے، نہ ہی نام ظاہر کرتے ہیں، لیکن کسی کے گھر کا چولہا ان ہی کے دیے ہوئے راشن سے جلتا ہے۔ یہ رویہ خاموشی سے معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے اور بے آواز خوشیوں کا ذریعہ بنتا ہے۔
سخاوت کے یہ اعداد و شمار ہمارے اصل مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم ہر چیز میں تقسیم کا شکار ہو سکتے ہیں، لیکن کسی مجبور کی مدد کرنے کے جذبے میں آج بھی متحد ہیں۔
یہی وہ وصف ہے جو اس قوم کو مسائل کے باوجود ایک مضبوط، جیتے جاگتے معاشرے میں بدل دیتا ہے۔
اللہ پاک اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے وطن عزیز پاکستان اور اس کے باسیوں کو اپنی امان میں رکھے۔
محمد عظیم حیات
لندن
Source