#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 10 …
#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو
#تحریر_فرحت_اشتیاق
قسط 10
ایسا لگا جیسے بہت سے لوگ چل رہے ہوں اس نے خوفزدہ ہو کر مڑ کر دیکھا تو دھنگ رہ گئی وہ چار حبشی نما انسان تھے شاید افریقی تھے ان کے لمبے مضبوط جسم بتا رہے تھے کوئی شکاری ہیں ۔وہ اس کی طرف بڑھے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی ۔ان میں سے ایک کے ہاتھ میں لالٹین تھی چاروں کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی وہ جیسے اپنی جگہ سے جانے لگی ایک تیزی سے اسکی طرف بڑھا اسکے جسم سے تو جیسے جان ہی نکل گئی ۔اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا یہ وہ جیسے نہ ایک قدم اگے جا سکتی ہے نہ اسے آواز دے سکتی ہے وہ پتہ نہیں کون سی زبان میں کیا بولا اور اسے اپنے طرف گھسیٹا اس نے پوری طاقت سے خود کو چھڑوانا چاہا مگر بے سود پتہ نہیں کہاں سے اس میں طاقت آئی بلند آواز میں چیخنیں لگی ہارون ہارون بچاؤ ساتھ ہی اس سے خود کو چھڑا رہی تھی ۔وہ جو پانی لے کر واپس آ رہا تھا اسکی آواز پر کین وہی پھنک کر بھاگتا ہوا اوپر چڑھا۔جو رستہ اس نے پانچ منٹ میں کیا تھا وہ چند سیکنڈ میں عبور کر کے اوپر آیا تو یہاں کا منظر دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا۔تیز قدموں سے وہ بڑھا تو حبشی نے آئلہ کو چھوڑ دیا یوں جیسے تم سے بعد میں بات کرتے پہلے اس سے نپٹ لیں۔اس کے ایک دم چھوڑنے سے وہ زمین پر گر پڑیں ۔فوراً اٹھ کر دیکھا ہاروں سامنے کھڑا تھا وہ بھاگ کر اس کے پاس آگئ
اور اسکے پیچھے کھڑی ہو کر چھپ گئی ۔چاروں اسے ہاتھ سے اشارہ دے رہے تھے کے ہمت ہے تو مقابلہ کرو آئلہ کو اس نے دور ہٹایااتنے زور سے جھٹکے جانے سے جیسے اسکے حواس جاگ اٹھے ۔۔اسے لگا وہ بھی ان کے حوالے کر کے ہاتھ جھاڑ کر چلا جائے گا ۔۔اسے آخر کیا ضرورت ہے ۔نہ یہ کوئی فلمی ہیرو ہے کے دس غنڈوں کو جہنم واصل کر دےگا۔وہ ان میں سے کسی پر بھی نظر ڑالے اندھا دھند بھاگنے لگی۔
اس کے کان اس وقت کچھ نہیں سن رہے تھے اسے نہیں پتہ تھا وہ لوگ آپس میں کیا باتیں کر رہے ہیں اسے بس خود کو بچانا تھا ۔ہر قیمت پر دو تین مرتبہ ٹھوکر کھا کر گری مگر پرواہ نہیں کی ۔وہ بھاگتے پتہ نہیں کتنی دور نکل آئی زخمی بھی ہوئی پاؤں شل ہوگئے تھے سانس بھی پھول رہی تھی ۔۔
وہ ایک اونچے ٹیلے کے پیچھے چھپ گئی ۔اور بڑی شدتوں کے ساتھ اپنے رب کو پکارنے لگی ۔۔۔
یا الله عزت سے بڑ کر کوئی چیز نہیں ان درندوں سے مجھے بچا لے ۔وہ سانس تک روک بیٹھی تھی ۔پھر اس نے دو چار انسانی چیخ کی آواز سنی ساتھ ہی فائر کی بھی ۔
کیا وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گیا کیا میری عزت بچانے کے لئے رک گیا ۔اس نے ایک لمحے سوچا پھر مایوسی میں گھر گئ
اگر وہ رک بھی گیا ہوا تو ہار گیا ہو گا وہ تو زیادہ لوگوں تھے ۔اسے پھر چیخوں کی آواز سنی اس کے بعد گہرا سکوت چھا گیا ۔اسے
لگ رہا تھا اس ویرانے میں اسکے سوا کوئی نہیں ہے ۔کتنی عجیب بات ہے کچھ دیر پہلے وہ اس ویرانے سے ڑر رہی تھی ابھی بالکل ڑر نہیں رہ تھا ۔
اس نے اپنے پاس قدموں کی آواز سنی تو پتہ چلا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا ۔نہیں میں اس کھائی سے کود کر جان دے دونگی مگر یہ رسوائی برداشت نہیں کر سکتی
وہ یہ سوچ کر اٹھی اور آنے والے کو دیکھے بنا بھاگ کر اگے بڑھنا چاہتی تھی مگر ہارون نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر روک لیا ۔اسے سنبھلنے کا موقع دیے زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا ۔جب میں نے منع کیا تھا تو گاڑی سے کیوں اتری۔بولو۔۔۔
