مشہور شاعِر جناب منیرؔ نیازی صاحب کے یومِ ولادت پر…
مشہور شاعِر جناب منیرؔ نیازی صاحب کے یومِ ولادت پر خراجِ عقیدت
سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بَلا ہی نہ ہو
کواڑ کھول کے دیکھو ، کہیں ہوا ہی نہ ہو
نگاہِ آئینہ معلوم ، عکس نامعلوم
دکھائی دیتا ہے جو اصل میں چھپا ہی نہ ہو
زمیں کے گرد بھی پانی، زمیں کی تہ میں بھی
یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو
نہ جا کہ اُس سے پرے دشتِ مرگ ہو شاید
پلٹنا چاہیں وہاں سے تو راستہ ہی نہ ہو
میں اِس خیال سے جاتا نہیں وطن کی طرف
کہ مجھ کو دیکھ کے اُس بُت کا جی بُرا ہی نہ ہو
کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ
مزا تو جب ہے کہ اُس شوخ کو پتا ہی نہ ہو
منیرؔ نیازی
از:ایک اور دریا کا سامنا(کُلّیاتِ منیرؔ) ص ۳۸۵
اِنتِخاب
سفیدپوش