نہ وہ سِن ہے فرصتِ عشق کا ، نہ وہ دِن ہیں کشفِ جما…
نہ وہ سِن ہے فرصتِ عشق کا ، نہ وہ دِن ہیں کشفِ جمال کے
مگر اب بھی دِل کو جواں رکھیں ، وہی معجزے خدوخال کے
یہ جو گَرد بادِ حیات ہے ، کوئی اِس کی زَد سے بچا نہیں
مگر آج تک تیری یاد کو، میں رکھوں سنبھال سنبھال کے
میں امین و قدر شناس تھا ، مجھے سانس سانس کا پاس تھا
یہ جبیں پہ ہیں جو لکھے ہوئے ، یہ حساب ہیں مہ و سال کے
میں کبھی شفق کا فَسوں کہوں ، کبھی گُل کہوں کبھی خُوں کہوں
کہ ہیں میری صبحِ عروج میں ابھی رنگ شامِ زوال کے
مری حسرتوں کو ہرا رکھے، مری کشت جاں کو بھرا رکھے
یہ یقین کہ مجھ پہ کھلیں گے در، کسی روز بادِ شمال کے
شبِ تار سے نہ ڈرا مجھے ، اے خُدا جمال دِکھا مجھے
کہ تیرے ثبوت ہیں جس قدر ، وہ ہیں صرف تیرے جلال کے
کوئی کوہکن ہو کہ قیس ہو ، کوئی مِیر ہو کہ ندیم ہو
سبھی نام ایک ہی شخص کے ، سبھی پھول ایک ہی ڈال کے
(احمد ندیم قاسمی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی