ناول: عشق کا قاف تحریر: سرفراز احمد راہی قسط نمبر:…
ناول: عشق کا قاف
تحریر: سرفراز احمد راہی
قسط نمبر: 1 & 2
———————-
موسم، طوفانِ باد و باراں کے اشاروں پر رقص کر رہا تھا۔
سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔ اس نے ہا رن دبایا۔ تیسری آواز پر گیٹ کھل گیا۔
بادل ایک بار پھر بڑے زور سے گرجی۔ بارش میں اور شدت آ گئی۔ کار آگے کو سرکی مگر اس سے پہلے کہ کار گیٹ سے اندر داخل ہو تی، بجلی زور سے چمکی۔ فانوس سے روشن ہو گئی۔
وہ چونک اٹھا۔
اس کی تیز نظریں گیٹ کے باہر بائیں ہاتھ بنے چھوٹے سے سائبان تلے چھائے اندھیرے میں جم گئیں۔
"کیا بات اے صاب! ” پٹھان چوکیدار نے بارش میں بھیگتے ہوئے پوچھا۔
"خان۔۔۔ "لیکن اس سے پہلے کہ وہ فقرہ پورا کرتا، برق پھر کوندی۔ وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔ اس دوران خان بھی گیٹ سے باہر نکل آیا۔
بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئے بغیر دو تین لمبے لمبے ڈگ بھر کر وہ اس اندھیرے کونے میں پہنچ گیا، جہاں دو بار برق نے اجالا کیا تھا۔
ایک سایہ تھا جو بیدِ مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔
"کون ہو تم؟” اس نے جلدی سے پوچھا اور ایک بار پھر اس کی نظریں چندھیا گئیں۔
"میں۔۔۔ ” ایک کمزور سی نسوانی آواز ابھری۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ اجنبی وجود زمین پر آ رہتا، اس کے مضبوط اور گرم بازوؤں نے اسے سنبھال لیا۔
"خان۔ ” اس نے پلٹ کر پکارا۔
"جی صاب۔ "قریب ہی سے آواز ابھری۔
"میں کمرے میں جا رہا ہوں۔ گاڑی گیراج میں بند کر کے وہیں چلے آؤ۔ جلدی۔ ”
"جی صاب۔ "وہ تعمیل حکم کے لئے جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے اس نازک، برف سے زیادہ سرد اور لہروں سے زیادہ نرم وجود کو باہوں میں بھر لیا، جو اَب لکڑی کی مانند کھردرا اور پتھر کی مانند سخت ہوا جا رہا تھا۔ تیز تیز چلتا ہوا وہ پورچ پار کر کے برآمدے میں پہنچا۔ پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا اور مختصر سی راہداری کو طے کر کے ہال میں چلا آیا۔ ایک لمحے کو کچھ سوچا، پھر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس نے پھر دائیں پاؤں سے کام لیا۔ اندر داخل ہوا اور بستر کی طرف بڑھ گیا۔
دھیرے سے اس نے اپنے بازوؤں میں بھرے اس ریشمیں خزانے کو احتیاط سے سمیٹ کر بیڈ پر رکھ دیا، پھر اسے گرم لحاف میں چھپا دیا۔ شاید اس لئے کہ کوئی اور دیکھ نہ لی۔ ایک لمحے کو اس کی نظریں اس سمٹے پڑے خزانے کے تر بتر چہرے پر جم گئیں ، جہاں سیاہ لانبی زلفیں کسی بادلوں میں چھپے چاند یا گھٹاؤں میں قید برق کا سماں پیش کر رہی تھیں۔ اسی وقت خان اندر داخل ہوا۔
"اوہ خان۔ ” اس نے جلدی سے کہا۔ کچھ سوچا پھر تیزی سے ٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔
ڈاکٹر کو فون کر کے وہ حکم کے منتظر اور چور نظروں سے اس خوابیدہ حسن کو تکتے خان کی طرف متوجہ ہوا اور ہولے سے مسکرایا۔
"خان۔ ”
"جی صاب۔ ” وہ گھبرا سا گیا۔
"تمام نوکر تو سوچکے ہوں گے۔ ”
"جی صاب۔ ” اس نے اپنا مخصوص جواب دہرایا۔
"ہوں۔ "وہ کچھ سوچنے لگا۔ پھر کہا۔ "تم نیچے چلے جاؤ۔ اپنے ڈاکٹر صاحب آرہے ہیں۔ ان کو لے کر اوپر چلے آنا۔ ”
"جی صاب!” اور خان ایک نظر بستر پر ڈال کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے آگے بڑھ کر سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبا دیا۔ ایر کنڈیشنڈ سسٹم گہری نیند سے جاگ گیا۔ پھر اس کی نادیدہ تپش نے دھیرے دھیرے کمرے کو گرم کرنا شروع کیا۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلا کر بند کھڑکیوں کی جانب دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر بستر کے قریب لے آیا۔ بیٹھتے ہوئے وہ قدرے جھک گیا اور نظریں اس خاموش گلاب پر جما دیں جس کی دو پنکھڑیاں اپنی سرخی کھونے لگی تھیں۔ نیلاہٹ ابھری چلی آ رہی تھی۔
وہ آہستہ سے لرزی تو بے چینی سے وہ کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈال کر رہ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
اس کی بے تاب نظریں اس غنچہ دہن پر جم گئیں ، جس میں اب پھر کوئی حرکت نہیں تھی۔ آہستہ سے اٹھا۔ جھکا اور لحاف کو اچھی طرح اس پر لپیٹ کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اب وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ اسی وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا چلا آ رہا ہو۔
” آئیے آیئے انکل۔ "وہ کمرے میں داخل ہوتے ادھیڑ عمر مگر مضبوط جسم کے مالک ڈاکٹر ہاشمی کی طرف بڑھا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رین کوٹ اتار کر اس سے مصافحہ کیا۔
"کیا بات تھی بیٹا۔ میں تو تمہارا فون سنتے ہی۔۔۔ "اور ان کی آواز حلق ہی میں اٹک گئی۔ حیرت زدہ نظریں بستر پر پڑی جوان اور نیلی پڑتی لڑکی کے وجود پر ٹھہر گئیں۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔ چند لمحوں بعد ان کا تجربہ کار ہاتھ لڑکی کے ماتھے سے ہٹا تو وہ کچھ مضطرب سے نظر آ رہے تھے۔
"خان۔۔۔ میرا بیگ۔ ” وہ بولے اور خان کے ساتھ ہی وہ بھی ان کے قریب چلا آیا۔
بیگ کھلا اور ڈاکٹر اپنے فرض میں ڈوبتا چلا گیا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹر ہاشمی کی کوششوں کا جائزہ لیتا رہا۔ کتنی ہی دیر گزر گئی اور تب ڈاکٹر ہاشمی ایک طویل سانس لے کر بستر کی پٹی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
"انکل!” وہ مضطربانہ انداز میں اتنا ہی کہہ سکا۔
"الحمد للہ۔ خطرہ ٹل چکا ہے۔ ” وہ آگے بڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ "خان۔ کچن سے دودھ لے آؤ۔ "انہوں نے کہا اور خان کمرے سے نکل گیا۔ "ہاں۔ اب کہو۔ یہ سب کیا چکر ہے؟” ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
