طویل جنگ کے مضمرات۔۔اسلم اعوان
امریکی انخلاءکے بعد افغان جنگ کے فریقین اس طویل مگر مہیب جنگ کے مضمرات اور ثمرات کو سمیٹنے کی آزمائش سے دوچار ہیں،طالبان اپنی ادھوری فتح کی تکمیل کی خاطر نہایت خاموشی کے ساتھ فوجی پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہیں،طالبان جس امارات اسلامی کے علمبردار ہیں حیرت انگیز طور پہ افغان شہری اُس نظریہ کو بسروچشم قبول کرتے جا رہے ہیں،اس وقت شمالی افغانستان سمیت انہیں کہیں بھی قابل ذکر مسلح مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا،تاہم امریکی اپنی غیر معمولی شکست کے مضمرات کو کم کرنے کی خاطر پاکستان کو قربانی کا بکرے بنانے کے علاوہ طالبان کے فلسفہ سیاست کو ناقابل عمل باورکرانے میں سرگرداں ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ نئی پالیسی کے ذریعے افغانوں اور ہمسایہ ممالک کےلئے کھیل کے قواعد بدلنا چاہتی ہے،پہلے امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اسلام آباد کو شامل نہ کرکے پاکستانیوں اور افغانوں میں تفریق کے بیج بونے کی کوشش کر ڈالی، اب وہ ہماری سیاسی اشرافیہ کو افغانستان کی ممکنہ خانہ جنگی سے خوفزدہ کرکے طالبان کے خلاف صف آراءکرنے کی کوشش میں مشغول ہے۔امریکیوں نے خود تو دوحہ میں طالبان کی امارات اسلامی کو تسلیم کرکے ان سے عالمی سطح کا معاہدہ کرنے میں عار محسوس نہیں کی لیکن اب وہ دنیا پہ دباو ڈال رہے ہیں کہ طالبان کو امارات اسلامی کے قیام سے روکا جائے،اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ افغانوں کو باہمی جنگ و جدل کی آگ میں جھونکنے کی خاطر مبینہ طور پر شمالی افغانستان میں داعش کی آبیاری سے بھی باز نہیں آئے،روسی میڈیا نے خبر دی ہے کہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں داعش کے کئی پراسرارگروپ سر اٹھا رہے ہیں۔

لگتا ہے عالمی طاقتیں لیبیا کی طرح یہاں بھی قیام امن کی آڑ میں داخلی تقسیم کی ایسی لکیر کھینچناچاہتی ہیں جو کبھی نہ تھمنے والی خانہ جنگی کے علاوہ بلآخر افغانستان کی تقسیم پہ منتج ہو گی،اسی مقصد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کے زیر سایہ ترکی میں علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے مجوزہ اجلاس میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد چارے میں پڑے کانٹے کی ترغیب کی مانند،اشرف غنی اور طالبان کو ایک ایسی”مخلوط عبوری“حکومت بنانے پہ راضی کرتے نظر آئے جو ممکنات سے بعیدتر تھی۔طالبان افغانستان کے مستقبل بارے کسی بھی کانفرنس میں شرکت کے لئے غیر ملکی فورسسز کے مکمل انخلاءکی شرط عائد کرتے ہیں،بظاہر یہی لگتا ہے کہ جنوبی ایشیاکی تمام مملکتیں افغانستان سے غیر ملکی فورسیسز کے انخلاءمیں عافیت تلاش کرتے ہیں،چنانچہ صدر جوبائیڈن کے قبل از وقت فوجی انخلا بارے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ نے فوجیوں کی واپسی کو”امن عمل میں پیشرفت سے موافق بتایا“۔لیکن امارات اسلامی افغانستان سے دوحہ میں امن معاہدہ کرنے والی امریکی اشرافیہ چاہتی ہے کہ پاکستان طالبان ؤں کو اس بات پر قائل کرے کہ وہ اپنے ملک افغانستان بارے سیاسی نقطہ نظر کو ظاہر کرنے کے لئے اسلامی نظام جیسی اصطلاحات کے استعمال سے دستبردار ہو جائیں،حیرت ہے جس نظریہ حیات پہ دہشتگردی کا لیبل چسپاں کرکے امریکہ بیس سال تک آتش و آہن کی یلغار کے باوجود اُسے مٹا نہ سکا اب مبینہ قیام امن کی آڑ لیکر طالبان کو اُس سوچ سے دستبراد کرانے کی چالیں چل رہا ہے۔عالمی سطح کی نفسیاتی کشمکش سے قطع نظر طالبان نے ملک بھر میں پیشقدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دو سو سے زیادہ ضلعی مراکز پر قبضہ کے علاوہ کابل سمیت تمام صوبائی دارالحکومت طالبانی خوف سے لرزاںہیں،بلاشبہ یہی وہ پیش دستی ہے جو بکھرے ہوئے افغانستان کو منظم ریاست میں ڈھال سکتی ہے بصورت دیگر بے مقصد مذاکرات کا دلدل،طالبان کی فتح کے ثمرات کو نگلنے کے علاوہ افغانوں کو کبھی نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کے سپرد کر دے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں قیام امن کی شاہ کلید طالبان کی سیاسی بالادستی میں پنہاں ہے،اس وقت صرف وہی ایسی قوت ہیں جو اس اجڑی ہوئی مملکت پہ مکمل کنٹرول حاصل کرکے شہریوں کو جان، مال اور عزتوں کا تحفظ دے سکتے ہیں۔
تاریخ اس تلخ حقیقت کو بھول نہیں پائے گی کہ اپنی تمام تر قوت و جبروت،جدید ترین جنگی مشین کے بے رحمانہ استعمال اور مقامی قوم پرستوں کی پھرپور اعانت کے باوجود بیس سال تک ایک عالمی سپر پاورچھوٹے سے افغانستان پہ کامل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی،عقل مندی کا تقاضہ تو یہی تھا کہ طالبان کو مٹانے کے لئے تمام تر حربے آزمانے والی طاقتیں افغانوں کی زندگی سے نکل جاتیں لیکن دو دہائیوں تک وحشت و بربریت کا رقص ابلیس برپا رکھنے والے امریکی اب امن کی آشاکو اپنے سیاسی محرکات پہ پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 7 اکتوبر2001 کو افغانستان پہ حملہ سے قبل امریکیوں نے اپنی فوجی جارحیت کو پاکستان کی قومی سلامتی سے جوڑنے کی جسارت کی تھی،اب بیس سال بعد جب وہ شکست کھا کے یہاں سے نکل رہے ہیں تو بھی اس جنگ کے نتائج کوپاکستان کی سلامتی کےلئے خطرہ باور کرانے پہ مصر ہیں۔امریکی مقتدرہ کی رائے میں اگر طالبان نے زبردستی افغان حکومت کو بے دخل کرنا چاہا تو وہ تنازعہ کے سیاسی حل سے برآت کا اعلان کرکے ممکنہ طور پہ حاصل ہونے والی بین الاقوامی مرعات سے محرومی کے علاوہ عالمی تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں،طالبان نے اگر دشمنوں سے درگزر نہ کیا اور ایسے ادارے،جن میں مغربی ممالک نے سرمایہ کاری کرکے پچھلے بیس سالوں میں خواتین کو فائدہ پہنچایا،کو تحفظ نہ ملا تو صحت مند مساعی کے ثمرات ضائع کر دیں گے۔
وہ کہتے ہیں، طالبان اگر افغان گورنمنٹ کا تختہ الٹنے سے گریزکریں تو اس گروپ کی عسکری حیثیت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور عالمی حمایت یافتہ اقتدار میں حصہ لینے کے حقدار سمجھی جائے گی۔امریکی اشرافیہ خوف و ترغیب سے مملو انہی دلفریب مفروضوں پہ عالمی سطح پہ طالبان کے خلاف جو سیاسی بیانیہ تشکیل دینا چاہتی ہے اس کی حقیقت بیس سال قبل کے اس بیانیہ سے مختلف نہیں ہو گی جس کے ذریعے انہوں نے طالبان کو عالمی امن کے لئے خطرہ باور کرا کے پوری دینائے مغرب کو ان بوریا نشینوں کے خلاف صف آراءکر لیا تھا لیکن جب انہیں گردش تقدیر نے آگھیرا تو انہی مبینہ دہشتگردوں کے ساتھ امن معاہدہ پہ دستخط کرنے میں حجاب محسوس نہ کی۔سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت میں ممبران کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے بتایا کہ ”ہم تشددکم کرنے کی خاطرافغان گورنمنٹ کے ساتھ مذاکرات پہ آمادہ کرنے کے لئے طالبان پر دباؤ ڈالنے کے حامی ہیں،پاکستان پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طالبان پر اثر انداز ہو،مجھے امید ہے اس ضمن میں امریکی مدد بشمول دوبارہ شروع کی جانے والی فوجی امداد کا حصول پاکستانی ہائی کمان کی اولین ترجیح ہو گی،تاہم امن عمل اس وقت تک بارآور نہیں ہو سکے گا جب تک طالبان مملکت پر بزرور قوت قبضہ کی مہم پر نظر ثانی نہیں کرتے،طالبان اگر پیشقدمی جاری رکھتے ہیں تو وہ بین الاقوامی سطح پر خطرات مول لیں گے اور پاکستان نے اگر ان کی حمایت جاری رکھی تو ان کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں“۔
خلیل زاد کے مطابق پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ تنازع زدہ افغانستان کی معاشی استحکام اور تعمیر نو کے لئے عالمی مالی مدد درکار ہو گی تاہم ملک اگر خانہ جنگی کی طرف پلٹ گیا تو بین الاقوامی امداد کسی بھی خرابی کا مداوا نہیں کر پائے گی،حتی کہ اگر فریقین کسی سمجھوتہ تک نہ پہنچ سکے اور طالبان اپنا الٹرا آرتھوڈوکس اسلام کا ورژن گورننس پر مسلط کردیتے ہیں تو پھر اس طرح کی حمایت ناممکن ہوجائے گی“۔نومبر 2020 میں عطیہ دہندگان نے افغانستان کے لئے 12 ارب ڈالر کی شہری امداد کا وعدہ کیا لیکن بہت سے ممالک نے فنڈ کی فراہمی کو امن مذاکرات میں پیشرفت،قانون کی حکمرانی،انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے احترام سے مشروط کر دیا۔یوروپی یونین نے بھی ایک اعشاریہ چار بلین ڈالر دینے کے وعدہ کوجمہوریہ اور جمہوری اصولوں پر مبنی طرز حکومت سے وابستہ رکھا۔اگر طالبان نے لامحالہ فوجی قبضہ کا انتخاب کیا تو یورپی یونین سمیت تمام مغربی ممالک تعلقات توڑ دیں گے۔
تاہم فی الحال خوف و ترغیب سے مزین ان پُرکشش تجاویز سے طالبان کے پاءاستقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی،وقت یہ بتائے گا کہ طالبان کی پیشقدمی بارے کی جانے والی قیاس آرئیاں مبالغہ آمیز شرانگیزی پہ مبنی تھیں،طالبان کی قیادت نہ صرف اپنے منصب کے تقاضوں کا شعور رکھتی ہے بلکہ افغانوں کے اصل مسائل سے بھی آگاہ ہے،انہیں ایک زندہ و توانا معاشرے کی تشکیل کےلئے درکار ماہر افرادی قوت کی ضرورت کے علاوہ جدید علوم سے آراستہ مرد و خواتین کی اہمیت کا کامل ادراک ہے،ان بیس سالوں کے دوران انہوں نے رموز حکمرانی کی شدھ بدھ حاصل کرنے کے علاوہ عالمی برادری سے ہم آہنگ رہنے کا فن بھی سیکھ لیا۔
Advertisements

چنانچہ وہ مسلمانوں کی سنہری روایات کے مطابق عورتوں،بچوں،بوڑھوں اور سرنڈر کرنے والوں افغان فوجیوںکو امن دینے کے علاوہ خون ریزی سے اجتناب کر رہے ہیں،عالمی برادری کی طرف سے مالی امداد کی پیشکش کی پہلے حاجت تھی نہ انہیں مستقبل میں ایسے مشروط اقتصادی تعاون کی ضرورت پیش آئے گی،افغانستان اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث علاقائی طاقتوں خاصکر چین،روس،ایران اور انڈیا کے لئے ہمشہ اہم رہا ہے،اس لئے مغربی طاقتیں عالمی تنہائی کی جانب دھکیل سکیں گی نہ انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،جو لوگ طالبان کو پاکستان کے لئے اسٹریٹجک اثاثہ کی بجائے اسٹریٹجک خطرہ باور کرانے کی بات کرتے ہیں وہ جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے سیاسی،اقتصادی اور تزویری افق سے ناآشنا ہوں گے۔
Related