قسط نمبر 18 جنت کے پتے …
قسط نمبر 18
???? جنت کے پتے ????
حیا حیا۔۔۔۔۔۔۔۔!! جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئی لاونج میں بیٹھے سیلمان صاحب تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔۔ ان کے چہرے پہ غیظ وغضب چھایا تھا۔۔۔
وہ دوڑ کر پیچھے ہٹی ۔۔تب ہی پیچھے کہیں فون کی گھنٹی بجی۔۔ یہ ویڈیو تمہاری ھے؟؟ تم مجرے کرتی ہو؟؟؟
روحیل کو صوفے پہ بیٹھا تھا ایک دم اٹھا۔۔۔ اور بہت سی سیڈیز اس کی طرف اچھالیں۔۔۔۔ وہاں سب موجود تھے۔۔تایا فرقان ، داؤد بھائی، روحیل۔۔۔ سب۔۔ اور ایک طرف ارم زمین پہ بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔ دور کہیں فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔۔۔ نہیں نہیں وہ سر ہلاتے ہوئے خوف سے انہیں کہنا چاہتی تھی۔۔ اس کا منہ تو ہلتا تھا۔۔۔۔ لیکن آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔ وہ سب اسکا خون لینے پہ تلے تھے۔۔ دفعتاََ سیلمان صاحب آگے بڑھے اور ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پہ دے مارا۔۔۔
بے حیا۔۔ بے حیا۔۔۔ اسے تھپڑوں سے مارتے ھوئے سیلمان صاحب کہہ رہے تھے۔۔۔ ان کے لب ہل رہے تھے مگر ان سے آواز ڈولی کی نکل رہی تھی۔۔۔وہ سلیمان صاحب نہیں ڈولی بول رہی تھی۔۔۔ ڈولی ۔۔ ڈولی۔۔۔ پنکی۔۔۔۔۔ بے حیا۔۔ پنکی کی انگلیاں۔۔۔ فون کی گھنٹی۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹینل لیمپ آن کیا ۔۔زرد سی روشنی ہر سو پھیل گئی۔۔۔
اس نے بے اختیار دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھوا۔۔ وہ ٹھیک تھی۔۔ سب ٹھیک تھا۔۔۔ کسی کو کچھ علم نہیں ھوا تھا وہ سب ایک بھیانک خواب تھا۔۔۔
اوہ خدایا وہ نڈھال سی بیڈ کراؤن کے ساتھ پیچھے جا لگی۔۔۔ اس کا تنفس تیز تیز چل رہا تھا۔۔۔ دل ویسے ہی دھڑک رہا تھا اور پورا جسم پسینے میں بھیگا تھا۔۔۔
فون کی مخصوص ٹون اسی طرح بج رہی تھی۔۔۔ ہاں بس وہ گھنٹی خواب نہیں تھی۔۔۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور چمکتی اسکرین دیکھی۔۔۔
پرائیوٹ نبر کالنگ۔۔۔ چند لمحے لگے تھے اسے فیصلہ لینے میں پھر اس نے فون کان نے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔
میجر احمد میں آپ کے آفس آکر رپورٹ کروانے کے لئے تیار ھوں۔۔ کل صبح نو بجے میرے گھر کی بیک سائیڈ پہ موجود گراونڈ کے انٹرنس گیٹ پہ گاڑی بھیج دیں نو بجے شارپ۔۔۔
شیور۔۔۔ اسے فاتحانہ لہجہ سنائی دیا تھا۔۔ اس نے آہستہ سے فون بند کر دیا۔۔۔۔ کبھی بھی وہ کسی لڑکے سے یوں تنہا نہیں ملی تھی۔۔ مگر نہ ملنے کی صورت میں وہ ویڈیو کبھی نہ کبھی لیک ہو جاتی تو زیادہ برا ھوتا۔۔۔ اس نے بے اختیار جھرجھری لی۔۔ اس خوفناک خواب نے اسے یہ سب کرنے پہ مجبور کر دیا تھا۔۔۔ اسے لگا اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔۔۔۔۔
&۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&
پلے گراؤنڈ کے گیٹ کے ساتھ تُوت کا تناور درخت تھا وہ اس سے ٹیک لگائے منتظر کھڑی تھی سرخ لمبی اے لائن قمیض اور نیچے چوڑی دار پاجامہ اوپر اسٹائلش سا سرخ سویٹر جا کی لمبی آستین ہتھیلوں کو ڈھانپ کر انگلیوں تک آئی تھیں۔۔۔ اور کندھوں پہ براؤن چھوٹی سی اسٹول نما شال۔۔ لمبے بال پیچھے کمر پہ گر رہے تھے۔۔۔ سردی اور دھند میں وہ مضطرب سی کھڑی تھی۔۔۔ سرخ پڑتی ناک لئے دونوں ہاتھ آُس میں رگڑ رہی تھی۔۔۔ ارم یا زارا اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔۔ یہ خطرہ اسے اکیلے ہی مول لینا تھا۔۔۔ اس نے بے چینی سے کلائی سے سوئٹر کی آستین پیچھے ہٹائی اور گھڑی دیکھی نو بجنے میں ایک منٹ تھا۔۔۔۔۔
اسی پل سے زن سے ایک کار اس کے سامنے آکے رکی۔۔۔ سیاہ پرانی مرسڈیز اور کسی بت کی طرح سیدھ میں دیکھتا ڈرائیور۔۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے آگے بڑھی۔۔۔ اور پچھلا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی،،،،، اس کے دروازہ بند کرتے ہی ڈروٓائور نے گاڑی آگے بھگا دی۔۔۔
ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ سفید ہاؤس پہنچی۔۔۔۔
سفید دیواروں والا خالی کمرہ۔۔ درمیان میں لکڑی کی میز اور کرسی۔۔ جس پہ اسے بٹھایا گیا۔۔۔ میز پہ ایک ٹیلی فون رکھا تھا باقی سارا کمرہ خآلی تھا وہ مضطرب سی گردن ادھر ادھر گھما کر دیکھنے لگی۔۔ تین طرف سفید دیواریں تھیں۔۔۔ ان میں سے ایک دیوار پہ وہ دروازہ تھا۔۔۔ جہاں سے وہ آئی تھی۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