"چکر۔۔۔ ؟” وہ جھینپ گیا۔ "چکر تو کوئی نہیں ہے انکل! میں پکچر دیکھ کر لوٹا تو یہ باہر گیٹ کے پاس کھڑی نظر آئی۔ میں کار سے نکل کر اس کے قریب پہنچا مگر کچھ پوچھنے اور بتانے کی نوبت ہی نہ آئی اور یہ بے ہوش ہو گئی۔ میں اسے اٹھا کر اندر لے آیا اور آپ کو فون کر دیا۔ بس، یہ ہے ساری بات۔ ”
"ہوں۔ ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹ شرارت سے پھڑکی۔ ” بیٹے۔ لڑکی تھی ناں۔ اگر صنف کرخت ہوتی تو۔۔۔ ”
” آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں انکل۔ "وہ مسکرا کر بولا اور ڈاکٹر ہاشمی ہنس دئیے۔
"میں تو مذاق کر رہا تھا۔ ہاں۔۔۔ بیگم صاحبہ زمینوں سے نہیں لوٹیں ابھی؟”
"جی نہیں۔ ابھی کافی دن رکیں گی وہاں۔ ”
اسی وقت خان دودھ کا بھر ا جگ اور گلاس لئے اندر داخل ہوا۔ "صاب۔ دودھ بہوت تا۔ ہم گرم کر لائی۔ "وہ جگ میز پر رکھتے ہوئے بولا۔
"یہ تو بہت اچھا کیا خان۔ "وہ دودھ گلاس میں انڈیلتا ہوا بولا۔
دودھ پی کر فارغ ہو گئے تو ڈاکٹر ہاشمی اٹھ کھڑے ہوئے۔ "اچھا بیٹے۔ میں چلتا ہوں۔ بارش کا زور کم ہو رہا ہے۔ کہیں پھر زور نہ پکڑ لے۔ ”
"بہتر انکل۔ "وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ خان نے ڈاکٹر کا بیگ تھام لیا۔
"صبح دس بجے سے پہلے ہوش نہیں آئے گا۔ پریشان نہ ہونا۔ "وہ پھر مسکرا دیے اور وہ جھینپ کران کی ہدایات کو ذہن نشین کرنے لگا۔ ” نیند کے انجکشن کا اثر کم از کم نو گھنٹے رہے گا۔ کیپسول تپائی پر پڑے ہیں۔ ہوش آنے پر ہر چار گھنٹے بعد گرم دودھ سے دو کیپسول دیتے رہنا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی رخصت ہو گئے۔
کمرہ خاصا گرم ہو چکا تھا۔ نیلے ہونٹ اب کچھ کچھ گلابی نظر آ رہے تھے۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور بستر کے قریب چلا آیا۔ سانس اب مناسب رفتار سے چل رہا تھا۔ چہرہ پُرسکون تھا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اس محو استراحت حسنِ بے پرواہ کو تکتا رہا۔
"صاب۔ ” خان کی آواز اسے بچھو کے ڈنک ہی کی طرح لگی۔
وہ تیزی سے پلٹا۔ "تم ابھی تک یہیں ہو۔ "اس کے لہجے میں کچھ اکتاہٹ تھی مگر خان بھی مجبور تھا۔ اسے نیند نے تنگ کر رکھا تھا۔ وہ بلاوجہ اس کی محویت کو ختم کرنے کا قصور وار نہ ہوا تھا۔
"کوئی حکم صاب؟” وہ ڈر سا گیا۔
"کچھ نہیں۔ بس جاؤ۔ اور دیکھو۔ اس کمرے میں کوئی مت آئے۔ میں ساتھ والے کمرے میں آرام کروں گا۔ ”
"جی صاب۔ "وہ سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
چند لمحے وہ بستر پر پڑے مصور کے اس حسین خیال کو گل پاش نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دھیرے دھیرے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭٭٭
بے پناہ دولت۔ لمبی چوڑی جائداد۔ بے اندازہ زمینیں۔ دو کوٹھیاں۔ ایک حویلی۔ کئی کاریں اور بے تحاشا عزت ان دو ماں بیٹے میں محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
دونوں ہی کی تمنا تھی کہ کوئی تیسرا بھی ان کی ملکیت کا حصہ دار بنی۔ جو ان تین میں چند اور نفوس کا اضافہ کر سکی!مگر۔۔۔ امارت کی نظروں میں کوئی وجود جچ نہ رہا تھا۔ بوڑھی تجربہ کار نگاہیں صورت کے ساتھ سیرت اور خاندان کے ساتھ دولت و ثروت بھی چاہتی تھیں۔
ایک تصویر میں ضروری نہیں کہ مصور ہر ایک کے جذبات کی عکاسی کر سکے اور ہر کسی کے پسندیدہ رنگ بھر دی۔ اسے اپنی تصویر کو بہرصورت خوبصورتی اور حسن سے مرصع کرنا ہوتا ہے۔ اب اس کے لئے چاہے اسے کسی بھی قسم کے رنگ منتخب کرنا پڑیں۔
اور جوانی تھی کہ کسی اور ہی ڈگر پر چل نکلی تھی۔ اسے دولت نہیں چاہیے تھی کہ اس کے پاس بہت تھی۔
اسے خاندان نہیں چاہیے تھا۔ کہ ذات پات اس کی نظر میں بے اہمیت شے تھی۔
اسے صرف اپنے جذبات اور احساسات کی ترجمان تصویر کی تلاش تھی۔ وہ خواہ اسے آرٹ گیلری کے وسیع و عریض سجے سجائے قیمتی اور حسین ہال میں نظر آ جاتی، یا کسی فاقہ زدہ مصور کے ادھورے رنگوں سے بوسیدہ کاغذ پر ابھرتی نظر آ جاتی۔
اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔ چاہئے تھا تو صرف یہ کہ جو بھی آئے وہ صرف اسے چاہے۔ اس کے علاوہ ہر ایک سے بیگانہ ہو۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد وہ کسی کا خیال اپنے خانہ دل میں نہ سجاپایا ہو۔
بڑھاپا تجربہ کار تھا۔ اپنے اصولوں کا محافظ تھا۔
جوانی امنگوں بھری تھی۔ حسن اور محبت کی طلبگار تھی۔
اور آج۔۔۔ شاید اسے منزل مل گئی تھی۔ دل تو یہی کہہ رہا تھا۔ اور دل جھوٹ بھی تو بولا کرتا ہے۔
"صاب! آپ کا پون۔۔۔ ”
وہ چونک پڑا۔ خیالات بکھر گئے۔ بستر سے نکلا اور گاؤن پہنتا ہوا دروازے کی طرف چل دیا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔
"خان۔ "وہ رک گیا۔
"جی صاب۔ ”
"دیکھو۔ باباسیف آ چکا ہو گا۔ اسے اوپر بھیجو۔ ”
"جی صاب۔ ” وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ وہ کچھ سوچتا ہوا ٹیلی فون کے پاس چلا آیا۔
"یس۔ طاہر اسپیکنگ۔ ” وہ ریسیور کان سے لگا کر بولا۔
"ہیلو طاہر۔ "دوسری طرف سے ڈاکٹر ہاشمی نے ہنس کر کہا۔
"اوہ آپ۔۔۔ آپ کا مریض ابھی تک "ہوش ندارد”ہے انکل۔ ” وہ مسکرایا۔
"مسیحا پاس رہے تو بیمار کا اچھا ہونے کو جی کب چاہتا ہے طاہر میاں !”وہ ڈاکٹر ہاشمی کی چوٹ پر خجل سا ہو گیا۔ رات بھی ان کی باتوں سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس کی نظروں کا بھید جان چکے ہیں۔ "بہرحال، اس وقت نو بجے ہیں۔ دس بجے تک ہوش نہ آیا تو مجھے فون کر دینا۔ ویسے میں گیارہ بجے کے قریب خود ہی چلا آؤں گا۔ ”
"بس تو ٹھیک ہے۔ آپ آ ہی جائیے گا۔ ”
"خدا حافظ۔ "ڈاکٹر ہاشمی نے ہلکے سے قہقہے کے ساتھ ریسیور رکھ دیا۔ فون بند کر کے وہ پلٹا اور بستر کے قریب پڑی کرسی پر جم گیا۔
"سلام صاحب۔ ” سیف کمرے میں داخل ہوا اور اس کی نظروں میں بھی حیرت سی امنڈ آئی۔
"سیف بابا۔ یہ ہماری مہمان ہیں اور بیمار بھی۔ "اس نے سیف کی حیرت کو نظر انداز کرتے ہوئے رسٹ واچ میں وقت دیکھا۔ "ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہلکے ناشتے کے تمام ضروری لوازمات یہاں ہونے چاہئیں !”
