اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

محبت صرف تم سے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 5 شہریار ک…


محبت صرف تم سے (حذیفہ ہارون)
قسط نمبر 5

شہریار کی پولیس جیپ امجد شاہ کے گھر کے سامنے رکی امجد شاہ کا چوکیدار فورا اسے خبر کرنے گیا چند منٹ بعد جب وہ باہر آیا تو امجد شاہ بھی اسکے ساتھ تھا امجد شاہ فورا شہریار کی طرف بڑھا اور خوشگوار انداز میں بولا ..
"کیا بات ہے ایس پی صاحب مجھ شریف کے گھر کیسے آنا ہوا”……” وہ تو ابھی پتا چل ہی جائے گا کہ کون شریف ہے اور کون نہیں” ..شہریار طنزیہ مسکرایا….”میں آپکی بات سمجھا نہیں”……”ارے شاہ صاحب سمجھنے سمجھانے کو چھوڑئے میں پہلی بار آپکے گھر آیا ہوں کیا اندر نہیں بلائیں گے "شہریار نے مسکرا کر کہا…” کیوں نہیں جناب آئیے آئیے ضرور آئیے "امجد شاہ نے اخلاق سے بھرپور لہجے میں کہا جبکہ اس اخلاق کے پیچھے بھی بد اخلاقی تھی بہرحال شہریار اسکے ساتھ اسکے گھر میں داخل ہوا اور لاؤنج میں جا کر بیٹھ گیا امجد شاہ نے اپنے ملازم کو چائے لانے کا کہا اور خود شہریار کے ساتھ بیٹھ گیا…” اب بتائیے ایس پی صاحب کس سلسلے میں آنا ہوا؟”….”آپکا بیٹا نظر نہیں آ رہا "شہریار نے متلاشى نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا..” وہ باہر گیا ہے کیا آپکو میرے بیٹے سے کوئی کام ہے”….”جی ہاں اسکی جان لینے آیا ہوں”…شہریار نے اطمینان بخش لہجے میں کہا امجد شاہ کے چہرے پے حیرت در آئی…”میرے بیٹے کی جان لینے کیلئے کیا مطلب میں سمجھا نہیں؟”….”ارے شاہ صاحب کتنے معصوم ہیں آپ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا نہ آپکی آپ تو دو
دن کے بچے ہیں نہ "..شہریار نے ہنس کر کہا…” میں واقعی نہیں سمجھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں پلیز پہیلیاں نہ بجھائیں صاف سیدھی بات کریں”..امجد شاہ نے کچھ الجھتے ہوئے کہا شہریار ابھی کچھ بولتا اس سے پہلے ہی اسکا ملازم چائے لے کر آ گیا اور چائے رکھنے کے بعد وہ امجد شاہ کے سر پے ہی کھڑا ہو گیا تو شہریار بولا”شاہ صاحب آپ اپنے ملازم کو کچھ دیر کیلئے باہر بھیج دیں اور گھر کے بھی کسی بھی فرد کو یہاں نہ آنے دیں میں آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں”شہریار کے کہنے پے امجد شاہ نے اپنے ملازم کو باہر بھیجا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی کہ کسی کو بھی یہاں نہ آنے دے اسکا ملازم سر ہلاتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا تب امجد شاہ نے بات شروع کی "اب کہئے ایس پی صاحب کیا بات کرنی ہے”….” کہتا ہوں”شہریار نے مسکرا کر کہا اور اپنی پینٹ میں اڑسى ہوئی گن نکال کر ٹیبل پے چائے کی ٹرے کے برابر میں رکھی پھر اسکے بعد جیب میں سے ایک ننھا سا چاقو نکال کر اس گن کے برابر میں رکھا اور سر اٹھا کر ایک وحشیانہ مسکراہٹ چہرے پے سجائے امجد شاہ کو دیکھا "میں نے تمھیں بتایا تھا میں تمہارے بیٹے کی جان لینا چاہتا ہوں”…..” تم ایسا نہیں کر سکتے” …..”میں ایسا کروں گا”……”لیکن کیوں کیا بگاڑا ہے میرے بیٹے نے تمہارا”…”اسنے میری منگیتر کو اغوا کیا ہے”…..”اچھا یہ بات ہے”……”ہاں یہی بات ہے اب پتا چل گیا کہ میں کس وجہ سے آیا ہوں”…..”