منجھدار محبت وجیہہ بخاری قسط نمبر 9 سیکنڈ لاسٹ …


???? منجھدار محبت
???? وجیہہ بخاری
???? قسط نمبر 9 سیکنڈ لاسٹ

کمرے میں بیٹھا نور کی وجہ سے بے حد پریشان تھا
جب تک وہ نہیں بتاتی تب تک وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا
اور نور کی ایسی حالت نہیں تھی
چہرے پر جگہ جگہ نیل کے نشان تھے ہونٹ بھی پھٹ گیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا
شہرام کا قتل کر دیتا جس نے اسکی نور کا یہ حال کر دیا تھا
وہ اٹھا اور نور کے کمرے کی طرف بڑھا
???? ________________????
آپا شرم آنی چاہئے تمھیں
تم نے نور آپی کو کڈنیپ کروایا تھا نا کیا حالت ہو گئی ہے انکی…”
ثمن دھاڑ سے دروازہ کھول کر آئی تھی…”
وہ مطمئن سی لیپ ٹاپ پر کام کر رہی تھی
جب پتا ہے تو کیوں بکواس کر رہی ہو اور خبردار جو تم نے یہ بات کسی سے کی
وہ غصے سے بولی
اتنے میں سعدیہ اندر آئی تھیں
کیا کر رہی ہو تم دونوں باہر تک آواز آرہی ہے اشنا تمھاری
سعدیہ دبی دبی آواز میں بولیں
ماما اشنا آپا کا دماغ خراب ہو گیا ہے نفرت میں
نور باجی سے…”
بکواس بند کرو اپنی ثمن
زیادہ خیال آرہا ہے تمھیں اسکا…”
بہن سے زیادہ تمھیں اس لڑکی کا خیال ہے سعدیہ غصے سے بولیں تھیں…”
ماما آپ بھی…”
ثمن صدمے سے بولی تھی
بس چپ کرو اور اپنی پڑھائی پر دھیان دو بڑوں کی باتوں میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں تمھیں…”
وہ خاموشی سے باہر نکل گئ
دیکھ رہی ہیں ماما آپ اسکو نور نور نور ہر وقت…”
اشنا کڑھتے ہوئے بولی
اچھا بس کرو تم بھی سمجھا دیا ہے اسکو…”
اور کچن میں چلی گئںیں
وہ منہ بنا کر رہ گئی
???? __________________????
نور اس وقت بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھی تھی…”
جب وہ اندر آیا
کیسی ہو؟ وہ ہشاش بشاش سا بولا…”
نور نے اسکی طرف دیکھا..”
اور مسکرا دی ٹھیک ہوں تم کیسے ہو…؟
اچھا ہوں نور میں تم سے کچھ پوچھنا چاہ رہا ہوں ..؟
اور پوری امید سے آیا ہوں کہ تم مجھے ناامید نہیں بھیجو گی…”
جی پوچھیں…”
کیا تمھیں معلوم ہے کہ تمھارے ساتھ یہ سب کس نے کیا خدا کی قسم جان نکال دوں گا اسکی…”
نور کا رنگ پھیکا پڑا تھا اس نے لمبا سانس کھینچا تھا پھر جو جو اس کے ساتھ ہوا تھا سب شاہ میر کے گوش گزار کر دیا تھا…”
????________________????
سعدیہ کھانا لگا رہی تھیں جب نور باہر آئی…”
سارا..سارا… وہ سارا کو آواز دیتی اندر آئی
بی بی جی آپ سارا اسکو دیکھ کر کھل گئی تھی…”
شکر ہے آپ سہی سلامت آگئی گھر آگئی…”
ہمم اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا
بی بی آپ کو کچھ چاہئے تو مجھے وہاں بلا لیتیں
یہان آنے کی کیا ضرورت تھی…”
ہاں پیاس لگ رہی تھی وہ فریج سے پانی کی ب
بوٹل نکالتے ہوئے بولی…”
اوہ بی بی جی باہر کھانا لگا دیا ہے آپ کھا لو کب سے کچھ نہیں کھایا…”
ہوں آرہی ہوں میں…”
وہ پانی پیتے ہوئے بولی ..”