"بہتر صاحب!” وہ سوالیہ نظروں کے ساتھ بستر پر سوئی لڑکی کو دیکھتا ہوا پلٹا اور برتن اٹھائے باہر نکل گیا۔
وہ ایک طویل انگڑائی لے کر کرسی سے اٹھا اور کھڑکیوں پر سے صرف پردے ہٹا دئیے، پٹ نہ کھولے۔ ہوا سرد تھی۔ رات کی بارش کے بعد موسم کھل گیا تھا۔
سورج کافی بلند ہو چکا تھا۔ اس کی زرد کرنیں دھند اور ٹھنڈک کا سینہ چیر چیر کر ہر مقابل شے کو روشن اور گرم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ کتنی ہی دیر کھڑکی کے شیشوں سے باہر دیکھتے ہوئے دور نیلے آسمان کی لامحدود وسعتوں میں نجانے کیا تلاش کرتا رہا۔
"امی۔۔۔ امی۔۔۔ آپ کہاں ہیں امی۔۔۔ امی۔۔۔ "دھیمی سی بڑبڑاہٹ نے اسے چونکا دیا۔ وہ تیزی سے پلٹ کر بستر کے قریب چلا آیا۔ نرم و نازک وجود متحرک تھا۔ لانبی سیاہ پلکیں دھیرے دھیرے کانپ رہی تھیں۔ چہرے پرسرخی دوڑنے لگی تھی۔ ہونٹوں کے گوشے لرز رہے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ہولے سے اپنی پلکوں کی چلمن اٹھا دی۔
وہ بے چینی سے اس کی ایک ایک حرکت کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ چند لمحوں تک وہ بے حس و حرکت، چت پڑی چھت کو گھورتی رہی۔ پھر جیسے چونک اٹھی۔ گردن گھما کر دائیں بائیں دیکھا۔۔۔ اور اسے سامنے دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی۔
” آپ۔۔۔ آپ کون ہیں ؟ میں کہاں ہوں ؟” روایتی سے الفاظ اس کے لبوں سے ابل پڑی۔
"گھبرائیے نہیں۔ لیٹی رہئے۔ "وہ مسکرا کر اس پر جھک آیا۔ شانوں سے تھام کر اس نے پھر اسے لٹا دیامگردوسرے ہی لمحے وہ پھر اٹھ بیٹھی۔
"میں۔۔۔ ”
"دیکھئے۔ آپ کو میں بدمعاش نظر آتا ہوں یا آپ کو خود پر اعتماد نہیں ہے؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ گڑ بڑا گئی۔ بیباک مگر شریفانہ تاثر کی حامل نگاہوں نے اسے الجھن میں ڈال دیا۔
"میں جانا چاہتی۔۔۔ ”
” آں ہاں۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ "وہ اسے بستر سے اترتا دیکھ کر تیزی سے بولا۔
"جی میرا۔۔۔ ”
"ارے بابا، کیوں اپنا دماغ تھکا رہی ہیں آپ۔ اطمینان سے لیٹ جائے۔ کچھ مجھ سے پوچھئے۔ کچھ مجھے بتائیے۔ ” وہ ریشمی لحاف اس پر اوڑھاتا ہوا بولا۔ اور نہ جانے کیا سوچ کر اور کیوں وہ چپ چاپ لیٹ گئی۔ پھر اس کی سوالیہ نظریں کمرے کے درو دیوار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعداس کے مسکراتے چہرے پر آ کر جم گئیں۔
"ویسے ایک بات تو بتائیے؟”وہ بے تکلفی سے کرسی گھسیٹ کر اس کے قریب ہو بیٹھا۔
"جی۔ ” وہ ہولے سے بولی اور نظریں چرا لیں۔
"کیا آپ کو بارش میں بھیگنے کا بہت شوق ہے ؟”
"جی۔۔۔ کیا مطلب؟” وہ بے ساختہ حیرانی سے بولی۔
"مطلب یہ کہ کل رات آپ بڑی بے تکلفی سے طوفانِ باد و باراں کا لطف اٹھا رہی تھیں۔ سردی بھی بلا کی تھی اور۔۔۔ ”
ایک دم نہ جانے کیوں وہ بے چین سی ہو کر پھر اٹھ بیٹھی۔
"ارے ارے۔۔۔ یہ کیا۔۔۔ دیکھئے، میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ اور آپ۔۔۔ "وہ اس کی پلکوں کو نم ہوتا دیکھ کر بری طرح سے گڑ بڑا گیا۔
"مجھے جانے دیجئے۔ خدا کے لئے۔ "وہ بستر سے نکل پڑی۔
"ارے۔ یہ آپ کو بار بار جانے کا دورہ کیوں پڑ جاتا ہے؟” وہ اٹھ کر اس کو بازو سے تھامتا ہوا بولا۔
"چھوڑیئے۔ میں اب یہاں نہیں ٹھہر سکتی۔ "وہ بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
"مگر آپ کہاں جانا چاہتی ہیں ؟ یہ تو طے ہے کہ آپ کا گھر کوئی نہیں ہے۔ ویسے اگر آپ دارالامان جانا چاہتی ہیں تو بندہ حاضر ہے لیکن پہلے ناشتہ تو کر لیجئے۔ ”
” آپ کو کیسے معلوم کہ۔۔۔ ”
” جن کا کوئی گھر ہو، وہ ایسی طوفانی راتوں میں اس حالت میں تو باہر آنے سے رہی، جس حالت میں آپ پائی گئیں۔ ”
وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر سسکنے لگی۔
٭٭٭٭٭
طاہر سنجیدہ ہو گیا۔ مذاق اور ایک اجنبی لڑکی سی، جواس کے نام تک سے ناواقف تھی، کافی ہو چکا تھا!وہ کتنی ہی دیر تک روتی رہی۔ سیف ناشتہ میز پر رکھ کر جا چکا تھا۔ وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
"دیکھئے۔ خدا را اب یہ رونا دھونا بند کیجئے اور ناشتہ کر لیجئے۔ "وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔
اس نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں خشک کیں اور اس کی جانب دیکھا۔ ” آئیے۔ باتھ روم اس طرف ہے۔ "اس نے کمرے کے غربی گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے باتھ روم کی جانب چل دی۔ کچھ دیر بعد جب وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ کچھ اتنی ہی نکھر آئی تھی وہ سوگوار ی میں نتھر کر۔
"چلئے۔ ناشتہ کیجئے۔ "اس نے طاہر کی جانب دیکھا اور سر جھکا کر بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔
