پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعــہ ) تمھیں خبر بھی ہے کچھ ؟ حادث…


( غیــر مطبــوعــہ )

تمھیں خبر بھی ہے کچھ ؟ حادثات سے آگے
زمیں پہ دن بھی نکلتا تھا’ رات سے آگے

یہاں تو پیاس اگاتا ہے ریگ زارِ بَلا
سنا ہے’ صبر کی حد ہے فرات سے آگے

حصار میں ہے وہ اپنے وجود کے اب تک
میں خیمہ زن ہوں ذرا شہرِ ذات سے آگے

مسافروں کا مقدّر ہے شامِ گُم گشـتہ
کہانی چھیڑ چکا ہوں میں رات سے آگے

نیا نیا ہے ابھی تو مِرے جنوں کا سفر
کئی جہان ہیں ‘ اِس کائنات سے آگے

اگرچہ عالمِ امکاں کی قید میں ہوں ابھی
مِری نظر ہے مگر ممکنات سے آگے

کوئی کہانی نئی اب نکال’ قصّہ گو !
گئے دنوں کے فسانوں کی بات سے آگے

( عـــابــد ؔ رضـــا )