منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

عداوت (ریاض عاقب کوہلر) قسط نمبر 11 صبح وہ جاگی …


عداوت (ریاض عاقب کوہلر)
قسط نمبر 11

صبح وہ جاگی تو ثوبان کمرے سے غائب تھا ۔بستر سے اٹھ کر اس نے کھڑکی کا پردہ سرکایا ۔وہ دونوں اسے باسکٹ بال کھیلتے نظر آئے ۔چند لمحے انھیں گھورنے کے بعد وہ غسل خانے میں گھس گئی تھی ۔
گرم پانی سے نہا کر وہ باہر نکلی اور ملازما کو ناشتا لگانے کا کہا ۔
”اشتفیلہ بی بی نے کہا تھا ناشتا اکٹھے کریں گے ۔“
”تم میرا ناشتا لے آؤ ،باقی جیسے چاہیں کر لیں۔“نیہا سختی سے بولی ۔اور ملازما ۔ ”جی بی بی جی !“کہہ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔
ناشتا کر کے وہ باہر لان میں نکل آئی ۔لان میں پھیلی دھوپ بہت بھلی لگ رہی تھی ۔ وہ دونوں اس پر توجہ دیئے بغیر کھیلنے میں مصروف رہے ۔وہ ٹہلتے ٹہلتے ان کے قریب پہنچی ۔دونوں اس سردی میں بھی پسینہ پسینہ ہو رہے تھے ۔اشتفیلہ کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔مگر ثوبان کا سانس بالکل ہموار چل رہا تھا صرف پسینے کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ پریکٹس کر رہا تھا۔
”تھکتا بھی نہیں ہے یہ گدھا ۔“نیہا نے جل کر سوچا ۔
”باجی !….کیسی ہو ؟“اسے قریب آتے دیکھ کر اشتفیلہ اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔
”بالکل ٹھیک ۔آپ کی پریکٹس جاری ہے ؟“اس نے خوش دلی سے جواب دیا ۔وہ اپنی رات کی بات پر اب تک ندامت محسوس کر رہی تھی ۔اگر ثوبان اسے یہ بات بتا دیتا تو جانے وہ باپ بیٹی اس کے متعلق کیا سوچتے ۔
”ہاں ….ثوبی سے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔؟“اشتفیلہ خوشی سے چہکی ۔”یقین مانو ایسا انسٹرکٹر تو پیسے خرچ کر کے بھی نہیں ملتا اور مجھے مفت ہاتھ لگ گیا ہے۔“
”مفت کہاں ….ابھی میرے لیے انڈوں کا حلوہ بنانا ہے تم نے ۔“ثوبان نے جلدی سے کہا ۔
”بالکل ….میںانڈوں کا حلوہ بناکر آپ کو اپنے ہاتھ سے کھلا کر کالج جاؤں گی ۔“ اشتفیلہ معصومیت سے بولی ۔
نیہا کے منہ میں کڑواہٹ گھل گئی تھی ۔وہ زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے وہاں سے ہٹ گئی ۔دور پڑی کرسیوں پر ان کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھتے ہوئے وہ گھر بات کرنے لگی ۔
اشفیلہ نے مسکرا کر کہا ۔”ثوبی بھیا !ہمیں اکٹھا دیکھنا برداشت نہیں ہو رہا نک چڑھی سے ۔“
”نہیں گڑیا !….ایسی بات نہیں ہے ۔“
”بالکل یہی بات ہے ۔….اور اسے جلانے کے لیے ہی میں آپ کو اس کے منہ پر بھیا نہیں کہتی ۔ورنہ یقین مانو میں تو ترستی رہی ہوں اس رشتے کے لیے ۔“
”تو بھائی تو میں ہوں نا تمھارا ۔بلکہ تمھاری طرح میں بھی اکلوتا ہوں ۔“
”اچھا ہے نا ….اتنے پیارے بھیا میں میں یوں بھی حصہ داری برداشت نہ کرتی۔“
”ٹھیک ہے ،اب باتوں میں وقت نہ گزارو اور پریکٹس کرو۔“
”نہیں میں بالکل تھک گئی ہوں….چلیں آپ نہائیں میں جلدی سے حلوہ بناتی ہوں ۔پھراکٹھے ناشتا کریں گے ،آپ کی نخریلی بیوی بھی شاید ہماری منتظر ہو۔“
”بھول ہے تمھاری ۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ محترما ناشتا کر چکی ہو گی ۔“
”مگر میں تو ملازما کو کہہ کر آئی تھی کہ ناشتا ہم اکٹھے کریں گے ۔“
”وہ ایسی باتوں پر کان نہیں دھرتی ۔اوروہ ہر ایسا کام بڑے شوق سے کرتی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ سکے ۔“
”ویسے بھیا !….تم نے ایسی بدمزاج سے اور بداخلاق سے شادی کیسے کر لی ؟“
ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے ثوبان نے کہا ۔”لمبی کہانی ہے ۔“
”اچھا دفع کرو ….چلو چلتے ہیں ۔“
”پانچ پانچ فری شاٹ لگا کر جائیں گے۔“ثوبان نے کہا اور اشتفیلہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بال پکڑ کر فری شاٹ لگانے والی مخصوص جگہ کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
