مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا ا…
مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا
اعتبار ساجد
مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا
مرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھا
کسی اور چہرے کو دیکھ کر تری شکل ذہن میں آ گئی
ترا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا
کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام و در کے عذاب…