ہاں پتا چل گیا لیکن یقین جانو تمہاری منگیتر کے اغوا میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے وہ سب افنان نے کیا ہے اپنی محبت کے جنون میں آ کر میں نے اسے روکا بھی تھا لیکن اس نے میری بات نہیں سنی اور جب اس نے میری نہیں سنی تو میں نے اسکی بھی نہیں سنی اور صاف صاف انکار کر دیا کہ اگر وہ تمہاری منگیتر کو اغوا کرنا چاہتا ہے تو خود کرے میں اس کام میں ہر گز اسکی مدد نہیں کروں گا اور میں نے کیا بھی ایسا ہی ہے میں نے اسکی اتنی سی بھی مدد نہیں کی”……”اچھا مطلب تمھیں کچھ نہیں پتا ایسا ہی ہے نہ؟” ……”ہاں”…..”تمھیں یہ بھی نہیں پتا ہو گا کہ اس وقت تمہارا بیٹا کہاں ہے”..”ہاں مجھے نہیں پتا” …”تمھیں پتا ہے "شہریار نے گن ٹیبل پے سے اٹھائی .” مجھے نہیں پتا”….”تمھیں پتا ہو گا اچھا چلو یہ بتا دو کہ زیادہ تر وہ کہاں ہوتا ہے "…..” مجھے نہیں پتا”…”تمھیں پتا ہے”اس بار شہریار چلایا "تمھیں پتا ہے لیکن تم نہیں بتا رہے لیکن یاد رکھو اگر تم نے آج نہیں بتایا کہ تمہارا بیٹا اس وقت کہاں ہوتا ہے تو میں اس پستول کی چھے کی چھے گولیاں تمہارے دماغ میں اتار دوں گا شاید تم مجھے ٹھیک سے جانتے نہیں میں شہریار ناصر ہوں یاد رکھو اگر آج تم نے نہیں بتایا کہ افنان کہاں ہے تو میں تمہارا قتل کر دوں گا اور میری اس بات کو مذاق میں مت لینا میں واقعی تمھیں قتل کر دوں گا”….شہریار کی آنکھوں میں قاتلانہ چمک تھی امجد شاہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھا تو لرز کر رہ گیا ” بتاؤ کہاں ہے افنان”شہریار کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی "مجھے اسکی صحیح جگہ کے بارے میں تو نہیں پتا لیکن اسکے ایک دوست طاہر کا پتہ میں آپکو دے دیتا ہوں وہ زیادہ تر طاہر کے ساتھ ہی ہوتا ہے ہو سکتا ہے اس وقت بھی وہیں پے ہو "…..” ٹھیک ہے تم اسکا پتہ دو”…شہریار نے کرختگی سے کہا تو امجد شاہ نے ایک کاغذ پے طاہر کا پتہ لکھ کر شہریار کی طرف بڑھایا وہ کاغذ شہریار نے موڑ کر جیب میں ڈالا اور ٹیبل پے رکھی پستول اور چاقو جیب میں ڈالا اور ٹانگ پے ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا جبکہ امجد شاہ سمجھ رہا تھا کہ اب شہریار وہاں سے جائے گا لیکن وہ تو بلکل اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا بلکہ اب چائے کا کپ بھی ہاتھ میں اٹھا چکا تھا امجد شاہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا..”ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں شاہ صاحب آپ نے میرے لئے چائے بنوائی تھی نہ اگر میں نہیں پیتا تو آپکو برا لگتا نہ؟”شہریار نے کہا تو امجد شاہ نے اثبات میں سر ہلایا "جی بہت برا لگتا”…..”ہوں”….شہریار نے چائے کا گھونٹ بھرا ” شاہ صاحب پتی کم ہے لگتا ہے آپ کے ملازم کو چائے بنانا نہیں آتی” …شہریار نے یہ کہ کر چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور کپ ٹرے میں رکھا اور "خدا حافظ” کہ کر وہاں سے اٹھا اور باہر نکل گیا دوسری طرف وہ شاہ صاحب ابھی تک حیرت کا بت بنے بیٹھے تھے وہ آدمی کچھ دیر پہلے امجد شاہ پے پستول تانے ہوئے تھا اور ابھی اس ہی کے گھر میں چائے بھی ایسے پی رہا تھا جیسے وہ اسکا دشمن نہیں دوست ہو عجیب فطرت کا انسان تھا یہ شہریار ناصر …
**************************************************
طاہر اپنے گھر کے لاؤنج میں ٹی وی کھولے بیٹھا تھا اسکی والدہ نے اسے خبر دی کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے…
