ٹاپرز ارینہ TOPPERS ARENA اور سوفیصد مارکس کا ڈرامہ- چوہدری بابر عباس خان
او لیول اے لیول والے بچوں اور ٹاپ برینڈ اور ہائی کاسٹ سکولنگ کا تو کیس دوسرا ہوتا ہے۔ وسائل کے ساتھ ساتھ یقینا ان طلبہ کی سخت محنت بھی ہوتی ہے اور پھر ان اداروں میں سٹڈی میتھیڈولجیز بھی خاصی ترقی یافتہ ہیں۔ جہاں بچے کی گرومننگ اور پھر کانسپچوئل سٹڈیز کی بنیادوں پر ہی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ بچے 1100/1100 لیں یا نہ لیں انکی صلاحتیں اور قابلیت کا معیار اور اساس الگ ہی ہوتی ہے۔ اور ان طلبہ کو آگے ایف سی، کنرڈ اور ایچی سن جیسے اداروں میں بھی کم ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اب ایک دوسرا اور اکثریتی طبقہ سوفیصد مارکس اور ٹاپرز کا ہے۔ یہ اکثر بزنس سیکرز پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تیار کردہ پود ہے۔ جسکا ایندھن نمبرز گیم کے خواہاں والدین کے بچے ہوتے ہیں۔ میٹرک و انٹر میڈیٹ کلاسز کے حالیہ ہوشربا نتائج اس سیاہ کاری کی ایک زندہ اور یقینی الارمنگ مثال ہے۔ مان لیں کہ فوٹو میموری کا وجود ہے انسانی صلاحیت میں۔ مگر اس قدر افراط سے کہ ستر بچے تو وہ ہیں جو جنکے سوفیصد مارکس ہیں۔ اور 99، 98 کی تعداد تو سینکڑوں اور شائد ہزاروں میں ہو۔ یہ بھی رعایت لے لیں کہ سائنسی مضامین میں فل مارکس آ سکتے ہیں مگر ان سائنسی تین چار مضامین کے علاوہ ادب اور سوشل سٹڈیز جیسے مضامین میں ایسا کیا عددی طریقہ ہے کہ سوفیصد مارکس لیے اوردیئے جاتے ہیں؟ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس بار صرف چار مضامین کے ہی امتحان ہوئے، اور کرونا کے کارن لچکدار مارکنگ کی گئی ہے۔ تو ہو سکتا ہے کہ امتحانات میں مارکس کا یہ طومار لگ گیا ہو۔ مگر یہ ناسور آج کا تو نہیں ہے، زیادہ نہیں تو دس پندرہ سال پرانا تو ضرور ہے۔۔۔ !
یہ کیسا ہاتھ ہورہا ہے قوم کے ساتھ؟ اول تو ان دو سالوں میں حکومت کی بد ترین تعلمی کارکردگی اور پرلے درجے کی پست و غیر یقینی تعلیمی و امتحانی پالیسیز نے بیڑا غرق کیا ہے، جبکہ باقی کے سارے معاملات چلتے رہے، تمام، کارباری سرگرمیاں، ٹرانسپورٹ، سیاسی، مذہبی اور سماجی اکٹھ اور جلسے جلوس سب چلتا رہا۔ مگر نہ جانے کیا دشمنی اور کیا مقاصد تھے جو فقط تعلیمی سرگرمیوں کو ہی معطل کر کے اور اسے بری طرح برباد کر کے حاصل ہونے تھے؟ حیرت سے انگلیاں کاٹ کھائیں یا سر دھن لیں کے دو سال تک بچے سکول نہیں گئے، سکولنگ جو کہ پہلے ہی خستہ حال و بھدی چال سے چل رہی ہے۔۔۔۔ اوپر سے طویل عرصے تک اسکے بند رہنے سے بچوں میں ایک نان سکولنگ اور غیر طالب علمانہ رویے گھر کر چکے ہیں تو ایسا میں یہ نمبری لوٹ میلہ ایک نمبری ہے یا دو نمبری؟
پھر یہ تیسرا طبقہ ہے جسکی مثال ایسے زمین دار کی ہے جو مالک تو زمین کا ہے مگر اسکے مزارعے اتنے گھاک اور طاقت ور ہیں کہ اسکی ہی زمین پر اسکو ہی کسی قسم کا کوئ حق نہیں ہے۔۔۔۔ البتہ مالیہ اور ہر طرح کا محصول سب سے پہلے اسی سے وصولا جاتا ہے۔ یہ عددی لحاظ سے سے سب بڑا مگر وجود میں خاصا لاغر و نحیف طبقہ ہے جو اپنی جسم و روح کے رشتے کو اگر بمشکل قائم رکھے پائے تو ہمت جمع کر کے اپنی اولادوں کو گاوں، جھوک اور کسی کچی بستی کے سرکاری سکولوں میں داخل کروا دیتا ہے۔ اگر آپ اس ٹاپرز والی میتھ کو سمجھتے ہیں تو حضور آپ کے لیے اس بات سے انکار مشکل ہے کہ اس طبقے سے تو ٹاپرز کے شاپرز بھرنا نا ممکن ہے۔ ورنہ زیادہ دور کی نہیں پندرہ پیس سال پرے ہی کی بات ہے۔۔۔۔ جب انہی اداروں اور اسی طبقہ سے انتہائی قابل اور ذہین طلبہ پیدا ہوتے تھے۔ اور اگر آج ذرا غور کریں تو آپ کو یہ طبقہ سماج میں اپنی شناخت کے ساتھ ضرور مل جائے گا۔ انکے ہاں فرسٹ ڈویزن عمدہ قابلیت سمجھی جاتی تھی۔۔۔ اور چھ سو والا طالب علم اعلی قابلیت اور سات سو سے اوپر والا نیٹشے کا سپر سٹوڈنٹ کہلاتا تھا۔ اور بلاشبہ یہ طلبہ خود کو اپنی آئندہ کی تعلمی زندگی میں ثابت بھی کرتے تھے۔
