میرے شوہر نے میرے علاج کے لیے رکھے پیسے اپنے دوست …
💥میرے شوہر نے میرے علاج کے لیے رکھے پیسے اپنے دوست کو دے دیئے 💔🥺
"ہمیں ایک مہینہ اور انتظار کرنا ہوگا۔”
ڈاکٹر نے یہ جملہ نہایت معمول کے لہجے میں کہا تھا، مگر مہوش کو لگا جیسے کسی نے کیلنڈر کی ایک اور تاریخ نوچ کر اس کے سینے میں گاڑ دی ہو۔
واپسی پر بارش ہو رہی تھی۔
عثمان نے گاڑی کی رفتار آہستہ رکھی، مگر پورا راستہ ایک ہی شخص کا ذکر کرتا رہا۔
"کامران بیچارا بڑی مصیبت میں ہے۔ اس کی گاڑی اب جواب دے گئی ہے۔”
مہوش نے شیشے پر بہتے پانی کو دیکھا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔
چھ برس سے ان کی زندگی میں خاموشیاں جواب دینے لگی تھیں۔
—
ہر مہینے کی پانچ تاریخ کو مہوش ایک مخصوص رقم الگ رکھ دیتی۔
وہ رقم کبھی ہاتھ نہیں لگتی تھی۔
نہ عید کے کپڑے۔
نہ کسی شادی کا تحفہ۔
نہ اچانک خراب ہونے والا فریج۔
ہر خواہش کو وہ ایک ہی جملہ کہہ کر ٹال دیتی۔
"ابھی نہیں…”
عثمان بھی سر ہلا دیتا۔
"ہاں، ابھی نہیں۔”
مگر اسے کبھی معلوم نہ ہوا کہ "ابھی نہیں” صرف مہوش کہہ رہی تھی۔
عثمان تو ہر مہینے کسی نہ کسی نئی چیز کے لیے قسط نکال لیتا، دوستوں کے ساتھ سفر کر لیتا، یا پھر کامران کی کسی مشکل میں شریک ہو جاتا۔
اسے اپنا دل بڑا رکھنے پر فخر تھا۔
صرف گھر کے اندر وہ ہمیشہ تنگ دست رہتا۔
—
کامران ان دونوں کی شادی سے بھی پرانا دوست تھا۔
ایسا دوست جو اجازت کے بغیر فریج کھول لیتا، عثمان کی الماری سے قمیض پہن لیتا، اور مہوش کو ہمیشہ "بھابھی، آپ تو دل چھوٹا کر لیتی ہیں” کہہ کر ہنس دیتا۔
مہوش بھی مسکرا دیتی۔
بعض لوگ بدتمیز نہیں ہوتے۔
بس دوسروں کی حدیں دیکھ ہی نہیں پاتے۔
—
اس شام عثمان غیرمعمولی طور پر خوش تھا۔
"سرپرائز ہے۔”
اس نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔
مہوش نے پہلی بار کئی ہفتوں بعد مسکرانے کی کوشش کی۔
"کلینک کی تاریخ مل گئی؟”
"نہیں…”
عثمان نے موبائل اس کی طرف بڑھایا۔
اسکرین پر کامران ایک چمکتی ہوئی سفید کراس اوور گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا۔
نیچے لکھا تھا:
"آخرکار خواب پورا ہوگیا۔ بھائی عثمان، تم نہ ہوتے تو یہ ممکن نہ تھا۔”
مہوش نے تصویر کو دوبارہ دیکھا۔
پھر ایک بار اور۔
"تم نے…؟”
"ہاں۔”
عثمان نے فخر سے گردن سیدھی کی۔
"سات لاکھ دے دیے۔ عارضی بات ہے۔ واپس آ جائیں گے۔”
کمرے میں پنکھا چل رہا تھا۔
پھر بھی مہوش کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔
"وہ پیسے…”
"ارے، ہمارے ہی تو ہیں۔”
"ہمارے؟”
اس نے پہلی بار لفظ دہرایا۔
"ان میں تمہارا کتنا حصہ تھا، عثمان؟”
عثمان کی پیشانی پر بل آیا۔
"یہ حساب کتاب میاں بیوی میں اچھا لگتا ہے؟”
مہوش نے آہستہ سے کہا،
"تو پھر کسی تیسرے آدمی کو درمیان میں لانا کیسا لگتا ہے؟”
—
رات کے کھانے میں دال تھی۔
دونوں نے پلیٹیں بھر لیں۔
دونوں نے آدھی چھوڑ دیں۔
چمچوں کی آوازیں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھیں۔
—
صبح مہوش نے کامران کو فون کیا۔
"مجھے رقم آج چاہیے۔”
"بھابھی، عثمان نے تو—”
"آج۔”
"ورنہ؟”
"ورنہ مجھے وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس میں رشتوں سے زیادہ کاغذ بولتے ہیں۔”
فون بند ہو گیا۔
پینتالیس منٹ بعد پوری رقم واپس آ چکی تھی۔
مہوش نے بینک ایپ بند کر دی۔
اسے خوشی نہیں ہوئی۔
اسے صرف ایک حقیقت سمجھ آ گئی۔
جس رقم کو واپس آنے میں ایک گھنٹہ بھی نہ لگے…
وہ کبھی ضرورت نہیں تھی۔
صرف ترجیح تھی۔
—
شام کو عثمان کا چہرہ سرخ تھا۔
"تم نے میری بے عزتی کرا دی!”