اشتفیلہ کے کالج جانے کے بعد وہ بھی گھر سے نکل آیا تھا ۔مارکیٹ میں گھومتے پھرتے اسے ایک نئے ڈیزائن کا سلپنگ بیگ نظر آیا جسے خریدنے میں اس نے دیر نہیں لگا ئی تھی۔اس کے پاس پہلے بھی ایک سلپنگ بیگ موجود تھا،مگر وہ سلپنگ بیگ اسے بہت اچھا لگا تھا۔ تھوڑی بہت اور خریداری کر کے وہ واپس لوٹ آیا۔سامان گاڑی ہی میں چھوڑتے ہوئے وہ کمرے میں آکر ماں کو کال کرنے لگا ۔تھوڑی دیر اس سے گپ شپ کر کے اس نے چند منٹ داداجان سے بھی بات کرلی تاکہ اسے یقین آ جائے کہ وہ دونوں اس شادی سے خوش ہیں اور پھر احمر کو کال ملا لی ۔نیہا اس وقت بیڈ پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی ۔شہباز شاہ نے گھر میں اچھی خاصی لائبریری بنا رکھی تھی ۔وہاں سے وہ اپنی پسند کی چند کتابیں اٹھا لائی تھی ۔
”ابے !….ہنی مون کے مزوں میں ہمیں تو بھول ہی گئے ہو ۔“احمر نے چھوٹتے ہی کہا تھا ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”ہاں بڑی با اخلاق اور خوش مزاج لڑکی کے ہمراہ ہوں ۔“
”تم بڑے جنید بغداد ی ہو نا ۔“اس سے چپ نہیں رہا گیا تھا ۔
”ارے کیا کہہ رہو ہو بھائی !….بھابی کے متعلق ایسا کہہ رہے ہو ،اگر اس نے سن لیا تو؟“دوسری طرف سے احمر بولا تھا ۔
”تو کیا،اس نے سن بھی لیا اور الحمدللہ جواب بھی دے یا ہے۔یا د ہے نا اس کے بارے ہم کیا کہا کرتے تھے ؟“
’یہی کہ وہ کتے کی دم ہے ۔“احمر نے بے ساختہ کہا اور ہنس پڑا ۔
”تو بس ہمارا کہنا غلط نہیں تھا ۔وہ اس تعریف پر بالکل پوری اتری ہے ۔یقین مانو بدمزاجی اور بد اخلاقی کا کوئی ایوارڈ ہوتا تو محترما سے جیتنا ناممکن تھا ۔“
”واہیات آدمی ۔“نیہا با آواز بلند بولی تھی ۔
”سن لیا ؟….یہ اس نے تمھیں کہا ہے ۔“ثوبان نے قہقہہ لگا یا۔احمر بھی ہنسنے لگا تھا۔
نیہا اسے شعلہ بار نظروں گھورنے لگی تھی ۔
”پتا ہے اب مجھے یوں گھور رہی ہے جیسے کچا کچا ہی چبا جائے گی ،یقین مانو میں تو اس بدنصیب کے مقدر پر افسردہ ہو جاتا ہوں جس کی یہ بیوی بنے گی۔“
”بیوی تو یہ تمھاری ہے َاور کس کی بنے گی ؟“احمر نے حیرانی سے پوچھا ۔
”تو بس پھر اپنے ہی مقدر پر افسردہ ہوں ۔“ثوبان نے مزاحیہ انداز میں بات کو سنبھالا ۔احمر پارٹی کو اس نے اصل بات نہیں بتائی تھی ۔
”اتنی خوب صورت لڑکی اور تمھارا یوں پریشان ہوناکچھ جچتا نہیں ہے۔“احمر نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔
”اچھا یار !….دفع کرو اس ذکرکو ….تم بتاؤکہ اراد ہ کیا ہے ؟“
”کیسا ارادہ ؟“
”کے ٹو کے بیس تک جانے کا ۔“
”شاید تمھارا کوئی پیچ اپنی جگہ سے ہلا ہوا ہے۔“احمر نے حیرانی سے کہا ۔”اللہ کے بندے اکتوبر کا درمیان ہے اور تم کے ٹو کے بیس پر جانے کے خواب دیکھ رہے ہو۔مروانے کا ارادہ ہے کیا ؟“
”ٹھیک ہے تم نہ آؤ،میں اکیلے ہی چلا جاؤں گا۔“
”ایسا کرو اپنی بیوی کو ساتھ لے جاؤ،میرا مطلب ہے اگر اس سے جان چھڑانا چاہتے ہو ۔“احمر نے قہقہہ لگا کر مشورہ دیا ۔
”نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔بہ ہرحال سکردو تک تو میں جاؤں گا ۔“
”عبدالقدیر سے بات ہوئی ؟“
ثوبان نے پوچھا ۔”وہ استور والا عبدالقدیر ؟“
”ہاں ہاں وہی ،یاد ہے نانگا پربت کے بیس کی طرف جاتے ہوئے کتنا اچھا وقت گزرا تھا اس کے ساتھ۔“
”اس کا فون نمبر ہی نہیں ہے میرے پاس ۔“
احمر نے کہا۔”اس کا نمبر میرے پاس ہے ۔میں تمھیں میسج کرتا ہوں ۔“
”پھر تو اسے ملنے کے لیے بھی جانا پڑے گا ۔“
”بات کر کے دیکھ لینا ،تمھارا تو بہت شیدائی تھا ۔اور یاد ہے کتنا اصرار کر رہا تھا دوبارہ استور آنے پر ۔“
”اچھا میں کوشش کروں گا کہ اس کے پاس چکر لگا لوں ۔“ثوبان نے کہا اور احمر نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”ہر ایک سامنے اپنی مجبوریوں کا ڈھنڈورا پیٹنے اور میری کردار کشی کی کیا ضرورت ہے ،جبکہ تم جانتے ہو کہ میں اس معاملے میں تم سے بھی زیادہ مجبور ہوں۔“اس کے رابطہ منقطع کرتے ہی نیہا نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔
”تم اپنی ماں سے بات کرتے وقت میرے والدین کو بھی نہیں بخشتی ہواور اپنی باری آنے تمھیں بڑی جلدی تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔“
