میں رام سب سے بڑا ہوں اور اس زمانے میں
بڑوں کو لوگ گھروں سے نکال دیتے ہیں ۔۔ !
..
رام ریاض کا یومِ وفات
Sep 07, 1990
رام ریاض کا اصل نام ریاض احمد ھے ۔ آپ 13 جنوری 1932 ء کو پانی پت ھریانہ مین پیدا ھوئے ۔ آپ کے والد کا نام شیخ نیاز احمد ھے ۔ آپ نے 1945ء میں پرائمری کا امتحان محلہ انصاریاں پانی پت کے مدرسہ شاخِ انصاریاں سے پاس کیا ۔ پھر ابھی مڈل کی تعلیم مکمل نہیں ھوئی تھی کہ ازادی کی صبح درخشاں طلوع ھوئی ۔ اس گل رنگ سویرے میں رام ریاض محلہ گلاب والا ، وارڈ نمبر 5 جھنگ شہر مین پہنچے ۔ مڈل کا امتحان 1950 ء میں حالی مسلم ھائی سکول جھنگ سے پاس کیا ۔ میٹرک کا امتحان ایم بی ھائی سکول جھنگ سے بطور ریگولر اسٹوڈنٹ 1953ء میں پاس کیا – رام ریاض کی شاعری کا آغاز ھائی سکول دور سے ھو چکا تھا ۔ 1965ء مین گورنمنٹ کالج جھنگ سے گریجویشن کا امتحان پاس کیا اس وقت تک آپ ریاض احمد شگفتہ کے نام سے معروف تھے ۔ آپ کی ڈگری پر بھی یہی نام درج ھے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے اپنا قلمی نام رام ریاض اختیار کر لیا ۔
1986ء مین ان کا پہلا مجموعہ کلام پیڑ اور پتے شائع ھوا ۔ 10 جون 1986ء کو فالج کے شدید حملے نے اس توانا شاعر کو مستقل طور پر اپاھج بنا کر رکھ دیا ۔ زندگی کے آخری ایام میں رام ریاض انتہائی کسمپرسی کی حالت میں تھا بیماری ، لاچاری اور بیروزگاری کا زھر اس کی نس نس میں اتر چکا تھا گزراوقات کا واحد ذریعہ اکادمی ادبیات کا 500 روپے ماھانہ وظیفہ تھا ۔ اپنی ضعیف ماں کے ساتھ جس طرح اس نے سانسیں گن گن کر اپنی زندگی کے دن پورے کئے وہ ھمارے لئے لمحہ فکریہ ھیں ۔ لیکن رام ریاض کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لایا ۔ وھی سدا بہار مسکراھٹ اس کے لبوں پر رھتی اور اپنے داخلی کرب کا اظہار اپنے شعرون کے ذریعے کرتا ۔
میں گر پڑا کہ مرے بازؤوں میں جان نہ تھی
وگرنہ میرا نشیمن تو یہ چٹان نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ستوں مکانوں سے پیڑ رام اچھے ھین
گود بھی کشادہ ھے ، چھاؤں بھی زیادہ ھے
اور پھر بالآخر یہ شاعر ایک دن تھک کے گر پڑا ۔ 07 سپتمبر 1990ء کو ایک مخلص دوست ، اچھا انسان ، بےباک شاعر زندگی کی بازی ھار گیا ۔ اب یہ خوبصورت لب و لہجے کا شاعر جھنگ کے نواحی قبرستان میں آسودۃ خاک ھے۔ لیکن اس کے اشعار ھمین ھمیشہ جھنجوڑتے رھیں گے ۔
اب تو ناراض نہ ھو گے ھم سے
کر لیا ھم نے کنارہ لوگو ۔۔۔۔۔۔ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین آیا ھے تو اب نیند بھی آ جائے گی
اور دھرتی ھمیں آرام سے کھا جائے گی
…….
منتخب کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو برق و باد پروں سے نکال دیتے ہیں
ہم ان کو ہم سفروں سے نکال دیتے ہیں
ترا بھی مہر و مروت پہ اعتقاد نہیں
تو ہم یہ خواب سروں سے نکال دیتے ہیں
جو دل نہ جوڑ سکے، اب تو شیشہ گر اُس کو
سنا ہے شیشہ گروں سے نکال دیتے ہیں
تجھے بھی دن میں اندھیرا نظر نہیں آتا
تجھے بھی دیدہ وروں سے نکال دیتے ہیں
صبا اُدھر سے کبھی لوٹ کر نہیں آئی
اِسے بھی نامہ بروں سے نکال دیتے ہیں
میں رام سب سے بڑا ہوں اور اس زمانے میں
بڑوں کو لوگ گھروں سے نکال دیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
People remove elders from their homes
..
Death anniversary of Ram Riaz
Sep 07, 1990
Ram Riaz's real name is Riaz Ahmed. He was born on 13 January 1932 in Panipat Haryana. Your father's name is Sheikh Niaz Ahmed. He took primary examination in 1945 Mohalla Ansariya Panipat. Passed the Madrassa from the branch of Ansarian. Then the middle education was not completed yet that the morning of independence has risen. In this morning, Ram Riaz Mohalla Gulabwala, Ward No. 5 reached Jhang City. Middle Examination 1950 Passed the matriculation examination from Hali Muslim High School Jhang in 1953 from MB High School Jhang as a regular student in 1953-Ram Riaz's poetry started from high school era. In 1965 Passed the graduation examination from Government College Jhang till that time you were well known as Riaz Ahmed Shagufta. Your degree also has the same name. After some time you adopted your pen name Ram Riaz.
In 1986, his first collection of Kalam, trees and leaves was published. On June 10, 1986, a stroke attack made this energetic poet permanently an abandoned. Ram Riaz in the last days of his life. He was in a state of extreme trouble, the poison of disease, helplessness and unemployment had landed in his vein. The only source of the past was the Rs. 500 monthly wazifa of the Academy of Literature. With his old mother, as he counted his breaths. He has completed the days of his life. But Ram Riaz never brought the word of complaint on his tongue. The same evergreen smile was on his lips and expressed his inner pain through his poets.
I fell down because there was no life in my arms.
Otherwise, my aina was not a rock.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Trees are better than helpless houses.
The lap is also wide, the shade is also more.
And then finally this poet fell tired one day. On September 07, 1990, a sincere friend, a good man, a good poet lost his life. Now this beautiful poet of lips and tone is in the cemetery of Jhang. It's dust. But we will always shake his poems.
Now you won't get angry with us
We have turned away people
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If peace has come, now sleep will also come.
And the earth will eat us up comfortably
…….
Selected words
Those who remove lightning from their wings.
We take them out of our travels
You also don't believe in Mehr and Marwat.
So we get these dreams out of our heads
The one who couldn't connect the heart, now the glass falls to him
I have heard that they remove the glass from the makers.
Even you don't see darkness in the day
They also remove you from the vision.
Saba never came back from there
Let's remove him from the bad people.
I am the greatest Ram and in this time
People remove elders from their homes.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