"ویسے ڈاکٹر صاحب نے بستر سے نکلنے سے منع کیا ہے۔ آپ نمونئے کے اٹیک سے بال بال بچی ہیں۔ "وہ ہولے سے بولا۔
وہ اس کی جانب دیکھ کر کوئی بحث کئے بغیر خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ بستر میں بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھا چائے کی پیالی سے دل بہلا رہا تھا۔ اس نے بہت کم ناشتہ کیا۔ طاہر نے زیادہ پر اصرار نہیں کیا۔ سیف بابا برتن لے گیا۔ وہ پھر کسی سوچ میں کھو گئی۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر ہولے سے کھنکارا تو وہ چونکی۔ نگاہیں ملیں۔ وہ مسکرادیا۔
"ہاں تو صاحب! مگر یہ صاحب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ آپ کا نام کیا ہے؟” وہ بے تکلفی سے پوچھ بیٹھا۔
"زاہدہ۔ "وہ بے ساختہ دھیرے سے کہہ گئی۔
"مس زاہدہ؟” اس نے الٹا سا سوال کر دیا مگر تیزی سے!
"جی۔۔۔ جی ہاں۔ ” وہ کہتے کہتے رکی اور شرما گئی۔
"تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے مالک۔ ” وہ سمجھ میں نہ آنے والے لہجے میں آہستہ سے بڑبڑایا۔ "اچھا۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کون ہیں ؟ کیا ہیں ؟ رات آپ اس حال میں کیوں تھیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر میں آپ کو اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گا۔ جی۔ ویسے میرا نام طاہر ہے۔ ”
اور وہ اس باتونی، لا ابالی اور بے تکلف سے انسان کو بڑی گہری اور عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگی۔
"کیا دیکھ رہی ہیں ؟” اس نے کچھ دیر بعد یکا یک کہا۔
"جی۔ کچھ نہیں۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔ "وہ گھبرا گئی۔
"تو پھر کہئے ناں۔ ”
"کیا کہوں ؟” وہ اداس سی ہو گئی۔
"پہلے تو یہ بتایئے۔۔۔ "وہ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر بات بدل گیا۔ ” آپ کا کوئی۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے رک گیا۔
"نہیں ہے۔ کوئی نہیں ہے میرا۔ ” اس نے گھٹے گھٹے لہجے میں کہہ کر آنکھیں بھینچ لیں۔
"اوہ۔۔۔ مگر ۔ صبح آپ نیم بیہوشی میں اپنی امی کو۔۔۔ ”
"مرنے والے پکارنے سے لوٹ تو نہیں آیا کرتے۔ "وہ سسک پڑی۔
” معاف کیجئے گا۔ میں نے آپ کو دکھ دیا۔ "وہ افسردہ سا ہو گیا۔
وہ کتنی ہی دیر دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ طاہر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ چاہتا تھا اس کے دل کا غبار پوری طرح نکل جائے۔
"تو اب آپ کا کیا ارادہ ہے؟” وہ کچھ دیر بعد سنبھلی تواس نے دھڑ کتے دل کے ساتھ سوال کیا۔
"ارادہ؟” وہ طنز سے مسکرائی۔
"میرا مطلب ہے، آپ جہاں رہتی تھیں۔ وہیں واپس جانا چاہیں تو۔۔۔ ”
"جی نہیں۔ وہاں تو اب میرے لئے صرف اور صرف نفرت باقی ہے۔ انہی کے احسان نے تو مجھے اس طوفانی رات کے حوالے کیا تھا۔”
"کیا مطلب؟” وہ حیرت زدہ رہ گیا۔
” آپ ضرور سننا چاہتے ہیں۔” اس نے درد بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
” آپ مناسب سمجھیں تو۔۔۔ ”
"ٹھیک ہے۔ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات بھی نہیں ہے دنیا میں کہ میں اسے دل پر بوجھ بنائے لئے لئے پھروں۔۔۔ مگر مجھے کریدیے گا نہیں۔ ”
پھر ایک لرزتی کانپتی، درد بھری آواز کے زیر و بم نے اسے جکڑ سا لیا۔ وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔….( جاری ہے)
٭٭٭٭٭٭٭٭
ناول: عشق کا قاف
تحریر:سرفراز احمد راہی
قسط نمبر: 2
—————-
پھر ایک لرزتی کانپتی، درد بھری آواز کے زیر و بم نے اسے جکڑ سا لیا۔ وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔
"ابو بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ غربت کا دائرہ کچھ اور تنگ ہو گیا۔ میں اور امی چچا کے در پر فقیروں کی طرح پڑے رہی۔ ان کے گھر کے کام کاج، خدمت، دن رات کی گالیوں ، مار پیٹ اور جھڑکیوں کے عوض بچا کھچا کھانا پیٹ کی آگ بجھانے کو مل جاتا۔ اسی پر سجدہ شکر ادا کرتی۔ امی نے ہر مصیبت اور تنگدستی کا مقابلہ کر کے کسی نہ کسی طرح مجھے ایف اے پاس کرا دیا۔ چچا کا لڑکا اختر ہمیشہ پڑھائی میں میری مدد کرتا۔ ماں باپ کی سخت مخالفت کے باوجود میری اور امی کی ہر طرح مدد کرتا۔ اسی کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے چچا اور چچی نے مجھے کمپیوٹر کورس کی اجازت دے دی۔ امی کے دُکھوں کو سُکھ میں بدلنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ میں کہیں نوکری کر لیتی۔ یہی سوچ کر میں نے یہ کورس کرنے کا عزم کر لیا۔ چچا کی اولاد میں اختر سے اوپر ایک لڑکی نرگس تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن چلی گئی اور ابھی تک وہیں ہے۔ وقت گزرتا رہا۔ امی کی جوانی بڑھاپے میں ڈھل گئی۔ امی کی جگہ بھی اب مجھی کو تمام گھر کا بوجھ سنبھالنا پڑا۔ میں نے کوئی گلہ شکوہ کئے بغیر یہ کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اتار لئے۔ اس لئے کہ اختر، میرا اختر، میرا ساتھ نبھانے، مجھے اپنانے کا وعدہ کر چکا تھا۔ صرف اس کے امتحان سے فارغ ہو کر کاروبارسنبھالنے کی دیر تھی۔ اختر کی بے پناہ محبت نے مجھے ہر ڈر اور خوف سے لا پرواہ سا کر دیا۔ مجھے نئی زندگی بخش دی۔ وہ مجھ سے شادی کرنے کو بالکل تیار بلکہ بے صبرا ہو رہا تھا مگر جب تک وہ تعلیم مکمل نہ کر لیتا، یہ ممکن نہ تھا۔ پھر ایک روز اس نے مجھے یہ خوش خبری سنائی کہ وہ بی اے کا آخری پیپر دے آیا ہے۔ اب رزلٹ نکلنے کی دیر ہے اور پھر۔۔ اور اس "پھر ” سے آگے میں سن نہ سکی۔ سہانے سپنوں میں کھو گئی۔ آنے والے کل کے سورج کی دمکتی کرنیں میرے تاریک ماضی کو تابناک مستقبل میں بدل جانے کا پیغام دے رہی تھیں۔ امی نے مجھے بہت سمجھایا۔ اونچ نیچ، قسمت اور تقدیر سے خوفزدہ کرنا چاہا مگر میں اختر پر اندھا اعتماد کئے بیٹھی تھی۔ کچھ نہ سمجھ سکی۔ کچھ نہ سوچ سکی۔ تب۔۔۔ ایک روز۔ جب اختر نے مجھے بتایا کہ چچا اور چچی نے اس کے لئے ایک امیر زادی کا رشتہ منظور کر لیا ہے تو میرے سپنوں کا تاج محل زمین بوس ہو گیا۔ زندگی نے بڑے پیار سے فریب دیا تھا۔۔۔
میں تمام رات روتی رہی۔ پلک نہ جھپکی۔ سسکیاں گونجتی رہیں۔ ہچکیاں آنسوؤں کا ساتھ دیتی رہیں۔ صبح کے قریب جب میں چند لمحوں کی نیند کی تلاش میں تھک کر اونگھتے اونگھتے ہڑ بڑا کر جاگی تو امی ہمیشہ کی نیند سو چکی تھیں۔ وہ مجھ سے زیادہ دُکھی، تھکی ہوئی اور ستم رسیدہ تھیں۔ نجات پا گئیں۔
چند روز تک گھر میں خاموشی رہی۔ مجھے کسی نے گالی نہ دی۔ جھڑکیوں سے نہ نوازا۔ تھپڑوں کے انعام سے محروم رہی۔ تب۔۔۔ اختر نے ایک بار پھر مجھے سہارا دیا۔ اس نے مجھ سے جلد ہی خفیہ طور پر شادی کر لینے کی خبر سنا کر ایک بار پھر مجھے امید کی رہگزر پر لا کھڑا کیا۔ چند لمحے پھر بہار کی تصوراتی آغوش میں گزر گئی۔ مگر بہار کے بعد خزاں بھی تو آیا کرتی ہے۔ دن کے بعد رات بھی تو آتی ہے۔
کل کی رات بڑی طوفانی تھی۔ بڑی خوفناک تھی۔ شدت سے بارش ہو رہی تھی۔ بادل پوری قوت سے دھاڑ رہے تھے۔ برق پوری تابناکی سے کوند رہی تھی۔ اختر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ اس کے والدین اور گھر کے ملازم گہری نیندسورہے تھی۔ وہ اکثر دیر سے لوٹتا تھا۔ میرا دل نہ جانے کیوں بیٹھا جا رہا تھا۔ گیارہ بج گئے۔ دل جیسے تڑپ کر سینے سے باہر آنے کی سعی کرنے لگا۔ میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔ تبھی باہر دروازے پر اسی مخصوص مگر شاید بارش کی وجہ سے تیز انداز میں کی گئی دستک نے مجھے زندگی کی وادیوں میں گھسیٹ لیا۔ میں تقریباً بھاگتی ہوئی دروازے پر پہنچی۔ دروازہ کھولا۔ سامنے اختر بارش میں شرابور کھڑا تھا۔
"ارے تم۔۔۔ "وہ مجھے حیرت سے دیکھتا ہوا بولا۔
"اتنی دیر تم نے کہا ں لگا دی اختر۔ "میں نے پریشانی سے کہا۔
"ارے پگلی۔ "میں جب ناصر کے گھر سے نکلا تو موسم ٹھیک تھا۔ ایک دم ہی بارش نے آ لیا۔ موٹر سائیکل پر آتے آتے یہ حال ہو گیا۔ ”
دروازہ بند کر کے وہ میرے ساتھ میرے کمرے میں چلا آیا۔
"جناب، جائیے اب جا کر گیلے کپڑے اتار دیجئے۔ کافی دیر ہو چکی ہے۔ لیکن اس دن اختر کچھ بدلا بدلا لگ رہا تھا ، اور پھر اس نے مجھے میری قیمتی متاح سے محروم کرنے کی کوشش کی ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اس طرح کی کوئی حرکت کرسکتا ہے میں اپنی عزت بچانے کے لیے اس کی منتیں کرتی رہی اور پھر مجبورا” میں نے شور مچا دیا کہ میری عزت تو محفوظ رہے اور وہی ہوا۔ کوئی راہداری میں تیز تیز قدم اٹھاتا چلا آ رہا تھا۔ اختر گھبرا گیا۔ بہکے ہوئے جذبات کا بھوت اس کے سر سے اتر گیا۔ خدا نے میری عزت بچا لی۔ "کون ہے اندر؟ دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولو۔۔۔ "چچا جان دروازہ دھڑ دھڑا رہے تھے۔ اختر نے اِدھر اُدھر دیکھا اور کھڑکی کی طرف لپکا۔
جب میں نے دروازہ کھولا تو کھڑکی کھلی تھی اور اختر اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ پھر میری ایک نہ سنی گئی۔ مجھے پیٹا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ تہمتیں تراشی گئیں۔ الزام لگائے گئی۔ بدکار، طوائف، بد چلن اور ایسے کتنے ہی خطابات سے نوازا گیا۔ اپنے گھر کو ایک گندی مچھلی سے پاک کرنے کے لئے مجھے، ایک جوان لڑکی کو، سگی بھتیجی کو، اس طوفانی رات کے حوالے کر دیا گیا مگر اختر نہ آیا۔ شاید اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی نیا لبادہ نہ رہ گیا تھا۔ اس سے بعد میں صرف اتنا ہی جانتی ہوں کہ آسمان کی عنایات سے بے دم ہو کر ایک کوٹھی کے سائبان تلے رک گئی تھی۔ پھر کیا ہوا، مجھے کچھ معلوم نہیں !”