”کیا کہا ہے میں نے تمھارے والدین کے متعلق ؟“
”اس دن کیا کہہ رہی تھیں اپنی ماں کو، کہ ابو کو کہیں کہ اپنے نام نہاد بھائی کو ساتھ ملا کر داداجان سے بات کرلے ۔“
”ٹھیک ہی تو کہاتھانا۔“وہ ڈھٹائی سے بولی ۔”ابو جان کا نام نہاد بھائی ہی تو ہے تمھارا باپ۔“
”تو میں نے کیا غلط کہا ہے ،جس لڑکی کو اپنے تایا سے بات کرنے کی تمیز نہ ہو اسے بدتمیز و بد مزاج نہ کہوں تو کیا کہوں ؟“
”میرا کوئی تایا نہیں ہے ۔“
”شکر ہے باپ کو مانتی ہو ،ورنہ اس کا اقرار کرانا بھی مشکل ہو جاتا ۔“
”زیادہ بکواس کی ضرورت نہیں سمجھے ۔“نیہا آپے سے باہر ہو گئی تھی ۔”گالیاں بکتے شرم تو نہیں آتی ہو گی ۔“
”بکواس میں نے نہیں، تم نے کی ہے۔میں نے فقط تمھاری بات لوٹائی ہے۔“
”ہونہہ!….بات لوٹائی ہے ۔“کہہ کر وہ کتاب کی طرف متوجہ ہو گئی ۔جبکہ ثوبان بھی مزید کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے اپنا لیپ ٹاپ کھول کر باسکٹ بال کا میچ دیکھنے لگا ۔وہ بہ مشکل چند منٹ ہی میچ دیکھ پایا تھا کہ اشتفیلہ کی کال آنے لگی ۔
”جی اشتی !“اس نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے پوچھا ۔
”بھیا !….آج میری باسکٹ بال ٹیم کی لڑکیاں ہمارے گھر آئیں گی۔وہ آپ سے کچھ سیکھنا چاہتی ہیں ۔“
”یہ تو زیادتی ہے نا اشتی یار !“ثوبان نے احتجاجاََ کہا ۔
”بھیا !….میرے لیے پلیز ۔“اشتفیلہ نے اتنی معصومیت سے کہا کہ وہ ہنس پڑا ۔
”بلیک میل کرنا تمھیں خوب آ گیا ہے۔“
وہ ناز سے بولی ۔”اپنے بھیا کی لاڈلی جو ہوں۔“
”اچھا ٹھیک ہے تم بھی کیا یاد کرو گی ۔“
”بھیا !….زندہ باد ۔“اشتفیلہ نے نعرہ لگایا ۔
”اچھا اچھا اب زیادہ خوشامد کی ضرورت نہیں ہے۔“
”ویسے بھیا !….میں آپ کو بتائے بغیر بھی اپنی سہیلیوں کو لا سکتی تھی اور مجھے یقین تھا کہ آپ نے کچھ نہیں کہنا تھا ۔“
”اچھا اب زیادہ سر پر چڑھنے کی ضرورت نہیں سمجھیں ۔“
”ٹھیک ہے بھیا !….گھرآکر ملتی ہوں ۔اور ہاں وہ آپ کی نک چڑھی دلہن کیسی ہے؟….اگر قریب ہی بیٹھی ہے تو میں چند منٹ مزید بات چیت کر سکتی ہوں ۔وہ کیا ہے کہ اسے جلاتے ہوئے بڑا مزہ آتا ہے ۔“
”بے وقوف !“ثوبان نے مسکراتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”ہونہہ !….اس کے ساتھ بات کر تے ہوئے تمھیں بہت پیار بھی آتا ہے اور مسکراہٹ بھی تمھارے ہونٹوں سے خود بہ خود نکلتی ہے۔“اس کے رابطہ منقطع کرتے ہی نیہا نے جلے کٹے انداز میں کہا ۔
”ہاں تو ،وہ اس قابل ہے نا۔“ثوبان نے منہ بنایا ۔”تمھاری طرح ڈائن تو نہیں ہے۔ نہ ہو سیرت،نہ ہو صورت ….بھاڑ میں جائے ایسی مورت ۔“
”تمھاری اشتی اور ارم بیگم سے ہزار گنا خوب صورت ہوں ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“ثوبان نے قہقہہ لگایا۔”کسی اور کے سامنے ایسا نہ کہہ دینا ۔“
”مقابلہ کرا لو ۔“نیہا سے اپنی توہین برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔
”میں ایک مرد ہو کر ایسا کہہ رہا ہوں ۔یقین مانو،تم جیسی نمونہ آج تک نہیں دیکھی ۔تم شاید اپنی ماں باپ کی باتیں سن کر خود کو قلو پطرہ سمجھ بیٹھی ہو ۔“
”مجھے تم جیسے بے ہودہ کی تعریف کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“وہ غصے سے پھنکارتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئی ۔یقینا ایک عورت کسی دوسری عورت کی تعریف برداشت نہیں کر سکتی ،خاص کر جب خود اس کی ذات کو تنقیدکا نشانہ بنایا جائے ۔مگر ثوبان سے تو اسے کسی خیر کی توقع نہیں تھی پھر بھی اسے ثوبان کی ان باتوں پرجانے کیوں اتنا زیادہ غصہ آرہا تھا ۔وہ لان میں آ کر ٹہلنے لگی ۔اس وقت ثوبان کمرے کی کھڑکی سے اسے حیرانی بھری نظر سے دیکھ رہا تھا ۔نیہا کا رویہ اس کے لیے حد درجہ انوکھا تھا ۔
٭٭٭