تو جناب اب ہمارا حال بڑا مخلتف ہو گیا ہے وہ ٹاٹ کے ٹاپرز نہیں رہے اب۔ اب ان ٹاپرز ہونہاروں کی بھیڑ ہے جو ثواب، “س” سے بھی لکھ لیتے ہیں اور دل چاہے تو “ص” سے بھی لکھ لیتے ہیں۔ چلیں اس ساری کج فہمی کو رد ہی کر دیتے ہیں۔ تو پھر ان پچھلے دس پندرہ سالوں میں گریجوئیشن کے رزلٹس جو انٹر تک بڑی تگ و دو سے بمشکل ہی سو فیصد تک محدود کرنا پڑتے ہیں ورنہ جوش و جذبے کا تو یہ عالم ہے کہ اصل مقابلہ تو سو فیصد کے بعد ہی شروع ہو، مگر کیا ہے ؟ کہ گریجوئشن لیول پر یہی ٹاپرز کے شاپرز ساتھ فیصد تک خالی ہو چکے ہوئے ہوتے ہیں اور رزلٹس پینتیس سے چالیس فیصد تک منہ چھپائے پھرتے ہیں جو ماسٹرز تک پہنچتے بیس سے پچیس فیصد والی شرمناک حد تک رہ جاتے ہیں۔
مگر یہاں ایک دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ یونیورسٹیز کے ان کھسیانے سے نتائج میں اول الذکر نے تو چلیں اپنی کارکردگی دکھانی ہی ہوتی ہے اور اولیول اے لیول کا طالب علم اسکا استحقاق بھی رکھتا ہے مگر انکے بعد زیادہ تعداد ٹاٹ کے ٹاپرز کی ہی ہوتی ہے۔۔۔ درمیانوں کی اصل بھد یہیں اڑتی ہے اور انتہائی شرمناک سی تعداد میں ہی یہاں اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں تو وہ “سر نے بتایا تھا کہ پیپر میں یہ ہی سوال آئیں گے سب کو یہ سوال طوطے کی طرح آنے چائیں” والی چند صفحاتی پڑھائی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ مگر ان ٹاپرز اور انکے ہم خیال والدین کبھی بھی ہمت نہیں ہارتے۔۔۔۔ پنجاب ہونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، نسٹ و کامسٹ وغیرہ سے کیا لینا اور طب و ہندسہ کی تعلیم تو ویسے ہی مخصوص حد تک ہی رہ جاتی اور پھر یہ آسودہ خیالی کہ یہ تو ہیں متعصب ادارے اور لائق بچوں سے یہ مخاصمت رکھتے ہیں اور ٹاپرز کو تو جان بوجھ کے ہی نمبر نہیں دیتے۔۔۔۔ تو؟ زندہ باد اقبال کی کھلی یونیورسٹی۔۔۔۔ جہاں پھر سے وہی دھندہ خوب چلتا ہے۔۔۔۔ جہاں مارکنگ کا آغاز ہی ساٹھ سے ستر نمبرز سے ہوتا ہے۔ اس تعلمی سرطان کے ادارے میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے کی کل مشقت، بروقت فیس کی ادائیگی، ہر مضمون کی ایک عدد اسائنمنٹ کے نام پر ایک لفافہ پوسٹ کرنا ہے، اندر کا مواد کچھ بھی ہو۔۔۔۔۔ قطعی مسئلہ نہیں۔۔۔ لفافہ پوسٹ ہو گیا اور ٹیوٹر کو موصول ہو گیا تو ساٹھ نمبر تو یقینی ہیں۔۔۔۔ اور اگر ٹاپرز نابغوں نے اس اسائنمنٹ والی پتر کاری پر اپنی حسب تربیت پنوں کی گل کاری بھی کر دی۔ ۔ تو۔۔۔ کمال است۔ اور تیسری اہم ریاضت امتحان میں شمولیت ہے۔ آپکی امتحانی مرکز میں حاضری لگ گئ، اسکے لیے پراکسی کا استعمال بھی ممنوع نہیں ہے۔۔۔ کتاب پڑھنا دور اسکی عدم دستیابی کے باوجود۔۔۔۔ بس ان کہنہ مشق مراحل کو طے کر لینے پر اپنی کامیابی یقینی سمجھیں۔
یہاں اب پھر ایک نیا ڈرامہ۔ اول و آخر الذکر طبقہ جو بیچارہ مثال کے طور پر پنجاب یونیورسٹی زدہ ہی کو لیں جہاں ساٹھ فیصد حد ہے اور شاذ ہی ستر پچھتر تک بات جائے اور اس سے اوپر والے تو غیر معمولی اذہان ہی کہلاتے ہیں۔ اب یہاں پھر وہی شاپر جو سمجھ رہے تھے خالی ہو گئے ہیں ان ٹاپرز سے پھر بھر جاتے ہیں جو پیشہ ورانہ زندگی کی ہر لائن کے ٹاپ پر بھی پھر وہی مارکس سے اٹے ہوئے پرچے لہرا رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔!