وہ خاموش ہو گئی۔
"بڑی دردناک کہانی ہے آپ کی؟” کچھ دیر بعد وہ ایک طویل سانس لے کر آہستہ سے بولا۔ زاہدہ آنکھیں خشک کرنے لگی۔
"مگر نئی نہیں ہے۔ ” وہ دونوں ایک آواز سن کر چونک پڑے۔ دروازے کے پاس پڑے صوفے پر ڈاکٹر ہاشمی بیٹھے تھے۔ "دنیا میں ایسے ہزاروں واقعات روزانہ پیش آتے ہیں۔ "وہ اٹھ کر ان کے قریب چلے آئے۔ "تم خوش قسمت ہو بیٹی کہ ایک وحشی کے ہاتھوں بے آبرو ہونے سے بچ گئیں ورنہ یہ بات تقریباً ناممکن ہو جایا کرتی ہے۔ "وہ بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
زاہدہ کاسر جھک گیا۔
” آپ کب آئے انکل؟” طاہر نے ان کی جانب دیکھا۔
"جب کہانی کلائمکس پر تھی۔ ” وہ بولے اور طاہر سر ہلا کر رہ گیا۔ زاہدہ سر جھکائے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
"چائے لیں گے آپ؟” اس نے پوچھا۔
"نہیں بھئی۔ اس وقت طلب نہیں۔ ہاں بیٹی۔ ذرا ہاتھ ادھر دو۔ "وہ اس کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گھڑی کی طرف دیکھنے لگی۔ ” اب تو بالکل ٹھیک ہو تم۔ ” وہ انجکشن دے کر فارغ ہو گئی۔ یہی کیپسول ہر تین گھنٹے بعد لیتی رہو۔ انشاءاللہ شام تک ان سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ "پھر وہ اٹھ گئی۔ "اچھا بھئی طاہر۔ میں اب چلوں گا۔ شام کو پھر آؤں گا۔ ”
"بہتر انکل۔ ” وہ بھی کھڑا ہو گیا اور سیف کو پکارا۔ چند لمحے بعد وہ کمرے میں تھا۔ "ڈاکٹر صاحب کو گاڑی تک چھوڑ آؤ۔ "سیف نے آگے بڑھ کر ان کا بیگ اٹھا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی چل دیئے۔ "اور سنو۔ سیف بابا سے دو کپ چائے کا کہہ دو۔ ”
"جی بہتر۔ "وہ سرجھکائے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ زاہدہ تکئے سے ٹیک لگائے جانے کس سوچ میں گم نیم دراز تھی۔
"ہوں۔ تو آپ صبح اسی لئے ان لوگوں کے پاس بھاگ بھاگ کر واپس جا رہی تھیں۔ ” وہ اسے چونکاتا ہوا گویا ہوا۔
"جی۔۔۔ جی نہیں۔ ” وہ افسردگی سے بولی۔ "وہ میرے لئے مر چکے ہیں۔ ”
"کیا۔۔۔ اختر بھی؟” اس نے زاہدہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
"وہ بھی تو انہی میں سے تھا۔ "اس نے نظریں جھکا لیں۔ "اگر وہ پیٹھ نہ دکھاتا اور میری ڈھال بن جاتا تو میں اس وقت یہاں نہ ہوتی۔ ”
اوراس کے سینے سے ایک بوجھ سا ہٹ گیا۔ لبوں پر پھر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تیر گئی۔ "تو پھر۔۔۔ کہاں جانے کے لئے اتنا بے قرار تھیں آپ؟دیکھئے۔ وہی گھسا پٹا جواب نہ دیجئے گا کہ جہاں قسمت لے جاتی۔ "وہ لہجے کو نسوانی بناتے ہوئے بڑی افسردگی سے بولا۔ زاہدہ بے ساختہ مسکرا دی۔ "ارے ۔۔۔ آپ تو ہنستی بھی ہیں۔ "وہ بڑی حیرانی سے بولا اور اپنے جواب ندارد سوال کو بھول کر اس کی مسکراہٹ میں کھو گیا جواَب کچھ اور گہری ہو گئی تھی۔ "بس یونہی مسکراتی رہئے۔ ہنستی رہئے۔ بخدا زندگی جنت بن جائے گی۔ ویسے ایک بات کہوں۔ صبح آپ پتہ ہے کیوں بھاگ رہی تھیں ؟” اس نے پھر زاہدہ کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
” آپ کا خوفزدہ ذہن مجھ سے بھی ڈر رہا تھا۔ اختر کی طرح۔ ”
اور اس نے سنجیدہ ہو کر نظریں جھکا لیں۔ شاید یہ سچ تھا۔
سیف بابا چائے لے آیا۔ کچھ دیر بعد وہ چائے سے فارغ ہو گئی۔
"اچھا مس زاہدہ۔ آپ آرام کیجئے۔ میں کچھ کام نبٹا آؤں۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بیل موجود ہے۔ "اس نے کال بیل پر انگلی رکھ دی۔ چند لمحوں بعد سیف کمرے میں تھا۔
"دیکھو سیف بابا۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا۔ کھانا پورے ایک بجے۔۔۔ اور رات کے کھانے پر تو میں گھر پر ہی ہوں گا۔ ”
"بہتر صاحب۔ ” وہ ادب سے بولا۔
"بس جاؤ۔ ” اور وہ واپس پلٹ گیا۔
"اب میں چلوں گا۔ گھبرائیے گا نہیں۔ اور یہاں سے جانے کا ابھی مت سوچئے گا۔ کیونکہ میری غیر موجودگی میں کوئی آپ کو یہاں سے جانے نہیں دے گا۔ شام کو لوٹوں گا تو باقی باتیں ہوں گی۔ پھر طے کریں گے کہ آپ کو آگے کیا کرنا ہے؟” وہ مسکراتا ہوا کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا۔ "ارے ہاں۔ مجھے اپنا وعدہ تو بھول ہی گیا۔ ” اچانک واپس آ کر وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ اسے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔
"دیکھئے صاحب۔ ابو تو ہمارے بھی اللہ کے پیاروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ بس ایک امی ہیں۔ اور ان کا یہ اکلوتا، کلم کلا، فرزندِ ارجمند۔ آج کل وہ زمینوں پر گئی ہوئی ہیں۔ بڑی سخت گیر ہیں۔ ملازموں کو سر نہیں چڑھاتیں۔ ان کی خبر لیتی رہتی ہیں۔ اور میں یعنی مسٹر طاہر۔ امپورٹ ایکسپورٹ کی فرم کا واحد اور بلا شرکت غیرے مالک۔ تاکہ وقت گزرتا رہے۔ بیکار بیٹھنے سے بچنے کا اک بہانہ ہے۔ بس یہ تھی ہماری مختصر سی زندگی، جس کے بارے میں مَیں نے آپ کو بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ ” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اپنی مسکراہٹ کو دبا نہ سکی۔
طاہر الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔ چند منٹ بعد جب وہ باہر نکلا تو کچھ دیر کو وہ بھی مبہوت رہ گئی۔ کچھ اتنا ہی سمارٹ لگ رہا تھا وہ۔
وہ ہاتھ ہلا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ زاہدہ پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭
تین دن ایک آنکھ مچولی کی سی کیفیت میں گزر گئے۔ اس شام وہ ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل میں ان کے پاس موجود تھا۔