عصر کے وقت ثوبان اشتفیلہ اور اس کی پوری ٹیم کو پریکٹس کروا رہا تھا ۔تمام لڑکیاں اشتفیلہ ہی کی ہم عمر تھیں ۔ثوبان انھیں شام تک پریکٹس کرواتا رہا۔پریکٹس کے خاتمے پراشتفیلہ کی طرف سے چاے پارٹی کا اہتمام کیا گیاتھا ۔ملازموں نے لان پر ہی میزیں اور کرسیاں لگا دی تھیں ۔ثوبان انھیں اکیلا چھوڑ کر وہاں سے جانے لگا تھا مگر چند لڑکیوں نے زبردستی پکڑ کر اسے بٹھا لیا ۔کھانے پینے کے دوران تمام نے ضد کر کے اسے راضی کر لیاتھا کہ وہ کل کا دن کالج گراو¿نڈ میں انھیں پریکٹس کروائے گا ۔دو لڑکیاں تواس سے بہت زیادہ فری ہونے کی کوشش کر رہی تھیں ۔ان کی ذومعنی گفتگو سمجھنے کے باوجود ثوبان ان جان بنا بیٹھا رہا ۔ کھا پی کر تمام رخصت ہو گئیں ،جبکہ اشتفیلہ اور ثوبان نے اپنے اپنے کمرے کا رخ کیا ۔
وہ جونھی ہی کمرے میں داخل ہوا نیہا تو گویا اس کے انتظار ہی میں تھی ۔
”لوفر پن ،آوارگی اور فلرٹ کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ایسے ندیدے تومجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے جن کی رال ہر لڑکی کو دیکھ کر بہنا شروع ہو جائے۔“
”ویسے اس کی فکر تو میرے ہونے والی بیوی کو ہونی چاہیے ،تم کیوں اس غم میں ہلکان ہورہی ہو ؟“
”ہونہہ!….ہلکان ہوتی ہے میری جوتی۔“
”تو پھر بک بک کی ضرورت ہے۔“
”بک بک نہیں کرتی،حقائق سے پردہ اٹھا تی ہوں ۔اور دکھ مجھے اس بات کا ہے کہ انکل شہباز اور اس گھر کے ملازم تمھاری اوچھی حرکتوں کو دیکھ کرنہ جانے میرے بارے کیا سوچتے ہوں گے ۔“
”یہی سوچتے ہوں گے نا ،کہ اس غریب کی بیوی اگر کسی قابل ہوتی تو اسے یوں دوسری لڑکیوں میں دلچسپی لینے کی ضرورت نہ پڑتی ۔اف ،بے چارے کی قسمت میں کتنی بد صورت اور بدمزاج بیوی ہے آئی ہے ۔بلکہ ساری لڑکیاں یہی بات کر کے مجھ سے اظہارِ افسوس کر رہی تھیں ۔“
”میں جانتی ہوں ایسی پر کٹی کبوتریوں کو ،جہاں کوئی اچھی شکل کا لڑکا دیکھا ……..“ وہ اتنا کہہ کر ایک دم چپ ہوئی ۔اور پھر بات بدل کر بولی ۔”میرا مطلب ہے کسی بھی طرح کا لڑکا دیکھا اور بے تکلف ہو گئیں۔“
ثوبان اس کی بات کو پکڑ سکتا تھا مگر بات بڑھائے بغیر وہ غسل خانے میں گھس گیا ۔ اس کے غائب ہوتے ہی نیہا اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر خفیف انداز میں ہنسنے لگی ۔جلد بازی میں وہ کچھ الٹا ہی کہہ بیٹھی تھی ۔
٭٭٭
رات کا کھانا کھا کر اس نے عبدالقدیر کو فون کیا ۔ثوبان کو پہچانتے ہی وہ خوش ہو گیا تھا۔”ارے ثوبان بابو!….کیسے ہو ؟اور گرمیاں گزار کر فون کر رہے ہو۔“
”میں اس وقت گلگت میں ہوں قدیر بھائی !“ثوبان نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا ۔
”کیا ….؟“وہ حیرانی اور خوشی بھری آواز میں چیخا۔ ”آپ مذاق کر رہے ہیں نا۔“
”نہیں یہ حقیقت ہے ۔“اس کی حیرانی دیکھ کر ثوبان کو اچھا لگا تھا ۔
”تو استور کب آرہے ہو ؟….بلکہ گلگت جانے کی ضرورت ہی کیا تھی سیدھا استور آ جاتے ۔“
”میں اپنی بیوی کے ساتھ ہوں اور گلگت میں اپنے چچا جان کے پاس آیا ہوں ۔“ ثوبان نے پاس بیٹھے شہباز شاہ کی وجہ سے نیہا کا ذکر کرنا مناسب سمجھا تھا ۔یوںبھی اس بات سے تو وہ واقف تھا کہ دادا جان انھیں کال کرتے یا نہ کرتے شہباز شاہ سے روزانہ بات کرتے تھے ۔ اور موضوعِ گفتگو یقیناان دونوں کی ذات ہوتا تھا ۔
وہ فوراََ شکوہ کناں ہوا ۔”ثوبان بابو !….یہ بھی خوب رہی،آپ نے مجھے اپنی شادی میں بلانے کا وعدہ کیا تھا ۔ “
”قدیر بھائی !….یہ شادی ذرا افراتفری میں ہوئی ہے اس لیے آپ کو تو کیا اپنے کافی دوستوں کو نہیں بلا سکا ہوں ….اور معذرت خواہ ہوں ۔“
”مگر میں تو جرمانہ وصول کیے بغیر راضی ہونے والا نہیں ۔“
”قبول ہے ۔“ثوبان نے رضامندی کرتے ہوئے کہا۔
وہ فوراََ بولا۔”پس ٹھیک ہے آپ کو ہماری بھابی کے ساتھ دعوت کھانے استور آنا پڑے گا ۔“
”میں آ جاؤں گا ….اس کو مجبور نہیں کر سکتا۔“
”چلو جیسے ان کی مرضی،مجھے تو آپ سے غرض ہے ۔“عبدالقدیر نے نیہا کو ساتھ لانے پر اصرار نہیں کیا تھا ۔
”ٹھیک ہے دو تین دن تک پروگرام بناتا ہوں ۔“
”میں شدت سے منتظر ہوں ۔“عبدالقدیر نے کہا اور ثوبان نے الوداعی ”اسلام علیکم!“ کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
” ٹورنامنٹ ختم ہونے سے پہلے تو میں آپ کونہیں جانے دوں گی ۔“اس نے جونھی بات ختم کی اشتفیلہ اسے مخاطب ہوئی ۔
