قسط 3 جنت کے پتے وہ …
قسط 3
???? جنت کے پتے ????
وہ منہ بسورے پھر سے شروع ہونے لگی تو حیا نے کیسٹ پلیئرآن کر دیا. عا طف اسلم کا گانا پوری آواز میں گونجنے لگا تو ارم کو چپ ہونا پڑا. "مارکیٹ پوہنچنے کے بعد ارم تو چوڑیاں ڈھونڈھنے نکل گئ اور وہ دونو میٹرو آگئیں. ” یہ گولڈن والا جو تیسرے نمبر پر رکھا ہے وہ دکھائیں ” بہت دیر بعد ایک اونچی ہیل اسکی نظر میں جچی تھی. "یہ والا میم” سیلز مین نے جوتا نکل کر اسکے سامنے کیا. وہ زمین پر پنجوں کے بل بیٹھا تھا اور وہ دونوں کاؤچ پر بیٹھی تھیں. "پہنا دوں میم” بہت مؤادب اور شائستہ لہجے میں سیلز مین نے مسکرا کر پوچھا.
"میرے ہاتھ نہیں ٹوٹے ہوے میں خود پہن سکتی ہوں” "جی شیور یہ لیجیے” سیلز مین نے مسکراتے ہوئے جوتا اسکی طرف بڑھایا. اسنے اسے یوں پکڑ رکھا تھا کے پکڑتے وقت حیا کی انگلیاں لازمی اسکے ہاتھ سے مس ہوتیں. "سامنے رکھ دو میں اٹھا لوں گی”. اسکو روکھے انداز پر سیلز میں نے گنگناتے ہوے جوتا سامنے رکھ دیا. پھر بل کی ادائیگی کے بعد کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے بقیہ رقم اسکی طرف بڑھائی تو حیا نے دیکھا کے پیسوں کے اوپر پانچ کا سکا رکھا ہوا ہے اور لڑکے نے سکا یوں پکڑ رکھا تھا جیسے سیلز مین نے جوتا…. "شکریہ” حیا نے نوٹوں کو کنارے
سے پکڑ کر کھینچا تو سکا لڑکے کے ہاتھ میں ہی رہ گیا. "میم! آپ کا سکہ ” لڑکے نے فاتحانہ مسکراتے ہوئے کہا کے اب تو لازمی پکڑے گی اور…… "یہ سامنے پڑے صدقے کے باکس میں ڈال دو”. وہ بے نیازی شوپر تھامے پلٹی تو زارا نے بے اختیار قہقہہ لگایا. ” اس لڑکے کی شکل دیکھنے والی تھی” "اس لڑکے کی شکل دیکھنے والی تھی حیا” دل کر رہا تھا اسکی شکل پر شاپ میں پڑے سارے جوتے مار دوں. پتا نہیں ہمارے ذہنیت کب بدلے گی. یوں گھورتے ہیں جیسے پہلی بار لڑکی دیکھی ہو. وہ تنفر سے ناک سکوڑتی غصّے سے سیڑھیاں اتر رہی تھی، جب قریب ہی سے آواز آئی.
” تو اتنا بن سنور کے باہر مت نکلا کرو بی بی !” وہ چونک کر آخری سیڑھی پر روک گئی. ایک خاتون تھی. بڑی سی چادر لپیٹی ہوئی، ناگواری بھری نگاہ اس پر ڈال کر اوپر زینے پر چڑھ گئیں. "ایک تو لوگوں کو راہ چلتے تبلیغ کا شوق ہوتا ہے” زارا اسکو کوہنی سے تھامے ہوئے وہاں سے آئی. تب ہی ارم سامنے سے آتی دکھائی دی. اسکا سینے پر پھیلا دوپٹہ اب سمٹ کر گلے میں جا چکا تھا. اسنے کوئی خاص شاپنگ نہیں کی تھی. شاید وہ اسکے ساتھ صرف آوٹنگ کے لئے آئی تھی. میٹرو سے وہ "اسکو پ” چلی آئیں، تاکہ کچھ کھا پی لیں. رات کی دعوت تو تایا فرقان کی طرف تھی، جو بیٹے کی شادی کے لئے آئے ہوئے تھے
"میرے لئے پائن ایپل منگوانا میں ذرا بیکری سے کچھ لے آؤں ۔ ارم جھپٹ کر باہر کو لپکی. حیا نے گہری سانس لیتے ہوے اپنی سائیڈ کا شیشہ .نیچے کیا، سرد ہوا کا تھپیڑا اندر آیا. مگر اتنی سردی میں سلش پینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے. وہ پارکنگ لاٹ میں ماجود تھیں اور ٹھنڈی ہوا نے سبکو گھیرا ہوا تھا. "ارم خاصی کمپلیسڈ لگی ہے نہ”؟ ارم دور ہوگئی تو زارا اسکی طرف مڑی. "اور تم اسکے کمپلیکس کو ہوا دے رہی ہو”. وہ الٹا اسی پر خفا ہوئی. "تایا فرقان صرف سکارف کی سختی کرتے ہیں. وہ بس اس بات پر خود ترسی کا شکار ہے اور تم بھی اسکا ساتھ دے رہی ہو.