"اس وقت کون آ گیا "..طاہر نے منہ بنایا اور اٹھ کر گھر کے باہر آ گیا جہاں ایک لڑکا چہرے پے بڑا سا گلاسز لگائے کھڑا تھا طاہر نے اس سے ہاتھ ملایا ….” آپ مجھسے ملنا چاہتے ہیں”……”جی ہاں”…”کیوں؟ میں آپکو جانتا نہیں ہوں”….”ارے بھائی جان پہچان تو ملنے کے بعد ہی ہوتی ہے نہ شہریار نے مسکرا کر کہا…”ہاں یہ بھی ہے خیر آپ ہیں کون؟”….”مجھے شہریار ناصر کہتے ہیں”….”اچھا اور آپ مجھسے کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟”….”افنان کہاں ہے؟”….”کون افنان؟”…..”تمہارا دوست افنان کہاں ہے وہ”….”اچھا افنان لیکن آپ اس سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟” …..”ایک ضروری کام ہے تم بتاؤ وہ کہاں ہے؟”….”سوری میں کسی انجان انسان کو اپنے دوست کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا”….”ارے میں انجان نہیں ہوں میں تو افنان کا بہت اچھا دوست ہوں آپ پلیز مجھے اس کے بارے میں کچھ تو بتائیں "…….” سوری میں آپکو کچھ نہیں بتا سکتا”…”اونہوں”شہریار نے ناک سے مکھی اڑائی اور جیب میں سے اپنا کارڈ نکال کر طاہر کی طرف بڑھایا طاہر نے کارڈ شہریار کے ہاتھ سے لیا اور اس پے لکھا نام پڑھ کر واپس اسے دیا…”ایس پی شہریار ناصر” …..”ہاں اب بتاؤ کہاں ہے افنان؟”….”جیب میں”…طاہر نے ہنس کر کہا..جواباً شہریار نے اپنی پستول نکال لی”بتاؤ کہاں ہے افنان”…..”آپ مجھ پے اس طرح دباؤ نہیں ڈال سکتے” …”بتاؤ کہاں ہے افنان؟”….”مجھے نہیں پتا”…”بتاؤ کہاں ہے افنان؟”..یہ کہ کر شہریار نے پستول کا رخ طاہر کے ماتھے کی طرف کر دیا ..”بتاؤ کہاں ہے افنان؟” …”میں نہیں جانتا”…شہریار نے ٹریگر پے دباؤ بڑھایا طاہر نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں…”ویٹ کرو بتاتا ہوں”…”میں ویٹ نہیں کر سکتا”…..”میں لے چلتا ہوں آپکو افنان کے پاس”….
"ٹھیک ہےاونٹ پہاڑ کے نیچے آ ہی گیا”…شہریار نے مسکرا کر کہا …” ایسے پستول دکھائیں گے تو زرافہ بھی پہاڑ کے نیچے آ جائے گا”…طاہر نے کہا تو شہریار بے اختیار ہنس پڑا……
***************************************************
زینب تمھیں کچھ چاہیے تو نہیں؟….افنان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا….”نہیں”..زینب نے غصّے سے جواب دیا…”افففففف اتنا غصّہ کیوں ؟”..افنان مسکرا کر اسکے سامنے بیٹھ گیا.”تمہاری حرکتیں ہی ایسی ہیں”….”اففف میری حرکتیں میں خود بھی ان سے پریشان ہوں ویسے ابھی تک تمہارا منگیتر نہیں آیا میں اسکا انتظار کر کر کے تھک گیا”….”راستے میں ہو گا”…زینب نے مسکرا کر کہا.”ابھی تو آپ اتنا غصّہ کر رہی تھیں اور اب مسکرا رہی ہیں”…”جیسے ہی تم نے میرے منگیتر کا ذکر کیا تو مجھے تھوڑی تسلی ہوئی اس ہی وجہ سے میں مسکرائی بھی ہوں”…..”اوہ اچھا”..افنان ہنسا”پھر تو آج کے بعد آپ مسکرائیں گی ہی نہیں”….”وہ کیوں؟”…..”کیونکے آج آپکے منگیتر کی زندگی کا آخری دن ہو گا "….” دل بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے”….”خیال نہیں حقیقت ہے”…”حقیقت یہ ہے کہ اس وقت آپ غلط فہمی کے گہرے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں”….”اچھا اچھا میں آپ سے فضول باتیں کرنے نہیں آیا یہ پوچھنے آیا ہوں کیا آپ مجھسے شادی کریں گی؟”…..”کبھی نہیں”…ٹھیک ہے”…افنان یہ کہ کر اٹھا اور کمرے سے نکل گیا اور باہر سے تالا لگا کر اس کھنڈر نما بنگلے کے ٹوٹے پھوٹے لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا اور موبائل یوز کرنے لگا دفعتا بنگلے کے اندرونی دروازے پے دستک ہوئی.