"طاہر بیٹے۔ "ڈاکٹر ہاشمی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے قریب چلے گئی۔ "تم میں جلد بازی کا مادہ بہت زیادہ ہے۔ تم ہر اس شے کو حاصل کر لینا چاہتے ہو، جو تمہاری نگاہوں کو تسکین دے دی۔ تمہارے دل کوپسند آ جائے لیکن۔۔۔ ” وہ رک گئی۔ طاہر بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا۔ "دوسرے کے جذبات، رستے میں آنے والی رکاوٹوں ، حقیقت اور ہر تغیر سے تم بالکل بے بہرہ ہو جاتے ہو۔ ”
"میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا انکل۔ "وہ مضطرب سا ہو گیا۔
"جوانی دیوانی ہوتی ہے بیٹے لیکن اگر اسے سنبھل کر خرچ کیا جائے تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والا سکون بھی بن جایا سکتی ہے۔ ”
اس نے پھر کچھ کہنا چاہا مگر ڈاکٹر ہاشمی نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ اس کے ادھ کھلے ہونٹ پھر بند ہو گئی۔
"ابھی اس اجنبی لڑکی کو یہاں آئے ہوئے صرف تین دن ہوئے ہیں اور تم اسے جنم جنم کا ساتھی جان کر، شریک حیات بنانے کا بے وقوفانہ فیصلہ کر بیٹھے ہو۔ ”
"مگر اس کا اب دنیا میں ہے بھی کون انکل؟ اسے یہ بات بخوشی قبول ہو گی۔ ”
"غلط کہتے ہو۔ تم اس کے دل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ اختر کی محبت اتنی جلدی اس کے دل سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئی ہو گی۔ ”
"اس نے خود۔۔۔ ”
"کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ کہنے کو تو اس نے ان سب کو مردہ کہہ دیا ہے جن میں اس کا چچا، چچی اور اختر سب شامل ہیں لیکن کیا وہ حقیقتاً مر گئے ہیں۔ نہیں۔۔۔ وہ زندہ ہیں۔ جیسے میں ، تم اور وہ خود۔۔۔ ”
"لیکن۔۔۔ ”
"ابھی بیگم صاحبہ یہاں نہیں ہیں۔ چند روز میں وہ بھی لوٹ آئیں گی اور اس وقت۔۔۔ اس وقت تم ایک عجیب مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ گے طاہر۔ تم ان کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو۔ ”
"لیکن میں فیصلہ کر چکا ہوں۔۔۔ ”
"وہ فیصلے بدل دینے کی عادی ہیں۔ ”
"میں بھی انہی کی اولاد ہوں انکل۔ ”
"اور اگر۔۔۔ اس لڑکی ہی نے تمہارا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تو؟”
وہ سچ مچ پریشان ہو گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی کی ہر بات اپنی جگہ اٹل تھی۔
"بات کو سمجھنے کی کوشش کرو بیٹے۔ ” وہ نرمی سے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے بولے۔ "ابھی اس کے زخم تازہ ہیں۔ ان پر ہمدردی اور پیار کا مرہم رکھو۔ اسے حوصلہ دو۔ جلد بازی کو کچھ عرصے کے لئے خیر باد کہہ دو۔ اگر تم اس کے دل کا زخم بھرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ سب کچھ ہو سکے جو تم سوچ رہے ہو مگر فی الحال ایسا کوئی چانس نہیں ہے۔ شیخ چلی کا خیالی پلاؤ تم جیسا انسان نہ پکائے تو اچھا ہے ورنہ حقیقت کی بھوک تمہیں ایسے فاقے پر مجبور کر دے گی جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ ”
طاہر نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ مسکرادیے۔ دھیرے سے پھر اس کا شانہ تھپکا۔ اس نے سر جھکا لیا۔
"وقت آنے پر میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ "وہ آہستہ سے بولے۔
اور اسے جیسے بہت بڑا سہارا مل گیا۔
"اللہ حافظ۔ "وہ مسکرا کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
"اللہ حافظ۔ ” وہ ہولے سے بولا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
٭٭٭٭٭٭
شوخیوں پر نکھار آتا چلا گیا۔ شرارتیں بڑھتی چلی گئیں۔ تکلف کی دیواریں گرنے لگیں۔ دبی دبی، پھیکی پھیکی مسکراہٹیں ، بلند بانگ اور زندگی سے بھرپور قہقہوں میں ڈھل گئیں۔
یک طرفہ محبت کی آگ کے شعلے بلندسے بلند تر ہونے لگی۔ اس کی نیندیں اڑنے لگیں۔ قرار چھن گیا۔ سکون رخصت ہو گیا۔ دفتر کا عملہ اس کی یکدم بڑھ جانے والی زندہ دلی، ظرافت اور پیار کو "کسی کے مل جانے "سے تشبیہ دینے لگا۔ اس کی سٹینو امبر نے تو کئی بار اسے ہنسی ہنسی میں یہ بات کہہ بھی دی تھی۔
دوسری طرف زاہدہ اس محبت سے بے خبر تھی۔ بالکل بے خبر۔ لگتا یہی تھا کہ وہ اپنے ماضی کو فراموش کر چکی ہے لیکن اس کے دل میں کیا تھا یہ کوئی نہ جانتا تھا۔ ہاں ، کبھی کبھی اختر کی یاد اسے بے چین کر دیتی تو وہ کچھ دیر کے لئے اداس ہو جاتی لیکن جب اسے اختر کی زیادتی کا خیال آتا تو وہ اس اداسی کو ذہن سے جھٹک دیتی۔ اس کے خیال کو دل سے نکال پھینکنے کی کوشش کرنے لگتی۔ ایسے موقع پر طاہر اس کے بہت کام آتا۔ وہ منٹوں میں اس کی اداسی کو شوخی میں بدل کر رکھ دیتا۔ اسے قہقہوں میں گم کر دیتا۔ ماضی کو فراموش کر کے وہ مستقبل سے بالکل لا پرواہ ہوئی جا رہی تھی تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ چٹان کی طرح موجود تھی کہ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اختر کو مکمل طور پر اپنی یادوں سے کھرچ دینے میں ناکام رہی تھی۔
آج اسے طاہر کے ہاں آئے دو ماہ ہو رہے تھے۔ بیگم صاحبہ ابھی تک گاؤں سے نہیں لوٹی تھیں۔ سردیاں ختم ہونے کو تھیں۔ طاہر نے اسے کیا کچھ نہ دیا تھا۔ مسکراہٹیں ، خوشیاں ، بے فکری، آرام، آزادی۔۔۔ لیکن یہ اس کا مستقل ٹھکانہ تو نہیں تھا۔
"اے مس اداس۔۔۔ ” طاہر کی شوخی سے بھرپور آواز نے اس کے خیالات کا شیرازہ بکھیر دیا۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسے مسکراتی ہوئی بڑی گہری نظروں سے دیکھتا ہوا، اس کے سامنے ہی آلتی پالتی مار کر لان کی نرم نرم گھاس پر بیٹھ گیا۔
"فرمائیے۔ ” وہ بے ساختہ مسکرادی۔
"فرمانا کیا ہے ہم فقیروں نے۔ بس یہ ایک عدد خط آیا ہے امی جان کا۔ ” وہ کاغذ کھول کر اسے گھاس پر بچھاتا ہوا جیسے مشاعرے میں غزل پڑھنے لگا۔ وہ نجانے کیوں بے چین سی ہو گئی۔