وہ ہنسا ۔”میں یہاں سیر کرنے آیا ہوں باسکٹ بال کی کوچنگ کرنے نہیں۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“غصے سے کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
”ارے اشتی !….بات سنو ۔“ثوبان نے جلدی سے اسے آواز دی مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنے کمرے میں گھس گئی ۔
”لیں جی !….اب یہ خفاہو گئی ہے اور اسے منانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے ۔“ شہباز شاہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔
”ضرورت ہی کیا ہے منانے کی ۔“نیہا نے منہ بنایا۔اس کی بات پر شہباز شاہ کے کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمودار ہوئے مگر، اس نے منہ سے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔ البتہ ثوبان خاموش نہیں رہا تھا ۔
”نہیں انکل !….اشتی مجھ سے ناراض ہو ہی نہیں سکتی ۔ابھی دیکھیں چند منٹ بعد ہی ہم دونوں سوپ پینے بازار جا رہے ہوں گے۔“
ثوبان کی بات نے شہباز شاہ کے چہرے پرنیہا کی تلخ بات سے پیدا ہونے والے اثرات معدوم کر دیے تھے ۔وہ شفقت سے بولا۔
”وہ آئس کریم ہی کھائے گی بیٹا !“
”مجھے کون سا کاٹتی ہے آئس کریم۔“ثوبان یہ کہہ کر اشتفیلہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔جبکہ نیہا نے برا سا منہ بنا لیا تھا ۔
دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہوا وہ اپنے بستر پر منہ پھلائے بیٹھی تھی ۔
”قسم سے اگر مجھے پتا ہوتا کہ میری ننھی بہن ناراض ہو کر اتنی پیاری لگتی ہے تو میں روزانہ صبح صبح ہی تمھیں ناراض کر دیا کرتا ۔“
”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔“
”اور اگر میں کہوں کہ آئس کریم کھانے چلتے ہیں تو کیا جواب ملے گا ؟“
”آپ کی نک چڑھی بیوی ساتھ نہیں جائے گی اور آپ ٹورنامنٹ ختم ہونے تک کہیں نہیں جائیں گے ۔“اشتفیلہ نے فوراََ لڑائی ختم ہونے کا اعلان کیا ۔
”بالکل منظور ہے۔“ثوبان نے بغیر کسی تکرار کے رضامندی ظاہر کر دی ۔
”تو چلیں ۔“وہ خوشی سے چہکتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔
”انکل تو کہہ رہے تھے اشتی کو منانا بہت مشکل ہے ،تم تو ایک آئس کریم پر راضی ہو گئی ہو۔“
”میں خفا کب ہوئی تھی ۔“اشتفیلہ نے قہقہہ لگایا۔”بھائیوں سے بھی کبھی بہنیں خفا ہوتی ہیں بھلا۔“
”چالاک لڑکی !“ثوبان نے اس کے سر پر ہولے سے چپت لگائی اور وہ ہنس پڑی ۔
”اس نک چڑھی کو ساتھ نہیں لے جانا بھیا!….سمجھے نا۔“کمرے سے نکلتے ہوئے اشتفیلہ نے سر گوشی کی ۔
”اچھا ٹھیک ہے….جیسے تمھاری خوشی ۔“ثوبان نے کہا اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
”ارے اتنی جلدی ؟“ڈرائینگ روم میں بیٹھے شہباز شاہ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا ۔
”میں نے کیا کہا تھا ۔“ثوبان فخریہ لہجے میں بولا ۔
”مان گئے بیٹا!“شہباز شاہ تحسین آمیز انداز میں سر ہلایا۔
نیہا نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا البتہ وہ اپنے چہرے پر ہویدا ناگواری کے تاثرات نہیں چھپا سکی تھی ۔
”انکل !….ہم ذرا مارکیٹ تک جا رہے ہیں ۔“
شہباز شاہ نے کہا ۔”ہاں ہاں جاؤ….بلکہ نیہا بیٹی کو بھی لے جاؤ۔“
”وہ ہمارے ساتھ کہاں جانا چاہے گی۔“اشتفیلہ نے جلدی سے کہا اور تائید بھری نظروں سے نیہا کو دیکھنے لگی ۔
شہباز شاہ نے حیرت سے پوچھا ۔”کیوں نہیں جانا چاہے گی؟“
”اس کی مرضی۔“اشتفیلہ نے کندھے اچکائے جبکہ ثوبان خاموش کھڑا رہا ۔
شہباز شاہ اسے مخاطب ہوا ۔”نیہا بیٹی !….کیا واقعی تم نہیں جانا چاہتی ہو ؟“
نیہا اطمینان سے بولی ۔”نہیں انکل !….ایسی تو کوئی بات نہیں ۔“
”چلو باجی !آپ بھی چلیں ۔“اشتفیلہ نے فوراََ اسے دعوت دے دی ۔
”میں اپنا پرس لے لو ں ۔“نیہا اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔شہباز شاہ بھی اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا ۔
”چلو پارکنگ میں اس کا انتظار کر لیتے ہیں ۔“اشتفیلہ نے کہا اور ثوبان سر ہلاتا ہوا اس کے ساتھ ہو لیا ۔
”مجھے منع کردیا اور خود اسے دعوت دے ڈالی واہ۔“