"یہاں پے کون آ سکتا ہے”…افنان نے تعجب سے کہا اور اٹھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا دروازہ کھلا تو طاہر کی شکل نظر آئی ” تو یہاں اس وقت”..افنان نے حیرت سے کہا ..”ہاں یار بور ہو رہا تھا اس لئے یہاں چلا آیا”…”اچھا شہریار ناصر آیا تھا تیرے پاس؟”….”ہاں آیا تھا میں نے اسے ٹرخا دیا ” …”آہاں گڈ ” ..افنان نے ستائشى نگاہوں سے اسے دیکھا ..”اندر بلائے گا یا باہر ہی کھڑا رکھنے کا ارادہ ہے؟”….”ارے آ جاؤ”افنان نے ہنس کر کہا تو طاہر اندر داخل ہوا اس ہی کے پیچھے شہریار داخل ہوا اس نے پستول کی نال طاہر کی کمر سے لگا رکھی تھی. .”شہریار "افنان نے اپنی حیرت چھپانے کی کوشش کی”تم یہاں کیسے آئے اچھا اچھا طاہر تم اسے یہاں لے کر آئے ہو طاہر کیا اس ہی لئے میں نے تمھیں اپنے اس ٹھکانے کے بارے میں بتایا تھا میں یہ چاہتا تھا کہ شہریار یہاں آئے لیکن اس طرح تمہاری وجہ سے آئے یہ میں نہیں چاہتا تھا تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے طاہر”….”اوہ شٹ اپ پلیز میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا یہ مجھے جان سے مار رہا تھا اس ہی وجہ سے میں اسے یہاں لایا”…..”تم نے اچھا نہیں کیا طاہر”افنان نے افسوس سے کہا ..”بند کرو اپنی یہ بکواس اور افنان تم جلدی سے زینب کو لاؤ”…”نہیں میں زینب کو نہیں لاؤں گا”….”پھر تمہارا یہ دوست اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا میری پستول کی نال اسکی کمر کو چھو رہی ہے بس ایک گولی نکلے گی اور یہ دوسری دنیا کے سفر پے روانہ ہو جائے گا”…”آئی ڈونٹ کیئر تم جو چاہو کرو لیکن میں زینب کو تمہارے سامنے نہیں لاؤں گا وہ صرف اور صرف میری ہے” ….”دیکھ لی اپنے دوست کی دوستی”شہریار نے مسکرا کر طاہر کو دیکھا .”افنان مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی”طاہر نے رنج سے کہا..”سوری طاہر میں مجبور ہوں میرے لئے زینب سے بڑھ کر کوئی نہیں”……”میں نے غلط انسان سے دوستی کی”.طاہر نے اپنا سر جھکا لیا”..”طاہر تم چاہو تو ابھی اور اس ہی وقت یہاں سے جا سکتے ہو لیکن پہلے تمھیں مجھسے وعدہ کرنا ہو گا”….”کیسا وعدہ؟”…”تم یہاں سے جانے کے بعد کسی سے بھی افنان کے بارے میں بات نہیں کرو گے اور اگر اسکا باپ تم سے کچھ پوچھے تو اس سے صاف صاف کہ دینا کہ تم کچھ نہیں جانتے”…”ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہوں میں کسی سے بھی افنان کے بارے میں بات نہیں کروں گا”….”ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو "یہ کہ کر شہریار نے پستول اسکی کمر سے ہٹا دی.” واقعی ؟”اس نے حیرت سے پوچھا.”