فرید جاوید ، ایک منفرد لب و لحجہ کا غزل گو شاعر قم…
فرید جاوید ، ایک منفرد لب و لحجہ کا غزل گو شاعر
قمر الدین خورشید
محبوب سے قربت کس کو پیاری نہیں ہوتی، غزل کی صنف اسی ناتے سے غزل کہلاتی ہے، ولی دکنی سے لے کر غالب تک اور غالب سے لے کر فیض تک اور بعد میں آنے والے شعراء سبھی اس کے اسیر نظر آتے ہیں، محبوب سے قرب نہ ہو تو اس کا تصور کر لیا جاتا ہے جیسے غالب کہتے ہیں:
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناںکیے ہوئے
اور مومن فرماتے ہیں:
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اور اب دیکھیے اس بارے میں ان کے بہت بعد کا شاعر کیا کہتا ہے:
گفتگو کسی سے ہو تیرا دھیان رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا
ایسا اچھوتا شعر کہنے والا شاعر ہے فرید جاوید۔ کہاں غالب اور مومن ! لیکن سچی بات یہ ہے کہ غالب اور مومن بھی یہ شعر سنتے تو جھوم اٹھتے۔
فرید جاوید غزل گو شاعر ہے ، بہت ہی کم گوہے، شاید ہی اُس کے جیسا کم گو کوئی اور شاعرہو۔ اس حوالے سے مقبول عامر کو کسی حد تک کہا جا سکتا ہے لیکن وہ اگر اور جیتا تو اور بھی کہتالیکن فرید جاوید اگر اور زندہ رہتا تو اس کا کل اثاثہ اُس کی ۲۷ غزلیں ہی ہوتیں۔ اسے چھپنے چھپانے کا بھی شوق نہیں تھا، مدیر اُس سے مانگ کر لے جاتے تھے، اگر شمیم احمد اسے دریافت نہ کرتے تو وہ گمنام رہ جاتا، عطا الحق قاسمی نے روز نامہ جنگ میں اپنے کالم ’’روزنِ دیوار سے‘‘ میں فرید جاوید کا اوپر درج شدہ شعر کوٹ کیا تھا لیکن وہ تذبذب کا شکار تھے کہ یہ شعر فرید جاوید کا ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے گمان کیا تھا، حتمی طو رپر نہیں لکھا تھا۔ شمیم احمد بھی فرید جاوید کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ مجتبیٰ حسین صاحب انھیں اُس کے شعر سناتے تھے اور کہتے تھے کہ شعر کہے جائیں تو ایسے شعر کہے جائیں۔ شمیم احمد فرید جاوید کے لیے عبدالرحمن بجنوری ثابت ہوئے، یہ اُن کا اردو غزل گوئی پر بہت بڑا احسان ہے، جب بھی فرید جاوید کا ذکر ہو گا شمیم احمد یاد آئیں گے کہ اُن کی وجہ سے ایک منفرد لب و لہجہ کا غزل گو شاعر گمنام ہونے سے بچ گیا۔
فرید جاوید ، ناصر کاظمی، سلیم احمد اور جمیل الدین عالی کا ہم عصر تھا لیکن شمیم احمد نے اسے ان شعراء سے بہتر شاعر گردانا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اسے وہ شہرت نہ مل سکی ، جو ان شعراء کا مقدر ہوئی، یہ فرید جاوید کے ساتھ ہی نہیں ہوا یہی کچھ عزیز حامد مدنی کے ساتھ بھی ہوا، مگر شکر ہے کہ اب اسے بھی دریافت کیا جا رہا ہے ۔ ماضی میں غالب بھی اس کا شکار رہے اور بعد میں نیاز فتح پوری نے بھی ان سے بے نیازی برتی اور اس حدتک چلے گئے کہ ’’میرے سامنے سے سارے دیوان اٹھا لیے جائیں ماسوا دیوان مومن کے‘‘۔
شمیم احمد نے فرید جاوید کو ’و۱رفتۂ سفر‘ کہا ہے، ’وارفتۂ حیات، نہیں کہاکہ اسے زندگی عزیز تھی، وہ خود کہتا ہے:
تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو
شعر کہتے رہو زہر پیتے رہو
فرید جاوید زہر تو نہیں لیکن شراب پیتا رہا اور شعر کہتا رہا ، شمیم احمد اس کی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’مجھے اُس شاعر کا پتہ اگر آپ دے سکیں تو میں کم از کم ۲۵ سال اور انتظار کر سکتا ہوں جس کا کل سرمایۂ شاعری ۲۷ غزلیں ہوں اور اس میں اتنے شعر اس سطح کے نکل آئیں جو آپ (اس کی ۲۷ غزلوں میں پڑھیں گے)‘‘۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے ، فرید جاوید خالص غزل گو شاعر ہے، وہ خود ہی غزل کے بارے میں یوں کہتا ہے:
غزل کے حسن کا احساس اس کو کیا جاوید
خلوص نرمیٔ گفتار کو جو پا نہ سکے
غَزل کو فرید جاوید نے جس طرح برتا ہے وہ اس کے ہم عصراور بعد میں آنے والے شعراء میں کم کم نظر آتا ہے، وہ اپنے آپ کو غزل اور صرف غزل کے لیے وقف کر چکا تھا۔
فریدجاوید کی شراب نوشی کا ذکر پہلے آ چکا ہے کہ شراب کا وہ رسیا تھا اور اس نے اس کا ذکر اپنی شاعری میں بڑی رَسان سے کیا ہے۔
چوم لے میکدے کی رات مجھے
سخت تھا دن کا بوجھ اتار آیا
سکوتِ نیم شبی ہے کہ ڈھل رہی ہے شراب
یہ چاندنی ہے کہ تیرے خیال کا سایہ
میکدے کے سوا ملی ہے کہاں
اور دنیا میں روشنی ہے کہاں
زندگی برستی ہے دورِ جام چلنے تک
زندگی کے متوالو دورِ جام چلنے دو
رات جاگی ہوئی ہے ہوا مہرباں
پھر یہ لمحے کہاں آج پیتے رہو
زندگی سے گریز کیا کرتے
زندگی میکدے میں لائی ہے
مرے رفیق مرے آنسوئوں پر غور نہ کر
چھلک گیا ہے کہ لبریز ہو گیا تھا جام
جام وسبوکا کھیل تھا کیسے سنبھالتا شباب
کوششِ احتیاط سے اور چھلک گئی شراب
نکہتیں، رنگ و نور، نغمہ و جام
اک کہانی ہے اور کتنے نام
جام صہبا کسے نصیب ہوا
ہم ہیں اور تشنگی کا عالم ہے
شمیم احمد کے بقول شاعری اس (فرید جاوید) کے لیے محض کوئی حرص یا (Temptation )نہیں ہے بلکہ مجبوری ہے، اُس کی ابتدائی غزلوں میں سے ایک غزل جو شمیم احمد کے اس قول کو سچ ثابت کرتی ہے:
ہمارے سامنے بیگانہ وار آئو نہیں
نیازِ اہل محبت کو آزمائو نہیں
ہمیں بھی اپنی تباہی پہ رنج ہوتا ہے
ہمارے حالِ پریشاں پر مسکرائو نہیں
جو تار ٹوٹ گئے ہیں وہ چِھڑ نہیں سکتے
کرم کی آس نہ دو بات کو بڑھائو نہیں
دیئے خلوص و محبت کے بجھتے جاتے ہیں
گراں نہ ہو تو ہمیں اس قدر ستائو نہیں
دل و نگاہ کو کب تک کوئی بچھاتے رہے
یہ دیکھ کر کہ اُدھر سے کوئی جھکائو نہیں
یہ اور بات کہ کانٹوں میں جی بہل جائے
نہیں کہ لالہ و گل سے ہمیں لگائو نہیں
یہ لگ بھگ ۱۹۵۲ء کی بات ہے جب شمیم احمد نے بعض حضرات سے ایک نئے شاعر کے یہ چند اشعار سنے:
میں مسکرا تو دیا اُن کی بے نیازی پر
یہ کیا کہ دل پہ لگی چوٹ مسکرانے سے
زندگی کو بہت عزیز ہوں میں
ڈھونڈ لیتے ہیں حادثات مجھے
چھیڑ دیا پھر دل نے راگ
ہم سمجھے تھے بجھ گئی آگ
کیا خبر تھی یہ دن بھی آئیں گے
جی کڑا کر کے مسکرائیں گے
کیا کیا نازک دور الم کے
بیت گئے اور یاد نہ آئے