????___________________????
وہ پانی پی کر باہر آئی توسب کھانا شروع کر چکے تھے…”
وہ جھجھکتے ہوئے آگئی…”
شاہ بھی بیٹھا تھا..
مجھے آپ سب سے ضروری بات کرنی ہے…..”
ہاں کہو برخودار آغا جان اسکی طرف متوجہ ہو کر بولے…’
میں چاہتا ہوں کہ اب رخصتی ہو جانی چاہئے..
وہ سب کی طرف دیکھ کر بولا..”
نور نے اپنا جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا…”
یہ کیا کہ رہے ہو تم شاہ میر…”
رحمہ بیگم غصے سے بولیں
کیا مطلب ایسا کیا کہ دیا میں نے سہی تو کہ رہا ہوں میں…”
رحمہ بیگم شاہ بلکل ٹھیک کہ رہا ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں…”
پر میں ہر گز اس لڑکی کو اپنی بہو نہیں بناؤں گی پتا نہیں دو دن سے کہاں تھی یہ
لوگ کیا کہیں گے..”
نور کا دل چھلنی ہو گیا تھا
رقیہ بیگم نے آنسو بھری آنکھوں سے نور کو دیکھا تھا
جو ضبط کے آخری مراحل سے گزر رہی تھی…”
ماما بہو تو آپکی نور ہی بنے گی وہ دو ٹوک بولا ..”
آغا جان مسکرائے تھے
انکا پوتا ان سے زیادہ سمجھدار تھا…”
ہرگز نہیں میں اسے اپنی بہو نہیں بناؤں گی
اگر تم نے اس سے شادی کی تو شاہ میر تم اپنی مری ماں
کا چہرہ دیکھو گے…”
نور کی جان نکل گٰی تھی
رحمہ احتشام صاحب غصے سے چلائے تھے…”
شادی شاہ اسی سے کرے گا اگر تم نے مزید اس میں روڑے اٹکائے تو میں تمھیں طلاق دینے میں ٹائم نہیں لگاؤں گا…”
احتشام آپ یہ کیا کہ رہے ہیں
رحمہ بیگم حیرانگی سے بولی
وہاں بیٹھے ہر شخص کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو…”
سہی کہ رہا ہوں تم جیسی عورت کے ساتھ میرا مزید گزارا نہیں…”
اور چلے گئے تھے..
رحمہ بیگم ڈھہ سی گئی تھیں …”
سب آہستہ آہستہ چلے گئے تھے…
????____________________????
مام یہ احتشام چچا آج اتنے غصے مں کیوں تھے
خالہ کو سب کے سامنے بے عزت کر کے رکھ دیا…”
مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی کہیں بھائی کو اس سب کا پتا نا چل گیا ہو جو ہم نے نور کے ساتھ کیا ہے شہرام کے ساتھ..”
سعدیہ اس وقت ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھیں..”
اففف مام ہم کیا کریں خود ہی ہینڈل کریں گی
وہ مطمئن انداز میں بولی..”
اشنا کیسے باتیں کر رہی ہوتمھاری خالہ تمھارے لئے تو یہ سب کر رہی ہیں اعر تم یہ کہ رہی ہو…”؟
تو اور کیا سارا الزام اپنے سر لے لوں وہ غصے سے بولی..”
میں نے ایسا نہیں کہا بس..”
پلیز مام ابھی میں بزی ہوں پھر بات کروں گی اس بارے میں…”
سعدیہ بیگم افسوس سے سر ہلا کر رہ گئیں…”

????????________________________????????
شاہ میر ہر جگہ ڈھونڈ چکا تھا شہرام کو مگر وہ غائب ہو گیا تھا…”
شاہ میر سوچ چکا تھا ایک بار وہ سامنے آجائے بس
وہ اسے چھوڑے گا نہیں..”