او لیول اے لیول والے اول الذکر تو پھر کہیں کوئی اپنا راستہ بنا لیتے ہیں کہ وہ لیاقت کے ساتھ ساتھ ثروت بھی رکھتے ہیں۔ پس گیا نا پھر یہاں وہی زمین کا مالک جسکی زمین ان گھاک مزارعوں کے ہاتھ آ جاتی ہے جو اس کو اسکے پاس بھی نہیں بھٹکنے دیتے۔ البتہ باج مالیہ اس نے ضرور دیناہے۔۔۔۔۔!
یہ مشاہدہ ہے، جانے درست ہے نہیں ہے مگر جو بات ضروری ہے وہ یہ کہ یکساں نصاب بھی اچھی بات ہے مگر آگے اسکے ساتھ بھی جو ہوا اور جس طرح چپکے سے بلا اظہار اسکو رد کیا گیا ہے یا کہیں کہیں محض جزوی اور علامتی طور پر اپنا گیا ہے۔۔۔۔ ایک بھدا مذاق ہی محسوس ہوا ہے، کے ساتھ ساتھ ضروری یہ ہے ایک تو اس درمیانے تام جھام کو کسی کنارے لگایا جائے اور دوسرا غیر معیاری اعلی تعلیمی اداروں اور بلخصوص علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اس تعلیمی سرطان کا سدباب کیا جائے۔ جو اصلاََ تو اپنے ایک وسیع تر تعلیمی نیٹ ورک اور فاصلاتی نظام تعلیم کی فراہمی جیسی بہترین سہولت ہے اور مصروف اور قاصر طلبہ کے لیے بہترین زریعہ تعلیم ہے۔۔۔ مگر عملاََ پیسہ بنانے کا اور ایک بدترین ڈگریز بانٹ دھندا ہے۔ انتہائ قلیل کو چھوڑ کر غالب اکثریت پرلے درجے کے نالائق اور کوڑھ مغز ڈگری سیکرز کی ہے۔ جو کہ محنتی طلبہ کے ساتھ ایک سخت زیادتی ہے۔
پھر یہ ہی نابغے اسناد کے بنڈل اٹھائے گھومتے تو نظر آئیں گے۔ ۔ ۔ مگر اپنی قابلیت سے یہ بھی خوب واقف ہوتے ہیں بتیرے تو کھپ بھی جاتے ہیں۔۔۔ مگر جنکا کہیں کوئ داو نہ لگے تو اس ریوڑ کی خاصی تعداد اس درمیانی ٹاپرز فیکٹریز میں ہی کھپنے کو دستیاب ہوتی ہے۔۔۔ جہاں پھر سے اپنی جیسی ہی ایک نئی پنیری تیار کر کے سوسائٹی میں لا پھینکتی ہے۔
حیرت ہے بھئ شائد ہی کوئ یہ سٹار سکول ہو جس کی پانچ مرلہ عمارت پر ایک عدد بورڈ ٹاپر کی تصویر آویزاں نہ ہو۔ اس ساری واردات نے معاشرے پر اور بلخصوص تعلیمی نظام پر کیا اثرات چوڑے ہیں اسکو محسوس کرنے کے لیے زیادہ غور اور ذی فہمی کی ضرورت شائد ہمیں نہیں ہے۔ ہر لمحہ اور سطح پر عملا بھگت رہے ہیں۔
آخری اور جزوی سی بات اس حالیہ واردات کے اثرات گزشتہ سے پیوستہ ہو کے اس نقب کو ضرور دو آتشہ کر دیں گے۔ بہر حال سب راضی خوش ہیں تو دھندا چل رہا ہے خوب چلے گا بھی۔
تنزلی کا یہ سفر ہنوز طویل است
(Visited 1 times, 1 visits today)