یہ اشعار شمیم احمد کو فرید جاوید کو دریافت کرنے کا بہانہ بنے، دو اور شعر بھی سنیے:
مجھے خیال اُن دل گرفتہ کلیوں کا
جنھیں نسیمِ سحر چھیڑ دے کھلا نہ سکے
گمرہی بھی تو ایک منزل ہے
راستے یوں بھی ہو رہے ہیں طے
فرید جاوید کو شمیم احمد نے گو دریافت تو کر لیا لیکن اُن کی یہ دریافت دیر پا ثابت نہ ہو سکی، عطا الحق قاسمی بھی اُسے بھول بیٹھے اور ڈاکٹر رشید امجد بھی، فرید جاوید کا ’پاکستانی ادب‘ ۱۹۴۷ئ۔ ۲۰۰۸ء انتخابِ شاعری اردو، مرتبہ ڈاکٹر رشید امجد شائع کردہ ، اکادمی ادبیات ، میں کوئی ذکر نہیں۔
فرید جاوید گو ساز ی زندگی محرومیوں کا شکار رہا لیکن اس نے ان محرومیوں کو اپنی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیا:
تلخ گزرے کہ شادماں گزرے
زندگی ہو تو کیوں گراں گزرے
تھا جہاں مدتوں سے سناٹا
ہم وہاں سے بھی نغمہ خواں گزرے
مرحلے سخت تھے مگر ہم لوگ
صورتِ موجۂ رواں گزرے
کیوں نہ ڈھل جائے میرے نغموں میں
کیوں ترا حسن رائیگاں گزرے
اُسے صنفِ نازک کا لمس تک حاصل نہیں تھا لیکن بقول شمیم احمد اُس کے یہاں حسن کا ، فراق گورکھپوری کے بعد سب سے لطیف، پر اثر اور نازک پر تو ملتا ہے ۔ وہ ہر حسین شے کا دلدادہ ہے ، اسے چاند، چاندنی رات، ستارے، پھول، میکدہ، شراب، سب سے جذباتی لگائو ہے، اس کی غزلوں میں ان کا جگہ جگہ ذکر ملتا ہے:
حسرت و محبت سے دیکھتے رہو جاوید
ہاتھ آ نہیں سکتا حسن ماہ و انجم کا
چاہے پھول بن جائیں چاہے آگ برسائیں
بس یہی کہ اپنا لو حسن کے شراروں کو
سحر انگیز چاند کی کرنیں
کہہ رہی ہے کہ تم یہاں ہوتے
نگہت و رنگ کا شعر و آہنگ کا
منتشر ہو گیا کارواں دوستو
ہر منظرِ چمن ہے سزا وار شوقِ دید
جشن بہار و رقص خزاں دیکھتے چلو
فرید جاوید زندگی بھر محرومیوں کا شکار رہا لیکن وہ غزل کے حسن کو اپنے خوبصورت شعروں میں سنوارتا رہا، افسوس اس بات کا ہے کہ اُس کی موت کے بعد بھی محرومی نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا اور اسے گمنامی کی راہ دکھائی، عطا الحق قاسمی صاحب نے تو بہرحال اسے یاد رکھابھلے ہی تذبذب کے ساتھ لیکن ڈاکٹر رشید امجد تو اسے بالکل ہی بھلا بیٹھے، اکادمی ادبیات نے بھی اسے یاد نہیں رکھا، پاکستانی ادب کے معمار سیریز میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا حالانکہ شمیم احمد نے نیا دور، کراچی، اکتوبر ۱۹۶۷ء کے شمار ے میں ۷۴ صفحات کا ایک بھر پور مطالعہ ’’وارفتۂ سفر‘‘ کے حوالے سے اس کے بارے میں کیا تھا جس میں اس کی ۲۷ غزلیں بھی شامل ہیں، جن میں صرف دو غیر مطبوعہ ہیں اور ’’ابیات‘‘ میںبارہ اشعار شامل ہیں، درج ذیل دو اشعار ان میں شامل نہیں۔
گھر سے نکلے تھے کہ وہ دیوار و در کافی نہ تھے
اُف یہ ویرانہ کہ اک شوریدہ سر کافی نہیں
وہ ہاتھ کسی اور کی قسمت میں ہیں شاید
آبرگِ حِنا تجھ کو ہی آنکھوں سے لگا لیں