وہ ابھی آفس سے حویلی جا رہا تھا اور ٹریفک جام تھی جس کی وجہ سے وہ جھنجھلا ہوا تھا..”
وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جب اس کی نظر شہرام پر پڑی
اس نے دوبارہ غور سے دیکھا تو وہ شہرام ہی تھا وہ فورا غصہ سے باہر نکلا اور شہرام کی گاڑی کی طرف بڑھا جو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا…”
شاہ نے اسے کالر سے پکڑ کے باہر کھینچا تھا..”
اور دو تین تھپڑ منہ پر مارے تھے..”
شہرام اس اچانک افتاد پر گھبرا گیا تھا…”
یہ کیا بدتمیزی ہے..”؟
چھوڑو مجھے..”
شاہ اسے گھسیٹتا ہوا اپنی گاڑی تک لایا…”
ارد گرد لوگ جمع ہو گئے تھے..”
اور اس کی ساری کاروائی دیکھ رہے تھے…”
وہ ریش ڈرائونگ کر رہا تھا..”کہاں لے کے جا رہے ہو مجھے چھوڑو..”
شہرام غرایا تھا..”
اتنی جلدی کیا ہے ابھی حویلی آنے دے..”
کیا مطلب اب وہ سہی معنوں میں گھبرا گیا..”
دیکھ مجھے چھوڑ دے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…”
تجھ سے برا کوئی ہے بھی نہیں شاہ میر غصے سے بولا…”
حویلی آکر اس نے شہرام کو کالر سے پکڑ کر باہر کھینچا..”دیکھ شاہ میر میں کہ رہا ہوں چھوڑ دے مجھے…”
وہ کچھ نہیں بولا..”
اندر آکر اس نے شہرام کو نیچے پھینکا تھا…”سب آگئے تھے…”
یہ کیا کر رہے ہو شاہ میر تم آغا جان نا سمجھی سے بولے…”
آغا جان اس شخص نے میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے میں اسے آج زندہ نہیں چھوڑوں گی..”
کی…کیا کہ رہے ہو میں نے کیا کیا ہے وہ ہکلا کر بولا…”
تجھے ابھی بتاتا ہوں پھر سب پتا چل جائے گا…”
وہ اندر کی طرف بڑھا..اور تھوڑی دیر بعد ایک عدد پسٹل کے ساتھ آیا تھا…”
شہرام ڈر گیا…”اشنا اور نور بھی شور سن کر آگئیں تھیں..”
اشنا کی تو چیخ نکلتی نکلتی رہ گئی مگر عین ٹائم پر رحمہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا…”
پاگل ہو گئی ہے شاہ میر کو زرا بھی شک پڑ گیا تو تجھے یہیں زندہ گاڑ دے گا….”
رحمہ دبی ہوئی آواز میں بولیں…”
پر بچنا تو اب بھی نہیں ہم نے…یہ شہرام سب کہ دے گا اففف اب کیا ہوگا خالہ کچھ کریں…”
کیا کروں اب میں..”
وہ فکر مندی سے بولیں…
دیکھو میں کہ رہا ہوں میں نے کچھ نہیں کیا… وہ ہکلاتے ہوئے بولا..
