وہ کہانی جو ایک لمحے کی سختی سے شروع ہوئی… عمر بھر…
وہ کہانی جو ایک لمحے کی سختی سے شروع ہوئی… عمر بھر کے پچھتاوے پر ختم ہوئی۔
ایک آدمی تھا… عام سا، مگر زندگی نے اُسے غیر معمولی حد تک سخت بنا دیا تھا۔ گھر کے حالات تنگ تھے، اخراجات زیادہ، آمدنی کم۔ ایسے میں وہ ہر چیز کو قیمت سے ناپنے لگا تھا… حتیٰ کہ جذبات کو بھی۔
ایک شام وہ گھر آیا تو اُس نے اپنی تین سالہ بیٹی کو فرش پر بیٹھے دیکھا۔ اُس کے ننھے ہاتھوں میں سنہری ریپر تھا اور وہ بڑی محنت سے ایک چھوٹے سے ڈبے کو سجا رہی تھی۔ ریپر ادھر اُدھر بکھرا ہوا تھا، جیسے کسی نے قیمتی چیز کو بے دردی سے ضائع کر دیا ہو۔
باپ کے اندر جمع سارا دباؤ اُس لمحے باہر آ گیا۔
وہ چیخا، ڈانٹا، اور اُس ننھی بچی کے ہاتھ سے وہ ریپر چھین لیا۔
بچی خاموش ہو گئی… جیسے کسی نے اُس کے اندر کی خوشی کو اچانک روک دیا ہو۔
رات گزر گئی… مگر اُس بچی کے دل میں ایک معصوم سا ارادہ باقی رہا۔
اگلی صبح وہ مسکراتی ہوئی باپ کے پاس آئی، ہاتھ میں وہی سنہری ڈبہ تھا۔ اُس نے معصومیت سے کہا، "ڈیڈی، یہ آپ کے لیے ہے۔”
باپ ایک لمحے کو ٹھہر گیا۔ کل کا رویہ اُس کے ذہن میں آیا، تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوئی… مگر جیسے ہی اُس نے ڈبہ کھولا اور وہ خالی نکلا، اُس کی برداشت پھر ٹوٹ گئی۔
وہ جھنجھلا کر بولا، "تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ تحفہ خالی نہیں دیا جاتا؟ اس میں کچھ ہونا چاہیے!”
یہ سن کر بچی کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے آہستہ سے ڈبہ واپس اپنی طرف کھینچا، پھر بڑی مشکل سے بولی، "ڈیڈی… یہ خالی نہیں ہے… میں نے اس میں آپ کے لیے بہت سارے بوسے رکھے ہیں… سارے کے سارے آپ کے لیے۔”
یہ جملہ سن کر جیسے وقت رک گیا۔
باپ کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔
اُس نے پہلی بار اُس ڈبے کو نہیں… اپنی بیٹی کو دیکھا۔
اُسے احساس ہوا کہ وہ جسے خالی سمجھ رہا تھا، وہ دراصل سب سے قیمتی چیز سے بھرا ہوا تھا۔
وہ جھک گیا، اُس نے بیٹی کو گلے لگا لیا، اور بار بار معافی مانگنے لگا۔
بچی نے معاف بھی کر دیا… کیونکہ بچے دل نہیں رکھتے، بس محبت رکھتے ہیں۔
لیکن زندگی… ہمیشہ دوسرا موقع نہیں دیتی۔
کچھ ہی دنوں بعد ایک حادثہ ہوا… اور وہ ننھی جان ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔
گھر وہی رہا… کمرہ وہی… مگر آوازیں ختم ہو گئیں۔
اور ایک باپ رہ گیا… اپنے کیے کے بوجھ کے ساتھ۔
کہتے ہیں اُس نے وہ سنہری ڈبہ کبھی نہیں پھینکا۔ وہ اسے اپنے بستر کے پاس رکھتا تھا۔ جب بھی زندگی اُسے تھکا دیتی، جب بھی دل خالی محسوس ہوتا، وہ آہستہ سے ڈبہ کھولتا… اور آنکھیں بند کر کے ایک خیالی بوسہ اپنے دل میں رکھ لیتا۔
اب وہ جان چکا تھا کہ کچھ تحفے نظر نہیں آتے… مگر وہی سب سے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔
مگر یہ سمجھ… اُسے بہت دیر سے آئی تھی۔
#story #urdustatus #kahani #urduadab