شاید فرید جاوید نے انھیں بعد میں کہا ہو، کہاں شمیم احمد اور کہاں یہ ناچیز، لیکن میں نے فرید جاوید پر صرف اس لیے قلم اٹھایا ہے کہ اس کی گمنامی مجھ سے دیکھی نہیں گئی، میں نے اُس پر ایک مضمون ایک اور مجلے کو بھی بھیجا تھا اور یہ ایک مضمون مقبول عامرپر روانہ کیا تھا لیکن نہیں معلوم میرے ان دونوں مضامین کا کیا بنا، میرے لیے یہ دونوں شاعر غزل کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ مقام شکر ہے کہ مقبول عامر ’پاکستانی ادب، انتخاب شاعری‘ میں شامل ہے۔ فرید جاوید گو بہت کم گو شاعر تھا لیکن اُس کی ۲۷ کہی ہوئی غزلیں شعری ادب کا اثاثہ ہیں ، جنھیں فراموش کرنا ایک سانحہ ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ ’’اخبار اردو‘‘ میرے اس مضمون کو شائع کرے، شعری ادب کے شائقین کو عام طور سے اور غزل کی صنف سے لگائو رکھنے والوں کو خاص طور سے یہ جانکاری دے کہ غزل گو شعراء میں ایک فرید جاوید نامی غزل گو شاعر بھی گزرا ہے۔
اب فرید جاوید کے کہے اور اشعار بھی سن لیجیے:
سحر انگیز چاند کی کرنیں
کہہ رہی ہیں کہ تم یہاں ہوتے
صبح کا نور ہے ان آنکھوں میں
کیسے ہم اُن سے بدگماں ہوتے
اپنی تنہائی سے گھبرا کے کہاں جائو گے
اپنی تنہائی کو سینے سے لگا لو یارو
ذہن میں آہٹیں ہیں نغموں کی
آ رہا ہے لبوں پہ کس کا نام
ساز دل کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تو نے
ساز دل کے تاروں کی بات بھی سنی ہوتی
جلوہ فشاں ہے آفتاب آپ کا انتظار ہے
آپ کا انتظار ہے ڈوب رہا ہے آفتاب
کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں
یوں بھی ہماری راہ میں گردش روز گار ہے
دھیما دھیما سہی الجھے ہوئے انفاس کا راگ
ایک آواز تو ہے دل کے بہلنے کے لیے
گھر کی یاد ظالم ہے لَو دیئے ہی جائے گی
گھر تو ہم بنا لیں گے اجنبی دیاروں میں
ہم جو شعلۂ جاں کی لَو نہ تیز کر دیتے
آج غم کی راہوں میں کتنی تیرگی ہوتی
کتنی ظالم ہے زندگی جاوید
میں نے دیکھا ہے حسن کو مغموم
اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں
کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم کا
کہہ کے جانِ غزل تجھے ہم نے
اپنی کم مائیگی چھپائی ہے
میرے ہی دل کی دھڑکنیں ہوں گی
تم مرے پاس سے کہاں گزرے
کسے بتائوں مرے دل پہ کیا گزرتی ہے
جہاں میں پُرسشِ احوال کا ہے کیوں دستور
غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج
کھلی فضا میں کہیں دور جا کے رو لیں آج
کسے خبر ہے کہ کل زندگی کہاں لے جائے
نگاہ یار تیرے ساتھ ہی نہ ہو لیں آج
کتابیات
۱۔ شمیم احمد، وارفتۂ سفر، فرید جاوید، ایک مطالعہ، نیا دور، کراچی، اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحات ۲۸۶۔۳۶۰
۲۔ عبدالرحمن بجنوری (ڈاکٹر) محاسنِ کلام غالب ( غالب صدی فخری ایڈیشن بسلسلۂ جشن صد سالہ مرزااسد اللہ خاں غالب(۱۹۶۹ئ) فخری پرنٹنگ پریس فیض محمد علی روڈ، فریئر روڈ، کراچی
۳۔ رشید امجد (ڈاکٹر) مرتب، پاکستانی ادب ۱۹۴۷۔ ۲۰۰۸ئ، انتخاب شاعری اردو، اکادمی ادبیات، ۲۰۰۹ء
۴۔ اکادمی ادبیات پاکستان، پاکستانی ادب کے معمار (کتابی سلسلہ)
٭٭