جھوٹ بول رہا ہے شاہ میر یہ اسی نے مجھے اغوا کیا تھا…”اور اسی نے میرا یہ حال کیا ہے نور روتے ہوئے بولی تھی…”
شاہ میر نے ایک زور دار کک ماری تھی کرسی کو جس پر شہرام کو بٹھایا تھا…وہ نیچے گر گیا تھا…”
شہرام اٹھا اور شاہ نیر کی طرف بڑھا…
..”شہرام خون سے وہ خونخوار نظرے اس پہ گاڑے ہوئے تھا…”
شاہ میر نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا تھا شہرام ڈر گیا تھا…کیونکہ شاہ میر انتہائی غصے میں تھا…”
تو بتا کون ہے اس سب کے پیچھے جس نے تجھ سے یہ سب کروایا ہے…”
کیونکہ دشمنی تیری مجھ سے تھی نور سے نہیں وہ اس کا کالر پکڑ کر بولا…”
میں کہ رہا ہوں نا مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کروایا…”
ہاں میں نے یہ سب کیا ہے…”
وہ اشنا کی طرف خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا…”
اشنا کی جان سینے میں اٹک گئی تھی…”
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی…”
شہرام بتا دے ورنہ یہی گولی تیرے اندر اتار دوں گا شاہ میر چلایا تھا…”
ارے میری بچی کو کیا ہوا… وہ بات ہی کر رہا تھا جب ایک دم سعدیہ اور رحمہ چیخنے لگی تھیں…”
شاہ نے مڑ کر دیکھا…”
اشنا بے ہوش پڑی تھی..”
شاہ میر حیرانگی سے دیکھ رہا تھا ابھی تو سہی تھی پھر..”
ایک دم وہ انھی سوچوں میں تھا جب اشنا نے شہرام کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا اور شہرام آرام سے باہر نکل گیا تھا..”
شاہ میر نے اشنا کو دیکھ لیا تھا…”
شاہ میر نے پیچھے دیکھا تو شہرام نہیں تھا شاہ کا
غصہ آسمان پر پہنچ گیا تھا…”
وہ باہر بھاگا مگر وہ جا چکا تھا وہ واپس حویلی کی طرف بڑھا…
جہاں اشنا ابھی بھی اسی حالت میں تھی اور سعدیہ رحمہ بھی اسی طرح چلائے جا رہی تھیں وہ انھیں نظر انداز کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھا…”
وہ سب سمجھ گیا تھا…”
اب بس وہ سوچ رہا تھا کس طرح سب کے سامنے سچ لائے…”
___________????????
نور ریلنگ پہ بازو ٹکائے سامنے دیکھ رہی تھی ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا…” وہ پریشان تھی آج پھر سچ سامنے آتے آتے رہ گیا تھا..”
آخر وہ کون تھا جس کے کہنے پر شہرام نے اس کو اغوا کیا تھا…”
اس کی تو کسی سے کوئی خاص دشمنی نہیں تھی…”
پھر کیوں وہ انھی سوچوں میں مگن تھی جب موبائل کی بپ بجی..”
وہ اندر بڑھی اور موبائل اٹھا کر دوبارہ ٹیرس پر آگئی…”
شاہ میر کا میسج تھا…”
کیا کر رہی ہو…”
سوئی نہیں ابھی تک.. وہ پوچھ رہا تھا…”
نہیں نیند نہی آرہی تھی… وہ جلدی جلدی ٹائپ کرکے بولی…”
کیوں…”
اس کا فورا جواب آیا تھا…”
شاہ میر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے…”
آخر شہرام نے ایسا کیوں کیا ہے میرے ساتھ ..”
اور کس کے کہنے پر میری تو کسی سے کوئی خاص دشمنی بھی نہیں وہ پریشانی سے بولی…”
انشاءالللہ بھت جلد سب سامنے آجائے گا…”
تم فکر مت کرو اور سو جاؤ ….” کافی رات ہو گئی ہے…”
ہوں ٹھیک ہے اللہ حافظ..”
اپنا خیال رکمنا…”
تم بھی… اور ساتھ سمائیلی فیس بھیجا تھا…اس نے مسکرا کر موبائل آف کر دیا اور سونے کے لئے لیٹ گئی…”
______________????
وہ صبح صبح اٹھ گیا تھا..”
اور اب شہرام کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا.. ”
وہ پہنچا تو شہرام لان میں ہی بیٹھا تھا.. ” اور کسی سے بہت پریشانی میں بات کر رہا تھا…”
کیا مطلب ہے تیرا… وہ مجھے نہیں چھوڑے گا…” اور تو سب کروا کر اب مجھے منع کر رہی ہے..”