"میں نے کہا کے بے چاری……” "نہیں ہے وہ بے چاری، اب اسکو بھی یہی سمجھانا ہے کے خام خواہ کی خود ترسی سے نکل آئے.” ویٹر ہاتھ میں کارڈ پکڑے حیا کی طرف آچکا تھا. "تمہیں یاد ہے زارا! جب پچھلے سال یونیورسٹی والوں نے ہمیں ترکی کے ٹریپ کی آس دلائی تھی اور آخر میں آکر سارا پروگرام کینسل کر دیا تھا”. آرڈر کر کے شیشہ اوپر چڑھا کر کر وہ یاد کرنے لگی. "میں تو اتنی مایوس ہوگئی تھی سوچا بھی نہ تھا کے کبھی جا سکوں گی.” اسکی آواز میں اس جڑنے کی خوشی دار آئی تھی. زارا اور وہ ایل ایل بی کے پانچویں سال میں تھیں. انکا ساتواں سمسٹر کا درمیان تھا جب یورپی یونین کے سکلور شپ کا اعلان ہوا. جسکے تحت یورپی
اور اشیا کی یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کا تبادلہ ہوگا. جب درخواست دینے کی باری آئی تو اسکو ترکی کی سبانجی یونیورسٹی کا فارم سب سے آسان لگا، پھر ایک ہسپانوی یونیورسٹی میں بھی ساتھ ہی apply کیا بلا آخر سبانجی نے اسکا انتخاب کر لیا. ساتواں سمسٹر پورا کر کے اسکو پانچ ماہ کے لئے ترکی جانا تھا. جہاں اسکے مضامین تو نہ تھے کے ترکی کا قانون پاکستان کے قانون سے مختلف تھا. سو پانچ ماہ کے لئے وہ اپنی مرضی سے کوئی بھی مضمون پڑھ سکتی تھی. پھر پاکستان واپس آکر آٹھواں سمسٹر شروع کرنا تھا. "کتنا مزہ آئے حیا، کوئی رومانٹک سا ہینڈ سم سا ہم سفر تمہیں مل جاتے تو تمہارا سفر کتنا خوبصورت ہو جاتا.
"ہم سفر کوئی نہیں ،ملنے والا، پاکستان سے ہم صرف دو لڑکیاں سباجنی جا رہی ہیں، اور پھر ہم ٹھہرے وومین یونیورسٹی میں پڑھنے والی”. "وہ خدیجہ رانا جو تمہارے ساتھ جا رہی ہے اس سے کوئی بات ہوئی.” ویٹر سے شیشہ بجایا تو حیا نے شیشہ نیچے کیا. "نہیں! خدیجہ رانا کو تو میں جانتی بھی نہیں ہوں. اسنے سلش کے گلاس پکڑے، زارا کا اسکو تھمایا ارم کا ڈش بورڈ پر رکھا. بے دہانی میں وہ شیشہ بند کرنا بھول گئی اسکے علم میں نہ رہا. دفعتاً!
زارا کا موبائل بجا. زارا نے سپ لیتے ہوئے فون کان سے لگایا. "ہیلو اماں! جی کیا ہوا؟ آواز خراب ہے، ایک منٹ. زارا کے فون پر سگنل ٹھیک نہیں آرہے تھے، وہ سلش کا گلاس ہاتھ میں پکڑے باہر نکل گئی. حیا اپنے گلاس سے چھوٹے چھوٹے سپ لیتے ہوئے ونڈ سکرین سے باہر دیکھنے لگی. اب وہ دور درخت کے پاس کھڑی بات کر رہی تھی. "ہیلو مائی بیوٹی!” کوئی ایک دم سے اسکے بلکل قریب آکر بولا تھا. وہ ڈر کر اُچھلی. ذرا سا جوس بھی کپڑوں پر گرا.
کھلی کھڑکی پر ایک خوبصرت عورت جھکی ہوئی تھی. میک اپ سے بھرا چہرہ، آئی شیڈو سے چمکتی آنکھیں، بھڑکتی ہوئی سرخی، بالوں کا جوڑا اور چم چم کرتے کپڑے. وہ عورت نہیں تھی مگر مرد بھی نہیں تھا. "ڈرو نہیں سوہنیو! میں تمہاری دوست ہوں ڈولی کہتے ہیں مجھے” "ہٹو، ہٹو جاؤ. وہ گھبرا گئی. خواجہ سرا کے وجود سے سستے پرفیوم کی خوشبو اٹھ رہی تھی اسے کراہیت سی آئی. "اچھا سوہنیو! ذرا بات کو سنو. اسنے اپنا چہرہ اور جھکایا اسے پہلے کے وہ آگے بڑھتا حیا نے سلش کا بھرا گلاس اسکے منہ پر الٹ دیا. ٹھنڈی ٹھار برف منہ پر گری تو وہ بلبلا کر پیچھے ہوا.
٭٭٭٭
جاری ہے