پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

طنز و مزاح کے نامور شاعر سید طالب خوندمیری کا یوم …


طنز و مزاح کے نامور شاعر سید طالب خوندمیری کا یوم پیدائش
(پیدائش: 14 فروری 1938ء وفات: 16 جنوری 2011ء )
——
منتخب کلام
——
ابھی تو اس نے یہ پہلا قدم ہی رکھا ہے
ابھی سے کیوں یہ اداسی بڑھا رہا ہے میاں
——
چیخنا چاہا تو دنیا کا خیال آتا رہا
چپ رہا تو ہر گھڑی خاموشیاں ڈستی رہیں
کیا یہی تعبیر تھی طالبؔ ہمارے خواب کی
بیڑیاں ٹوٹیں مگر آزادیاں ڈستی رہیں
——
مجھے عجز دے کے بڑا بنا ، ترا خوف دے کے کھرا بنا
وہ مزاج مجھ کو بھی کر عطا ، کہ فقیری جس کی مثال دے
——
نہیں ہے طنز کا مقصد کسی کی بدخواہی
کہ حرف حرف خلوصِ آشکار اپنا ہے
وہ طنز جس سے کسی کا سدھار ہو جائے
کلام تلخ سہی شاہکار اپنا ہے
——
گھر میں کبھی جو مالِ غنیمت اتارئیے
سب سے بچا کے آںکھ بہ عجلت اتارئیے
دستر پہ مرغ و ماہی زیادہ سہی مگر
اپنے شکم میں حسبِ ضرورت اتارئیے
——
خلوصِ دل سے ہر سوغاتِ رشوت جیب میں رکھ لی
سمجھ کر اس کو سرکاری امانت جیب میں رکھ لی
——
کیا پتہ مجھ کو مری جیب تراشی کس نے
میں تو بیٹھا ہوا خود اپنے ہی احباب میں تھا
——
بڑی مفلسی ان کے ذہنوں میں تھی
امیری ملی جن کو خیرات میں
——
اس دور تند و تلخ میں اپنے کلام سے
طالبؔ دلوں میں شہدِ ظرافت اتارئیے
——
اردو زبان
محفلِ خورد و کلاں میں صفتِ جام پھری
لے کے آسان قواعد سحر و شام پھری
لکھنؤ دلی و پنجاب تا آسام پھری
کیا کبھی کام سے اپنے کہیں ناکام پھری
شہر تو شہر ہیں قریے بھی نہ چھوڑے میں نے
دور دیہات میں دوڑا دیے گھوڑے میں نے
………….
کتاب کا نام ۔ سخن کے پردے میں
اعتراف ابلیس
تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب
اس گھڑی مجھ کو تو ایک آنکھ نہ بھایا یا رب
اس لیے میں نے ، سر اپنا نہ جھکایا یا رب
لیکن اب پلٹی ہےکچھ ایسی ہی کایا یا رب
عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
ابتدا تھی بہت نرم طبیعت اس کی
قلب و جاں پاک تھے ، شفاف تھی طینت اس کی
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی
اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
بھر دیا تو نے بھلا کون سا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں
ایک ایک سانس ہے اب صورت شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں
اپنا آتش کدہ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے ، بھائی سے، بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے
جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکڑ جاتا ہے
خود میرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے
اب تو لازم ہے کہ میں خود کو سیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر
مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کترتا ہے یہ قائد بن کر
شیطانیت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
کچھ جِھجکتا ہے ، نہ ڈرتا ہے ، نہ شرماتا ہے
نت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے
اب یہ ظالم ، میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں ، یہ کر جاتا ہے
کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر
میرے شر سے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر
اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے واں سوپر پاور
میں کسی اور ہی سیارہ پر قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نت نئے پیچ مذاہب میں ڈالے اس نے
کر دیئے قید اندھیروں میں اجالے اس نے
کام جتنے تھے میرے ، سارے سنبھالے اس نے
اب تو میں خود کو ہر ایک بوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
استقامت تھی کبھی اس کی ، مصیبت مجھ کو
اپنے ڈھب پر اسے لانا تھا ، قیامت مجھ کو
کرنی پڑتی تھی بہت ، اس پہ مشقت مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ دن رات ، ہے فرصت مجھ کو
اب کہیں گوشہ نشینی میں گزارا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
مست تھا میں تیرے آدم کی حقارت کر کے
خود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کر کے
کیا ملا مجھ کو مگر ایسی حماقت کر کے
کیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کر کے
اپنے کھوئے ہوئے رتبہ کی تمنا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
——
نظم : خدشہ
——
رات بھی اندھیری تھی
شہر بھی تھا کرفیو میں
ہر طرف تھا سناٹا
موت کا سا عالم تھا
اک گلی میں
اک کتیا!
کہہ رہی تھے پلے سے
اب اٹھو !
چلو بیٹا ! شب کے اس اندھیرے میں
چھپ چھپاتے ہم دونوں شہر سے نکل جائیں
ورنہ
مجھ کو خدشہ ہے قتل ہو نہ جائیں ہم
آدمی کے دھوکے میں
……………………….