اس کو دیکھ کر موبائل اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا تھا…”
پھر خود کو کمپوز کر کے بولا تھا…”
کیوں آیا ہے..”
تجھ سے اصلیت جاننے…”
سب جان چکا ہوں بس اب چاہتا ہوں کہ تو بتا دے وعدہ کرتا ہوں تجھے کچھ نہیں کہوں گا…”
بس اس کا نام بتا دے…”
وہ کھڑے کھڑے بولا…”
کیسے یقین کرلوں میں کہ
تو کچھ نہیں کہے گا مجھے…”
وعدہ خلافی کرنا میری عافت نہیں وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا…”
ٹھیک ہے… بتاتا ہوں…”
وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا…”
کیونکہ اشبا نے ہری جھنڈی دکھا دی تھی اسے… وہ منع کر چکی تھی مزید اس کی مدد کرنے سے اسی لئے وہ خود شاہ کو سب بتانے کا سوچ چکا تھا…”
اور میں کیسے یقین کر لوں تو سب سچ بتائے گا..
مجھے اپنے سے زیادہ کوئی پیارا نہیں اور نا ہی میں کسی کے لئے خود کو نقصان پہنچواؤں گا…”
اور اسی لئے اسنے سب شاہ میر کے گوش گزار کر دیا تھا…”
شاہ میر سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس حد تک بھی گر سکتی ہے…”
وہ انتہائی ریش ڈرائونگ کرتا حویلی کی طرف بڑھا…”
__________????????
خالہ مجھے پریشانی ہو رہی ہے..”
وہ کہیں شاہ کو بتا نا دے…”
یہ بھی ہے…”
اب تو میں نے اسے جھاڑ کر رکھ دیا ہے اب وہ کہاں فون اٹھائے گا…”
دیکھ تو سہی دعا کر شاہ کو کچھ نا بتایا ہو…”
اس نے شہرام کو فون ملایا تھا…وہ خباثت سے مسکریا تھا…”
ہاں بول اب..”
وہ…میری بات سنو..میں تمھاری مدد کرنے کو تیار ہوں بس تم شاہ کو کچھ نا بتانا…”
وہ گھبرائی ہوئی بولی…”
پر میں تیری کوئی مدد نہیں کرسکتا…”
شہرام دیکھو…وہ بولنے ہی والی تھی مگر وہ فون بند کر چکا تھا…”
خالہ وہ منع کر چکا ہے.. اب کیا ہوگا…کہی اسنے شاہ کو بتا نا دیا ہو وہ گھبرائی ہوئی بولی…ادھر شاہ میر نے آتے ہی اس کو بلایا تھا… وہ ڈر گئی خالہ پتا چل گیا اسکو اب کچھ نہی ہو سکتا..”
وہ کانپتے ہوئے بولی…”
باہر چل کچھ نہیں ہوا آ دیکھیں زرا…”
وہ کانپتی کوئی باہر کی طرف بڑھی
نور ایک طرف کھڑی تھی…رقیہ بیگم آغا جان عمران صاحب محتشم صاحب اور احتشام صاحب سب کی نظروں میں واضح نفرت تھی…”
اشنا کو اپنا آپ زمین میں گڑتا محسوس ہوا…”
شرم آنی چاہئے تمھیں اشنا آج تم نے میرا سر جھکا دیا ہے کتنا فخر تھا نا مجھے تم پہ اور تم نے میرا سر جھکا تھا محتشم صاحب کی آواز میں دکھ ہی دکھ تھا…”
وہ تڑپ گئی تھی.. ”
کیوں کیا تم نے ایسا اشنا میرے ساتھ…”
زرا بھی خیال نہیں آیا تمھیں یہ سب کرتے ہوئے .. نور اس کی طرف افسوس سے دیکھتے ہوئے بولی…”
آپ سب لوگ مجھے کیوں کہ رہے ہیں میں اکیلی اس سب میں شامل نہیں تھی تایا جان اور شاہ میر تمھاری ماں بھی اس سب میں شامل تھی وہ چیخ کر بولی…”
جاری ہے