”وہ تو ابوجان نے کہہ دیا اور میں نے سوچا چلو اس طرح اسے جلانے کازیادہ موقع ملے گا ۔“اشتفیلہ نے شوخی سے کہا اور ثوبان مسکرا دیا ۔
” تم اس کے اتنے خلاف کیوں ہو گئی ہو ؟“
”بس مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی ….میرے بھیا کے لیے اس طرح کی سڑیل اور موڈی لڑکی نہیں ہونی چاہیے تھی ۔“
”ویسے اتنی بدصورت تو نہیں ہے ۔“ثوبان نے نیہا کی غیر موجودی میں اس کی وکالت کرنے میں مضائقہ نہ سمجھا ۔
”بھاڑ میں جائے ایسی صورت ،جب اخلاق ہی نہ ہو۔“
”اے بدتمیز لڑکی !….تم میرے سامنے میری بیوی کی غیبت کر رہی ہو۔“
”وہ ہے ہی اس قابل ۔“اشتفیلہ ہنسی ۔”ویسے ایک بات ہے بھیا !….میں آپ کی بیوی سے جلتی بھی ہوں ؟“
”بھلا وہ کیوں ؟“ثوبان نے حیرانی سے پوچھا ۔
”اللہ پاک نے اسے بہت پیاری صورت دی ہے ۔اتنی خوب صورت لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی ۔اور پھر اس کا نصیب بھی بہت اچھا ہے کہ اسے میرے بھیا جیسا شوہر ملا ۔“
”ابھی دو منٹ پہلے کیا کہہ رہی تھیں تم…. ؟“ثوبان نے آنکھیں نکالیں ۔
”وہ تو اس کے غرور اور اکڑ پن پر غصہ آ جاتا ہے ۔ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ وہ تمھارے ساتھ بہت جچتی ہے ۔“اشتفیلہ صاف گوئی سے بولی ۔
”اچھا اب زیادہ خوشامد کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔“
” بھیا !….کیوں نہ اس کے آنے سے پہلے نکل جائیں ۔“وہ باتیں کرتے ہوئے ثوبان کی فور ڈور کے قریب پہنچ چکے تھے ۔
”چلو ۔“ثوبان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بولا ۔
”سچ ۔“وہ خوشی سے اچھل پڑی تھی ۔
”بالکل ۔“ثوبان گاڑی میں بیٹھ گیا ۔وہ بھی اچک کر اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی ۔ثوبان نے گاڑی سٹارٹ کی اور ریورس کر کے داخلی دروازے کی جانب موڑی ۔اسی وقت نیہا باہر نکلی مگر ثوبان اس کی طرف دیکھے بغیر گیٹ کی جانب چل پڑا ۔چوکیدار نے جلدی سے گیٹ کھول دیا تھا ۔نیہا اس خیال سے گیٹ کی طرف چلتی رہی کہ شاید وہ گیٹ پر رکے گا مگر ثوبان نے رکنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔یوں بھی وہ اس کی توہین کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔
”یہ ہوئی نہ بات ۔“اشتفیلہ نے زوردار قہقہہ لگایا ۔”اب اس مغرور کو میری اہمیت کا انداز ہ ہوگا۔“وہ اس بات پر خوش تھی کہ شاید ثوبان اس کی وجہ سے اپنی بیوی کو نظرانداز کر رہا ہے۔ اس کے باوجود کہ دو تین دنوں ہی میں وہ ثوبان کو بالکل اپنی چھوٹی بہن کی طرح عزیز ہو گئی تھی ،مگر اس کی وجہ سے وہ کسی دوسرے کی توہین نہیں کر سکتا تھا ۔البتہ نیہا کی بات اور تھی اس کی توہین کرنے اوراسے اذیت پہنچانے میں اسے لطف آتا تھا ۔
مارکیٹ تک اشتفیلہ خوشی سے چہکتے ہوئے گئی تھی ۔ثوبان اس کی نیہا سے دشمنی پر بہت حیران ہوتا تھا ۔کبھی کبھی تو اسے خیال آتا کہ اگر نیہا سے اس کی شادی کسی معاہدے کے تحت نہ ہوئی ہوتی اور وہ اس کی سچ مچ کی بیوی ہوتی تو نامعلوم وہ اشتفیلہ کی یہ باتیں کیسے برداشت کرتی ۔وہ بالشت بھر کی چھوکری اچھی طرح جانتی تھی کہ کسی عورت کو کس طرح حسد میں مبتلا کیا جا سکتا ہے ۔اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ثوبان کے لیے اس کے دل میں ایک چھوٹی بہن کے سے جذبات تھے ۔مگر اپنے جذبات اس نے جان بوجھ کر نیہا سے چھپائے ہوئے تھے تاکہ وہ اس سے جلتی رہے ۔یہ الگ بات کہ نیہا کے دل میں ثوبان کے لیے اس طرح کا کوئی جذبہ ہی موجود نہیں تھا ۔
”آج تو آئس کریم بہت میٹھی میٹھی لگ رہی ہے ۔“آئس کریم سے بھرا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے اشتفیلہ نے ثوبان کو متوجہ کیا ۔انھوں نے نیچے اترنے کی زحمت کیے بغیر گاڑی ہی میںآئس کریم منگوا لی تھی۔
”اب اس کاپیچھا چھوڑ بھی دو اشتی !….وہ تمھاری بھابی ہے ۔“
”ٹھیک ہے باسکٹ بال کی باتیں کرتے ہیں ۔“بچوں کے سے انداز میں سر ہلا کر اس نے فی الفور موضوع بدل دیاتھا ۔
اسی وقت ثوبان کے موبائل فون پر کسی کی کال آنے لگی ۔
