منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

‏عوج بن عنق اساطیری روایات اور تفسیروں کے مطابق …


‏عوج بن عنق

اساطیری روایات اور تفسیروں کے مطابق دُنیا کا لمبا ترین انسان تھا۔
آدم کے زمانے سے موسیٰ کے زمانے تک زندہ رہا ۔ اس کی عمر 3500 سال تھی۔ اس کی ماں کا نام صفورہ اور باپ کا نام عنق تھا۔

عوج کا قد تین ہزار تین سو تیس 3330 گز لمبا تین 3 گز چوڑا تھا، یہ سمندر کی گہرائی سے مچھلی پکڑ کر سورج کی تپش میں پکاتا تھا. پانی اس کے ٹخنوں تک ہوتا تھا۔

طوفان نوح میں عوج بن عنق کے بچنے کا سبب یہ تھا کہ حضرت نوح کو کشتی بنانے کے لئے ساگوان کی لکڑی کی ضرورت تھی

مگر اس کو اُٹھا کر لانا ممکن نہ تھا عوج بن عنق وہ لکڑی شام سے اُٹھا کر لایا تھا۔ خدا نے بوجہ اس عمل اسے غرق ہونے سے نجات دی ۔
(تفسیر مظہری )
صحابی انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ” ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔

موسی کا قد دس گز اور عصا بھی دس گز لمبا اور چھلانگ بھی دس گز لگائی تو عوج بن عنق کے ٹخنے تک پہنچ سکے اور عوج مر کر دریائے نیل پر پل بن گیا.

اللہ نے موسیٰ کو شام سے ظالم لوگوں کو نکالنے کا حکم دیا۔ موسیٰ اور ہارون جب اپنی قوم کے ساتھ کنعان پہنچے تو ان کو حکم دیا کہ وہ ملک شام جا کر وہاں کے لوگوں کے حالات معلوم کریں
۔ جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ایک بہت بڑے قدوقامت والا انسان دیکھا۔ جس نے جب ان کو دیکھا تو ان سے ان کے بارے پوچھا، تو انھوں نے اُسے اپنے بارے میں بتایا تو اس نے ان سب کو پکڑ لیا اور ساتھ لے گیا، اور اپنی بیوی سے کہنے لگا،
دیکھو یہ سب میرے ساتھ لڑنے کے لئے آئے ہیں، یہ کہہ کر انھیں زمین پر رکھ دیا، تاکہ انھیں چیونٹی کی طرح پاؤں سے مسل دے،
تو اس کی بیوی نے کہا ان کو چھوڑ دو یہ کمزور ہیں ۔

واپس آکر انھوں نے سب باتوں کے بارے موسیٰ کو بتایا۔ قوم نے واقعہ سنا تو جنگ سے کترانے لگے اور واپس مصر کی تیاری میں جت گئے۔

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم، مت گھبراؤ کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ میں تمہیں ان کافروں پر فتح دوں گا ۔ تو قوم نے کہا،،

اے موسیٰ ؑ تو جان اور تیر رب دونوں جا کر ان سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے ۔

موسیٰ، ہارون کے ہمراہ ملک شام روانہ ہو گئے ۔ جب عوج نے ان کو دیکھا تو چاہا کہ پکڑ کر چیونٹی کی طرح مسل دے۔ موسیٰ کا قد ستر فٹ تھا
اور اُنھوں نے ستر فٹ اچھل کر اپنا عصاء جو کہ موسیٰ کے قد کے برابر تھا عوج بن عنق کے ٹخنے پر مارا جس سے وہ گر کر ہلاک ہوگیا۔

کہا جاتا ہے موسی نے اس کے ڈھانچے کو اُٹھا کر دریائے نیل پر رکھ دیا اور ایک عرصے تک وہ ڈھانچہ دریائے نیل پر گزر گاہ کا کام دیتا رہا ۔
اساطیری روایات کا رد
اکثر کتب تفسیر میں اسرائیلی روایات کی لمبی چوڑی کہانیاں درج ہیں جن میں اس شخص کا نام عوج بن عنیق بتلایا ہے۔ اور اس کی بے پناہ قدوقامت اور قوت و طاقت کو ایسی مبالغہ آمیزی کے ساتھ بیان کیا ہے

کہ کسی سمجھ دار آدمی کو اس کا نقل کرنا بھی بھاری ہے۔

یہ جو قصہ عوج بن عنق کا قد اتنا لمبا تھا کہ یہ طوفان اس کے ٹخنوں تک آیا تھا اور وہ مچھلیاں پکڑ پکڑ کر سورج پر بھون کر کھاتا تھا یہ یہودیوں کی خرافات میں سے ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
(تفسیر ذخیرۃ)
ابن منذر نے اپنی تفسیر میں عوج کا قد تیرہ ہزار گز نقل کیا ہے کہ وہ سورج کے برابر گھومتا پھرتا تھا لیکن پھر خود لکھتے ہیں کہ اس طرح کی بےاصل باتوں کو صحابہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی انسان کو شرم آتی ہے.

ابن کثیر نے کہا کہ عوج بن عنق کے جو قصے ان اسرائیلی روایات میں مذکور ہیں نہ عقل ان کو قبول کرسکتی ہے اور نہ شرع میں ان کا کوئی جواز ہے۔ بلکہ یہ سب کذب و افترا ہے

۔ بات صرف اتنی ہے کہ قوم عمالقہ کے لوگ چونکہ قوم عاد کے بقایا تھے جن کے ہیبت ناک قدوقامت کا خود قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔ اس قوم کا ڈیل ڈول اور قوت و طاقت ضرب المثل تھی۔
ان کا ایک آدمی قوم بنی اسرائیل کے بارہ آدمیوں کو گرفتار کرکے لے جانے پر قادر ہوگیا۔ (ص : 695)

یہ طوفان نوح میں تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا ۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے ،

قرآن میں نوح کی دعا
«رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا» ۱؎
۔(71-نوح:26)
’ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے ‘
قرآن
🔸️«فَأَنْجَیْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِینَ» ۱؎ (26-الشعراء:119-120) ”
ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی ، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا “ ۔