ہاں ہاں جاؤ لیکن میرا وعدہ یاد رکھنا”…”ٹھیک ہے آپکا بہت بہت شکریہ” یہ کہ کر طاہر وہاں سے باہر نکل گیا اس نے جیسے ہی بنگلے سے باہر قدم رکھا ویسے ہی پستول چلنے کی آواز سنائی دی لیکن یہ پستول شہریار نے نہیں افنان نے چلائی تھی اس نے طاہر اور شہریار کی گفتگو کے دوران اپنی گن نکال لی تھی اسکی گن سے نکلی ہوئی گولی شہریار کے کندھے کو چھوتی ہوئی گزر گئی اس نے بہت مشکل سے اس گولی سے اپنے آپ کو بچایا تھا شہریار نے بھی جواباً ایک گولی افنان کے پاؤں پے ماری وہ زمین پے گر گیا پستول بھی اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا شہریار نے آگے بڑھ کر وہ پستول اٹھا لی اور افنان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا.”تم نے بہت بڑی غلطی کر دی زینب کو اغوا کر کے اگر تم صرف اس سے محبت کرتے رہتے تو میں تمھیں کچھ نہیں کہتا کیونکے یہ ایسا جذبہ ہے جس پے انسان کا اختیار نہیں ہوتا لیکن تم نے اس سے صرف محبت ہی نہیں کی بلکہ اسے اغوا کیا اور ایسا کر کے تم نے بہت بڑی غلطی کی اس غلطی کی سزا صرف اور صرف موت ہے شہریار ناصر کی نظر میں اس غلطی کی معافی نہیں صرف اور صرف سزائے موت ہے”…یہ کہ شہریار نے پے در پے تین فائر کئے اور کچھ ہی دیر میں اسکی جان نکل گئی .”مجھے معاف کر دو افنان میں تمھیں مارنا نہیں چاہتا تھا تم اپنی غلطی کی وجہ سے مرے ہو”یہ کہ کر شہریار نے جیب میں سے اپنا موبائل نکالا اور اپنے سب انسپکٹر کو کال کی ..”یس سر”….”ہیلو ندیم میں تمھیں ایک ایڈریس بھیج رہا ہوں فورا آؤ یہاں میری ایک اغواکار سے لڑائی ہوئی جس میں وہ مر گیا میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن اگر میں اسے نہیں مارتا تو وہ مجھے مار دیتا اس لئے مجھے مجبوراً اسے جان سے مارنا پڑا "…..” ٹھیک ہے سر میں ابھی اپنی ٹیم اور میڈیا کو لے کر وہاں پہنچتا ہوں آپ اپنا بیان بھی دے دیجئے گا کہ اس اغواکار کا قتل کیسے ہوا ورنہ میڈیا بعد میں اس معاملے کو نمک مرچ لگا کر اچھالے گا کہ ایک معصوم کو مارا گیا یہ وہ اس لئے آپ ہاتھ کے ہاتھ اپنا بیان دے دیجئے گا”…ندیم نے کہا .”اوکے ندیم تم جلدی اپنی ٹیم اور میڈیا کو لے کر یہاں پہنچو میں ایڈریس تمھیں بھیج دیتا ہوں” ….”اوکے سر”یہ کہ کر ندیم نے کال کاٹ دی اور شہریار نے اسے اس جگہ کا ایڈریس بھیج دیا اور خود زینب کی تلاش میں لگ گیا اسے ایک کمرے کے باہر تالا لگا نظر آیا وہ تالا کھولنا اسکے لئے کچھ مشکل نہیں تھا کیونکے اس کے پاس ماسٹر کی تھی شہریار نے کمرے کا تالا کھولا تو دیکھا کہ زینب کمرے کے ایک کونے میں دیوار سے ٹیک لگائے سر جھکائے بیٹھی تھی دروازہ کھلنے پے بھی اس نے سر نہیں اٹھایا شاید وہ اسے افنان سمجھ رہی تھی شہریار ایک ایک قدم اٹھاتا ہوا اسکے بلکل سامنے پہنچ گیا.”اب دوبارہ کیوں آئے ہو میں نے تمھیں ایک بار کہ تو دیا کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گی”…زینب نے بدستور سر جھکائے ہوئے کہا .”پھر کس سے کرو گی؟”…شہریار نے شوخ لہجے میں پوچھا شہریار کی آواز پے اس نے سر اٹھایا "اوہ شہریارتم ، تم آ گئے” یہ کہ کر وہ کھڑی ہوئی