وہ جیسے بالکل اوٹ آف کنٹرول ہو رہا تھا ۔۔تمھاری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی۔اسی لئے تمہارے ساتھ رات کا سفر کرنے سے ڑر رہا تھا ۔۔مگر تمہیں نہ اپنی پرواہ ہے نہ کسی اور کی ۔اسے شدید غصے میں ایسا پہلے نہیں دیکھا تھا ۔وہ بالکل نڈھال ہو چکی تھی وہ بے اختیار اگے بڑھی اس کے کندھے پر سر دکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔تو وہ چپ سا ہو گیا ۔
اس نے نہ تسلی دی نہ رونے سے روکا نہ خود سے الگ کیا ۔
وہ خاموش کھڑا رہا وہ نجانے کتنی دیر روتی رہی ۔
اسے سسکیاں بند گئی تب بھی وہ چپ کھڑا رہا ۔پھر آئلہ نے تھوڑا ہٹ کے اسے دیکھا ہارون نے ہاتھ پکڑ کر تیز قدموں سے واپس اسی راستے پر جانے لگا ۔اسکے وجود کا سارا بوجھ جیسے اس نے اٹھایا ہوا تھا وہ ساتھ گسٹ رہی تھی ۔پتھر میں اڑا دوپٹہ اس نے جھک کر اٹھایا ۔
اس نے سر جھکا کر اس سے دوپٹہ لے کے لپیٹ لیا۔
کچھ اگے بڑھے تو چاروں وہ زخمی پڑے تھے ۔ایک کرا رہا تھا باقی تین شاید بےہوش تھے ۔ان پر نظر ڑال کے اگے بڑھ گئے ۔جیپ کا دروازہ کھولا اسے اندر دھکیلا وہ آنسو پیتی بیٹھ گئی ۔جب جیپ اسٹاٹ ہونے پر اس نے اپنا سر اٹھایا ۔وہ پہلے سے بھی تیز رفتاری سے چلا رہا تھا ۔۔اچانک اس کی نظریں ہارون کے بازوں پر پڑی جو خون میں بھیگی ہوئی تھی ۔
وہ جھجھک کے بولی آپ کا بازوں زخمی ہو گیا ۔اس پر کچھ باندھ لیں اس نے اس کی ایک نہیں سنی اسی رفتار سے چلاتا رہا ۔وہ اس کے بازوں پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
آپ کو خون نکل رہا گاڑی روک کر مرہم پٹی کر لیں اس نے ہاتھ جھٹکتا ہوا پھنکارا۔تم مجھ سے کوئی بات مت کرو تمارا احسان ہو گا۔وہ اس ردعمل سے چپ کر کے بیٹھ گئی ۔
مگر نظریں اس کے بازوں پر ہی تھی ۔اسے پتہ تھا یہاں پڑے بیگ میں سامان کے ساتھ فرسٹ ایڈ بکس بھی تھا ۔وہ تیزی سے جھکی اور فرسٹ ایڈبکس نکال لیا ۔وہ اس کی تمام کاروائی سے لا تعلق تھا ۔باکس سے کاٹن نکال کر اس نے اپنا ہاتھ ہارون کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔وہ ایک جھٹکے سے جیپ روک کر بولا ۔اب تم نے مجھ سے بات کی یا میرے قریب آئی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا ۔وہ جواب میں رونے لگی ۔
میرے ہاتھ سے نہیں تو خود کر لیں اتنا خون نکل رہا ہے اس نے ڑر سے بکس اس کی گود میں رکھ دیا وہ غصے سے اٹھا کر بیبڑج کرنے لگا ۔وہ آنسو بہاتی اس کی طرف دیکھتی رہی
پٹی باندھ کر اس نے پھر جیپ اسٹاٹ کر دی۔بغیر کسی تکلیف کا اظہار کیے پہلے کی طرح گاڑی چلا رہا تھا ۔
آئلہ نے دو چار بار سر اٹھا کر دیکھا مگر وہ شاید اس وقت اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس کو جب بات کی ہمت نہ ہوئی تو گردن جھکا کر بیٹھ گئی
کافی دیر بعد اس نے سر گھوما کے دیکھا تو وہ سر جھکائے چپ بیٹھی تھی ۔اور چہرہ آنسوں سے بھگا ہوا تھا۔
بائیں گال پر اب تک اس کی انگلیوں کے نشان موجود تھے ۔
ہاتھوں اور چہرے پر خراشیں پڑی تھی ۔جن سے خون رسنا بند ہو گیا تھا ۔اسکا دل چاہا ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کر دے۔اور کوئی ایسی بات کرے کے وہ ہنسے۔دل کی بات رد کر کے وہ پھر سے سامنے دیکھنے لگا ۔اپنے آس پاس گاڑیوں کی آوازیں سنائی دی تو سر اٹھا کر باہر دیکھنا شروع کر دیا ۔وہ جنگل سے نکل کر شہر کی حدود میں پہنچ گئے تھے ۔
جاری ہے