قسط 17 جنت کے پتے مگر ش…
قسط 17
???? جنت کے پتے ????
مگر شوق سرخ رنگ کی شلوار قمیض کی آستینوں سے جھلتے بازوں پہ شاید وہ کچھ لگانا بھول گیا تھا۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ کھڑکی کی چوکھٹ میں دیئے کھڑا تھا۔۔۔ یہ۔۔۔ کون ھو تم؟؟؟ ہٹو میری گاڑی سے۔۔۔ اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔۔۔۔
وہ تنہا تھی اور ٹریفک بلاک۔۔۔ سامنے کوئی ٹریفک پولیس والا بھی نہیں نظر آرہا تھا۔۔۔
"یہ جی میری بہن ہے پنکی۔۔۔بڑا شوق تھا اسے آپ سے ملنے کا”
"گیٹ لاسٹ” اس نے بازو بڑھا کر فرنٹ ڈور کا شیشہ اوپر کرنا چاہا۔۔۔۔ مگر پنکی نے اپنا ہاتھ اندر کر دیا۔۔ ایک دم سے اسکی کلائی سامنے آئی تھی۔۔ حیا نے دیکھا کہ نکی کی کلائی پہ ایک گلابی سرخ ایک انچ کا کانٹا بنا تھا۔۔
جیسے جلا ھو یا شاید برتھ مارک تھا۔۔۔
ہٹو ۔۔ آئی سے گیٹ لاسٹ۔۔۔ وہ عالم طیش میں فرنٹ ڈور کا شیشہ اوپر کرنے لگی۔۔۔ مگر پنکی نے اس پہ ہاتھ رکھ دئے تھے،،، شیشہ اوپر نہیں ھو رہا تھا،،،،
باجی تسی کنے سوہنے ھو ایسے تو نہ کرو پنکی نال۔۔ اس کا ہاتھ زخمی ھو جائے گا جی۔۔۔ڈولی نے پیچھے سے کہتے ھوئے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے کندے پر رکھا تو وہ تیوارا کر گھومی اور زور سے ڈولی کو دھکا دیا۔۔۔وہ اس حملے کے لئے تیار نہ تھا۔ سو لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا،،،،اسے چند سیکنڈ مل گئے اور اس نے جلدی جلدی فرنٹ شیشہ اوپر کیا۔۔۔۔ اب تم بھی ہٹو ادھر سے۔۔۔ ورنہ میں لوگوں کو اکھٹا کر لوں گی۔۔۔ وہ بازو بڑھا کر پنکی کی طرف والا شیشہ بند کرنے لگی مگر وہ اڑ ہی گیا تھا۔۔۔۔
باجی جی میں توانوں ڈولی دے دل دی بات بتانے آئی تھی اور تسی اس طرح کر رہے ھو۔۔۔۔ یہ جو ڈولی ھے ناں بڑا پیار کرتی ھے آپ سے بڑا چاہتی ھے جی آپ کو۔۔۔ پنکی مصنوعی انداز میں بن بن کر بول رہی تھی۔۔۔۔
پیچھے ڈولی بند شیشہ بجانے لگا۔۔۔
شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ۔۔۔ وہ پوری قوت سے شیشہ اوپر چڑھانے لگی۔۔۔ پنکی انگلیاں جو شیشے کے کنارے ٹکی تھیں ساتھ ساتھ اوپر اٹھنے لگی۔۔
باجی جی گل تو سنو۔۔ ڈولی گھوم کر پنکی کے ساتھ آکھڑا ھوا تھا۔۔ اسی اثنا میں اشارہ کھل گیا،،، گاڑیاں آگے بڑھنے لگیں۔۔۔حیا کی گاڑی رکی کھڑی تھی عقب میں گاڑیوں کے ہارن بجنے لگے مگر دور کھڑا پولیس میں چپ چاپ کھڑا تماشہ دیکھتا رہا۔۔۔ مدد کے لئے آگے نہ بڑھا۔۔۔ ڈولی نے پنکی کے کندھے پہ ہاتھ مار کے چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔ پنکی نے لمحے بھر کو گردن موڑ کر ڈولی کو دیکھا۔۔ تو اسکی گرفت شیشے سے را ڈھیلی ھوئی۔۔ حیا نے عالم طیش میں فورا شیشہ اوپر چڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنکی نے چونک کر دیکھا اور پھر انگلیاں کھنچنی چاہیں۔۔۔مگر وہ شیشیہ اوپر کس رہی تھی۔۔پنکی انگلیاں پھنس کر رہ گئیں۔۔۔اوہ چھڈو باجی جی۔۔۔ پنکی جھنجھلا کر ہاتھ کھینچ رہا تھا۔۔۔ ڈولی نے غصے سے شیشہ بجایا۔۔۔ مگر حیا تنفر سے انہیں دیکھتے ھوئے بازو لمبا کئے شیشہ آخری حد تک لے گئ،، عقب میں گاڑیوں کی قطار ہارن پہ ہارن دے رہیں تھیں۔۔۔
کچھ گاڑیاں ساتھ سے نکلنے لگیں۔۔۔ پنکی کے دائیں ہاتھ کی انگلی سے خون کی ایک بوند ٹپک کر شیشے پہ لڑھکی تو اسے جیسے ہوش آیا،،، ایک جھٹکے سے اس نے لیور نیچے کیا۔۔۔
شیشہ ایک انچ نیچے گرا۔۔ پنکی نے غصے سے اسے گھورتے ھوئے ہاتھ باہر کھینچے۔۔ گاڑی آگے بھگانے سے قبل اس نے بہت غور سے پنکی کے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔۔۔ دائیں ہاتھ جسکی کلائی پر کانٹے کا جلا ھوا نشان تھا اسکی شہادت کی انگلی سے خون نکلا تھا۔۔۔ اور باقی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے اوپر پوروں کی قدرتی لکیر پہ موٹی سی بھوری لکیر بن گئی،۔۔۔ یقینا اس کے ہاتھ ذخمی ھوئے تھے مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔۔
وہ تیزی سے گاڑی آگے لے گئی۔۔ پھر اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا۔۔۔ وہ دونوں خؤاجہ سرا بار بار مڑ مڑ کر اسے دیکھتے سڑک پار کر رہٓے تھے۔۔ ڈولی نے پنکی کا زخمی ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔۔ اور غصے سے حیا کی دور جاتی گاڑی کو دیکھتے ھوئے کچھ کہہ رہا تھا،،، اس نے سر جھٹک کر ایکسلیٹر پہ زور بڑھا دیا،۔۔۔۔ کم ازکم اتنی امید اسے ضرور تھی کہ اب وہ ڈولی اس کا پیچھا کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ھے