( غیــر مطبــوعــہ ) جپنوں عقیدہ بھی ہوں ‘ خاک ب…
( غیــر مطبــوعــہ )
جپنوں عقیدہ بھی ہوں ‘ خاک بھی اُڑا نہیں رہا
میں دشت یاد کر رہا ہوں ‘ دشت جا نہیں رہا
بجھے گا کوئی طاق کیا ‘ اُڑے کسی گلی میں راکھ کیا
قبیلے کے کسی مکان پر بھی غلبہ ء ہوا نہیں رہا
لکیریں کھینچ کھینچ وقت کی سلیٹ پر ہوئے جو ہاتھ شل
حساب کر رہا ہوں ‘ کیا رہا ہے پاس میرے ؟ کیا نہیں رہا
مباحثوں مذاکروں شکایتوں سے شان _ ہجر مت گھٹا
تو صاف جانتا ہے’ میں ترا نہیں ہوں ۔۔۔ تُو مِرا نہیں رہا
کوئی اَلاو ہے’ بہاو ہے’ کھنچاو ہے ‘ نہ کوئی گھاو ہے
مزہ جو آنا چاہیے تھا ہجر میں’ ہمیں وہ آ نہیں رہا
مِرے خیال سے یہ دکھ بچھڑنے کے لیے بڑا مفید ہے
ہمارا ہنسنا ایک ہے ‘ ہمارا رونا ایک سا نہیں رہا
کہیں بدن لپیٹ کر رکھا ‘ کہیں پہ روح کو سمیٹ کر
تھکن کا سلسلہ قدیم ہے’ مِرے لیے نیا نہیں رہا
ہمارے جسم ہی نہیں’ تپاک سے گلے مِلے ہیں اِسم بھی
یہ وہ مقام ہے’ زمیں و آسماں میں فاصلہ نہیں رہا
( فقیــہہؔ حیــــدر )
Fa