"ہاں میں آ گیا”…” شکر ہے کہ تم آ گئے اور وہ افنان وہ کہاں ہے اسے جیل بھیج دیا تم نے؟”..”نہیں جیل نہیں دوسری دنیا بھیج دیا جہاں سے وہ کبھی لوٹ کر نہیں سکتا”…”واٹ تم نے اسے جان سے مار دیا ".زینب نے حیرت اور افسوس سے کہا افسوس اس لئے کیونکے چاہےکچھ بھی ہو لیکن وہ ایک انسان تو تھا.” تو میں اور کیا کرتا اس نے مجھ پے گولی چلا دی تھی اگر میں اسے نہیں مارتا تو خود مر جاتا”….”اچھا تم نے اسے سیلف ڈیفنس میں مارا”…”ہاں اور نہیں تو کیا”….”اچھا اور تمھیں تو کوئی چوٹ نہیں آئی؟”…”آئی ہے نہ یہ دیکھو گولی میرے کندھے کو چھو کر گزری تھی اس لئے معمولی سی خراش آ گئی "…”اوہ”.زینب نے اپنی انگلی سے اسکے کندھے کے اس حصّے کو چھوا تو شہریار کراہ اٹھا "کیا کر رہی ہو یہ مجھے تکلیف ہو رہی ہے”…” اوہ سوری سوری”وہ گھبرا گئی ..”کوئی بات نہیں”شہریار نے کہا اور فورا ہی کمرے میں اسکی پولیس ٹیم داخل ہوئی اسکے ساتھ ہی میڈیا کے کچھ نمائندے بھی تھے شہریار ان لوگوں کے ساتھ چلتا ہوا افنان کی لاش کے پاس پہنچا پہلے تو لاش کے ساتھ شہریار کی تصاویر کیمروں میں محفوظ کی گئیں اسکے بعد اسکا بیان ریکارڈ ہوا شہریار نے اپنے بیان میں بتایا ..”افنان نے میری منگیتر کو اغوا کر لیا تھا مجھے اغوا کی جگہ سے انکا بریسلىٹ ملا جس پے انکا نام لکھا ہوا تھا اسکے بعد میں تفشیش کر کے یہاں تک پہنچا(شہریار امجد شاہ اور طاہر والی بات گول کر گیا کیونکے اس نے ان دونوں سے پستول کے زور پے تفشیش کی تھی اور یہ غیر قانونی تھا) یہاں آنے کے بعد میرا سامنا افنان سے ہوا انہوں نے مجھ پے گولی چلائی اللّه کا شکر ہے کہ میں انکی گولی سے بچ گیا اسکے بعد افنان نے مجھے دو گولیاں مزید ماریں (افنان نے صرف ایک ہی گولی چلائی تھی باقی دو گولیاں شہریار نے خود اسکی گن سے دیوار پے ماری تھیں تاکے لوگ یہ سمجھیں کہ افنان نے اس پے شدید حملہ کیا تھا اور اس حملے کے بچاؤ میں ہی شہریار نے اسے مارا )اور خدا کہ فضل سے میں ان گولیوں سے بھی بچ گیا افنان کے اس عمل نے مجھے ان پے گولی چلانے پے مجبور کر دیا تھا اور اس ہی وجہ سے وہ میرے ہاتھوں مارے گئے اور اگر میں انہیں نہیں مارتا تو خود مر جاتا "شہریار نے کہ کر ایک گہری سانس لی اسکے بعد انہوں نے زینب کا بھی بیان ریکارڈ کیا زینب نے اپنے بیان میں بتایا کہ "افنان اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن زینب نے اس سے شادی سے انکار کر دیا تو اس نے زینب کو اغوا کر لیا اور اس کمرے میں قید کر دیا تاکے اس سے زبردستی شادی کر سکے” زینب کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندے وہاں سے چلے گئے شہریار کی پولیس ٹیم افنان کو لے گئی افنان کی لاش کی جیپ میں ہی شہریار اور زینب بھی بیٹھے ہوئے تھے شہریار نے پہلے زینب کو گھر چھوڑا اور افنان کے معاملے سے فری ہونے کے بعد آنے کا وعدہ کیا اور خود پولیس سٹیشن روانہ ہو گیا…
***************************************************
(جاری ہے)