” آ رہی ہیں وہ ؟”
"ہاں۔۔۔ مگر تم کیوں پریشان ہو گئیں ؟” وہ خط پڑھے بغیر تہہ کر کے جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔
"پریشان۔۔۔ نہیں تو۔ وہ۔۔۔ ”
"اچھا چھوڑو۔ ایک بات بتاؤ۔ ”
"جی پوچھئے۔ ”
"اب تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میرا مطلب ہے۔۔۔ ”
"میں بھی یہی سوچ رہی تھی طاہر صاحب کہ آپ نے مجھ پر کتنے احسانات۔۔۔ ”
"میں نے احسانات گننے کو نہیں کہا۔ یہ پوچھا ہے کہ اب آئندہ کا پروگرام کیا ہے؟” اس نے زاہدہ کی بات کاٹ دی۔
"پروگرام کیا ہونا ہے طاہر صاحب۔ ایک نہ ایک روز تو مجھے یہاں سے جانا ہی ہے۔ کئی بار جانا چاہا۔ کبھی آپ نے یہ کہہ کر روک لیا کہ کہاں جاؤ گی؟ اور کبھی یہ سوچ کر رک گئی کہ واقعی کہاں جاؤں گی میں ؟ لیکن آج آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو۔۔۔ ” وہ رک گئی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ ” آپ ہی بتائیے۔ میں کہاں جاؤں ؟”
"ارے تو کون اُلو کا پٹھا تمہیں جانے کو کہہ رہا ہے؟ "وہ مصنوعی جھلاہٹ سے بولا اور اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔
"مذاق نہیں طاہر صاحب۔ میں۔۔۔ میں آج ہی یہاں سے چلی جاؤں گی۔ "وہ اداسی سے بولی۔
"کہاں ؟”
"کہیں بھی؟” وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر رہ گئی۔
"پھر بھی ؟”
"جہاں۔۔۔ ”
"قسمت لے جائے۔ بس اس فلمی ڈائیلاگ سے مجھے بڑی چڑ ہے۔ "وہ اس کی بات اچک کر بولا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
"سنو۔۔۔ "وہ اس کے بالکل سامنے، بالکل قریب چلا آیا۔
اس نے طاہر کی طرف دیکھا۔
"تم کہیں مت جاؤ۔ یہیں رہو۔ "وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
"نوکرانی بن کر۔۔۔ ؟”وہ دھیرے سے مسکرائی۔
"رانی بن کر۔ ” وہ اسے ہلکا سا جھٹکا دے کر بولا۔
"کیا مطلب؟” وہ حیران سی ہو گئی۔
"رانی کا مطلب نہیں سمجھتیں کیا۔ ارے وہی۔۔۔ جو ایک راجہ کی۔۔۔ "وہ شرارت سے مسکرا کر خاموش ہو گیا۔
"طاہر صاحب۔ ” وہ حیرت سے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گئی۔
"کیوں۔۔۔ کیا ہوا ؟” وہ بے چینی سے بولا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا تھا۔
"ایسا مت کہئے طاہر صاحب۔ میں اتنا بھیانک مذاق سہہ نہ سکوں گی۔ ”
"ارے واہ۔ تم زندگی بھر کے بندھن کو مذاق۔۔۔ ”
"خاموش ہو جائیے طاہر صاحب۔ خدا کے لئے۔ "وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر سسک پڑی۔
"زاہدہ۔۔۔ ” "میں اختر نہیں ہوں زاہدہ۔ ”
"اسی لئے تو یقین نہیں آتا۔ "اس نے رخ پھیر لیا۔
"زاہدہ۔ تم۔۔۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ؟ میں۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ "وہ رک رک کر کہہ گیا۔
"بس کیجئے طاہر صاحب۔ بس کیجئے۔ یہ زہر میں بجھے ہوئے تیر بہت پہلے میرے دل میں اتر چکے ہیں۔ ”
"زاہدہ۔ "وہ تڑپ اٹھا۔ "میرے خلوص کی یوں دھجیاں نہ بکھیرو۔ ”
"مجھے جانے دیجئے طاہر صاحب۔ مجھے جانے دیجئے۔ مجھ میں اب یہ فریب، یہ ستم سہنے کی تاب نہیں۔ "وہ چل دی۔
طاہر آگے بڑھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ "جا سکوگی؟” اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر وہ بڑے مان سے بولا۔
وہ لرز گئی۔ ایک چٹان کھڑی تھی اس کے راستے میں !
"میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کے لئے بے قراری محسوس کی ہے زاہدہ۔ پہلی مرتبہ میرا دل کسی کے لئے دھڑکا ہے۔ تمہارے لئے۔ زاہدہ، صرف تمہارے لئے۔ اگر اسی کو محبت کہتے ہیں تو۔۔۔ ”
"طاہر صاحب۔ "وہ پھر سسکی۔
"ہاں زاہدہ۔ میں نے جب تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو نجانے کیوں تمہیں دل میں سمولینے، دھڑکنوں میں چھپا لینے کو جی چاہا۔ میں نے اپنا کوئی آئیڈیل نہیں بنایا زاہدہ مگر اب لگتا ہے تم ہی میری نامحسوس اور ان دیکھی آرزوؤں کی تصویر ہو۔ میں نے اس کٹی پھٹی تصویر میں اپنی چاہت کے رنگ بھر دیے لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ تصویر میری بولی سے بہت زیادہ قیمت کی ہے۔ میرے پاس تو صرف خلوص کی دولت ہے زاہدہ۔ اس ظاہری شان و شوکت، اس آن بان پر تو میں کبھی تن کر کھڑا نہیں ہوا۔ ”
وہ بت بنی اس کی صورت تکتی رہی۔ وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا دیا۔
"جانا چاہتی ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟”وہ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر آہستہ سے بولا۔ "میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ جاؤ۔ ” وہ بڑی درد بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے ایک طرف ہٹ گیا۔
زاہدہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ کر دھیرے سے حرکت کی اور چل دی۔ آہستہ آہستہ، چھوٹے چھوٹے چند قدم اٹھائے۔
طاہر کی آنکھوں کے سامنے دھند سی لہرا گئی۔ پانی کی پتلی سی چادر تن گئی۔
وہ رک گئی۔
طاہر کی پلکیں بھیگ گئیں۔
وہ پلٹی۔ دھیرے سے۔
طاہر کے ہونٹوں کے گوشے لرز گئی۔
وہ رخ پھیر کر بھاگی۔
طاہر کے بازو وَا ہو گئے۔
وہ اس کے بازوؤں میں سماتی چلی گئی۔ شبنم، پھول کی پتیوں پر پھسل پڑی۔
دور برآمدے میں کھڑے ڈاکٹر ہاشمی کے لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ شاید وہ سب کچھ جان گئے تھے۔
"تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نے یہ گل کھلائے ہیں۔ ” بیگم صاحبہ نے سرجھکائے کھڑے طاہر، زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سے دیکھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ْجاری ہے….