٭٭٭
نیہا ثوبان کی گاڑی گیٹ سے باہر جاتے دیکھ کر بھی نہیں رکی تھی ۔اس کا خیال تھا کہ وہ گیٹ کے باہر رک کر اس کا انتظار کریں گے ۔
اسے قریب آتا دیکھ کر چوکیدار نے جلدی سے ذیلی کھڑکی کھول دی تھی ۔باہر نکل کر اسے دور جاتی گاڑی کی عقبی بتیاں نظر آئیں ۔توہین کی شدت سے اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔ گو اس کا ان کے ساتھ جانے کا مقصد یہی تھا کہ وہ رنگ میں بھنگ ڈالنا چاہتی تھی ۔اس کی نظر میں ثوبان اشتفیلہ سے فلرٹ کر رہا تھا اور وہ کباب میں ہڈی بن کرساتھ جانا چاہتی تھی ۔اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتی تھی کہ دادا جان کو بھی ان دونوں کے بارے شہباز شاہ کوئی الٹی سیدھی پٹی نہ پڑھاتا رہے ۔مگر ثوبان کو ایک بار پھر اس پر وار کرنے کا موقع مل گیا تھا ۔وہ چند لمحے گیٹ کے باہر کھڑی اپنے غصے پر قابو پاتی رہی ۔اور پھر واپس مڑ کر اپنے کمرے کی جانب چل پڑی ۔وہ ان کے ساتھ جانے کے فیصلے پر دلی طور پر پچھتا رہی تھی ۔
ایک بار تواس کے جی میں آیا کہ انکل شہباز کو یہ سب کچھ بتا دے لیکن اس میں بھی اس کا اپنا نقصان تھا کہ وہ فوراََ داداجان تک یہ بات پہنچا دیتا جو اسے کسی صورت گوارا نہیں تھا ۔
اپنی کمرے میں جاکر وہ بے چینی سے ٹہلنے لگی ۔اچانک اس کے ذہن میں ارم کا خیال آیا ۔وہ پہلے سے ثوبان سے خفا تھی اشتفیلہ کے بارے بتا کر وہ اسے مزید خفا کر سکتی تھی ۔اس نے فوراََ ارم کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
”ہیلو!“ارم نے کال اٹینڈ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”میرا نمبر تو تمھارے پاس یقینا محفوظ ہوگا ۔“
”مطلب کی بات کرو ۔“ارم نے روکھے لہجے میں جواب دیا تھا ۔
”اتنا روکھا ہونے کی ضرورت نہیں تمھارے فائدے کی بات کر رہی ہوں۔“
”تم اور میرا فائدہ ۔“ارم پھیکے انداز میں مسکرائی ۔”بہ ہر حال فرماو¿۔“
”دیکھو ارم !….مجھے تمھارے ثوبان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔تم جانتی ہو کہ ہماری شادی ایک معاہدے کے تحت ہوئی ہے اور جیسے ہی حالات سازگار ہوئے میں ثوبان کو ٹھڈا لگا کر اپنی زندگی سے باہر نکال دوں گی ۔گو وہ تمھیں ایسا کہتا رہتا ہے کہ وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔خیر اس موضوع کو جانے دو میری کال کرنے کا مقصد تمھیں یہ بتانا ہے کہ یہاں ہم جس شخص کے گھر مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں اس کی ایک خوب صورت سی بیٹی بھی ہے ۔موصوف آج کل اسی کے آگے پیچھے گھوم رہا ہے ۔دن بھر اسے باسکٹ بال کی پریکٹس کرواتا ہے کہ محترما کالج کی باسکٹ بال ٹیم کی کپتان ہے اور رات کو گھمانے لے جاتا ہے ۔دونوں اس وقت بھی آئس کریم کھانے کے لیے گئے ہوئے ہیں ۔یقین مانو مجھے تو تم پر ترس آتا ہے ایسا دل پھینک اور ندیدہ شخص آج تک میری نظر سے نہیں گزرا ۔“
ارم طنزیہ انداز میں بولی ۔”خیرسے ،تم کیوں میری غم خوار بننے کی کوشش کر رہی ہو ؟“
”غم خوار تو میں تمھاری نہیں ہوں ،البتہ عورت ہونے کے ناتے تم سے ہمدردی ضرور ہے ۔ثوبان ایک دوغلا اور دل پھینک شخص ہے ۔اس کے ساتھ تھوڑا وقت گزار کر یقین مانو میں اس سے مزید نفرت کرنے لگی ہوں ۔“
”مجھے تم پر یقین نہیں ہے ۔“ارم بہ مشکل بولی تھی ۔
”مرضی تمھاری ….ویسے اسے کال کر کے تم معلوم کر سکتی ہو کہ وہ کہاں ہے ۔“نیہا نے اپنی بات ختم کرتے ہی رابطہ منقطع کر دیاتھا۔اور اتنا تو وہ جانتی تھی کہ ارم ضرور ثوبان سے رابطہ کرے گی ۔
یہ ناول. آپ www.facebook.com/urdu.font.stories پر پڑھ رہے ہیں…

ارم کی کال نے اسے حیرت زدہ کر دیا تھا ۔
”کس کی کال ہے بھیا !“اشتفیلہ نے پوچھا ۔
”ایک دوست کی ہے ۔“کہہ کراس نے کال ٹینڈ کر لی ۔
”اس وقت کہاں ہو تم اور اتنے دنوں سے کال کیوں نہیں کی ؟“ارم نے تیز لہجے میں پوچھا تھا ۔
”نہ سلام نہ دعا اور تفتیش شروع۔“
”جو پوچھا ہے اس کا جواب دو“ارم ،نیہا کی بھڑکائی ہوئی تھی ۔
”تم میری کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھیں سمجھیں ۔“ثوبان کو بھی غصہ آ گیا تھا ۔