"کس کے سامنے؟”
"کامران کے!”
"اور میری؟”
عثمان چند لمحے خاموش رہا۔
پھر جیسے اصل بات اب یاد آئی ہو۔
"اگر تمہیں علاج اتنا ہی ضروری لگتا ہے تو باقی خرچہ بھی خود ہی اٹھا لینا۔”
یہ جملہ غصے میں کہا گیا تھا۔
مگر بعض جملے غصے میں نہیں، انسان کی اصل جگہ سے نکلتے ہیں۔
مہوش نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ ایک ایسے آدمی کے ساتھ رہ رہی ہے جو محبت کرتا ہے…
بس ہر بار کسی اور سے پہلے۔
—
اگلے دن عثمان گھر نہیں آیا۔
کامران کے ہاں ٹھہر گیا۔
وقفے وقفے سے پیغام بھیجتا رہا۔
"تم نے بات بڑھا دی۔”
"دوستی کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔”
"تم بہت سخت دل ہو۔”
مہوش نے ایک بھی جواب نہیں دیا۔
—
گھر کی چھت پر آٹھ گملے رکھے تھے۔
ان میں سے سات خشک پڑے تھے۔
آٹھویں میں تلسی کا ننھا سا پودا اب بھی ہرا تھا۔
پانی دیتے ہوئے اسے یاد آیا، یہ پودا عثمان نے نہیں لگایا تھا۔
وہ خود ایک شام نرسری سے لائی تھی۔
عثمان نے تب ہنس کر کہا تھا،
"اتنی محنت ایک پودے پر؟”
اس نے جواب دیا تھا،
"زندہ چیزیں محنت مانگتی ہیں۔”
آج اسے پہلی بار لگا…
یہ بات صرف پودوں کے لیے نہیں تھی۔
—
کلینک سے فون آیا۔
"میڈم، آپ دونوں کی اپائنٹمنٹ کنفرم کر دیں؟”
مہوش نے چھت سے نیچے جھانکا۔
گلی میں کامران اپنی نئی گاڑی دھو رہا تھا۔
عثمان اس کے ساتھ کھڑا ہنس رہا تھا۔
دونوں پانی ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے۔
وہ منظر عجیب حد تک بےفکر تھا۔
جیسے کسی نے کسی کا کچھ بھی نہ لیا ہو۔
مہوش نے فون کان سے لگائے رکھا۔
کافی دیر تک۔
پھر آہستہ سے بولی،
"نہیں…”
دوسری طرف خاموشی رہی۔
"ہم دونوں نہیں آئیں گے۔”
"کیا تاریخ آگے کر دوں؟”
مہوش نے گلی کی طرف آخری بار دیکھا۔
"کچھ رشتوں کی تاریخ آگے نہیں بڑھتی…”
"…وہیں ختم ہو جاتی ہے جہاں آدمی یہ سمجھ لے کہ اس کے خواب، کسی اور کی آسائش سے بھی سستے ہیں۔”
اس نے فون بند کیا۔
نیچے سے قہقہوں کی آواز اب بھی آ رہی تھی۔
چھت پر صرف تلسی کا پودا خاموش کھڑا تھا۔
اسے پانی مل گیا تھا۔
جڑیں پھر بھی دیر تک کانپتی رہیں۔
افسانہ: تلسی کا پودا
©️ انتخاب سخن
#husbandandwifelife #wifereacts