”تم اس وقت کس کے ساتھ ہو ؟“ارم اپنی لے میں شروع رہی ۔
”یہ تمھارا درد سر نہیں ہے ۔“ثوبان نے جان چھڑانی چاہی۔
”میں پوچھ رہی ہوں تم کہاں ہو اور کس کے ساتھ ہو ؟“اس مرتبہ ارم نے کافی غصے میں پوچھا تھا ۔
”جو بھی ہے اس سے بعد میں بات کرلینا پہلے آئس کریم کھاؤ۔“اشتفیلہ اسے مخاطب ہوئی ۔
”یہ کس کی آواز ہے ،کون ہے تمھارے ساتھ ؟“ارم نے متوحش انداز میں پوچھا تھا ۔ لڑکی کی آواز سن کر اسے نیہا کی باتوں پر یقین ہونے لگا تھا ۔
”شہباز انکل کی بیٹی اور میری منہ بولی بہن ہے اشتفیلہ۔“
”جھوٹ بولتے ہو تم۔“ارم نے فوراََ شک ظاہر کیا ۔”مجھے اصل بات بتاؤ۔“
”یار ارم !….سچ کہہ رہا ہوں۔“
”نہیں ثوبی سچ نہیں کہہ رہا ۔“اشتفیلہ نے فوراََ اس کے ہاتھ میں پکڑے موبائل فون کے قریب منہ لے جا کر شوخ انداز میں کہا ۔
”شٹ اپ اشتی !“ثوبان نے اسے جھڑکا اور ارم کو کہا ۔”یہ مذاق کر رہی ہے ۔“
”مذاق وہ کر رہی ہے یا تم کر رہے ہو ۔اور یہ اشتی کیوں کہا ؟….اس کا نام تو اشتفیلہ ہے نا ۔اور وہ تمھیں کس بے تکلفی سے ثوبی کہہ رہی ہے ۔“
”ارم وہ مذاق کر رہی ہے ۔“
”میں کوئی مذاق نہیں کر رہی ۔“اشتفیلہ دوبارہ شوخی سے بولی ۔
”تمھارا دماغ ٹھیک ہے۔“ثوبان کو سچ مچ اشتفیلہ کی بات سن کر غصہ آ گیا تھا ۔ کہ وہ خواہ مخواہ اس کے اور ارم کے درمیان غلط فہمی پیدا کر رہی تھی ۔
”مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی ۔“غصے سے کہتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑا آئس کریم کا کپ باہر پھینکا اور دروازہ کھول کر نیچے اتر گئی ۔
”اشتی !….یہ کیا مذاق ہے ۔واپس آو¿۔“اسے یوں جاتا دیکھ کر ثوبان پریشان ہو گیا تھا ۔
”تمھاری لاڈلی اتنی سی بات برداشت نہیں کر سکی اور اب تم اس کی منتوں پر شروع ہو گئے ہو ۔“دوسری جانب ارم اپنا راگ الاپ رہی تھی ۔
”کسی پڑھے لکھے جاہل کو سمجھانا واقعی بہت مشکل ہوتا ہے ۔“افسوس بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کیا اور گاڑی سے باہر نکل آیا ۔اشتفیلہ تیز قدموں سے ایک جانب بڑھتی جا رہی تھی ۔وہ اس کے پیچھے چل پڑا۔ارم کی کال مسلسل آنے لگی جسے نظر انداز کیے وہ قریباََ بھاگتے ہوئے اشتفیلہ کے قریب پہنچا ۔
”یہ کیا مذاق ہے ؟“اس نے اشتفیلہ کا بازو پکڑ کر پوچھا ۔
”چھوڑو مجھے۔“ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے دوبارہ چل پڑی۔
”بات تو سنو۔“اس نے دوبارہ قدم بڑھا کر اسے بازو سے پکڑنے کی کوشش کی مگر اشتفیلہ نے اس مرتبہ بھی اس کی بات کو درخور اعتنا ءنہیں جانا تھا ۔
”میں کہہ رہی ہوں چھوڑو مجھے ۔“غصے سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھتی رہی ۔
فٹ پاتھ پر تین جوان سوپ کے پیالے تھامے ہوئے کھڑے تھے ۔ان میں سے ایک کو کوئی غلط فہمی ہوئی اور اس نے ثوبان کا بازو پکڑتے ہوئے کہا ۔
”مسٹر !شرم نہیں آتی کسی اکیلی لڑکی کو چھیڑتے ۔“
”تمھارا دماغ درست ہے ۔“ثوبان اس پر چڑھ دوڑا تھا ۔
نوجوان ترکی بہ ترکی بولا۔”میرا تو درست ہے البتہ تمھارا درست کرنے والا ہے۔“
ایک دفعہ تو اس کی بات پر ثوبان کا دماغ گھوما مگر پھر گہرا سانس لے کر اس نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ۔
”وہ میری بہن ہے سمجھے۔“
”وہ مقامی ہے اور تم بالکل مقامی نظر نہیں آرہے تو وہ تمھاری بہن کسی ہو گئی ۔“
”اپنے کام سے کام رکھو ۔“ثوبان نے طیش بھرے لہجے میں کہا۔
”اے !….منہ سنبھال کے بات کرو ۔“اس کے ساتھ کھڑے دوسرے جوان نے فلمی انداز میں انگلی کھڑی کرتے ہوئے اسے تنبیہ کی ۔
”یار!…. اگر مار ہی کھانی ہے تو کسی اور کے متھے لگو ۔“ثوبان منہ بنا کر واپس مڑا اس نے دور جاتی اشتفیلہ کو ایک ٹیکسی میں بیٹھتے دیکھ لیا تھا ۔
”تیری تو ….“پہلے نوجوان نے غصے میں آگے بڑھ کر اس کا گریبان تھام لیا ۔

**********جاری ہے**********
اگر پوسٹ اچھی لگی تو شئیر ضرور کیجیے گا………مزید ایسی پوسٹ کے لیے ہمارا پیج لائیک کریں اور ساتھ فالو کے بٹن پر کلک کر کے سی فرسٹ آل See First All پر کلک کریں